پاک فوج کے نامزد پہلے مقامی آرمی چیف میجر جنرل محمد افتخار علی خان کی موت 12 اور 13 دسمبر 1949ء کی درمیانی رات ایک المناک طیارہ حادثے میں ہوئی تھی۔
اس تاریخی حادثے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
فضائی حادثہ: میجر جنرل افتخار خان برطانیہ کے امپیریل ڈیفنس کالج میں ایک کورس کے لیے جا رہے تھے۔ وہ لاہور سے کراچی جانے کے لیے پاک ائیر (Pakair) کے ایک مسافر بردار طیارے (ڈکوٹا سی-53) میں سوار ہوئے۔
جائے حادثہ: کراچی پہنچنے سے کچھ دیر پہلے، رات تقریباً 10 بجے ان کا طیارہ سندھ میں جنگ شاہی کے قریب "کارو جبل" نامی پہاڑی سلسلے سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔
جانی نقصان: اس حادثے میں میجر جنرل افتخار خان، ان کی اہلیہ اور شیر خوار بیٹی سمیت طیارے میں سوار تمام 26 افراد شہید ہو گئے تھے۔ حادثے کا شکار ہونے والوں میں تحریکِ پاکستان کے رہنما قاضی محمد عیسیٰ کے بھائی قاضی موسیٰ اور بریگیڈیئر شیر خان بھی شامل تھے۔
تاریخی اہمیت۔
جنرل ڈگلس گریسی کے بعد قائدِ اعظم محمد علی جناح اور حکومتِ پاکستان نے جنرل افتخار خان کو پاکستان کا پہلا مقامی کمانڈر انچیف (آرمی چیف) نامزد کیا تھا۔ ان کی ناگہانی موت کے بعد سینیارٹی لسٹ تبدیل ہوئی اور حکومت نے جنرل ایوب خان کو پاک فوج کا پہلا مقامی سربراہ مقرر کیا، جس نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کا رخ بدل دیا۔
میجر جنرل نوابزادہ شیر علی خان پٹوڈی نے اپنی کتابوں اور بیانات میں میجر جنرل محمد افتخار علی خان کی ناگہانی موت کو پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ قرار دیا ہے ۔
جنرل پٹوڈی کے مطابق
سیاست سے پاک فوج: اگر جنرل افتخار خان اس فضائی حادثے میں جاں بحق نہ ہوتے، تو پاکستان کی موجودہ عسکری اور سیاسی صورتحال بالکل مختلف ہوتی ۔
ایوب خان کا دور: ان کا ماننا تھا کہ جنرل افتخار کی موجودگی میں نہ تو جنرل ایوب خان آرمی چیف بن پاتے اور نہ ہی پاکستان کی فوج سیاست میں شامل ہوتی۔
پیشہ ورانہ صلاحیت: جنرل پٹوڈی نے انہیں ایک انتہائی اصول پسند، باصلاحیت اور پیشہ ور فوجی قرار دیا جو فوج کو سیاسی امور سے دور رکھنے کے سخت حامی تھے۔
جنرل شیر علی خان پٹوڈی (جو خود پاک فوج کے اہم عہدوں پر رہے اور بعد میں وفاقی وزیر بھی بنے) نے واضح لکھا ہے کہ اس ایک حادثے نے پاکستان میں مارشل لا اور فوجی مداخلت کی بنیادوں کا رخ متعین کرنے میں بڑا کردار ادا کیا، کیونکہ جنرل افتخار خان کی موت کے بعد ہی ایوب خان کے لیے آرمی چیف بننے کا راستہ ہموار ہوا تھا ۔
میجر جنرل نوابزادہ شیر علی خان پٹوڈی نے اپنی کتاب "The Story of Soldiering and Politics in India and Pakistan" میں جنرل ایوب خان اور اس دور کے دیگر جرنیلوں کی ذہنیت، اور طرزِ عمل کے بارے میں لکھتے ہیں۔
جنرل ایوب خان کا سویلینز کے لیے رویہ ("Bloody Civilians")
جنرل پٹوڈی نے انکشاف کیا کہ جنرل ایوب خان کے دل میں جمہوری عمل اور سویلین سیاست دانوں کے لیے کوئی خاص احترام نہیں تھا ۔
انہوں نے کتاب میں ایک واقعہ نقل کیا کہ 1953ء میں راولپنڈی میں ایک پولیس افسر نے کسی فوجی اہلکار کو گرفتار کر لیا۔ اس پر جنرل ایوب خان نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور سویلینز کے لیے "Bloody Civilians" (جاہل/بدتمیز سویلین) کا جملہ استعمال کیا ۔
ایوب خان نے پٹوڈی سے کہا تھا: "سیاست کو مجھ پر چھوڑ دو (میں خود ہینڈل کروں گا)، تم سب بس اس سے دور رہو۔" یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ایوب خان 1958ء کے مارشل لا سے بہت پہلے ہی سیاسی باگ ڈور سنبھالنے کی ذہنیت بنا چکے تھے ۔
ایوب خان اور کمانڈر انچیف کا عہدہ
جنرل پٹوڈی کے مطابق، ایوب خان عسکری سینیارٹی اور پیشہ ورانہ صلاحیت میں جنرل افتخار خان سے بہت پیچھے تھے۔ اگر طیارہ حادثہ نہ ہوتا تو ایوب خان کبھی آرمی چیف نہ بن پاتے [افتخار خان - ویکیپیڈیا]۔ جنرل افتخار کی وفات کے بعد جب ایوب خان کو یہ عہدہ ملا، تو انہوں نے بتدریج فوج کو ملکی سیاست کا محور بنا دیا، جس کا نقصان طویل المدتی بنیادوں پر ملک کو بھگتنا پڑا [Ayub Khan - Wikipedia, Military Dictatorships' Destructive Effects on Pakistan: General Ayub Khan (Part 1)]۔
انہوں نے اپنی تحریروں میں مجموعی طور پر اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں چند جرنیلوں کی سیاسی ہوس نے فوج کے بنیادی پیشہ ورانہ مقصد (ملک کا دفاع) کو نقصان پہنچایا [The Legacy of Ayub Khan's Social Policies in Pakistan - ProQuest]۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک جرنیل بیرکوں تک محدود تھے، فوج کا ڈسپلن مثالی تھا، لیکن اقتدار کے ایوانوں کے چسکے نے جرنیلوں کو بیرکوں سے نکال کر محلاتی سازشوں کا حصہ بنا دیا [Military Dictatorships' Destructive Effects on Pakistan: General Ayub Khan (Part 1), The Legacy of Ayub Khan's Social Policies in Pakistan - ProQu
شہباز گِل نے عاصم منیر کا ایک اور راز فاش کردیا.
اس نکمےکو OTS میں اس لئے داخلہ مل گیا کیونکہ طریقہ کار آسان تھا.
اس ادارے کے افسران کو دس سال بعد میجر کے عہدے سے ریٹائر کرکے گھر بھیجنا تھا، لیکن پھر ٹریننگ پہ اتنا خرچہ ہوگیا کہ یہ فیصلہ ہوا کہ ریٹائر نہ کرو ایسے ہی چلنے دو.
آج یہ کند ذہن، نکما، احساس کمتری کا شکار ذہنی مریض امریکہ کی مدد سے پاکستان پہ مسلط ہوگیا!
یہ ملک و قوم کے لئے باعث شرم ہے، لمحۂ فکریہ ہے.
#جناح_کا_جانشین_عمران_خان
ہیلی کاپٹر میں گندہ فیول ڈالا
گولیاں مروائی گئیں
اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارنے کا انتظام کیا گیا
نو مئی کو گرفتار کیا گیا
پانچ اگست کو دوبارہ گرفتار کیا گیا
آٹھ فروری کو علی الاعلان الیکشن چوری کر لیا گیا
صرف عمران خان کو روکنے کے لئے آئین کا بلاتکار کر دیا گیا
عدالتوں کو کینگرو کورٹس بنا دیا گیا
قید کو قید تنہائی میں بدل دیا گیا
آنکھ ضائع کروا دی گئی
اب بلڈ پریشر اور اس سے دل کے مسئلہ کا بتا رہے ہیں
کلاسک دلے ہیں کلاسک
اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کئے جا رہے ہیں صرف اپنی بادشاہت برقرار رکھنے کے لئے نقصان اس ملک کا اور عوام کا ہے انکا کیا جانا ہے
ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کہتا ہے کہ کوئی بیماری نہیں ہے عمران خان کو بشری بی بی سے ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں اخبار و کتابیں بھی مہیا کی جا رہی ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانیوالی رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے دل کا بھی اشو ہو سکتا ہے چیک اپ ضروری ہے کتابیں مہیا کریں ملاقاتیں کھولی جائیں
سارے کا سارا نظام ہے کتوں اور خنزیروں کے ہاتھ میں ہے
تصویر بولتی ہے👇👇
تاریخ کی کتابیں بتاتی ہیں کہ 1969 میں جب جنرل یحیی صدر اور آرمی چیف تھے تب پنجاب کے شہر گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جس کا اصل نام اقلیم اختر تھا جو بعد میں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئی۔جنرل یحیی سے اس خاتون کی ملاقات راولپنڈی کے ایک فوجی کلب میں ہوئی جس کے بعد تعلقات عروج پر پہنچے اور یوں جنرل یحیی سے روابط پر جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوگئی۔
یہ اس وقت کی طاقتور ترین خاتون تھی جس کیلئے پاکستان کے ہر ادارے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔اور بھی جرنیلوں کے واقعات تاریخ کے صفحات پر شائع ہوئے لیکن جنرل رانی کا قصہ زبان زد عام رہا۔
جنرل یحیی اور اقلیم اختر عرف جنرل رانی کو ناں تو آپ نے دیکھا اور ناں ہی میں نے لیکن آج کے دور میں ہماری آنکھوں نے جنرل رانی کا دیدار کر لیا۔
خوش قسمتی دیکھئے یہ جرنل رانی صاحبہ بھی پنجاب سے سامنے آئی ہیں لیکن اس جنرل رانی کے نصیب بڑے ہی اچھے نکلے یا یہ یوں کہہ لیں کہ یہ جنرل رانی بہت تیز نکلی۔کل عدالتوں میں یہ بیچاری کرپشن کے کیسوں میں ماری ماری پھرتی تھی اور پھر اچانک ہی اک مرد مجاہد اور سپہ سالار کی اے کے 47 جیسی نگاہوں کی حسین گولی کا شکار ہو گئی اور پھر ناں صرف کیس ختم ہوئے بلکہ ابا حضور کی پلیٹیں چمچمے بھی پورے کرائے چچا بھی وزیراعظم بن گیا اور خود پنجاب کی وزیراعلٰی بن گئی۔کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے اک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کہنے والے بتاتے ہیں کہ یہاں تو ایک دوسرے کے پیچھے ہی ہاتھ ہے۔کامیابی آپ کے سامنے ہے۔
آج کے دور کی جنرل رانی کے نصیب بہت بھلے نکلے کہ جنرل سے بھی اوپر کا رینک نصیب ہوا۔گستاخی معاف لوگ تو یہ کہتے ہیں جنرل رانی کو شاید بارہ ارب کا جہاز تحفے میں ملا کہ آنے جانے میں وقت ضائع ناں ہو اور جنرل رانی کو ایئرپورٹ کی لائین میں بلڈی سویلینز کے ساتھ ناں کھڑا ہونا پڑے۔
آج کی جنرل رانی،جنرل رانے صاحب کے دل کے بہت قریب کھڑے ہو کر اس قدر خوش ہے اور سب سے نگاہی۔ چرا کر جنرل رانے کو دبی آنکھوں سے دیکھ کر مارے خوشی کے چودہ اگست ہی بھول گئی ہے۔اس قدر خوش ہیکہ دیکھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ اصل جنرل رانی تو یہ ہے جس کے لیئے باقی تین صوبوں کے بلڈ سویلینز وزرائے اعلی کو اس کے برابر لا کر کھڑا نہیں کیا گیا۔
اصل آزادی تو ان کی ہے تم چوبیس کروڑ پاکستانی کس کھیت کی مولی ہو۔۔
جنرل رانی کی یہ تصویر بتا رہی ہے کہ وہ اب صرف صوبے کی وزیراعلٰی نہیں بلکہ وزیراعظم بننے جا رہی ہے کیونکہ جنرل رانے اب اس کے ہمیشہ قریب رہتا ہے۔
جنرل رانی کی طرف سے پاکستانی قوم کو کرپشن زدہ چودہ اگست مبارک۔
کولمبیا کے صدر پیٹرو جس نے اسرائیل کو عالمی عدالت میں نشل کشی کے لیے بلانے کا مطالبہ کیا اسے ہٹا کر نیا صدر لگا دیا ۔
جس نے آتے ہی اسرائیل کو تسلیم کرنے سمیت، اسرائیل کے قبضے کو مان لیا۔
خان جیل میں اس لیے ہے۔
حیران کن : یکم اگست جس روز پی ٹی آئی قیادت عمران خان بی پی اور بیماری متعلقہ خبروں کی تردید کر رہی تھی
اسی روز عمران خان کی شکایت پر دل کے ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا
عمران خان کی جانب سے اوپر نیچے ہونے والے بلڈ پریشر ، دل کی دھڑکن تیز ہونے ، سر درد اور بے چینی کی شکایت پر پمز کے دل کے ڈاکٹر نے چیک کیا بی پی کی دوائی بڑھا کر ای سی جی کروائی اور لکھا یہ 74 سالہ شخص کا اسٹریس سے بھرپور رویہ پیچیدگیوں کے خطرے میں ہے۔ اس لیے میں سفارش کرتا ہوں
ذہنی اسٹریس کم کرنے کے لیے بیوی کے ساتھ زیادہ ملاقاتیں اور پڑھنے کے لیے زیادہ مواد دیں
فوج نئے صوبے کیوں نہیں بنا پائے گی؟
سب سے پہلا معاملہ تو بہت سادہ اور آسان فہم ہے۔ ڈی سنٹرلائزیشن ، سپیریشن آف پاورز ، یہ سب شخصی آمریت اور فرد واحد کی حکومت کی ضد ہیں۔ جیسا کہ حافظ ماڈل کے مطابق وزیر داخلہ ، چئیر مین پی سی بی ، سینٹ میں ، کابینہ میں ، نگران حکومت میں ہر جگہ سالا ہونا چاہیے سپریم کورٹ پر مکمل کنٹرول ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ مٹھی میں ہونی چاہیے۔ نئے صوبے اس ساری طاقت کو ڈائیلیوٹ یعنی کمزور کردیں گے۔ لہذا فوج ایسا کوئی رسک نہیں لینے والی جس سے انکی طاقت چھوٹی چھوٹی اکائیوں کو منتقل ہو۔
کیا نئے صوبے بننے چاہییں؟
یہ بھی سادہ اور عام فہم سا سوال ہے۔ جی ہاں۔ یقیننا بننے چاہییں۔ طاقت اور وسائل کا ایک جگہ ارتکاز اس ملک کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ لاہور میں دو سو ارب کی میٹرو بن کر سبسڈی پر چلتی رہتی ہے باقی پنجاب کے سکول تک ٹھیکے پر چڑھا دیے گئے ہیں۔ جب نئےصوبے بنیں گے تو وسائل بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم ہوں گے۔ اس ملک کا بنیادی اسٹرکچر ٹھیک ہونا شروع ہوگا۔
کیا فوج کو نئے صوبے بنانے چاہییں؟
ہر گز نہیں۔ فوج کے پاس یا موجودہ کٹھ پتلی حکومت کے پاس اس کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ یہ نااہل اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کو نئی طرح کے انتظامی ، لسانی اور جغرافیائی مسائل میں دھکیل دیں گے۔ یہاں بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہو تو ایم این اے ، ایم پی اے اپنے اپنے امیدواروں کی سہولت کے لیے یونین کونسلز کا حلیہ بگاڑ دیتے کہ یہاں ووٹ نہیں ملیں گے انکو یونین کونسل سے نکال دو یہاں سے ملیں گے انکو اپنی کونسل میں کرلو بھلے سے وہ گاؤں دریا کی بھی دوسری طرف پڑتا ہو۔
فوج کرنا کیا چاہتی ہے؟
فوج زیادہ سے زیادہ چند عدد انتظامی یونٹس بنانا چاہتی ہے۔ جہاں کچھ حاضر سروس فوجی افسران کو تعینات کیا جائے گا۔ یہ بیس تیس چالیس سیٹیں یا جتنے بھی انتظامی یونٹس بنے فوج کے “ اچھے افسران “ کو حافظ اور حافظ جیسوں کے تابع رکھنے کے کام آئیں گی۔ یہاں سے شاملات کی چھانٹی کرکے وہاں نئے ڈی ایچ اے بنائیں گے۔ مزید کچھ جگہوں پر فوجی یونٹس بٹھا کر وہاں کی مقامی انڈسٹری وہ جو بھی ہے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ کو بھوک کے کُرلے کروائیں گے۔ اپنے اوجھر بھرتے رہیں گے۔
کیا فوج کو کسی قسم کے احتجاج یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
اگر اس سے مراد عوامی ردعمل ہے تو اس کا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ لیکن امکانات پھر بھی نا ہونے کے برابر ہیں۔ اگر اس سے مراد کسی سیاستدان ، کسی سیاسی جماعت جیسے اے این پی یا پھر پیپلزپارٹی اور وغیرہ وغیرہ تو اس کا تو کوئی چانس ہی نہیں۔ البتہ تبصرہ پاڑوں کے پاس بیچنے کو بہت مواد ہوگا کہ اچھے جرنیلوں نے احتجاج شروع کروا دیا ہے یا کٹھ پتلی حکومت اور فوج کی لڑائی بس ہوا چاہتی ہے۔
انتظامی نوعیت کی مشکلات کیا ہوں گی؟
اگر فوج بلوچستان کے دو حصے کرتی ہے ، تو جنوبی بلوچستان تو پھر سیدھا سیدھا بلوچ اکثریت ہوگیا۔ پھر اس کی علیحدگی کی تحریک تو مزید زور پکڑ لے گی۔ اگر جنوبی پختونخواہ کو الگ کرتے ہیں تو شدت پسندی کا سارا محور ایک سائیڈ پر اکٹھا ہوجائے گا۔ کراچی کو سندھ سے الگ کریں گے تو سندھی نوکریاں کہاں کریں گے؟ کوٹہ سسٹم کا کیا ہوگا؟ لے دے کر ایک پنجاب بچتا ہے۔ یہاں عاصم منیر دس پندرہ فوجی افسر بٹھا کر جو اکھاڑنا چاہتا ہے اکھاڑ لے۔
دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے والے ملک کے وزیر خارجہ! بمقابلہ ایک لاکھ ہزار ارب قرض میں ڈوبے ملک کے افسران! مسئلہ کسی ایک تقریب کا نہیں ہے، مسئلہ ہماری حکمران اشرافیہ کا مائنڈ سیٹ ہے۔وہ مائنڈ سیٹ جو عوامی پیسے پر جہاز سے لے کر بگھی تک کا استعمال اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔
"ایک مرتبہ جو چیز پٹ جائے وہ واپس ابھرتی نہیں ہے ۔ آپ کی برینڈ ایکویٹی ختم ہو جائے تو وہ بڑھتی نہیں ہے ۔یہ برینڈ ایکویٹی چاہے مصطفیٰ کمال کی ہو یا خالد مقبول صدیقی کی یا بانی ایم کیوایم کی، یہ ٹرین نکل گئی ہے۔ پنجاب میں میری بہن مریم نواز نے باتھ روموں تک تصویر لگوادی، مسجدوں پہ، مدرسوں پہ، ٹھیلوں پہ، کچرا کنڈی پہ کس پہ تصویر نہیں لگائی؟ ٹرین نکل گئی ہے"- مفتاح اسماعیل
@MiftahIsmail
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ایران کی مسلح افواج نے اپنے شہریوں کے لئے بہت بڑا اعلان کیا ہے۔
ایران پر زمینی حملے کی صورت میں ہر امریکی فوجی کو جہنم پہچانے والے ایرانی شہری کو 30 ہزار ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔ اور اگر امریکی فوجی مارنے والی ایران لڑکی یا خاتون ہوئی تو 60 ہزار امریکی ڈالر انعام ملے گا۔
اس اعلان کے بعد لوگوں میں بےپناہ جوش و جذبہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جن شہریوں کے پاس اسلحہ نہيں ہے وہ چھریاں چاقو تیز کر رہے ہیں۔
کرنسی نوٹ کے ڈیزائن کی تبدیلی کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دیتی ہے۔ 7 فروری 1984ء سے کرنسی نوٹوں کی پشت پر لکھا "حصولِ رزقِ حلال عین عبادت ہے" 2025 میں ختم کرنے کی کابینہ نے کب چپکے سے منظوری دی کسی کو کچھ پتہ نہیں
یعنی حکومت منافق نہیں۔ اعلانیہ کرپشن میں کسی کے باپ سے نہیں ڈرتی
قاضی فائز عیسیٰ گروپ سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی موجودہ یا سابق جج آئین کی بالادستی نہ ہونے پر دل گرفتہ ہیں انہیں پہلے اپنے جرائم پر قوم سے معافی مانگنا ہوگی کیونکہ یہی وہ جج ہیں جنہوں نے 2023 میں آئین شکنی کے لیے ایک ایسی کھڑکی کھولی جو آج 27ویں ترمیم تک پھیل چکی ہے۔ ان ججوں نے اسٹیبلشمنٹ کو وہ راستہ دکھایا جو آج سے پہلے دور آمریت میں بھی نہیں ہوا تھا۔ اگر ان کو اچھا بننا ہے یا انہیں ملکی حالات کی فکر ہے تو پہلے اپنے ماضی کے جرائم نہ صرف قبول کریں بلکہ قوم سے معافی مانگیں۔ ان ججوں نے 2023 میں سپریم کورٹ میں 8 ججوں کا ایک گروپ بنایا، اپنے چیف جسٹس کو کمزور کیا جس سے عدلیہ کمزور ہوئی اور پھر بنیادی و انسانی حقوق کو کچل دیا گیا
بائبل کے مطابق فرعون غرق نہیں ہوا تھا
یہودی عقیدے کے مطابق فرعون کی ساری فوج غرق ہوگئی تھی مگر فرعون کنارے پہ کھڑا رہا تھا اور زندہ سلامت واپس اپنے محل میں آگیا تھا پھر اس کے بعد وہ طبعی موت مرا تھا
عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں کسی ایک جگہ بھی فرعون کے غرق ہونے کی خبر نہیں ہے جبکہ قران اس کے الٹ بات کرتا ہے
سورہ یونس 90 تا 92 میں فرعون کے پانی میں غرق ہونے اس کے معافی مانگنے اور اس کی لاش کو محفوظ کرنے کی تفصیل آئی ہے
اب یہ بہت بڑا تضاد ہے بائبل اور قران کا جس پر یہودی علما اعتراض اٹھاتے رہے ہیں کہ اگر تمہارا قران یہ کہہ رہا ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے تو پھر دکھاو وہ کہاں ہے؟
1898 میں مصر میں محکمہ آثار قدیمہ کھدائی شروع کرتا ہے تو وہاں سے فرعون کی ممی دریافت ہوجاتی ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ آخری فرعون ہے یا کوئی پہلے والا فرعون ہے
1935 تک تحقیقات سے یہ فائنل ہو جاتا ہے کہ یہ آخری فرعون کی لاش ہے مگر یہ مرا کیسے تھا یہ فائنل نہیں ہوا
1952 میں حضرت موسی پر بننے والی مشہور زمانہ فلمThe Ten Comandmint میں بھی اینڈ پہ فرعون کو واپس اپنے محل میں جاتے دکھایا گیا ہے
1984 میں فرعون کے پاوں میں پھپھوندی لگ جاتی ہے
حکومت مصر اسے فرانس لے جانے کا پروگرام بناتی ہے
فرعون کا باقائدہ پاسپورٹ بنتا ہے اور فرانس کی حکومت فرعون کو دنیا کا سب سے بڑا گارڈ آف آنر دیتی ہے
فرانس کے ڈاکٹروں کی ٹیم ڈاکٹر مورس بکائلے کی سربراہی میں فرعون کی باڈی کا معائنہ شروع کرتے ہیں تو ڈاکٹر مورس بکائلے کو یہ دیکھ کر شاک لگتا ہے کہ باڈی کے اندر سمندری نمکیات موجود ہیں
ڈاکٹر مورس بکائلے مصر کا رخ کرتا ہے پھر وہ قران کے الفاظ سمجھنے کے لئیے اردن کے دیہاتی ایریاز میں جاتا ہے
وہ اپنی پوری تحقیق کے بعد 1990 میں مشہور زمانہ کتاب بائبل قران اور سائنس لکھتا ہے جس میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ قران تاریخ کیمسٹری طب اور سائنس پہ زیادہ بات کرتا ہے جبکہ بائبل زیادہ تر صرف اخلاقیات پہ بات کرتی ہے
ہم دکھائیں گے عنقریب تم کو اپنی نشانیاں افق میں اور تمہارے اپنے نفسوں میں تاکہ یہ بات کھل جائے کہ یہی حق ہے ( فصلت53)
ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ قران کی مکمل تفسیر لکھنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں
ایسئ ہزاروں آیات ہیں قران میں جن میں سے کچھ عیاں ہوچکی ہیں اور باقی وقت کی ترقی کے ساتھ ہوتی جائیں گی
#آفاق_سومرو
بریکنگ ⚡
امریکی ڈرون ٹیکنالوجی ایران کے ہاتھ لگ گئی ۔
ایران نے آج امریکہ کے 170 سے زائد ڈرونز کے ٹکڑے، جن میں زیادہ تر ہرمس اور MQ-9 ڈرونز کے ملبے شامل ہیں کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا ۔
اس میں F_18 کے علاؤہ تمام چھوٹے بڑے ڈرونز بھی شامل ہیں جنھیں جنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا