لفظوں سےرشتہ بھی عجیب ساہے
کچھ پڑھ لیےجاتےہیں
اورکچھ محسوس کیےجاتےہیں
کچھ روح میں اترجاتے
اورآنسو بن کر رہ جاتےہیں
کچھ لفظ صرف کہےجاتےہیں
کچھ بےکہے ہی محسوس ہوجاتے
اورد�� میں ہمیشہ زندہ رہ جاتے
کبھی ایک لفظ کےساتھ بھی سانس لیناکافی ہوتا
اورکبھی ہزاروں لفظ بھی ادھو��ے لگتے
سپیس : ایک کپ چائے
ہوسٹ : عباس
عشق اہل بیت بسلسلہ شہادت شہزادی سکینہ علیہ السلام 😥❤
ایک عقیدت اور محبت کا نذارانہ پیاری شہزادی سکینہ علیہ السلام کی خدمت میں😥
غم حسین غم اہل بیت سے بڑا اس دنیا میں کوئی غم اب تک پیدا نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا😥
@AbbasKhan251
سپیس : ایک کپ چائے
ہوسٹ : عباس خان
ٹاپک : ہماری پیاری فائزہ جی کا آغاز سفر عشق نجف و کربلا ❤
اور آج کی محفل اس سفر کے بارے میں ہی بات کرتے گزرے گی کیونکہ یہ سفر ہے ہی اتنا خوبصورت
فائزہ جی بہت بہت مبارک ہو یہ مبارک سفر ❤
@Faiza_Ali_Hasan@AbbasKhan251
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ جانتے ہیں جب میرا دل ٹوٹتا ہے تو مجھے کون یاد آتا ہے ؟
وہ ایک پل کیلئے رکی خود کو رونے سے باز رکھتے ہوئے۔۔۔
" مجھے آپ یاد آتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(اسکا ضبط جواب دے گیا تھا وہ ہچکیوں سے رونے ل��ی )
آزادی ہرانسان کاحق ہے
کشمیرکےنام پراب پاکستان اور انڈیا کو اپنا اپنا کھیل ختم کرنا چاہیے اہنے اپنے مفاد سائیڈ پر رکھنے چاہیں
کشمیر پر کسی بھی ملک کا حق نہیں ہے
کشمیرپر فقط کشمیرکاحق ہے
کشمیرکو اب الگ ملک تسلیم کر لیناچاہیے انکو آزاد اورخوش رہناچاہیے یہ بنیادی ضرورت ہے
#kashmir
سپیس : ایک کپ چائے
ہوسٹ : عباس خان
میں پی ایس او کو کوہوسٹ بننے پر دل کی اتھا گہرائیوں سے مبارک باد دیتی ہوں 🔥
ہماری ایک کپ چائے اور کمفرٹ زون
@AbbasKhan251
میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو
آسماں لائے ہو لے آؤ زمیں پر رکھ دو
اب کہاں ڈھونڈھنے جاؤ گے ہمارے قاتل
آپ تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو
میں نے جس تاک پہ کچھ ��وٹے دیے رکھے ہیں
چاند تاروں کو بھی لے جا کے وہیں پر رکھ دو ۔
#انتخاب
I used to believe deeply in soulmates. Now, I think the real tragedy is this, everyone searches for their soul in someone else’s, yet the other soul rarely recognizes them as its own. Maybe souls were never meant to meet. Maybe we’ve only been in love with a beautiful story…
خواجہ سرا نا مکملیت !
(دوسرا حصہ )
دیکھ ہاجرہ تُو نے خود اپنے پاؤں میں کلہاڑی ماری ہے !
نہیں کلہاڑی آپ سب نے مجھے ماری ہے میں تو پھو�� لائی تھی (یہ اب روز کا معمول تھا اماں جی ہاجرہ کو روز سمجھانے سے شروع کرتی تھیں اور آخر میں ناختم ہونے والی بحث شروع ہوجاتی تھی )
باجی اسکو پھول کہتے ہیں (مسرت نے کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں سے شعیب جھانک رہا تھا )
اماں اسکو منع کر دیں میری اولاد کے بارے کچھ نہ بولا کرے اس سے دور رہا کرے (ہاجرہ برہم ہوچکی تھی )
چپ کر مسرت کبھی چپ بھی رہ لیا کر !(اماں نے اپنی بہو کو کہا )
باہر جا رہی ہوں تین چار گھنٹوں میں آجاؤں گی !
کہاں جا رہی ہو ؟(مسرت کے شوہر نے ہاجرہ سے سوال کیا جو بہت دیر سے موبائل میں لگا تھا )
شعیب کی سالگرہ ہے کچھ چیزیں لینی ہیں !
اچھا جاؤ !
ابھی تو باج�� آپ کے پاس قورمے کے بھی پیسے نہیں تھے( مسرت نے ایک بار پھر بات کو بڑھاوا دیا)
اللہ وسیلہ بنا دیتا ہے !
_____
امی ؟
جی !
ہم کہاں جا رہے ہیں ؟
کچھ سامان لینے !
امی ؟
جی !
ایک فرمائش کر سکتا ہوں ؟
ہاں کیوں نہیں !
مجھے بھی ایک گڑیا چاہیے جیسے مامی کی بیٹی کے پاس ہے وہ مجھے اپنے ساتھ کھیلنے نہیں دیتی !
اور مامی کے بیٹے کے پاس گاڑی بھی ہے وہ نہیں چاہیے کھیلنے کیلئے ؟
وہ بہت مہنگی ہے امی ( شعیب بڑی معصومیت سے بولا اور اسکی معصومیت دیکھ کر اسکی ماں نے اسکا ماتھا چوما )
ہاجرہ نے ضرورت کی ساری چیزیں لے لی تھیں اس نے مشکل وقت کیلئے پیسے جمع کیے تھے پھر سوچا کہ اللہ مشکل وقت اگر دے گا تو سنبھال بھی خود لے گا وہ دونوں بس میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوچکے تھے شعیب کے ہاتھ میں ایک گڑیا تھی
امی وہ سامنے دیکھیں ! ( شعیب ن�� بس کی کھڑکی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں ایک خواجہ سرا سج دھج کر تالیاں بجا بجا کر بھیک مانگ رہا تھا ) امی یہ اور میں ایک جیسے ہیں ؟
نہیں بالکل بھی نہیں!
لیکن مامی کہتی ہیں کہ میں بھی بڑا ہوکر تالیاں بجانے کا کام کرونگا !
اور کیا کہتی ہیں مامی ؟
کہتی ہیں کہ یہ سب سے آسان کام ہے تالیاں بجا کر پیسے ملتے ہیں!
اچھا !
امی ؟
جی !
مجھے تالیاں نہیں بجانی ہیں ( شعیب کی ��نکھ میں آنسو تھے وہ فقط آٹھ سال کا تھا )
اچھا سن یہ تالیاں اس لیے بجا رہا ہے کیونکہ اس کے پاس اسکی امی نہیں ہے لیکن شعیب کے پاس تو اسکی امی ہے نا !(ہاجرہ اب پیار سے شعیب کو سمجھا رہی تھی )
جس کے پاس امی نہیں ہوتی وہ تالیاں بجاتے ہیں ؟
ہاں !
انکے پاس امی کیوں نہیں ہوتی ہے ؟
کیونکہ ۔۔۔(ہاجرہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ خالی آنکھوں سے شعیب کو دیکھ رہی تھی )
کیا انکی امی کو یہ پسند نہیں ہوتے ہیں ؟(شعیب نے ایک اور سوال کیا اور ہاجرہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا )
امی (شعیب نے اب اپنی امی کو دیکھتے ہوئے کہا )
جی !
آپ میرے ساتھ رہنا ورنہ میرے پاس امی نہ رہی تو مجھے بھی تالیاں بجان�� پڑیں گی !
نہیں تو کبھی تالیاں نہیں بجائے گا تیری امی ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گی !
آج ہم قورمہ کھائیں گے نا ؟
ہاں !
آج بہت مزہ آنے والا ہے (شعیب اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا وہ آج بہت خوش تھا )
(ہاجرہ نے اس معاشرے کے خلاف جانے والے سمت پر اپنا راستہ بنایا تھا وہ جانتی تھی کہ یہ سب آسان ہرگز نہیں ہوگا ایک ڈر جو دل میں ہر وقت موجود رہتا تھا ہاجرہ جو راتوں کو سو نہیں پاتی تھی ہاجرہ کی شادی سترہ سال کی عمر میں ہوئی تھی اور بتیس سال کی عمر میں اللہ نے اسکو اولاد سے نوا��ا تھا یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ وہ اپنے بچے کو پھینک دے کیونکہ ہاجرہ جانتی تھی کہ ماں اگر اپنی ممتا پر آئے تو صفا و مروہ کے چکر تاقیامت لگا سکتی ہے )
_____
تُو اس وقت؟ (ماں نے دروازہ کھولا تو سامنے حاملہ ہاجرہ تھی ، صبح کے چھ بج رہے تھے )
ہاں کیا میں نہیں آسکتی ؟
آسکتی ہے اندر آجا (ہاجرہ کا اٹھواں مہینہ چل رہا تھا )
شوہر کدھر ہے تیرا ؟
اب وہ میرا شوہر نہیں ہے !
کیا مطلب ؟
کل ہسپتال میں اس نے مجھے دو طلاقیں دے دی ہیں !
ہوش میں تو ہے ہاجرہ کیا بکواس کر رہی ہے(ماں ہاجرہ کی باتیں سن کر ہکا بکا رہ گئی تھی گھر میں شور برپا ہوگیا تھا سب کے سب ہاجرہ کے اردگرد آ کر بیٹھ چکے تھ�� اور ہاجرہ پتھر کی مورت بن کر بیٹھی تھی )
تیری ساس سے پوچھتی ہوں !
ان سے مت پوچھیں انکو کہہ کر آئی ہوں کہ میں ان کے بیٹے سے طلاق لے رہی ہوں !
وجہ تو بتا کہ ہوا کیا ہے ؟(ہاجرہ کا باپ اب ہاجرہ سے پوچھ رہا تھا جب کہ ایک چارپائی پر اسکا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر کسی بات میں لگا ہوا تھا )
وجہ میرا بچہ ہے !
کیا مطلب تیرا بچہ (اماں نے سوال کیا )
وہ کہہ رہا تھا کہ میں بچہ گرا دوں اسکو مار دوں !
کیوں ؟
کیونکہ میری کوکھ میں ایک خواجہ سرا ہے !
عباس
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(پہلا حصہ )
اماں جی آج کیا ہم قورمہ بنا سکتے ہیں ؟
مہنگائی دیکھی ہے کتنی بڑھ چکی ہے (اماں نے بےرخی سے جواب دیا )
باجی ایک تو ہم آپ کی فرمائشیں پوری کر کر کے ہی پورے ہوگئے ہیں (اماں جی کی بہو مسرت نے بیچ میں نوالہ دینا ہمیشہ کی طرح اپنا حق سمجھا اور اماں جی کی بیٹی ہاجرہ کچھ وقت کیلئے خاموش ہوگئی )
اماں جی (ہاجرہ آہستہ سے بولی)
بول ��نحوس اب کیا موت پڑ گئی ہے تجھے !(اماں اب کی بار غصے میں بولی )
میرے سلائی کے پیسے ابھی آئے نہیں ہیں جب پیسے آئیں گے میں قورمے کے پیسے دے دونگی !(ہاجرہ کی آنکھ میں آنسو کم ہی آتے تھے اسکی آنکھیں اب پتھر کی ہوچکی تھیں اور شاید وہ خود بھی )
ایسی کون سی میت پڑ گئی ہے جو قورمے کی دیگ کے پیچھے پڑ گئی ہے (اماں اگر کڑاھی نہ کر رہی ہوتی تو یقیناً وہ ہاجرہ کو چپل اٹھا کر ضرور مارتی )
اماں جی ایسی فضول باتیں مت کیا کریں آپ (ہاجرہ ایک لمحے کو بھول گئی تھی کہ وہ اپنی ماں سے بات کر رہی ہے )
دیکھ لیں اماں جی یہ اب آپ سے زبان درازی کرنا شروع ہوگئی ہے منحوس کاموں کا یہ ہی نتیجہ ہوتا ہے اماں جی (مسرت جلتی پر تیل چھڑک رہی تھی )
اماں جی آج میرے شعیب کی سالگرہ ہے اسکو قورمہ بہت پسند ہے(ہاجرہ کی آواز میں ایک التجا تھی جیسے کوئی بھکاری بھیک مانگ رہا ہو )
تو طلاق نہ لیتی اپنے شوہر سے تب خیال نہیں آیا اب روتی پھر رہی ہے !
پھر میرے پاس شعیب نہیں ہوتا اماں !
دیکھیں باجی جی آپ بہت غلط جگہ انویسٹ کر رہی ہیں یہاں سے آپکو کوئی منافع نہیں ملے گا !
اپنی اولاد کی پرورش کرنا ��سکی دیکھ بھال کرنا اسکی ضروریات پوری کرنا کوئی کاروبار نہیں ہے مسرت !
ایک تو آپ کی ہوائی سوچیں جس کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے آپ کی وجہ سے لوگ ہم پر بھی شک کرتے ہیں !
تو لوگوں کے منہ توڑ دو مسرت !
ہم سے یہ نہ ہوگا باجی جی (مسرت طنزیہ انداز میں بولی )
شعیب میری کُل دنیا ہے اس کیلئے اگر مجھے آپ سب کی زبان کھینچی پڑی تو وہ بھی کھینچ سکتی ہوں اور یہ سب آپ اچھے سے جانتے ہیں !
دیکھ ہاجرہ کسی کالج اسکول میں لگ جا سلائی سے زیادہ پسے آئیں گے پھر تجھے ہمارے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی (اماں جی اب اپنی بیٹی ہاجرہ کو مشورہ دے رہی تھی)
اچھا میں کام پر لگ جاتی ہوں اور جب گھر آؤں گی تو میرا شعیب گھر پر نہیں ہوگا یا تو اسکو آپ کا شوہر مار دے گا یا مسرت کا شوہر یا کسی کچرے میں پھینک کر آجائے گا !
چپ کر گھٹیا اولاد میرا شوہر تیرا باپ ہے اور مسرت کا شوہر تیرا بھائی جو مکمل مرد ہیں !
لیکن انسان پھر بھی نہیں ہیں اور میرے پاس مکمل انسان ہے میرا شعیب !(ہاجرہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی جہاں کھڑکی سے اسکا شعیب اسکو آتا دیکھ رہا تھا اسکا آٹھ سال کا شعیب جس پر نا مکملیت کا دھبہ تھا )
_____
الٹراساؤنڈ کروا لو ہاجرہ تاکہ پتہ چلے کہ بیٹا ہے یا بیٹی !(ہاجرہ کی ساس بولی )
ماں جی کرواچکی ہوں !
کیا بنا پھر ؟
آپ کے بیٹے کو بتا دیا ہے !
تجھے بتاتے شرم آتی ہے ؟
میں طلاق لے رہی ہوں آپ کے بیٹے سے !
ہائےے او میرے خدایا یہ کیسی بات کر رہی ہے اللہ تجھے پندرہ سال بعد اولاد سے نواز رہا ہے اور تو ایسی باتیں کر رہی ہے !
یہ بات اپنے بیٹے کو سمجھائیں کہ اولاد اولاد ہوتی ہے چاہے بیٹا ہو یا بیٹی یا پھر خواجہ سرا ؟
کیا مطلب ہے تیرا صاف صاف بول !
میں ایک خواجہ سرا کو جنم دوں گی اور آپکا بیٹا چاہتا ہے کہ اسکو جنم دینے سے پہلے مار دوں !
ہاجرہ ہوش کے ناخن لے یہ کیا فضول بولی جا رہی ہے !
میں اپنے گھر جا رہی ہوں !
اس وقت جا رہی ہے ؟وقت دیکھ رات کے تین بج رہے ہیں !
اپنے بیٹے کو کہہ دینا کہ دوسری شادی کرے اور مکمل بچے پیدا کرے اور اسکو کہہ دینا کہ میرا بچہ ان تمام بچوں سے بہتر انسان ہوگا کیونکہ وہ میری اولاد ہوگا !
اتنا غرور اچھا نہیں ہاجرہ !
ًغرور نہیں یقین ہے ماں جی !
اپنے شوہر کی بات مان لے ہاجرہ !
ناممکن ہے !
تُو خود کو اجاڑ رہی ہے ہاجرہ !
خود کو اجاڑ کر اپنی اولاد کو آباد کرونگی!
تو پچھتائے گی ہاجرہ !
اچھا ( ہاجرہ اپنا سامان پیک کرچکی تھی اور اب وہ برقعہ پہن رہی تھی )
اپنے شوہر کو بتا کر جا !
آج سے وہ میرا شوہر نہیں ہے !
( ہاجرہ نے پہلا قدم جب اپنے شوہر کے گھر سے باہر رکھا تو زمانے نے اس کے منہ پر رکھ کر پہلا طمانچہ مارا )
بدچلن مت بن لڑکی ( اب اسکی ساس کا انداز بدل چکا تھا)
اللہ حافظ ماں جی ( ہاجرہ نے مسکرا کر جواب دیا)
منحوس عورت تیری منحوسیت کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے تیری منحوسیت کی وجہ سے میرا بیٹا اولاد سے محروم رہا ( دروازے پر کھڑی ساس اونچا اونچا بول رہی تھی اور ہاجرہ زمانے کے رواج توڑ رہی تھی )
عباس
Spiritual love is not abt possessing someone,it is a journey of discovering yourself.Some people enter our lives not to stay forever but to reveal the wounds within us that we have been ignoring for years
روحانی محبت کسی کو اپنا بنانے کا نام نہیں،بلکہ خودکو پہچاننے کا سفر ہے
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(پانچواں حصہ )
میں اس مدرسے کو جلا دونگی( ہاجرہ مدرسے پر پٹرول چھڑک رہی تھی ، ہاجرہ کا بھائی اسکی اماں اسکو روک رہے تھے ہاجرہ نے اس سے پہلے قاری صاحب کو قاری صاحب کے چہرے کو مکمل لال کر ڈالا تھا محلے کے لوگوں نے بڑی مشکل سے قاری صاحب کو ہاجرہ سے بچایا تھا )
ہاجرہ بس کر جا !
میں کیوں بس کروں تم سب کے اپنے بچے ہوتے تو تم اس گھٹیا انسان کو ننگا کر کے سولی پر لٹکا دیتے لیکن یہ میرا بچہ ہے نا اس لیے تم سب کو کوئی فرق ن��یں پڑتا یاد رکھنا اگر اس گلی کے کسی مرد نے میرے بچے کی طرف دیکھا تو میں اسکی آنکھیں نوچ لوں گی ویسے ہی جیسے میں نے اسکی انگلی کاٹ ڈالی ہے (ہاجرہ کا جلال پورے محلے میں مشہور تھا ہاجرہ پہلے ایسی نہ تھی وہ ایسی بنی کیونکہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا اگر وہ ایسی نہ بنتی تو یقیناً شعیب کسی ہجڑوں کے گروہ میں بیٹھا تالیاں بجا رہا ہوتا جہاں اسکو شوخ گلابی رنگ پہنا کر سرخی لگا دی جاتی کہ بھئی یہ ہی ہجڑوں کی پہچان ہے جو کہ بالکل غلط ہے اور ہاجرہ نے ہر غلط چیز کو غلط ثابت کر کے دِکھانا تھا )
______
کل میں شعیب کو اسکول داخل کروانے جاؤں گی (ہاجرہ اماں کے پاس بیٹھی انکو اپنے اگلے قدم کا بتا رہی تھی )
پھر کچھ غلط ہوا تو تُو کیا کرے گی !
میں ڈر کر شعیب کو پڑھائی سے محروم نہیں رکھ سکتی ہوں !
اسکول والے خواجہ سراؤں کو ایڈمشن نہیں دیتے ہیں !
کوشش کرونگی شاید کوئی راستہ نکل آئے !
اگر کوئی اور قاری صاحب جیسا نکل آیا تو کیا کرے گی ؟
قتل کردونگی مجھے حق ہے اس بات کا !
ہاجرہ تھوڑا پ��سکون رہا کر تھوڑا آرام سے کام کیا کر !
اماں اگر سکون کرنے بیٹھ گئی نا یہ سب میرے شعیبت کو کھا جائیں گے !
چل مل جائے گا اسکو داخلہ اسکی نانی دعا کرے گی (اماں نے پہلی بار شعیب کیلئے محبت ظاہر کی تھی جسے محسوس کر کے ہاجرہ آٹھ سال میں تیسری بار روئی تھی )
رو مت بس میرا دل پریشان ہوتا ہے تو نے خود کو اجاڑ لیا ہے !
اماں یقین رکھ صرف میرے اجڑنےسے بہت سےایسے گھر بچ��ے والے ہیں جہاں شعیب پیدا ہوتے ہیں !
اچھا چل اب مجھے میری دوا پکڑا دے !
____
کل صبح ہم اسکول جائیں گے ؟
ہاں !
مجھے وہ لوگ رکھ لیں گے ؟
معلوم نہیں لیکن کوئی نہ کوئی راستہ مل جائے گا !
اگر مجھے رکھ لیا تو کیا آپ بھی مجھے صبح صبح لنچ بنا کر دیا کرو گی ؟
ہاں اور میرے بچے کو لنچ میں کیا کیا چاہیے ہوگا ؟
آلو کو پراٹھا !
اور ؟
اور بس ، امی وہاں آپ نہیں ہوا کروگی نا !
ہاں میں گھر ہونگی !
مجھے آپ یاد آیا کرو گی !
ہاہاہاہا اسکول جاتے وقت رونا نہیں ہے اچھے بچوں کی طرح خوش خوش اسکول جانا ہے !
امی میں گڑیا بھی ساتھ لے کر جا سکتا ہوں ؟
نہیں وہاں کھلونے نہیں لے کر جاتے !
امی کیا ��یرے دوست بنے گے ؟
ہاں بہت سارے دوست بنیں گے !
وہ مجھے ناچنے کا تو نہیں کہیں گے ؟
مطلب ؟
مامی کہتی ہیں کہ شعیب تو دوست مت بنانا ورنہ وہ دوست تجھے نچوایا کریں گے اور میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرا کریں گے !
اور کیا بولتی ہیں مامی؟
وہ کہتی ہیں کہ ناچنے سے. منع مت کرنا اور کہتی ہیں کہ وہ مجھے سرخیاں دیں گی تاکہ میں وہ لگایا کروں !
سرخیاں کیوں دیں گی ؟
وہ کہتی ہیں کہ جو ہجڑے ہوتے ہیں انکو سرخی لگانی پڑتی ہے تاکہ سب انکو دیکھ کر خوش ہوں !
اچھا سن شعیب اب میں جو بولوں گی غور سے سننا تجھ پر صرف تیرا حق ہے اور کسی کا کوئی حق نہیں ہے جو تیرا دل کرے گا وہ کرنا کسی سے ڈرنا مت اور یاد رکھنا تو نے بس وہ کام کرنے ہیں جس سے خدا خوش ہو اور سن اب اگر کوئی کہے کہ تُو ناچنے کیلئے بنا ہے تو کہنا اس پر زیادہ حق مکمل لڑکیوں کا ہے اور تو نامکمل ہے اپنی نامکملیت کو اپنی طاقت بنا !
امی میں ایسا کیوں ہوں میں آپ سب کی طرح کیوں نہیں ہوں !
کیونکہ میرا شعیب باقی سب سے اچھا ہے !
میں واقعی میں اچھا ہوں نا !
ہاں بس ہر معاملے میں ایمان دار رہنا !
ایمان دار کون ہوتا ہے ؟
سمجھا دونگی اب سوجا کل اسکول بھی تو جانا ہے !
یسسس کل مزہ آنے والا ہے میں پہلی بار اسکول دیکھوں گا !
____
بچے تو معصوم ہوتے ہیں بچوں کا کوئی جینڈر نہیں ہوتا ہے انکو معصوم رہنے دینا چاہیے ان پر سماج کا بوجھ ڈال کر ان کے چہرے کی معصومیت چھین کر پچاس سال کی مشقت لادھ دینا بڑا ہی مجرمانہ فعل ہے !
_____
باجی جی آپ فضول میں کوشش کر رہی ہیں اسکو باہر لے کر جا رہی ہیں اس کی برادری کے لوگ اسکو پکڑ کر لے جائیں گے !
اماں اسکول جا رہی ہوں بھائی یا ابو پوچھیں تو بتا دینا ( ہاجرہ مسرت کو نظرانداز کر کے شعیب کو اسکول لے گئی تھی شعیب کے چہرے پر آج رونق تھی آنکھوں میں چمک تھی جو اسکو مز��د خوبصورت بنا رہی تھیں شعیب ایک بہت خوبصورت بچہ تھا وہ چہک چہک کر ہاجرہ کے ساتھ جا رہا تھا )
عباس
خواجہ سرا اور نا مکملیت !
(چوتھا حصہ )
یہاں تو گھر والے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں باہر کسی نے خاک اسکو قبول کرنا ہے (مسرت کا شوہر ہاجرہ پر چیخ رہا تھا ہاجرہ پر آج عدالت بیٹھی تھی جس میں قصور وار ہاجرہ تھی کھڑکی سےجھانکتا شعیب بغیر آواز کے رو رہا تھا )
میں بھی تو آپ سب کو قبول نہیں کرتی ہوں نہ باہر والوں کو قبول کرتی ہوں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سب کے سب ہجڑے ہیں ؟(ہاجرہ کی آنکھوں میں زرا برابر خوف نہیں تھا )
ہائےےےے باجی ��یں تو بس بھلا چاہ رہی تھی آپکا (مسرت ہائےہائے کرتی اور ہاجرہ کے زخموں پر نمک چھڑکتی )
ہاجرہ تُو خود پر قابو رکھنا سیکھ (اماں ہاجرہ کو کڑک لہجے میں بولی )
اماں آپ سب بھی خود پر قابو رکھیں !
دیکھ ہاجرہ اگر ایسا چلتا رہا تیری اس منحوس اولاد کو میں خود کسی ہجڑوں کو سونپ آؤں گا (بھائی نے اپنی بیوی کے زخم دیکھتے ہوئے کہا )
اگر آپ ایسا کریں گے تو میں ��ب کو زندہ جلا دونگی اور یاد رکھنا میں صرف کہتی نہیں ہوں کر کے دیکھاتی ہوں اور تین سال جو پہلے ہوا میرے خیال سے وہ نصیحت کیلئے آپ سب کو کافی ہونا چاہیے !
تُو کب تک اس کیلئے لڑتی رہے گی !
جب تک قبر میں نہیں چلی جاتی تب تک لڑوں گی !
بس کر جا ہاجرہ تُو نے سکون برباد کر دیا ہے (اب بھائی اس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہا تھا )
ابو آپ کچھ کیوں نہیں کہتے ہیں کیوں سب کچھ چپ کر کے سنتے ہیں ابو کیا میں غلط ہوں ؟میں شعیب کی ماں ہوں یہ سب آپ لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتا ہے (ہاجرہ اب اپنے باپ سے مخاطب تھی وہ باپ جو پچھلے آٹھ سال سے ہاجرہ سے ناراض تھا اس دن سے جس دن ہاجرہ گھر لوٹ کر آئی تھی اس وقت س�� جب ہاجرا نے بتایا تھا کہ اس کی کوکھ میں خواجہ سرا ہے ) اماں کم از کم آپ ہی شعیب کی طرف پیار سے دیکھ لیا کریں آپ اسکی نانی ہیں اتنا بھید بھاؤ کیوں ہے اس میں میرے شعیب کا کیا قصور ہے ؟
باجی میں تو اب بھی کہتی ہوں اسکو اسی مدرسے میں ۔۔۔۔
چپ کر جا مسرت اب بس کر جا (مسرت کا شوہر مسرت پر چیخا تھا کیونکہ وہ اپنی بیوی کی عادات سے واقف تھا )
اس مدرسے کو میں آگ لگا کر آؤں گی اگر اب کسی نے نام لیا (ہاجرہ نے آخری بات کی اور کمرے میں چلی گئی جہاں کھڑکی میں بیٹھا شعیب رو رہا تھا )
______
امی !
جی !
کیا ہمارے رہنے کی کوئی الگ جگہ ہوتی ہے ؟
نہیں تیری جگہ میرے ساتھ ہی ہے !
امی جب سب کو آپ کو دکھ دیتے ہیں میرا دل بہت دُکھتا ہے (شعیب اب رو رہا تھا وہ فقط آٹھ سال کا تھا لیکن اس میں سمجھداری پندرہ سال کے انسان والی تھی اور اسکی ایک اہم وجہ ہاجرہ کی تربیت تھی )
چل چھوڑ میرے بچے چل تیری گڑیا کے لیے کپڑے سلائی کرتی ہوں اگلے مہینے تجھے گاڑی بھی لا کر دونگی !
پھر میرے پاس بھی بہت زیادہ کھلونے ہوجائیں گے نا ؟
ہاں (ہاجرہ اب اسکی گڑیا کے کپڑے چھوٹی چھوٹی ٹاکیوں سے جوڑ رہی تھی )
امی میں اسکول جانا چاہتا ہوں !
ہاں تُو اسکول بھی جائے گا !
(رات ہوچکی تھی ایک اور دردناک دن گزر چکا تھا ہاج��ہ ہمیشہ کی طرح چھت کو دیکھ رہی تھی اور یاد کر رہی تھی کہ اس کے شعیب کے ساتھ تین سال پہلے کیا ہواتھا )
_____
آج شعیب مدرسے جائے گا ہاجرہ صبح سے ہی خوش تھی کہ آج شعیب باہر کی دنیا میں قدم رکھ رہا ہے تھوڑا ڈر تھا لیکن ایک امید بھی تھی قاری صاحب دس سالوں سے اسی محلے میں سب کو مدرسہ پڑھا رہے تھے اور انہوں نے ہی اس بات پر حوصلہ افزائی کی تھی کہ شعیب کو مدرسہ پڑھنا چاہیے بےشک وہ سب کی طرح نہیں ہے لیکن انسان اور مسلمان تو ہے نا !
اماں میں شعیب کو مدرسہ چھوڑنے جا رہی ہوں !
اپنے کزنوں کے ساتھ چلا جائے گا (اماں نے جواب دیا )
نہیں ��ماں میں خود چھوڑ کر آؤں گی !
مرضی ہے ویسے تُو نے کون سا کسی کی سننی ہوتی ہے !
(ہاجرہ شعیب کو مدرسہ چھوڑ آئی تھی چار بجنے کا انتظار کر رہی تھی قاری صاحب نے کہا تھا وہ خود شعیب کو گھر چھوڑ جائے گا باقی بچے گھر آگئے تھے لیکن شعیب نہیں آیا تھا چار سے ساڑھے چار بج چکے تھے ہاجرہ نے برقع پہنا اور مدرسے کیلئے جانے لگی تو اماں نے روکنا چاہا کہ اتنی بےیقینی ٹھیک نہیں ، ہاجرہ نے ایک جلال بھری نظر سے دیکھا اور مدرسے کی طرف چل دی اسکا دل دھڑک رہا تھا گھبرا رہا تھا حد سے زیادہ ضرورت سے زیادہ )
میرا شعیب کہاں ہے ؟
وہ وہ (قاری صاحب جو دروازے پر تالا لگا رہے تھے ایک دم ڈر گئے )
چابی دے اد��ر اس سے پہلے کہ میں تیرا قتل کردوں (اور ہاجرہ نے واقعی چابی لیتے ساتھ ایک دھکا قاری صاحب کو مارا جس سے وہ گر گیا اور سر پھٹ گیا اس نے جلدی جلدی تالا کھولا اور اندر گئی جہاں شعیب کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا وہ بےہوش تھا اور یقیناً قاری صاحب کو اپنی باقی پسماندہ ہوس پوری کرنے کا ذریعہ شعیب لگا تھا جو آج بھی سب کو لگتا ہے )
عباس
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(تیسرا حصہ )
باجی قورمہ بن گیا ؟
نہیں ابھی بس دس منٹ میں تیار ہوجائے گا (ہاجرہ روٹیاں بنا رہی تھی اور شعیب کمرے کی کھڑکی سے سب کو دیکھ اور سن رہا تھا )
باجی آٹھ سال کا ہوگیا ہے اسکو اب کہیں اسکول اور مدرسے نہیں لگائیں گی ؟
فلحال کچھ نہیں سوچا ہے (ہاجرہ نے ایک زہر بھری نظر سے مسرت کو دیکھا )
اچھا باجی جو آپکو بہتر لگے (مسرت کو ہاجرہ کی آنکھوں سے خوف آتا تھا )
____
امی جی !
جی جی !
اگلی سالگرہ پر آپ قورمہ نہ بنانا !
کیوں ؟
سب آپ پر ہنستے ہیں امی !
کوئی بات نہیں اللہ ثواب دیتا ہے !
وہ کیسے ؟
جب کوئی آپکی وجہ سے ہنسے گا تو اللہ ثواب دے گا !
اور اگر کوئی ہماری وجہ سے روئےگا تو ؟
اس سے اللہ ناراض ہوجاتا ہے !
پھر اللہ جی مامی سے ماموں سے نانی سے ناراض ہونگے نا ؟
نہیں کیونکہ ہم انکو معاف کردیتے ہیں !
کیوں معاف کرتے ہیں ؟
تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو !
میں باقی سب کی طرح کیوں نہیں ہوں نہ کوئی مجھے لڑکی سمجھتا ہے اور نہ لڑکا !
لڑکی یا لڑکا ہونا ضروری نہ��ں ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے انسان ہونا اور انسان بننا آسان کام نہیں ہے اور میرا شعیب درندوں کے درمیان انسان ہے !
لیکن پھر بھی امی ، کاش میرے بھی ابو ہوتے !
کیا میں کافی نہیں ہوں ؟
امی (شعیب کے چہرے پر ��داسی تھی )
دیکھ کچھ نہ کچھ کمی ہر انسان کے پاس رہتی ہے اسکو کمی کے ساتھ ہی جینا ہوتا ہے !
مجھ میں تو ڈھیر ساری کمیاں ہے نا ؟
نہیں بالکل بھی نہیں !
امی میرا بھی اسکول جانے کا دل کرتا ہے !
اچھا میں کوشش کرونگی !
(شعیب روز سوتے وقت اپنی امی سے ایسے ہی باتیں کرتا تھا اور پھر سوال جواب کے درمیان ہی کہیں وہ سو جاتا تھا ، ہاجرہ جاگ رہی تھی چھت کو بغیر پلک جھپکائے دیکھ رہی تھی اس کے دماغ میں مسرت کی باتیں گونج رہی تھیں جو ایک درد پیدا کر رہی تھیں )
______
عورت کا بہادر ہونا اشد ضروری ہے ماں باپ کو چاہیے اپنی بیٹی کی شادی تب تک نہ کروائیں جب تک وہ بہادر نہیں بن جاتی کیونکہ ماں پر ��قط بہادری سجتی ہے جو عورت بزدل ہو وہ اس لائق نہیں کہ وہ ماں بنے کیوں کہ ماں کو ڈھال بننا پڑتا ہے اپنی اولاد کیلئے یہ وہ واحد مقصد ہے جس کی بنا پر عورت کو مرد کی پسلی سے بنایا گیا جو عورت ایک پسلی نکال سکتی ہے وہ ساری کی ساری پسلیاں نکالنے کا ہنر بھی جانتی ہے ، ہاجرہ بلا کی بہادر ماں تھی وہ اکیلی پورے سماج سے لڑی تھی تاکہ اسکے شعیب کو ایک مقام ملے اور وہ کامیاب بھی ہوئی اس نے اپنی پوری زندگی آگ میں جھو��ک دی تھی اسکو اپنی کہانی میں کسی شہزادے کی ضرورت نہیں تھی اس کی کہانی میں فقط ماں کو اپنی اولاد کی ضرورت تھی اور اولاد کو فقط ماں کی !
یہ ضرورت اس دنیا کی سب سے خوبصورت ضرورت ہے !
_____
باجی اسکو مدرسے میں لگا کر آجائیں (صبح صبح جب ہاجرہ کمرے سے باہر نکلی تو مسرت نے ٹوک کر ہاجرہ کی توجہ اپنی طرف کی )
کیا مطلب ہے ؟
باجی پرانی باتیں بھول جائیں وہ فقط آپ کی غلط فہمی تھی !
کیا مطلب کہ میری غلط فہمی ہے ؟
یہ ہی جو آپ نے تماشہ کیا تھا !
میں نے تماشہ کیا تھا ؟
ہاں باجی !
اگر میرے شعیب کی جگہ تیری اولاد ہوتی تب تو کیا کرتی !
باجی اب آپ حد سے بڑھ رہی ہے شعیب میں اور میرے بچوں میں زمین آسمان کا فرق ہے !
ہاں بالکل کسی ماں کے بچے میرے شعیب جیسے بن ہی نہیں سکتے ہیں !
کب تک اسکو گھر میں چھپا کر رکھیں گی اسکو باہر نکالیں!(مسرت اپنے پسندیدہ کام میں مشغول تھی کہ اتنے میں اماں بھی آ کر ساتھ والی چار پائی پر بیٹھ گئی)
کیا بات چل رہی ہے مسرت !
اماں جی میں تو بس باجی جی کو کہہ رہی ہوں کہ شعیب کو مدرسے لگا دیں کچھ پڑھ لکھ لے گا اب ایک پرانی بات کو اور کتنا گھسیٹنا ہے !
ہاں سہی تو کہہ رہی ہے یہ (اماں نے مسرت کی تائید کی )
اماں اگر شعیب کی جگہ میں ہوتی تو آپ کیا کرتی ، او معذرت آپ تو مجھے ہنسی خوشی آگ میں جھونک کر آ جاتی کیونکہ آپ تو کبھی میری ماں بنی ہی نہیں !
میں نے تیری طرح ہجڑے پیدا نہیں کیے ہیں اپنی بکواس بند رکھا کر ہاجرہ !
میں بھی اماں یہ ہی کہتی ہوں کہ ایک ہجڑے کی وجہ سے ہماری زندگی میں زہر گھولا جا رہا ہے اس کو کسی کو دے آؤ اسکو بیچ دو (مسرت اب تلخی جمع کیے بول رہی تھی اور ہاجرہ چپ کھڑی تھی )
باجی برا نہ ماننا لیکن ہجڑوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور اس میں کچھ غلط ۔۔۔۔(مسرت کی بات مکمل نہ ہوئی تھی اور ہاجرہ نے سامنے پڑا گلاس مسرت کے سر پر دے مارا تھا )
کہا تھا میں نے کہ میرے بچے کے بارے اپنی زبان بند رکھنا لیکن تم سب کی زبان بند نہیں ہوتی ہے میں اپنے بچے کیلئے صرف تم سب کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو آگ لگا کر راکھ کر سکتی ہوں خدا کی قسم اب اگر شعیب کو کچھ کہا زندہ نہیں چھوڑوں گی (ہاجرہ میں عجیب طرز کا جلال تھا )
عباس