شاہ محمود قریشی ، ڈاکٹر یاسمین راشد ، عمر سرفراز چیمہ ، میاں محمود الرشید ، اعجاز چوہدری ، سالار خان کاکڑ ، زیاد خلیق کیانی ، اعظم خان سواتی ، کرنل ریٹائرڈ اجمل صابر راجہ سمیت ہزاروں ورکرز آج بھی قید ہیں ۔
سب کو رہا کرو
@samrinahashmi محترمہ خوش تو شاید کوئی بھی نہیں اس سانحہ پر لیکن ایک ہوتی ہے برائی ظلم دوسرا ہوتا ہے برائی اور ظلم کا ساتھ دینا جب غزہ میں آگ لگی تھی تو یہ لوگ نا صرف اس کو صیح سمجھتے تھے بل��ہ ظالموں کا ساتھ اور ان کی مالی اور ہتھیاروں کے ساتھ مدد بھی کرتے تھے بس یہ وجہ ہے کہ لوگ آپ کو خوش لگتے
چئیرمین عمران خان کا سالِ نو کے حوالے سے پیغام
قوم کو سالِ نو مبارک ہو! یقینِ کامل ہے کہ سال ۲۰۲۵ حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
��یں اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے باوجود فسطائیت کے وقت کے فرعونوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ۸ فروری کو بھی اپنا واضح فیصلہ سنایا، اور ایسی جماعت کو ووٹ دیا جس پر اس کا انتخابی نشان چھین کر عملاً پابندی لگا دی گئی تھی۔ استقامت اور ہمت کا استعارہ بن کر پاکستانی قوم باقی ماندہ سال بھی ڈٹ کر کھڑی رہی۔ آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، انشاء اللہ
رجیم چینج کا تجربہ نہ صرف قومی معیشت بلکہ ملک کے مکمل نظام پر بہت بھاری پڑا ہے۔ 6% شرح نمو پر ترقی کرتی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ملک کو اب تک اس کھلواڑ سے 42 ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔ شرح نمو 6.1% سے سکڑ کر 0.17% پر آ چکی ہے۔ اداروں اور انصاف کے نظام کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سویلینز کی سزاؤں کے بیوقوفانہ فیصلوں نے عالمی برادری کو ملک پر تنقید کا ایک اور موقع فراہم کر دیا ہے۔
ملک میں رائج فسطائی رجیم نے قوم کو خوفزدہ کرنے کے لیے ہر قسم کے جابرانہ و آمرانہ حربے آزمائے لیکن خوف کی ایک خاص مدت ہوتی ہے۔ اس نئے سا�� میں، میں جبر و فسطائیت کے پہاڑ توڑنے والوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے قوم کے خوف کے بت توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب پورا نظام اپنے گھٹنوں پر آ چکا ہے اور اپنی نوشتہ دیوار شکست کو مختلف حربوں سے موخر تو کر سکتا ہے لیکن ٹال نہیں سکتا۔ فتح انشاء اللہ جمہور کی ہو گی، اور بہت جلد ہو گی
@RichardGrenell Now Hanif Abbasi should apologize to the people of Pakistan and to Richard Grenell for lying, but he won't do that because PML-N does politics and makes us Pakistanis ashamed.
@RichardGrenell Because they are used to doing all these things in Pakistan, so they do not know that people of other countries do not tolerate such things.
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
“تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط ماف��ا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے- 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں-
میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-
سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارےلیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے:
۱۔ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔
۲- نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے ذائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغواء کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔ دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔
اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔ قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ 1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔
۳- تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔
۴-ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھا لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انہوں نے فارم-47 کے زریعے الیکشن فراڈ کیا۔ کمشنر راولپنڈی نے اس فراڈ کو کنفرم کیا اور گواہی دی۔ لیکن اس پر بھی نظام انصاف خاموش رہا اور کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔
۵۔ اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے لیے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا۔ اپنی مرضی کے جج لگانے کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے جو حربے استعمال کئے گئے وہ بھی ایک مضحکہ خیز داستان ہ��، لیکن اس سارے معاملے پر بھی نہ عدلیہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے میڈیا میں اس کےخلاف آواز بلندکرنے کی اخلاقی جرات تھی۔
۶-سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔
۷۔ 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انہوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا مطالبہ آئین اور جمہوریت کی بحالی تھا- نہ تو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تھی نہ ہی کوئی اور پر تشدد کاروائی ہوئی لیکن اسکے باوجود ہمارے لوگ شہید کئے گئے۔ 12 لوگ مغرب سے پہلے شہید کئے گئے اور باقیوں کو رات بجلی بند کر کے گولیاں ماری گئیں۔
ان حالات میں جب پاکستانیوں سے تمام آئینی حقوق چھین لیے گئے ہیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، پرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے، قانون اور آئین کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، اپنے ہی شہریو�� پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اداروں کو عوام کے مقابلے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا قوم کی مجبوری بن چکی ہے-
اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لئے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-“
بچوں سے ان کا بچپن بھی چھن گیا، جن بچوں نے یہ خوفناک اور ہولناک شہادتیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ہیں ان کی اب سوچ کیا ہوگی؟
10 سال کے اس ننھے رپورٹر کو دیکھیں اب اس کو نہ اٹھا لینا
کچرا اٹھانے والے ٹرکوں سے تمام ٹی وی چینلز کی اسکرینز تک۔میڈیا ایسے ہی مینیج نہیں ہوتا۔عوامی ٹیکس کے پیسے جس طرح میڈیا پر نچھاور ہو رہے صرف اپنی ناجائز اور غیر آئینی حکومت کو ثابت کرنے کے لیے اس کے اعداد و شمار جب سامنے آئیں گے تو لوگوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔
کشمیریوں نے مطالبات مُنوا لئے ہیں کیونکہ عوام تو باہر نکلی ہی ان کی کمیٹی کے لوگ مخلص ہیں ہمارے قیادت کے کچھ لوگ دونوں طرف کھیلتے ہیں ہماری قیادت بھی مخلص ہوتی تو خان اب تک باہر ہوتا۔۔۔۔