دھڑکن تھے دعا تھے میرے ہونے کا یقین تھے
خوشبو کے محافظ تھے محبت کے آمین تھے
دکھ یہ ہے میرا یوسف و یعقوب کے خالق
لوگ وہ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
اے باد ستم خیز تیری خیر کے تو نے
پنچھی وہ اڑائے کہ جو اڑنے کے نہیں تھے
#قومی_زُبان#اردو_شاعری#شاعری
میں لکھتا رہوں گا اور تم پڑھتی رہو گی
اور ہمارے درمیان حروف اور الفاظ کے فاصلوں کے سوا کچھ نہیں
میں یہاں ہوں اور تم وہاں ہو
اور ہمارے درمیان کی دوری نقطوں کے بغیر حروف کی طرح ہے
ہم انہیں دیکھتے ہیں انہیں محسوس کرتے ہیں لیکن ہم ان تک پہنچ نہیں سکتے
ایک عجیب محبت جو ہار ماننے سے انکار کرتی ہے
میں نے تم سے محبت کرنے کا انتخاب نہیں کیا تھا
بلکہ تمہاری محبت نے مجھے چنا ہے
سب کچھ ایک اتفاق تھا
اور ایک ہی اتفاق نے تمہیں میرے دل میں پھینک دیا
پھر میں تمہارے عشق کی آزمائش میں مبتلا ہو گیا
اور تمہارے ساتھ میری یہ آزمائشیں کتنی خوبصورت ہیں
میرا دل تم سے محبت کرتا ہے
اور میری روح تم پر فریفتہ ہے
اور تم وہ عورت نہیں ہو جو زندگی میں یوں ہی گزر گئی ہو
تم میری زندگی کی وہ محبت ہو جو بغیر کسی وقت کے آئی
اور بغیر اجازت میرے اندر ٹھہر گئی
تو کیا ہم کسی دن جمع ہوں گے
تاکہ اپنے حروف کے درمیان کے فاصلوں کو سمیٹ سکیں
اور الفاظ کو ایک سچی ملاقات میں بدل سکیں
یا میں تمہیں اپنی سطروں کے درمیان لکھتا رہوں گا
اور اپنے حروف اور الفاظ کے درمیان تمہیں چھپاتا رہوں گا
میری زندگی کے آخری حرف تک
مجذوبؔ
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ
میں نے دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
محسن نقوی
اللّٰہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی ، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا ، نعرہء تکبیر بھی فتنہ
علامہ محمد اقبال
#قومی_زبان
رب العالمین #علامہ_اقبال کے درجات بلند فرماے
وہ خود ہم میں موجود نہیں لیکن انکا کلام ہمیں آج بھی غیرت، خودداری،اور تدبر کا پیغام دے رہا ہے۔۔۔
اقبال جیسا نہ کوئی اس جہان میں آیا، نہ آ سکتا ہے لیکن افسوس ہم نے اس عظیم رہنما کی تعلیمات فراموش کر دی💔
#EndUnlawfulDetentionOfKhan
انتظار کی انتہا یہ ہے کہ آنکھیں در پہ ٹھہر جائیں
نیند کی ہر راہ تیرے لفظوں پہ آ کر بکھر جائیں
تو ایک صدا دے دے تو دل کو سکون آ جائے
ورنہ پلکوں پہ پوری رات کے دیے جلتے رہ جائیں۔
شـــــــــــاہ
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اُس شام بھی
اِنتظار اُس کا مگر کُچھ سُوچ کر کرتے رہے
آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اُڑانوں کا خیال
جِن کو تیرے زُعْم میں بے بال و پر کرتے رہے
جب سانسوں کی لو مدھم ہو
اور موت قریب آ ٹھہرے،
آخری ملاقات کے اس لمحے میں
تم آ جانا چپکے سے۔
میرا ہاتھ تھام کر
آنکھوں سے بات کر لینا،
کہ جو کہہ نہ سکے عمر بھر
وہ سب اسی پل میں کہہ دینا۔
اگر لفظ ساتھ نہ دیں
تو خاموشی کو بولنے دینا،
اور رخصت کی اس گھڑی میں
محبت کو مکمل کر دینا۔
جب میں بوڑھا ہو جاؤں
تب مجھ سے ملنے آنا
وقت کی جھریوں میں چھپی
میری مسکراہٹ کو پہچان لینا۔
یاد کے نہاں خانوں میں
اپنی چاہت کی البم کھولنا،
ہر ورق پہ ٹھہری ہوئی دھڑکنوں کو
آہستہ سے جگا لینا۔
وقت کے گھڑیال کی آواز میں
محبت کا کوئی بھولا سا گیت ڈھونڈنا،
جو کبھی تم نے میرے نام کیا تھا
اُسے پھر سے گنگنا لینا۔
رات کے آخری پہر میں
جب سانس کی ڈوری مدھم پڑنے لگے،
اور ونٹیلیٹر کی سرد صدا
خاموشی کا اعلان کرے
تب تم آ جانا۔
میرے پاس بیٹھ کر
خاموشی سے میرا ہاتھ تھام لینا،
لفظ اگر ساتھ نہ دیں
تو آنکھوں سے بات کر لینا۔
اور ہاں
اس بار دیر سے آنے کا بہانہ نہ کرنا،
کہ زندگی کی نقدی میں
ادھار کے سکوں کا بوجھ
اب بہت بڑھ چکا ہے۔
آؤ، اس بار
حسابِ محبت چُکا جائیں
کہ شاید پھر
ملاقات کا کوئی موقع نہ ملے۔
تمہارےٹوٹے ہوئے پاؤں کی وجہ سے کوئی اورلنگڑا کر نہیں چلے گا
جب ہم کسی ذاتی سانحےسےگزرتے ہیں،لوگ کسی حد تک ہمدردی تو کرتےہیں مگروہ ہمارے درد کو پوری طرح محسوس نہیں کرسکتے۔ان کی زندگیاں ویسے ہی چلتی ہیں۔اسلیے ہمیں خودپر بھروسہ کرنا سیکھناچاہیےاور اللہ سے صبرومضبوطی کی دعاکرنی چاہیے