your phone number is personal and sometimes you want to connect without handing it over. that's why we're introducing usernames for WhatsApp.
starting this week, you can reserve a username to use later this year when we launch the feature. It takes just a few seconds, make sure you have the latest version of WhatsApp and then go to Settings > Account > Username.
جنت نظیر چھم آبشار کا چُھپا حُسن۔
چھم آبشار آزادکشمیر کی سب سے بڑی قدرتی آبشارہے اور یہ آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے قصبہ چناری سے شمال مشرق کی جانب پانڈو پہاڑ کے عقب میں واقع ہے۔مظفرآباد سے تقریباً 64 کلو میٹر جبکہ چناری سے اس کا فاصلہ لگ بھگ 16 کلومیٹر ہے جس میں چناری سے آگے آٹھ کلومیڑ روڈ پختہ اور باقی روڈ کچی ہے جس پرپختگی کا کام جاری ہے۔ اس آبشار تک پہنچنے کے لیے چناری سے جیپ اور ٹیکسی آسانی سے مل جاتی ہے اسکے علاوہ موٹر سائیکل بھی یہاں تک باآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ یہاں پر رات کو قیام کرنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے لہذا سرِشام ہی آپکو رات گزارنے کے لیے واپس چناری آنا پڑے گا یا اگر مقامی آبادی میں آپکا کوئی جاننے والا ہے تو بطور مہمان آپ وہاں پر بھی رات گزار سکتے ہیں۔ یہاں قریب کوئی دوکان اور ہوٹل بھی نہیں ہے لہذا اگر آپ اس آبشار کا نظارہ کرنے جائیں تو سامانِ خوردونوش بھی ہمراہ لیکر جائیں تاکہ آپ پرلطف نظاروں کے ساتھ ساتھ شکم سیر بھی ہوسکیں۔
یہ آبشار نالہ قاضی ناگ پرسطح سمندر سے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار فٹ پر واقع ہے۔ نالہ قاضی ناگ جو کھرا مڑو کے سر سبز پہاڑوں سے نکلتا ہے اور چناری کے مقام پر دریائے جہلم سے جا ملتا ہے۔ یہ نالہ بہت سے دلکش مناظر کا حامل ہے۔مختلف کھیتوں ،پہاڑوں، جنگلوں اور چٹانوں کے بیچ سے بل کھاتا ہوا ایسے گزرتا ہے کہ دُور سے دیکھ کر کسی بڑے سانپ کا سا گماں ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس کے نام کے ساتھ لفظ ناگ کا بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ارد گرد کے قدرتی مناظر اس قدر حسین ہیں کہ یہاں آنے والے سیاح اس کی دل کشی میں کھو سے جاتے ہیں ۔ بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جگہ سیاحوں کے لیے ایک جادوئی جنت کا مقام رکھتی ہے۔
یہ آبشار تقریباً تین سوفٹ کی اونچائی سے گرتی ہے ۔ بلندی سے گرتا ہوا پانی روئی کے گالوں کی طرح تیزی سے زمین کی طرف لپکتاہے۔ اگر اس گرتے پانی کو تھوڑا دیر غور سے دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روئی کا ایک لمبا سا تانتا چل رہا ہے۔ آبشار کے سامنے روڈ پر کھڑے ہو کر اگر اس کا نظارہ کیا جائے تو منظر کی خوبصورتی اورغیر معمولی دلکشی اتنی مسحور کن اور دلفریب ہوتی ہے کہ انسان پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ روڈ سے اتر کر آبشار تک جانے کے لیے ایک کچی پگڈنڈی ہے جس کے ارد گرد سرسبز مخملی گھاس کی ایک قالین سی بچھی ہوئی ہے جس میں جا بجا پھول قطار اندر قطار مہک رہے ہوتے ہیں۔ ہر طرف اڑتی رنگ برنگی تتلیاں اور قدرتی پھولوں سے رازو نیاز میں مشغول بھنورے ایک سحر انگیز منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ طرح طرح کے پرندوں کی آوازیں، کوئل کی کوُکوُ ، ندی کا صاف و شفاف بہتا پانی اور سکوت کا عالم ۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے علامہ اقبال رحمتہ علیہ نے اپنی نظم “ایک آرزو” کسی ایسی ہی جگہ کے لئےلکھی تھی۔
اونچائی سے گرتا ہوا پانی زمین پر ٹکرانے کے بعد بخارات کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور قریب قریب سو فٹ کے فاصلے تک ہلکی دھند کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ تھوڑا فاصلے سے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے دھواں سا اٹھ رہا ہے۔ گرمی کے موسم میں برف کے پانی سے اٹھتے یہ ٹھنڈے یخ بخارات پل بھر میں انسان کی رگوں میں بہتے خون کو بھی منجمد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آبشار کے قریب پاک آرمی کی جانب سے بیٹھنے کے لیے لکڑی کی کرسیاں اور ٹیبل بنائے گئے ہیں اور ندی کو عبور کرنے کے لیے لکڑی کا ایک پُل بھی تعمیر کیا گیا ہے جس سے گزر کر آبشار کے بالکل قریب تک پہنچا جا سکتا ہے۔
آبشار کے اردگرد ، چیڑھ اور دیودار کے گھنے اور لمبے درخت ہیں جن کے سائے میں بیٹھ کر کسی قدرتی ایئر کنڈیشن کا احساس ہوتا ہے۔ اگر آبشار کے پیچھے کی طرف دیکھا جائے تو میلوں دور تک پھیلے سر سبز اور برف کی چادر اوڑھے پہاڑ بھی دعوت نظارہ دے رہے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ ایسے مناظر کو دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اتنی دلکشی اور حسنِ ترتیب کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کو لازوال خوبصورتی بخشنے والی ایک اللہ کی ذات ہےجو اپنی کن فیکون کی قوت کے تحت ایسے سحر انگیز مناظر انسانوں کے لیے پیدا کرتا ہے تاکہ انسان غور وفکر کے بعد خالق کے ہونے کا یقین کر لیں۔
تم اتنی خوبصورت ہو
بالکل اس چَرواہے کی مسکراہٹ کی طرح، جس کو ایک ہفتے بعد اُس کا گمشدہ دُنبہ مل جائے ۔🐑
آزاد کشمیر کی سحر طاری کر دینے والی جھیل، سرل جھیل