حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ پر پچاس راتیں ایسی گزریں کہ کوئی انسان ان سے بات نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ ان کے لیے وہ زمین بھی اجنبی ہو گئی جسے وہ خوب پہچانتے تھے، اور ان کا سینہ اپنی وسعت کے باوجود تنگ پڑ گیا۔
پچاسویں رات کی فجر کے وقت انہوں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی، جو پہاڑ کی چوٹی سے بلند آواز میں پکار رہا تھا: ’’اے کعب بن مالک! خوش ہو جائیے!‘‘ چنانچہ ان کے لیے سات آسمانوں کے اوپر سے قرآن کی صورت میں نجات اور کشادگی نازل ہوئی، جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی!
زندگی میں کچھ وقت ایسے بھی آتے ہیں جب صرف حالات ہی تنگ نہیں ہوتے، بلکہ تمہارے سینے میں موجود تمہارا اپنا دل و دماغ بھی تم پر بوجھ بن جاتا ہے، یہاں تک کہ تمہارا دم گھٹنے لگتا ہے۔
عین اسی لمحے قرآن میں بیان کردہ اس کیفیت کو پڑھو، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں ساتھیوں کی نجات کا راز آشکار فرمایا:
’’یہاں تک کہ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی، اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر تنگ پڑ گئیں، اور انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے خود اسی کی طرف پناہ لینے کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، تو پھر اللہ نے ان پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی۔‘‘
(سورۃ التوبہ: 118)
کشادگی اسی لمحے جنم لیتی ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر کہیں نہیں جایا جا سکتا، سوائے اس کی رحمت کی پناہ میں آنے کے۔
انہی گھٹن بھری گھڑیوں کے لیے نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک دعا سکھائی، جو دل کی تنہائی اور بے قراری کو دور کرنے کا وسیلہ ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں یہ دعا پڑھنے کی وصیت فرمائی:
’’اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے سب کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے وسیلے سے فریاد کرتا ہوں۔ میرے تمام معاملات درست فرما دے، اور مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے نفس کے حوالے نہ کر۔‘‘
(يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ)
اور اسی سپردگی اور اللہ کے حوالے کر دینے سے الجھی ہوئی گرہیں کھلنے لگتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
’’قرآن مجید کی سب سے بڑی آیت، جو اللہ کے سپرد کر دینے اور اسی پر بھروسا کرنے کا مفہوم رکھتی ہے، یہ ہے:
’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘
(سورۃ الطلاق: 2-3)
اے میرے عزیز! جب زمین تم پر تنگ ہونے لگے اور سانسیں گھٹنے لگیں، تو اپنا سر اٹھا کر اللہ، جو کارساز اور ہر طرح کی حمد و ثنا کے لائق ہے، کی طرف دیکھو؛ کیونکہ آسمان کی طرف سے خوش خبریاں اکثر اسی وقت آتی ہیں جب زمین کے تمام راستے اور تدبیریں ختم ہو چکی ہوتی ہیں!
’’اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی کارساز، ہر طرح کی حمد و ثنا کے لائق ہے۔‘‘ ♥️🌼
(سورۃ الشوریٰ: 28)
Hair growth remedy:
A few small onions, a spoon of tea leaves, some curry leaves, a spoon of rice.
Boil in a glass of water for 5 minutes, strain, mix with shampoo, wash 2–3 times a week.
Hair fall stops, grows 4x faster, becomes silky and shiny.
اگر میں آپ سے کہوں کہ ایک ایسی دعا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں اللہ کا وہ عظیم نام ہے جس کے ذریعے اللہ سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے…
تو کیا آپ اسے یاد نہیں کرنا چاہیں گے؟
یہ کوئی جادوئی الفاظ نہیں۔
یہ اللہ کی حمد ہے،
اس کی توحید ہے،
اس کے جلال کا اقرار ہے،
اور اس کے خوبصورت ناموں کے ذریعے اپنے رب کے سامنے جھک جانا ہے۔
دعا کے الفاظ ہیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ
ترجمہ:
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا کرنے والا ہے۔ اے جلال اور بزرگی والے! اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے سب کو قائم رکھنے والے!
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں اسی طرح اللہ سے دعا کی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اس نے اللہ سے اس کے اسمِ اعظم کے ذریعے دعا کی ہے، جس کے ذریعے اللہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے اور جس کے ذریعے اس سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے۔"
(سنن ابی داود، حدیث 1495)
ذرا اس دعا پر غور کیجیے…
اس شخص نے پہلے اللہ کی حمد کی۔
پھر اس کی توحید بیان کی۔
پھر اس کے احسان کا اقرار کیا۔
پھر اس کی قدرت اور عظمت کو پکارا۔
اور آخر میں کہا:
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ
اے ہمیشہ زندہ رہنے والے!
اے سب کو قائم رکھنے والے!
یہی دعا کا ایک خوبصورت ادب ہے۔
ہم اکثر اللہ کے سامنے جاتے ہی اپنی ضرورت بیان کرنا شروع کردیتے ہیں:
یا اللہ یہ دے دے…
یا اللہ وہ مشکل دور کردے…
یا اللہ میری پریشانی ختم کردے…
لیکن یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مانگنے سے پہلے اپنے رب کو پہچانیے۔
اس کی حمد کیجیے۔
اس کی بڑائی بیان کیجیے۔
اس کی توحید کا اقرار کیجیے۔
پھر اپنے دل کی بات اس کے سامنے رکھ دیجیے۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے:
دعا کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اللہ کے فیصلے کا وقت مقرر کرسکتے ہیں۔
ہم مانگتے ہیں…
اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب دینا ہے، کیا دینا ہے اور کس صورت میں دینا ہے۔
کبھی وہ وہی چیز عطا کردیتا ہے جو ہم نے مانگی۔
کبھی کسی نقصان سے بچا لیتا ہے۔
اور کبھی ہمارے لیے اجر محفوظ کر دیتا ہے۔
اس لیے اگر دعا کے بعد فوراً وہ چیز نہ ملے جس کے لیے آپ رو رہے تھے، تو یہ نہ سمجھیں کہ آپ کی دعا ضائع ہوگئی۔
آپ نے اللہ کو پکارا ہے…
اور اللہ سے بڑھ کر کون سننے والا ہے؟
اس دعا کو صرف ایک "وظیفہ" سمجھ کر نہ پڑھیں۔
اس کے معنی سمجھیں۔
دل سے پڑھیں۔
اپنے رب کے سامنے جھک کر پڑھیں۔
اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردیں۔
شاید آپ جس دروازے کو بند سمجھ رہے ہیں،
اللہ اسی کے پیچھے آپ کے لیے راستہ بنا رہا ہو۔
یا حَيُّ يا قَيُّومُ، برحمتك أستغيث۔
یا اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما، ہماری مشکلات آسان فرما اور ہمیں اپنے فیصلوں پر راضی رہنے والا دل عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲
یہ دعا کسی ایک ایسے شخص تک ضرور پہنچائیں جو آج اللہ سے کسی مشکل کے حل کے لیے گڑگڑا کر مانگ رہا ہے۔
آجکل مختلف قسم کے بیجوں کا بہت فیشن ہو رہا ہے کہ فلاں سید کیا فائدہ دیتا ہے اور فلاں قسم کے بیجوں کی کیا افادیت ہے۔
میں حکیم نہیں۔ ان کے تفصیلی فوائد تو آپ کو کوئی حکیم یا ویب سائٹ بتائے گی
مجھے یہ ویڈیو ملی ہے کہ یہ بیج کس طرح اور کیسے زیادہ سے زیادہ فائدہ دے سکتے ہیں۔ ایک ایک دو دو الفاظ میں ان کے فوائد بھی لکھے ہوئے ہیں
اگر آپ بیج کھا رہے ہیں تو اچھا ہے
اگر آپ بھی کسی بات سے متاثر ہو کر بیج کھانے کا پروگرام بنا رہے ہیں تو بھی
دونوں صورتوں میں یہ ویڈیو آپ کو فائدہ دے گی۔
ڈاکٹر اسرار صاحب اور غامدی صاحب کے مابین مشہور مباحثہ 🔥🔥
کیا ہی خوبصورت علمی نشست ہے!
ڈاکٹر اسرار احمدؒ اور جاوید احمد غامدی صاحب جیسے دو اہلِ علم کو سننا اپنی جگہ ایک موقع ہے، لیکن اس گفتگو کی خاص بات میزبان کی دانشمندی بھی ہے۔ انہوں نے جس سنجیدگی اور علمی انداز سے گفتگو کو آگے بڑھایا، وہ قابلِ تعریف ہے۔
ایسی گفتگو میں مقصد کسی کو ہرانا نہیں، بلکہ علم کو سمجھنا اور حق کو پہچاننا ہونا چاہیے۔ اختلاف اپنی جگہ، ادب اور دلیل ہمیشہ مقدم رہنی چاہیے۔
5 منٹ کی یہ فیس ایکسرسائزز آپ کے چہرے کی لکیروں اور لٹکتی جلد کو غائب کر سکتی ہیں 📉
اس ویڈیو میں دیکھیے چہرے کو لفٹ اور فکس کرنے والی 5 جادوئی ورزشیں جو آپ کی رنگت اور بناوٹ کو نکھار دیں گی۔ آج ہی سے شروع کریں اور فرق خود دیکھیں🧴🏽♀️
"امّی ساٹھ سال بعد کیا اب بھی آپ ابو سے محبت کرتی ہیں؟"
بس چند لمحے میری طرف دیکھتی رہیں، پھر مسکرا دیں.
اُس رات مجھے اُن کی خاموشی کا جواب ملا
اور وہ جواب شاید محبت کی سب سے خوبصورت تعریف تھا جو میں نے کبھی سنی۔
میری ما اناسی برس کی ہیں۔
اور میرے والد تراسی برس کے۔
ان دونوں کی شادی کو انسٹھ سال ہو چکے ہیں۔
اتنا طویل عرصہ کہ اُن کی مشترکہ زندگی کی عمر اُن کے بیشتر رشتوں، دوستوں اور یادوں سے بھی زیادہ ہے۔
میں جب بھی اُن کے پاس بیٹھتا ہوں، وہاں کوئی غیرمعمولی منظر نہیں دیکھتا۔
نہ پھول۔
نہ تحفے۔
نہ رومانوی جملے۔
صرف دو بوڑھے انسان۔
ایک ہی چھت کے نیچے۔
ایک ہی معمولات کے ساتھ۔
ایک ہی خاموشی میں۔
شاید اسی لیے اُس دن اچانک میرے ذہن میں سوال آیا۔
"امّی، کیا آپ اب بھی ابو سے محبت کرتی ہیں؟"
وہ برآمدے میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔
شام کی نرم دھوپ اُن کے سفید بالوں پر بکھری ہوئی تھی۔
انہوں نے میری طرف دیکھا، پھر سامنے کھڑے نیم کے درخت کو۔
اور صرف مسکرا دیں۔
میں نے سمجھا شاید سوال عجیب تھا، اس لیے مزید کچھ نہ پوچھا۔
رات کو اپنے موبائل پر اُن کا پیغام آیا۔
زندگی میں شاید پہلی بار انہوں نے اتنا لمبا پیغام لکھا تھا۔
میں نے پڑھنا شروع کیا۔
"تم اکثر پوچھتے ہو کہ کیا میں اب بھی تمہارے ابو سے محبت کرتی ہوں۔
میں مسکرا دیتی ہوں۔
اس لیے نہیں کہ سوال بےمعنی ہے۔
بلکہ اس لیے کہ جواب آسان نہیں۔
میں ہاں بھی کہتی ہوں اور نہیں بھی۔
کیونکہ محبت اب وہ نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔
جب ہم جوان تھے تو تمہارے ابو کے گھر آنے کی آہٹ پر دل تیز دھڑکتا تھا۔
میں اُن کے لیے تیار ہوتی تھی، اُن کے ایک جملے پر سارا دن خوش رہتی تھی۔
اُس وقت محبت ایک طوفان تھی۔
مگر طوفان ہمیشہ نہیں رہتے۔
وقت اُنہیں بدل دیتا ہے۔
اور شاید یہی اچھا ہے۔"
میں خاموشی سے پڑھتا رہا۔
"آج محبت تتلیوں کی طرح دل میں نہیں اُڑتی۔
آج محبت درخت کی جڑوں جیسی ہے۔
نظر نہیں آتی مگر پورا وجود سنبھالے رکھتی ہے۔
اب مجھے اُن کے پھول لانے کی خواہش نہیں ہوتی۔
میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ جب میری کمر میں درد ہو تو وہ پوچھ لیں:
'زیادہ تکلیف تو نہیں؟'
اور تم جانتے ہو؟
وہ آج بھی پوچھتے ہیں۔"
یہ پڑھ کر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔
کچھ مہینے پہلے سردیوں کی رات تھی۔
میں والدین کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔
رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی تو دیکھا ابو پانی پینے کے لیے اٹھے تھے۔
واپس آئے تو نظر امّی پر پڑی۔
نیند میں اُن کا کمبل ایک طرف سرک گیا تھا۔
ابو نے آہستگی سے اپنا کمبل اٹھایا اور اُن کے کندھوں پر ڈال دیا۔
پھر خود بغیر کمبل کے لیٹ گئے۔
اتنی سادگی سے جیسے یہ کوئی خاص بات ہی نہ ہو۔
اُس وقت یہ منظر معمولی لگا تھا۔
آج سمجھ آیا کہ محبت اکثر انہی معمولی حرکتوں میں چھپی ہوتی ہے۔
میں نے دوبارہ پیغام پڑھنا شروع کیا۔
"تمہارے ابو اب پہلے جیسے نہیں رہے۔
کبھی ایک ہی بات بار بار پوچھ لیتے ہیں۔
چشمہ رکھ کر بھول جاتے ہیں۔
دوا کھا کر کہتے ہیں کہ دوا نہیں کھائی۔
مگر عجیب بات یہ ہے کہ اُنہیں آج بھی یاد رہتا ہے کہ مجھے چائے میں کتنی چینی پسند ہے۔
اُنہیں آج بھی یاد ہے کہ سردیوں میں میرے پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔
اُنہیں آج بھی یاد ہے کہ بجلی کی گرج سے مجھے خوف آتا ہے۔
بتاؤ...
کیا محبت یہی نہیں؟"
میری آنکھیں نم ہونے لگیں۔
پیغام ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
"اب محبت کتابوں والی نہیں رہی۔
اب ہمارے درمیان ایک خفیہ زبان ہے۔
وہ میرے چہرے کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ میں پریشان ہوں۔
میں اُن کی خاموشی سن کر سمجھ جاتی ہوں کہ اُن کے دل میں کیا چل رہا ہے۔
کبھی کبھی ہم گھنٹوں ایک ہی کمرے میں بیٹھے رہتے ہیں۔
بغیر کچھ کہے۔
اور پھر بھی گفتگو جاری رہتی ہے۔"
میں دیر تک سکرین کو دیکھتا رہا۔
مجھے لگ رہا تھا جیسے میں محبت کا نہیں، پوری زندگی کا خلاصہ پڑھ رہا ہوں۔
پیغام کے آخر میں صرف ایک جملہ تھا۔
"ہاں، میں اب بھی اُن سے محبت کرتی ہوں۔
مگر اُس نوجوان لڑکی کی طرح نہیں جو کبھی اُن کے انتظار میں کھڑکی پر کھڑی رہتی تھی۔
آج میں اُن تمام برسوں سے محبت کرتی ہوں جو ہم نے اکٹھے گزارے۔
اُن آزمائشوں سے جنہیں ہم نے مل کر برداشت کیا۔
اُن خوشیوں سے جو ہم نے بانٹیں۔
اُن راتوں سے جب ہم ایک دوسرے کا سہارا بنے۔
اور اُس یقین سے
کہ اگر زندگی کا سب سے بڑا طوفان بھی آ جائے تو میری پناہ آج بھی وہی شخص ہے جس نے انسٹھ سال پہلے میرا ہاتھ تھاما تھا۔"
اگلے دن میں گھر گیا۔
ابو برآمدے میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔
امّی اُن کے لیے چائے بنا رہی تھیں۔
کوئی فلمی منظر نہیں تھا۔
کوئی شاعرانہ مکالمہ نہیں تھا۔
بس دو بوڑھے انسان تھے۔
جو ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہتے، ایک دوسرے کا گھر بن چکے تھے۔
اور اس لمحے مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ محبت کا سب سے اعلیٰ روپ کسی کے لیے مر جانا نہیں۔
بلکہ ایک پوری زندگی اُس کے ساتھ جیتے رہنا ہے۔
آج نیرہ نور کی چوتھی برسی ہے، احمد شمیم کی شہرہ آفاق نظم ”کبھی ہم خوبصورت تھے“ جس کو نیّرہ نُور نے گا کر امر کر دیا۔ کہتے ہیں کہ یہ نظم احمد شمیم نے اپنی ماں کی یاد میں لکھی جو بٹوارے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں رہ گئیں، اور احمد شمیم ان سے ملنے کی حسرت لیے اس دنیا سے چلے گئے۔ آئیے یہ نظم نیرہ نور کی خوبصورت دلسوز آواز میں سنتے ہیں۔
"ریت پر سفر کا لمحہ"
کبھی ہم خُوب صُورت تھے
کتابوں میں بَسی
خُوشبو کی صُورت
سانس ساکِن تھی
بہت سے اَن کہے لفظوں سے
تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دُور کی جھیلوں میں بسنے والے
لوگوں کو سُناتے تھے
جو ہم سے دُور تھے لیکن
ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دِن کی مُسافت
جب کِرن کے ساتھ
آنگن میں اُترتی تھی
تو ہم کہتے تھے
اَمی تِتلیوں کے پَر
بہت ہی خُوب صُورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جُگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دِن کی مُسافت
رنگ میں ڈُوبی ھََوا کے ساتھ
کِھڑکی سے بُلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
"احمّد شمیم"
Would you try this Mediterranean Chicken & Feta Salad??
These flavors are UNREAL! And if you want to eat healthy but still want food that actually tastes incredible, you have to try this Mediterranean salad. It’s fresh, crunchy, sneaks in solid protein, loaded with herbs, and that lemony Dijon dressing brings everything together. SO GOOD.
This makes such a great healthy lunch or easy dinner.
Here is how I made it:
1.Let’s start with the base. Grab about 5 oz arugula and give it a good chop. Add it to a large bowl with 4 thinly sliced Persian cucumbers, 1 finely diced small red onion, half a quart of thinly sliced chopped cherry or grape tomatoes, and 3-4 thinly sliced scallions. Then go in with a generous handful of finely chopped fresh mint (about 1/2 cup). You can also add parsley or cilantro here if you like.
2.For the chicken, grab about 1lb chicken. Drizzle with a little olive oil, then season generously with salt, pepper, 1/2 tbsp garlic powder, 1/2 tbsp paprika, 1/2 tbsp oregano, 1/2 tbsp Aleppo pepper or chili flakes, and the zest and juice of a lemon. Mix well. Cook it up on the stove or air fry or bake it in the oven or even grill it, then finely chop in small pieces.
3.While the chicken cooks, roughly chop about 1/2 cup toasted walnuts.
4.For the dressing, add 1/4 cup olive oil to a jar along with the juice + zest of 1 large lemon, 2 tbsp white wine vinegar, 2 tbsp Dijon mustard, 1 tsp oregano, 1 tsp onion powder, 1 tsp Aleppo pepper, and a generous pinch of salt and pepper. Shake really well until emulsified. Taste and adjust as needed.
https://t.co/E1qFIEeGPN bring it all together. Add the cooked chicken to your salad, toss in the toasted walnuts, then add two slabs of feta cheese. I love using a block of feta and breaking it into larger pieces so you get those creamy bites throughout. Drizzle over the lemony Mediterranean dressing and toss everything really well.
Finish with a little more fresh mint, walnuts, feta, and dressing on top, and ENJOY!
If you make this, be sure to let me know on SHREDHAPPENS!
ENJOY!
.
.
.
.
#lowcarbrecipes #lowcarb #mediterraneanfood #healthyrecipes #salads