@AneelaHashmi__ And did you tell her that she comes from a very educated family and that she herself is a doctor who saves people’s lives? Did you tell her that? Or is your daughter only interested in Botox wala doctor?
عمران خان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ دن کونسا ہے ، تاریخ کیا ہے اور مہینہ کونسا چل رہا ہے وہاں عمران خان کو علیمہ خانم کی ریلیوں کی خبر کہاں سے ہوگئی؟
ہمیں علم ہے سب فلم ہے۔
عمران خان کی حکومت تھی۔ ملک میں چینی کی پیداوار زیادہ ہوگئی۔ مل مالکان نے ایکسپورٹ کرکے پنجاب حکومت سے سبسڈی لے لی۔ بات نکلی ۔ بیشتر مل مالکان تحریک انصاف میں تھے۔ ملک کی ایک چوتھائی چینی جہانگیر ترین کی ملز پیدا کرتی ہیں۔ عمران خان نے تحقیقات شروع کروا دیں۔ جہانگیر ترین اور عمران خان کے معاملات بگڑ گئے۔ ( کچھ لوگوں نے زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترین کی بیٹیوں پر بلاوجہ مقدمات درج کروا دیے )۔ موقع آنے پر جہانگیر ترین نے فوج کی مدد سے فارورڈ بلاک بنا کر عمران خان کو کاری ضرب پہنچائی۔ عمران خان کی حکومت جاتی رہی۔
چوروں اور لٹیروں کی فوجی کٹھ پتلیوں کی حکومت ہے۔ چینی ایکسپورٹ ہوئی۔ اس پر مل مالکان نے سبسڈی لی۔ اب چینی امپورٹ ہوگی۔ کک بیکس کھائے جائیں گے۔ نا تحقیقات ہوں گی نا کوئی شور مچائے گا۔
عمران خان کی حکومت تھی ، شاہزیب خانزادہ نے اوپر تلے دو درجن پروگرام کردیے کہ عمران خان نے ایل این جی کے ایڈوانس معاہدے کیوں نہ کیے۔ ( ڈالر نہیں تھے اس لیے نہیں کیے )۔ گندم سکینڈل آیا ، چینی سکینڈل آیا ، جعلی حکومتیں بنیں ، عاصم منیر کی بیٹیوں کے ناجائز پاسپورٹس سامنے آئے شاہزیب خانزادہ کو کبھی بولنے کی جرات نہ ہوئی۔
ایماندار اور بے ایمان کا فرق ہے۔
@BalochNadir5@ThisAB__ I find it strange that the condition of PIMS is suddenly being questioned. IK had his all treatment there, even his sensitive eye procedure . If the hospital was really in such poor condition , why did they choose it for his treatment? Something definitely cooking
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے ایمرجنسی وارڈ کی یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
جہاں عام شہریوں کو ناقابلِ برداشت گرمی اور ناقص صفائی میں علاج کی سہولت میسر نہیں، وہاں سابق وزیر اعظم عمران خان جیسے اہم مریض کو علاج کے لیے لانے کی بات کی جاتی ہے
صورتحال میں نیا ٹوئسٹ : دل کے ڈاکٹر نے عمران خان کو یکم اگست کو جیل میں چیک کرنے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی تھی جس کے پلان 'بی' میں ان کی 'سٹی کورونری انجیو گرافی' کرانا تجویز کیا گیا تھا پھر20 اور 21 اگست کو عمران خان پمز لایا بھی گیا اب اس ٹیسٹ کا کیا ہوا اس بارے کچھ معلوم نہیں ۔۔۔ !
البتہ اب آج 22 اگست کی وزیراعظم آفس کی جاری پریس ریلیز پڑھ لیں جس میں پمز میں 'سٹی کورونری انجیو گرافی' کی سہولت فعال نا ہونے کا وزیراعظم نے نوٹس لیا ہے انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی
تو اس کیا مطلب لیا جائے کہ پمز میں تمام سہولیات موجود نہیں ہیں ؟؟؟ جس کا دعویٰ حکومت کرتی آئی ہے
We need to learn the rules of engagement.
Our biggest weakness right now is that we react emotionally to every piece of news and every development. We need to step back, control our emotions, and analyse what is happening without prejudice, wishful thinking, or denial.
Ask yourself one simple question:
Can you really trust these bastards and their pawns who have hijacked Pakistan for the last 79 years?
If your answer is NO, then prepare yourself for the worst-case scenario.
Sooner or later, they may try to get rid of Khan Sahib from the political equation, whether through a Morsi-style approach, another hybrid arrangement, or something we haven’t even anticipated yet.
Once you accept that this possibility exists, don’t sit around waiting for it to happen.
Put your thinking caps on. Start thinking strategically.
What can we do?
There are multiple possibilities:
-Identify trustworthy PTI politicians and build credible political leadership around them, taking initiatives to create political space for them.
-Support peaceful political and civic mobilisation, whether on 27 September, through KRBT, or whatever legitimate movement emerges on the ground.
-Build alliances around common grievances: Kashmir, Balochistan, South Punjab, Karachi, inflation, farmers, load-shedding, unemployment, jobs, and Pakistan’s youth.
-Explore peaceful economic pressure through voluntary consumer boycotts of institutions like DHAs, Bahria, Askari Bank, and products of Fauji Fertiliser associated with the establishment.
-Consider peaceful weekend-based economic protests or symbolic shutdowns.
-Zero out remittances until the return of democracy and the rule of law in Pakistan.
-Most importantly, engage the Pakistani diaspora. Build a credible framework for potential $40–50 billion in FDI commitments, tied directly to the restoration of democracy, the rule of law, political stability, and investor confidence.
The point is not to panic.
The point is not to fight every battle on social media.
And the point certainly isn’t to react to every move they make.
The point is to anticipate the game.
If we believe we know what their eventual objective may be, then we should be thinking about our response before they make their move, not after.
They may have power, institutions, and resources.
But we have something they cannot manufacture:
People, ideas, and the ability to organise.
Our strength is in our numbers. So stop reacting.
Start analysing.
Stop waiting.
Start preparing.
And above all, think three moves ahead.
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
#خان_کی_واپسی_ناگزیر_ہے
#ImranKhan
دنیا میں کونسی ایسی حکومت ہوگی کونسی ایسی سیاسی جماعت ہوگی جسکی لیڈرشپ ایک مخالف کو پہلے جیل میں جیسے رکھا تھا وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جب عدالت نے حکم دیا آپ اس بندے کا علاج کروا لیں لیکن جو انہوں نے کیا ہے پاکستان کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی اتنا بغض اتنی نفرت کہ آپ ایک بندے کا ہسپتال میں علاج کروانے کو تیار نہیں ہیں
اطہر کاظمی
باغ سٹی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے مطابق احمد فرہاد کل رات سے بے ہوش ہیں اور انہیں اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ باغ پولیس نے دس اگست کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ احمد فرہاد ہمیں مزید مطلوب نہیں ہے جب کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ہمارے اختیار سے ”اوپر “ کا ہے
یہ کیفیت کسی ضابطے میں ہی نہیں ہے کہ قید تنہائی میں رکھ سکتے ہیں
پاکستان کی تاریخ میں کسی لیڈر پر ایسا ظلم نہیں ہوا اسے نہ ڈاکٹر سے ملنے دیا جائے نہ وکیل سے ملنے دیا جائے قانوناً ڈاکٹر فیملی اور وکیل کو ملنے سے روکا نہیں جا سکتا ایک قیدی وہ بھی سابق وزیراعظم کو 120 دن تک کسی سے نہ ملنے دیں ان کی بہنوں کو جیل کے باہر سے سردی میں واٹر کینن کے ساتھ اٹھایا جائے یہ تو کبھی نہیں ہوا
اعتزاز احسن