آج اندرونی بیرونی غداروں کو آگ لگ چکی ہے اب یہ سب غدار ملُکر کوشش کریں گے کہ علیمہ خان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے
عمران خان کی رہائی کے لیے علیمہ خان کا ایسے عوام میں جانا نہایت ضروری تھا
جو چیز پوری پی ٹی آئی قیادت نہیں کر سکی
وہ علیمہ خان نے کر دکھایا ۔ لوگ دیوانہ وار اکٹھے ہو گئے۔
پی ٹی آئی قیادت یہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔
وہ لارے دے دے کر لوگوں کے باہر نکلنے کا جذبہ کچلنے کے علاؤہ کچھ نہیں کر رہے تھے
اور اب
علیمہ خان کے خلاف پینڈنگ پڑے کیسز اور ایجنسیاں متحرک ہو جائیں گی
کل رات کے مناظرکے پی میں یہ کون کر رہا ہے 🚨
صوابی تھانہ چھوٹا لاہور سے اپنے ساتھی کو رہا کروا لیا۔ سامان، موبائل، ٹینٹ تھانے والوں نے اپنے پاس رکھ لیا۔
نائق ایس ایچ او کو بتایا کہ سامان نہیں دینا ورنہ کل پھر دھرنا لگائیں گے۔کے پی گورنمنٹ نے ظلم کیا ۔۔
ہجرت کامران
@taigr1236
عاصم منیر جو ایک سرکاری ملازم ہے اسکا نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اسکے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم نہیں ڈرتے اس سے ،زیادہ سے زیادہ مار دے گا ہمیں شہادت قبول ہے مگر اسکا کوئی ڈر نہیں ۔۔علیمہ خان صاحبہ🔥
تیمر گرہ میں کارکنان کو اتنی بڑی تعداد میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے ہمیں حوصلہ ملا ہے آگے ہم نے عمران خان کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہے ۔
علیمہ خان کا تیمر گرہ استقبال سے خطاب
میں نے محمود خان اچکزئی کو اس دن کہا، کہ عمران خان کے دور میں 6 روپے پٹرول مہنگا ہوا تو پورا دن ن لیگ والوں نے پریس کانفرنسز کیں، یہاں کئی سو روپے مہنگا ہو گیا لیکن مکمل خاموشی ہے
نورین خان آن فائر 🔥
بریکنگ 🚨🚨
ہجرت اللہ اپنا پورا کارواں لے کے اسد قیصر کے گھر پہنچ گئے پوچھنے کہ یہ کون سی پولیس ہے جو ہمیں کے پی میں ہی خان کے رہائی کے لیے دھرنے لگانے نہیں دے رہی
اسلام آباد کی ایک سواں گارڈن میں سیکیورٹی گارڈ کی جانب سے ایک خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے نازیبا حرکات، دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، ۔
اگر ایسے واقعات پر بروقت، شفاف اور قانون کے مطابق کارروائی ہو اور قصوروار کو جلد سزا ملے تو اس طرح کے جرائم کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔ لیکن جب انصاف کے عمل میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے تو بعض افراد قانون کے خوف سے بے نیاز ہو کر دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ متعلقہ اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ہر خاتون کی عزت، تحفظ اور وقار کو یقینی بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی بھی شخص کو، خواہ وہ سیکیورٹی گارڈ ہو یا کسی اور منصب پر فائز، قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
@ICT_Police
مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا
ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا!
"شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے"
جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ *میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.*
جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا *جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے*
اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی
*لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں 2 لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائر حضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈکپ جاری ہے*
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
Copy
مطلب صاف ہے کہ یہاں قانون کا مذاق اڑا کر فارم 47 کے ذریعے مسلط ہونے والے نائب وزیرِ اعظم ہوں، یا وہ سیکیورٹی فورسز جو اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر ان درندوں اور مجرموں کی پشت پناہی میں مصروف ہیں، اور یا وہ وزیرِ اعلیٰ جو معصوم بچوں کی زندگیوں پر سیاست چمکانے اور اپنی تشہیر میں غرق ہیں—یہ سب برابر کے قصوروار ہیں۔
ملک میں بچوں سے زیادتی اور ریپ جیسے بھیانک جرائم پر پردہ ڈالنے اور ایسے وحشیوں کو تحفظ دینے کے لیے ریاستی طاقت کا جو ننگا ناچ نچایا جا رہا ہے، وہ ناقابلِ معافی ہے۔ پاکستان کے معصوم بچوں، غیر ملکی مہمانوں اور محبِ وطن عوام کو ان درندوں، بچوں کے قاتلوں اور ان کے گناہوں پر ترپالیں ڈالنے والے اس پورے جابر نظام کے شر سے محفوظ رہنے کے لئیے عوام کو اپنی حفاظت آپ ہی کرنی ہو گی۔
#ڈار_ڈاکو_ڈفر_کیس
ہم صرف ایک ملاقات نہیں بلکہ تمام حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔ ہماری فیملی کا درد سمجھیں۔ ہم سب سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا علاج چاہتے ہیں۔ ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا ہے، ہمیں اس کی فکر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ان کے مکمل ٹیسٹ ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی قید تنہائی ختم ہو اور ان کے سارے حقوق بحال کیے جائیں۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
آواز اٹھائیں 🚨🚨🚨🚨
کہ کے پی گورنمنٹ خان کو قید تنہائی میں رکھنے میں پوری طرح ملوث ہے۔
پولیس نے کہا کہ اپ کی قیادت نے ہمیں کہا ہے کہ اپ کو دھرنے لگانے کی اجازت نہ دی جائے
جب یہ لوگ اسد قیصر صاحب کے ڈیرے پر پہنچ جو ہیں تو کوئی بندہ ورکروں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں
انتہائی خوفناک صورتحال 🛑
اسلام آباد پولیس کا باہر سے آئی خاتون پر تشدد!!
تھانہ کوہسار اسلام آباد پولیس, خاتون کو ساری رات تنگ کرنے کے بعد, اب خاتون پر تشدد شروع کر رہے ہیں!!
پاکستان کا خوب نام روشن کررہے ہیں!!
پہلے علی رضا ڈار اور اب آسلام آباد پولیس!!