دو ریاستیں، دونوں ایٹمی قوتیں، دونوں جغرافیائی لحاظ سے اہم ��رین ملک۔
پہلے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ جس کا وزیراعظم عمران خان روس کا دورہ کرتا ہے اور اس کے ساتھ تیل سمیت مختلف اشیا کی ٹریڈ شروع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
امریکہ کو یہ بات سخت ناگوار گزرتی ہے، اس کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکیرٹری کا سیکرٹری اپنے اسسٹنٹ سے کہتا ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کو سخت پیغام پہنچاؤ کہ اپنا وزیراعظم بدلیں ورنہ سخت نتائج کیلئے تیار رہیں۔
یہ پیغام سفیر تک پہنچتا ہے، وہ اسے سائفر کی شکل میں وزارت خارجہ بھجوا دیتا ہے، جہاں سے یہ پیغام سیدھا جی ایچ کیو جاتا ہے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ فوراً سے پہلے آقا کا حکم بجا لاتے ہوئے ن لیگ اور پی پی کو حکم دیتا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تیاری پکڑو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم، ق لیگ سمیت تمام اتحادیوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ عدم اعتماد کی حمایت کرو۔ عمران خان کی حکومت اتر جاتی ہے، اس کے ب��د جو کچھ ہوا، وہ ہسٹری ہے۔
دوسرے ملک کی طرف آجائیں۔ نام ہے بھارت، جس پر پچھلے کئی سالوں سے انتہا پسند ہندو جماعت ��کمران ہے۔ بھارت بھی روس سے تیل خریدتا آیا ہے اور یوکرین کی وار کے بعد بھی بھارت نے روس سے اپنے تجارتی روابط استوار رکھے۔
امریکہ نے وہی حربہ آزمایا جو پاکستان پر آزمایا تھا۔ کہا کہ باز آجاؤ، ورنہ ۔ ۔ ۔
انڈیا کی خوش قسمتی کہ ان کی فوج آئین کا احترام کرتی ہے، اور اس کا کوئی غیرملکی مفاد نہیں۔
بھارت نے امریکہ کے پیغام کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاؤ، جو مرضی کرلو، ہم خودمختار ملک ہیں، ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔
آج بھارتی وزارت خارجہ کا یہ پیغام دیکھ کر مجھے سخت ندامت ہورہی ہے کہ ہم کیسی بیغیرت ریاست کے شہری تھے جس کی فوج ایک انڈر سیکرٹری کے پیغام کے آگے لیٹ گئی۔
د��سری طرف بھارت ہے، غیرت اور قومی وقار کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے، اس نے ہمیں اچھی طرح دکھا بھی دیا اور سمجھا بھی دیا۔
باٹم لائن وہی ہے: جب آپ کی فوج بیغیرت ہو تو قوم ہمیشہ غلام رہے گی!!!
یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔ ہر پاکستانی آج باہر نکلے، گاڑی ہے تو گاڑی میں، نہیں ہے تو بس میں، پھر موٹر سائیکل، سائیکل یا پیدل ہی سہی۔ کوئی بہانہ نہیں۔ پاکستان کے لیے نکلو، عمران خان کے لیے نکلو۔
سرائے عالمگیر عرفان بٹ کی گرفتاری کے لئے پولیس کے غنڈے ہتھوڑوں سے گیٹ توڑ رہے ہیں کیونکہ کہ 5 اگست کا ڈر عاصم منیر اور اسکی معشوق کے اندر وڑ کر بیٹھ گیا ہے
آئین کہتا ہے کہ آرمی چیف ایک سرکاری ملازم ہے جس کے عہدے کی مدت متعین ہے، اس کا سیاسی، انتظامی، معاشی اور سفارتی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔
پاکستان کے تمام آرمی چیفس نے آئین میں طے شدہ اس اصول کی خلاف ورزی کی جو آئین کے آرٹیکل چھ کی رُو س�� غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
قصہ مختصر، عاصم منیر سمیت پاکستان کا ہر آرمی چیف غدار ہے، حلف سے روگردانی کی وجہ سے اس کی تنخواہ حرام، اس کا کھانا پینا، سونا جاگنا، یہاں تک کہ سانس لینا بھی حرام۔
جب تک اس حرام جنس سے ملک پاک نہیں ہوتا، ہم سب بھی اس حرام میں حصہ دار شریک ہوں گے!!!
جس عسکری اکاؤنٹ سے ہمیں بتایا گیا کہ پاکستانی فوجیں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوچکی ہیں، بھارت کے اندر 40 کلومیٹر تک ہمارے دستے پہنچ چکے، بھارت ک�� تین چھاؤنیاں تباہ کردیں، وغیرہ وغیرہ۔
وہ چینل کہہ رہا ہے کہ امریکہ سے تیل امپورٹ کرنا ایک پرائیویٹ ڈیل ہے جس کے متعلق میں نے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کئے۔
علی امین گنڈاپور نے بار بار فوج کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ علی امین گن��اپور فوج کا آدھا بوجھ تحریک انصاف کے سر پر ڈالے گھوم رہا ہے۔ علی امین گنڈاپور کی حکومت فوج ختم نہیں کرے گی۔