4واہ میرے مولا تیری قدرت
آج سے تین سال پہلے شہزادہ داؤد بحر اوقـیانوس میں لاپتہ ہوگیا تھا۔۔
وشین گیٹ 2021 سے ارب پتیوں کو سمندر کی تہہ میں 3300 میٹر نیچے ٹائی ٹینـــک کے ملبے کی سیر کرانے کا کام کر رہی تھی۔ ٹائی ٹینک کا ملبہ 1985 میں دریافت ہوا،، اور اوشین گیٹ نامی کمپنی نے 2021 سے دنیا بھر کے امـــــــــراء کو اس کی سیر کرانی شروع کر دیی۔
پاکستانی بزنس مین شہـزادہ داؤد اور سلیمان داؤد جو اس کا بیٹا تھا 18 جون 2023 کو ٹائیٹن میں سوار ہوئے،،، انکے ساتھ تین اور ارب پتی لوگ بھی تھے جب ٹائیٹن پانی میں اتر گئی انہوں نے کم وقت میں تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، اس کے ایک گھنٹہ اور 45 منٹ بعد ٹائیٹن آبدوز کا کنـٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا،،،،،،، سمندر کے سطح پر باقی لوگوں نے رابطوں کی کوشش کی،،،،،،،،، بار بار سگنل بھیج دیں لیکن کوئی ریسپانس نہیں ملا۔۔۔
انہوں نے فوراً کینیڈا نیوی کو اطلاع دی انہوں نے آپریشن شروع کیا،، کیونکہ ٹائیٹن میں سوار تمام لوگ ارب پتی تھے جب ٹائیٹن میں آکسیجن ختم ہونے کا وقت گزر گیا اور ان کا پتہ نہیں چلا تو سب کو لگا کہ سب آکسیجن کی کمی سے مر گئے ہوں گے لیکن جھٹکا ان کو تب لگا،،،،
جب ایک ہفتے بعد ٹائی ٹینک جہاز کے اس پاس پانی میں کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملے بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کے آبدوز پونے دو گھنٹے بعد Bathypelagic Zone میں دھــماکے سے پھٹ گئی تھی اور یہ خطـرناک زون تین ہزار میٹر کی گہــرائی میں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آبدوز کی دم اور لینڈنگ فریم ٹائی ٹینک کے ملبے سے 1600 فٹ کے فاصلے سے ملا،،،، تاہم لاشیں غائب تھیں اور یہ لاشیں سرے دست کسی ٹیکنالوجی کی مدد سے دریافت نہیں ہو سکتیں، تین سال بعد بھی وہ لاشیں نہیں ملی۔
جب سائنســدانوں نے تحقیق کی تو ایک حیران کن بات سامنے آئی ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں تہہ در تہہ بحریں ویوز ہوتی ہیں۔ ایک بحر کے بعد دوسری بحر اور دوسری کے بعد تیسری بحر آتی ہے اور یہ بحریں سمندر میں سناٹا اور شدید اندھیرا کرتی چلی جاتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں پانچ سو میٹر گـــــہرائی میں سفر کے بعد پانی میں اندھیرے کے ایسے گـہرے بادل ہر طرف چھا جاتے ہیں۔ جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اندھیرا دنیا کے کسی بھی مقام پر انسان کے تجربے میں نہیں آتا۔
سائنــس دان اس اندھیرے کو عرف عام میں "Pitch Darkness" کہتے ہیں،، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اندھیرا اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان دوسرے ہاتھ کو ٹٹول نہیں سکتا، اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی نہیں تھی، سائنس کا نام و نشان نہیں تھا اس وقت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا تھا،،، جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔ سورۃ نور کی آیت نمبر چالیس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ------ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ----وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ (سورة نور 40)
ترجمہ یا جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ہو، موجوں کے اوپر موجیں اٹھ رہی ہوں،،،، اوپر سے گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہوں، اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہوں،، اور اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو وہ اس کو بھی نہ دیکھ پائے"۔۔۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی ثبوت یہ ہے کہ آج سے چودہ سو 1400 سال پہلے جب انسان سمندر میں تیــن میــٹر سے زیادہ گہرائی میں نہیں گیا تھا۔۔ اس وقت قرآن مجید میں کس نے ڈکلیئر کیا کہ سمندر میں موجوں کے اوپر موجیں ہوتی ہیں اور یہ گہرے بادلوں کی طرح ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہیں اور یہ ایک ایسا اندھیرا تخلیق کر دیتی ہیں،،،،،،،،،،،،، جس میں ایک ہاتھ دوسرے کو شناخت نہیں کر سکتا،،،، یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے کس طرح معلوم ہوگئی ؟ اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے میں بتا دیا کہ ہم سمندر میں موج کے اوپر مـــوج چلاتے ہیں اور یہ مـوجیں گـــہرے بادل جیسی ہوتی ہیں،،،،،،،،، اور یہ ایک ایسی پچ ڈارک نیس تخلیق کرتی ہیں جس میں بینائی جواب دے جاتی ہے اور ٹائیــٹن اس پچ ڈارک نیس میں تباہ ہوگئی کیوں کہ یہاں پانی کا پریشر بہت زیادہ ہوتی ہے۔
کیا یہ محـض اتفاق تھا ؟ جس نے دنیا کو چودہ سو سال پہلے پچ ڈارک نیـــــس، مـوج کے اوپر مـوج اور پھر اندھـیرے کے بادلوں کے بارے میں ہمیں بتایا،،،،، جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی کا نام و نشان نہیں تھا۔
یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے
* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -
ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -
سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -
زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*
پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔
*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔*
ہائیڈروجن سولر پینل
وہ انقلاب جس سے دن رات بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ توانائی کا ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے اور اس باب کا عنوان ہے ہائیڈروجن سولر پینل یعنی وہ پینل جو دن میں سورج سے بجلی بناتا ہے اور رات کو ذخیرہ شدہ ہائیڈروجن سے بجلی دیتا ہے بغیر کسی مہنگی بیٹری کے
یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے
بیلجیم کی کے یو لیوون یونیورسٹی نے ایک ایسا ہائیڈروجن پینل تیار کیا ہے جو ہوا میں موجود پانی کے بخارات کو سورج کی روشنی سے ہائیڈروجن گیس میں تبدیل کر دیتا ہے یہ پینل روزانہ 250 لیٹر ہائیڈروجن پیدا کرتا ہے اور اس کی کارکردگی پندرہ فیصد ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے یہ عام سولر پینل جیسا دکھتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں تاروں کی جگہ گیس پائپ لگی ہوتی ہیں 
دن میں پینل بجلی بناتا ہے اور وہ بجلی پانی کو توڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن الگ کر دیتی ہے ہائیڈروجن محفوظ کر لی جاتی ہے پھر جب سورج ڈوب جائے تو وہی ہائیڈروجن فیول سیل کے ذریعے واپس بجلی میں بدل جاتی ہے نتیجہ یہ کہ گھر چوبیس گھنٹے روشن رہتا ہے 
ہائیڈروجن میں ایک خاص خوبی ہے کہ اسے بیٹری کے برعکس بغیر توانائی ضائع کیے بہت دیر تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور اسے گیس پائپ کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جا سکتا ہے 
کیا یہ مارکیٹ میں آ چکا ہے
ابھی تک یہ پینل عام مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے لیکن لانچ بالکل قریب ہے کے یو لیوون کے اسپن آف Solhyd نے 60 لاکھ یورو کی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے اور 2026 تک میگاواٹ اسکیل پر پیداوار شروع کرنے کا ہدف طے کر لیا ہے  2026 تک ہر سال پانچ ہزار پینل بنانے کا منصوبہ ہے اور کمپنی کے بانی جان رونج کے مطابق یہ پینل 2026 سے تجارتی طور پر دستیاب ہو گا 
ابھی یہ پینل عام صارفین کے لیے اتنا تیار نہیں ہوا کہ بازار میں فروخت ہو تاہم Solhyd کے علاوہ امریکی کمپنی SunHydrogen بھی 2009 سے اس میدان میں کام کر رہی ہے 
قیمت کیا ہو گی
Solhyd کا موقف ہے کہ کسی بھی جدید ٹیکنالوجی کی طرح شروع میں قیمت زیادہ ہو گی لیکن جیسے سولر پینل نے پانچ سال میں اپنی قیمت آدھی کر لی ویسے ہی ہائیڈروجن پینل کی قیمت بھی آنے والے سالوں میں عام سولر پینل کے برابر آ جائے گی  ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2030 کے بعد عام استعمال کے قابل قیمت پر یہ دستیاب ہو سکتا ہے
گاڑیاں اور ایل پی جی کا متبادل
یہ ٹیکنالوجی گاڑیوں پر بھی لاگو ہو سکتی ہے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے کاروبار اپنی مال بردار گاڑیاں تیل اور گیس کی بجائے ہائیڈروجن پر چلا سکتے ہیں اور بڑی صنعتیں جیسے سٹیل اور کیمیکل بھی ہائیڈروجن کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں 
Toyota Mirai جیسی گاڑیاں ہائیڈروجن فیول سیل پر چل رہی ہیں اور 400 میل تک کا فاصلہ طے کرتی ہیں Hyundai نے ہائیڈروجن ٹرک اور بس بھی متعارف کرائے ہیں یورپ اپنا ہائیڈروجن ایندھن کا ڈھانچہ تیزی سے پھیلا رہا ہے 
لیکن گاڑیوں میں ہائیڈروجن کا استعمال ابھی پاکستان کے لیے ایل پی جی کا فوری متبادل نہیں بن سکتا کیونکہ پاکستان میں ہائیڈروجن فیولنگ اسٹیشن نہیں ہیں پیداواری پلانٹ نہیں ہیں اور تقسیم کا نظام بھی موجود نہیں اس لیے بڑے پیمانے پر اپنانا فی الحال مشکل ہے 
پاکستان کے لیے کتنا فائدہ مند ہے
پاکستان میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ اس ٹیکنالوجی کو خاص طور پر ضروری بنا دیتی ہے لوڈشیڈنگ دیہی علاقوں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے تک پہنچ گئی ہے اور بجلی کے بلوں نے زیادہ تر DISCO زونز میں ساٹھ روپے فی یونٹ کی حد عبور کر لی ہے اسی لیے پاکستانی گھرانے تیزی سے سولر کی طرف آ رہے ہیں 
ہائیڈروجن سولر پینل اس صورت میں بیٹری کے اخراجات بچا سکتا ہے اور رات کو بھی بلا تعطل بجلی دے سکتا ہے سندھ میں ایک بڑا منصوبہ پہلے سے موجود ہے ایک منصوبے میں 260 میگاواٹ بیٹری اسٹوریج اور ہائیڈروجن پیداوار کی سہولت شامل ہے جو روزانہ ڈیڑھ لاکھ کلوگرام ہائیڈروجن پیدا کرے گی یہ منصوبہ Oracle Energy اور چین کی CET کمپنی نے مل کر تیار کیا اور SEPA نے 2024 میں اسے منظور کیا 
پاکستان میں یہ پینل کب آئے گا
سچ یہ ہے کہ پاکستانی گھروں کی چھتوں تک آنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ پہلے یورپ اور جاپان کی صنعتی منڈیوں میں داخلہ ہو گا پھر قیمت نیچے آئے گی اور تب تیسری دنیا کے ممالک تک رسائی ممکن ہو گی 2030 سے 2035 کا عرصہ وہ وقت ہو سکتا ہے جب پاکستان میں کوئی امپورٹر یہ ٹیکنالوجی لاۓ گا ۔
یہ ٹیکنالوجی حقیقی ہے اور انقلابی ہے لیکن ابھی لیبارٹری سے نکل کر فیکٹری میں داخل ہوئی ہے رات کو اور ابر آلود دنوں میں ذخیرہ شدہ ہائیڈروجن سے بجلی پیدا ہوتی ہے مہنگی بیٹری کی ضرورت نہیں رہتی اور نظام ماحول دوست ہے  پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ ابھی سے اس ٹیکنالوجی کی نگرانی کریں ۔
آج استاذ نے ایک ایسا سوال پوچھا جس نے پوری کلاس کو ساکت کر دیا:
“موسیٰ اور خضر کی کہانی میں تم کون ہو؟”
فطری طور پر ہم سب نے سوچا کہ جواب موسیٰ ہے۔ لیکن تھا نہیں۔
جو انہوں نے اس کے بعد کہا اس نے سورۃ الکہف کے بارے میں میرا نقطہ نظر مکمل طور پر بدل دیا۔
👇
وہ کھمبے پر نہیں چڑھا، وہ انسانیت کے مقام پر بلند ہوا, ایک پرندے کو آزادی ملی، اور ایک انسان کو عظمت۔" 🕊️ ایک پرندہ آزاد ہوا،
مگر اصل میں آج انسانیت نے پرواز کی۔
ایک پاکستانی کاروباری شخص جاپان گیا اور وہاں کے نظام سے متاثر ہوا، اس نے اپنے جاپانی میزبان سے پوچھا
" آپ سب اتنے سمجھدار کیسے ہیں اور آپ نے ایسا ملک کیسے بنایا؟ "
جاپانی شخص نے جواب دیا
"دراصل آپ زیادہ سمجھدار ہیں "
پاکستانی حیران ہو کر بولا
"وہ کیسے؟ "
جاپانی نے جواب دیا
1👇