آج چند لمحوں کے لیے سوچیں کہ اگر بی وائی سی کے قائدین اور بلوچستان کے دیگر بہادر بیٹوں نے، جو برسوں سے ناانصافی اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، اپنی آواز نہ اٹھائی ہوتی، تو شاید ہم سب کو گاؤں دیہات، میدانوں، پہاڑوں اور گلیوں میں خاموشی سے ختم کر دیا جاتا اور ہر ایک پر “دہشت گرد” کا لیبل لگا دیا جاتا۔ اس صورت میں نہ کوئی ہماری کہانی سنتا، نہ ہی اسے آگے بیان کرنے والا کوئی ہوتا۔ ماہ رنگ بلوچ نے اپنی تقریر میں صحیح کہا تھا کہ ہم اپنا کام کر چکے ہیں۔ حقیقتاً بھی یہی ہے کہ آج پوری دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان نے کس قدر بلوچستان میں ظلم و بربریت کی انتہا کر دی !
Dr. Mahrang Baloch @MahrangBaloch_ has been arrested for simply speaking the truth. The truth about pain loss and injustice that has been ignored for years. She stood peacefully, bravely, with nothing but the voice of her people, and for that, she was silenced. The BYC activists raised no weapons, only words and yet they were treated like criminals. Is this really how you want to solve problems? By arresting those who speak by punishing those who ask for rights? If this is your idea of justice, then good luck to you. But remember, no matter how many you silence, the truth will keep rising. We demand the immediate release of Dr. Mahrang Baloch and all BYC activists. #stopbalochgenoside #ReleaseMahrangBaloch
جعفر ایکسپریس ٹرین ہایجیکنگ میں بلوچ آزادی پسندوں کی طرف سے رہا کیے گئے سویلینز جن میں بچے ، خواتین ، بزرگ اور مرد حضرات ہیں اپنی مدد آپ کے تحت شہر کی طرف سفر کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہےکہ بلوچ طالبعلموں کو ہی کیوں اُٹھا لیا جاتا ہے علم کے طالبوں سے خوف کیسا؟کراچی ملیر کے رہائشی اورشہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں میڈیا سائنسز کے طالبعلم ایک اور بلوچ طالبعلم یاسر بلوچ 25 فروری 2015 کو رات ساڑھے دس بجے سے جبری لاپتہ کر دئے گئے
#SaveBalochStudents
مذہبی ملاؤں کی جانب سے ہمیں باور کرایا گیا ہے کہ یہ بلوچ کی قسمت ہے لیکن یہ بلوچ قسمت نہیں بلکہ یہ ریاستی عمل ہے اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی قسمت کا فیصلہ کیسے کرنا چاہتے ہیں:ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ
#Balochistan#BalochFightForHumanRights
ریاستی میڈیا میں اندھیر نگری چھائی ہوئی ہے اسی لیے ایسے واقعات جن میں مظلوم و محکوم ظلمِ یزیدی کا شکار ہوں ہمیں سوشل میڈیا کی توسط سے خبر ملتی ہے جن کا تذکرہ ہم مین سٹریم میڈیا میں دیکھ، سن اور پڑھ نہیں سکتے۔
#BeVoiceOfOppressed#BalochFightForHumanRights
Dr. Mahrang Baloch speaks to journalist Dilshad Baluch about the BYC movement, the state’s response, and the future of Baloch rights in Pakistan.
https://t.co/ctWLckJUQO
بلوچ نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف مکران میں، گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد نوجوانوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیا گیا ہے۔ آج ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے تمپ گومازی میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بلوچی زبان کے نوجوان شاعر، کریم بلوچ کو شہید کر دیا، جبکہ تین روز قبل اسی علاقے میں کمسن معراج بلوچ کو بھی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے شہید کر دیا تھا۔
بلوچ نسل کشی اپنی انتہا کو پہنچ ��کی ہے، اور اس کی یہ نئی شکل انتہائی خطرناک ہے۔ پہلے نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتا کیا جاتا تھا، لیکن اب انہیں براہ راست نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔
ہمیں بحیثیت قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچ نسل کشی کی اس خطرناک پالیسی کا بھرپور مقابلہ کرنا ہوگا، کیونکہ ریاست نے بلوچ سرزمین پر بلوچوں کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا حتمی منصوبہ بنا لیا ہے۔
#StopBalochGenocide
ریاستی اداروں نے ایک اور بلوچ نوجوان شاعر کریم داد ولد منظور جو بلوچستان کےشورش زدہ علاقےگومازی سےتعلق رکھتےتھےکو فائرنگ کرکےشہید کردیا۔ ریاست اب ہمیشہ بلوچوں کےاثاثوں کو نشانا بناتی آئی ہے۔ کریم داد کا قتل اسی تسلسل کی کھڑی ہے۔
#StopBalochGenocide https://t.co/6lbwsA06IH
یہ ہے بلوچستان ڈیرہ بگٹی سوئی ! یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے پورے پاکستان کو گیس سپلائی کی جاتی ہے مگر سوئی کے لوگ اج بھی لکڑیاں چن کر اپنا گزارہ کر رہے ہیں۔ یہ قبضہ نہیں تو کیا ہے جب ہم اپنے وسائل حق و حقوق اور قابض ریاست کی اس قبضے کے خلاف اواز اٹھاتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے۔