True follower of Bacha Khan nonviolence philosophy Shaheed Fazal Hamid Dawar ex A N P president of North Waziristan, martyred by unknown terrorists on 05.12. 2010
ایمل ولی خان اکیلے اپوزیشن کا کردار ادا کر رہا ہے
باقی سارا گند اور کمپرومائز ٹولہ ہے
اور اس #گند_کو_ٹکھانے_لگانا_ہوگا
نشنلسٹ حماد
ممبر صوبائی میڈیا کمیٹی
🚩💯👍
@AimalWali
گٹکے خور اور پٹواری جتنا چاہیں پروپیگنڈا کر لیں، زمینی حقیقت نہیں بدل سکتی۔ شاہراہِ بھٹو نے لاکھوں شہریوں کا سفر آسان بنایا، وقت کی بچت کی اور ٹریفک کی پریشانی میں واضح کمی لائی۔ عوام سہولت سے مطمئن ہیں،
مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف اے این پی نے مالاکنڈ ڈویژن میں ایک لویہ جرگہ منعقد کیا، شاید یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جرگہ تھا، جہاں تمام شرکاء کا ایک ہی مؤقف تھا۔ ہمارا ایک واضح مؤقف تھا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے تمام ٹیکس ختم کئے جائیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ٹیکس ختم کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔
میاں افتخار حسین
صدر اے این پی خیبر پختونخوا
#ANP | #MianIftikharHussain | #ANPPakhtunkhwa
معافی تم مانگو، میں نہیں مانگوں گا ،
مولانا فضل الرحمان تو ڈٹ گئے ، دباؤ قبول کرنے کے بجائے بڑی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ، اب آگے سے جواب کیا آئے گا ؟
علیمہ خان نے تو مراد سعید کو ڈرپوک اور بزدل کی قرار دے دیا،
ایسا کیوں کیا ؟
ولاگ
👇
https://t.co/hmceI5Y4Xr
بخدمت خدمت جناب کنٹرول روم وا کینٹ
گزارش ہے کہ میں ایک معذور ہوں اور وہاں جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی کرتا ہوں اور روز میرا بستی شریف ہسپتال والا بیریل سے گزرنا ہوتا ہے مجھ کو ایک اوارہ لڑکا دو تین دن سے تنگ کر رہا ہے جو میری معذوری کا مذاق اڑاتا ہے اور مجھے تنگ بھی کرتا ہے اج میری شور ڈالنے پر اس نے مجھے روک کے تھپڑ بھی مارا بالکل بستی بیریل کے پاس شریف ہسپتال والا جو ایچ بی ایل بینک کی طرف ہے ۔ میں نے اج چوکی نمبر تین میں درخواست دی ہے پولیس والے کہتے ہیں اس نامعلوم لڑکے کی سی سی کیمرہ نکال کے لے کے اؤ تاکہ ہم اس لڑکے کو تلاش کر کے اس کے خلاف ایکشن لے سکیں برائے مہربانی اپ سے گزارش ہے تشریف اسپتال ایچ بی ایل بینک کی طرف جو بستی والا بریل ہے اس کی سی سی ٹی وی کیمرہ نکال کے دیا جائے ٹائم اور وقت 18 جولائی 2026 ٹائم صبح کے اٹھ بج کے پانچ سے لے کر 12 منٹ کے کے درمیان ہے شکریہ اپ کی عین نوازش ہوگی
@Rporwp@OfficialDPRPP
پاکستان میں فساد ڈلوا کر نیا سسٹم لانے کی کوشش کرنے والے گندے گینگ کا یہ سب سے اہم کارندہ تھا جو جنرل راحیل شریف پر دباؤ ڈالنے میں سب سے آگے تھا۔ لیکن راحیل شریف اس کی سازش کو بھانہ گیا۔
آج بھی یہ مُنافق ہمارے ٹیکسوں سے پنشن لے رہا ہے لیکن مزید فساد کی تمنا کرتے ہوئے شرم سے عاری ہے یہ شخص۔
عجب اندازِ مصلحت ہے!
جنرل ریٹائرڈ طارق خان کے نام کُھلا خط
لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان جنہوں نے اپنی افسری کے دور میں صرف ایک فارمولے پر عمل کیا کہ "ہر وہ سوچ اور مخالف جو آپ کو چیلنج کر رہا ہے یا آپ کی مخالفت میں ہے، اسے کچل دو"، آج دانشور بن کر کہتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان میں جو کچھ غلط ہو رہا ہے اس سب کی ذمہ دار موجودہ قیادت ہے۔
جنرل صاحب آپ کو یہ سب نصیحتیں اس وقت کیوں یاد آئیں جب ایک ہی دم ہر جگہ سے پاکستان پر یلغار شروع ہے؟ آج جب پاکستان اقوام عالم میں سربلند ہے بھارت کو شکست خوردہ کر چکا اور قوی امکان تھا کہ پاکستان کی یہ بلندی برداشت نہیں ہو گی اور ایسا ہی ہوا تو ایسے موقع پر تو آپ کو پاکستان کیساتھ حوصلہ مند آواز بن کر ٹھہرنا چاہئے تھا لیکن آپ تو روٹھی ساس کی طرح اپنے ہی ملک پر طعنہ زنی میں لگ گئے۔
جنرل صاحب! جان کی امان پاؤں تو بطور ادنیٰ شہری آپ سے چند سوالات کے جوابات کا متمنی ہوں۔
آپ کہتے ہیں کہ آج پاکستان خاص طور پر بلوچستان، سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے حالات اس لیے خراب ہیں کیونکہ اقتدار ان کے منتخب کردہ نمائندوں کے ہاتھ میں نہیں، پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں اور کسی کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل نہیں۔
لیکن جنرل صاحب! 2008 سے 2010 تک آپ آئی جی ایف سی رہے اور یہی علاقے آپ کے کنٹرول میں تھے جن کے خراب حالات کا آپ آج طعنہ دے رہے ہیں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو آپ کے ان دو سالوں میں سو سے زائد دہشت گردی کے واقعات انہی علاقوں میں ہوئے۔ کیا اس وقت بھی اقتدار منتخب نمائندوں کے پاس نہیں تھا؟ کیا اس وقت بھی میڈیا آزاد نہیں تھا؟
چلیں آگے چلتے ہیں۔ 2010 سے 2014 تک آپ کور کمانڈر منگلہ رہے اور اسی دور میں پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی اور ناردرن پنجاب کے بیشتر علاقوں میں تباہ کن دہشت گردی کے واقعات دیکھے۔ کیا اس وقت بھی مسئلہ منتخب نمائندوں کا تھا؟ کیا اس وقت بھی مسئلہ آزاد میڈیا کا تھا؟
لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان صاحب! آج آپ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات وغیرہ میں انٹرویو دیتے اور کالم لکھتے ہیں۔ کاش جو باتیں آپ آج بتاتے ہیں، انہی باتوں پر اس وقت بھی عمل کیا ہوتا جب آپ طاقت میں تھے کیونکہ آج ہم جو حالات بھگت رہے وہ آپ کے دور کے اعمال کا نتیجہ ہیں۔
جنرل صاحب! آج تو اسی فوج نے جس کا کبھی آپ حصہ رہے ان دہشت گردوں کو مخصوص علاقوں تک محدود کر رکھا ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں تک جہاں کبھی آپ بطور آئی جی ایف سی تعینات رہے ورنہ ہم نے تو وہ دور بھی دیکھا ہے جب آپ دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں زندہ درگور کر دینے کی باتیں کرتے تھے اور اگلے ہی روز جڑواں شہروں میں دھماکے ہو جاتے تھے۔
جنرل صاحب! ذاتی زندگی پر گفتگو کرنا مناسب نہیں سمجھتا لیکن آپ جتنے دینی حوالہ جات کے ساتھ آج پاکستان کی قیادت پر تبصرہ فرماتے ہیں کاش یہی دینی حوالہ جات اس وقت بھی دیتے جب آپ کے اپنے گھر کے بچے غیر مسلموں سے شادیاں کر کے غیر مسلموں کے بچے پیدا کر رہے تھے۔ یہ فرمودات اس وقت بھی فرماتے جب آپ محفلِ شباب میں چائے کی طلب کرنے پر مہمانوں کو ملاں اور مولوی کا طعنہ دیا کرتے تھے۔
جنرل صاحب! آپ نے اپنا اثر و رسوخ بھی صرف ایک خاص طبقے کے لیے استعمال کیا اور اس طبقے کو پاکستان پر مسلط کرنے کے لیے بہت کہانیاں لکھیں۔ یہاں تک کہ آپ 'لیٹر گیٹ کمیشن' کے سربراہ بننے کو بھی تیار تھے۔ یہ تو بھلا ہو آپ کے نصیبوں کا کہ آپ کو یقین ہو چلا کہ عمران نیازی کی حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے اور آپ لیٹر گیٹ کمیشن کی سربراہی سے انکاری ہو گئے؛ ورنہ آپ نے تو سب کو پھٹے لگا کر ایک نیازی کو نیلسن منڈیلا بنا دینا تھا۔
آپ خود ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں
ہم بات کریں گے تو شکایت ہو گی
دہشت گردی پر قابو پانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت جو لوگ برسراقتدار ہیں، وہ ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارے وقت میں جب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہوا، بلکہ کامیاب آپریشن ہوا تو ہم نے پہلے مذاکرات کئے، جب معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو آپریشن کا فیصلہ ہوا جسے عوامی حمایت بھی حاصل تھی۔
بتایا جارہا ہے کہ یہ پشاور حسن خیل کا علاقہ ہے
جہاں گزشتہ شب کالعدم تنظیم کی جانب سے فقیری بانڑ چیک پوسٹ میں بارودی مواد پھینکا گیا
گزشتہ شب نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کیلئے کوشش کی گئی تاہم ٹپکے میں رکھے ہوئے بارودی مواد پھٹنے سے بم ڈسپوزل سکواڈ اہلکار خائستہ رحمن شہید ہوگئے
سوال یہ ہے کہ قبائلی اور جنوبی اضلاع تو دور کی بات کیا پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کی رٹ بحال ہے
تحریک انصاف والے بھائیوں ہمارے جیب میں صحت کارڈ کے دس لاکھ روپے موجود ہیں لیکن آپریشن 2030 میں ہونے کا امکان ہے
ریاست مدینہ والوں کے وہ صحت کارڈ والا ڈرامہ بھی بے نقاب ہو گیا
یہ لوگ کب تک پختون خواہ کے لوگوں کے ساتھ یہ ڈرامے اور مذاق کرتے رہیں گے
ایا تاریخ د قام یادداشت وي؟. د قام یادداشت ولې ضروري وي؟ پښتون دانشور او مورخ سعدالله جان برق په تاریخ زور ولې راوړي؟ د تاریخ د ارزښت په اړه قیمتي خبرې واورئ. #factsarefacts#AimalWaliKhan#pakhtuhhistory
ایک جرنیل جاتا ہے اور دوسرا آتا ہے پھر جسے وہ بہتر سمجھتے ہیں اسے حکومت دے دی جاتی ہے لیکن ہمارے لیے جرنیلوں اور حکومتوں کی پالیسی ایک ہی رہی ہے۔
#ANP | #AimalWaliKhan | #AwamiNationalParty