سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلاء سے گفتگو:
“جنگل کے بادشاہ نے خود کو آئین و قانون سے اوپر رکھ لیا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ سمیت ہر ادارے کو زیر کر کے ایک شخص کی بادشاہت کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے دس سال کے لئے ملک میں آمریت نافذ کر دی گئی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کے زریعے ملک میں خوف پھیلایا جا رہا ہے۔ ہمیں ڈرا دھمکا کر ناجائز حکومت کو تسلیم کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
ایجینسیوں کو ان کے اصل کام سے ہٹا کہ تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے، جس سے قومی ادارے فوج کا تاثر تباہ ہو رہا ہے۔ پورے ملک کو بند کر دیا گیا۔ اسلام آباد سے باقی صوبوں کا راستہ کاٹا گیا، اسلام آباد پہنچنے والی نہتی عوام پہ گولی چلائی گئی۔ ہمارے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا گیا، سیدھی گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ ان کے گھروں اور خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی توہین کی گئی-
ملک میں صوبائیت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے اسلام آباد میں پختونوں کو نسلی بنیاد پہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں- تحریک انصاف وفاقی جماعت ہے جس نے پورے پاکستان کو جوڑ کر رکھا ہوا ہے- میں اپنی قوم کو ہدایت کرتا ہوں کہ حکومتی شرپسند عناصر کی کسی بھی کوشش کے باوجود آپ نے متحد رہنا ہے۔ ہم سب کسی بھی نسل سے بالاتر ہو کر صرف پاکستانی ہیں!
جب بھی ہماری جماعت احتجاج کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ میرے اوپر جیل کے اندر مزید پرچے کر دئیے جاتے ہیں۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے کئی لوگ اب تک مسنگ ہیں جن کی زندگی کے بارے میں ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت جلد از جلد گرفتار شہریوں اور ہسپتالوں اور سردخانوں میں لائے گئے زخمی اور شہید افراد کا ڈیٹا شائع کرے اور ہسپتالوں اور سیف سٹی کا CCTV کیمروں کا ڈیٹا بھی محفوظ بنایا جائے تاکہ سچ قوم کے سامنے آئے-
ہمارے دو مطالبات ہیں،
• سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز کے نیچے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا جائے
- ناحق قید سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے
مذاکرات کے لئے عمر ایوب کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے۔ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو سول نافرمانی، ترسیلات زر میں کمی اور بائیکاٹ کی تحریک شروع کی جائے گی۔”
اپنوں اور غیروں نے اکاؤنٹ پر حملے پھر سے شروع کر دیے ہیں آپ کی مدد درکار ہے
آپ کو پتہ ہے میری کوئی ٹیم نہیں نہ میرا کوئی گروپ ہے
ایک کمنٹ ایک لائک ایک ری ٹویٹ 🙏
سابق وزیراعظم عمران خان کا پیغام:
“ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم ہو چُکی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں اور پُر امن سیاسی کارکنان کو شہید کیا گیا ہے۔ ہمارے سینکڑوں کارکنان لا پتہ ہیں۔ سپریم کورٹ کو اب اس کا نوٹس لے کر اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہئے۔ ہم پہلے بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سپریم کورٹ، لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا لیکن عدالتوں کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور ملک اس نہج ہر پہنچ گیا!
ہم تیرہ دسمبر کو پشاور میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے عظیم الشان اجتماع منعقد کریں گے- اس اجتماع میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائیگی۔
میں دو نکات پر پانچ رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے رہا ہوں
• انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں رہائی
• 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام
ہماری مذاکراتی کمیٹی عمر ایوب خان ، علی امین گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر پر مشتمل ہو گی اور سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کرے گی-
اگر ان دو مطالبات کو نہ مانا گیا تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائیگی۔ اس تحریک کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔
سول نافرمانی کے نتیجہ میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کرینگے کہ وہ ترسیلات زر (remittances) کو محدود کریں اور بائیکاٹ مہم چلائیں۔ اس تحریک کے دوسرے مرحلے میں اس سے آگے بھی جائیں گے!!”
فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ان کو کتنی گالیاں نکال رہے ہیں یا بددعائیں دے رہے ہیں۔ فرق پڑتا ہے تو صرف انکی کاروباری سلطنت کے بائیکاٹ سے پڑتا ہے جو آپ (25 کروڑ صارفین) کے سر پر کھڑی ہے۔
#بائیکاٹ_فوجی_مصنوعات