شرمین قیوم کی وال سے گھریلو تشدد کا ایک واقعہ اور پولیس کا رویہ
السلام علیکم۔
رات ایک بہت دکھی کر دینے والا واقعہ ہوا۔
کوئی 3:30 کے لگ بھگ پڑوس میں سے ایک گھر سے آوازیں آنا شروع ہوئیں۔
کوئی مرد خاتون کو مار رہا تھا اور ساتھ بچے چیخ رہے تھے ابو ابو نہیں، امی امی۔۔۔۔۔ کہہ کر۔
اس وقت بجلی بھی بند تھی تو دل ہل گیا چیخوں سے۔
چند منٹ تو سوچنے میں لگے کہ کیا کرنا چاہئے۔ امی اور بھائی کو جگایا۔ بچے بھی جاگ گئے اور پریشان ہو گئے۔
اب تک شور اور چیخنے کی آوازیں کم نہ ہوئی تھیں۔
ہمارے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ رات کے اس پہر جا کے محلے والوں کو اکٹھا کر کے انکے گھر بھیجا جائے۔ اس گھر سے جڑے گھر میں سے بھی کوئی نہ نکلا تھا۔
ذہن میں آیا کہ کتنی ہی خواتین جب تشدد سہہ کر جان کی بازی ہار جاتی ہیں تو کیا انکی چیخیں بھی ایسی ہی آتی ہوں گی اور کوئی نہ نکلتا ہو گا۔ چیخ نکلنا تو involuntary action ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے قریب کے گھروں تک آواز نہ جائے۔ سب بے حس بن کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ انکا ذاتی معاملہ ہے۔
نہیں۔ جب آوازیں باہر آنے لگیں۔ جب پتہ لگ جائے کہ ظلم ہو رہا ہے تو وہ ذاتی معاملہ نہیں رہتا۔ ظلم کو روکنا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
ہم نے گھر کے ٹیرس سے ہی آواز دی کہ بس کر جاؤ ورنہ پولیس کو کال کریں گے ہم۔ اس پر باہر کچھ دیر بعد خاموشی ہو گئی۔
اور ساتھ ہی ہم نے 15 پر women protection cell پر بھی کال کی۔ فوری جواب ملا لیکن جب انہوں نے متعلقہ تھانے میں کال ٹرانسفر کرائی تو تھانے والوں کا رویہ عجیب تھا۔ written application دیں۔ مدعی بنیں۔ وغیرہ وغیرہ
معاملہ ٹالنے والا رویہ۔
(تب تک شور ختم ہو چکا تھا باہر۔)
بہر حال میں نے قریبی تھانے والی پولیس سے بھی یہی کہا کہ بجائے یہ کہ آپ آ کر انکا معاملہ حل کرائیں آپ بیٹھ کر تحریری درخواست کا انتظار کریں، محلے داروں کو جب مدعی بننے کا کہا جائے تو ہم نے تو آوازیں سنی ہیں خاتون کے اور بچوں کے چیخنے کی، اور کسی کے ان پر ڈنڈے برسانے کی۔ ثبوت کے طور پر کچھ نہیں ہے ابھی۔ اسکے علاوہ جب ظالم کو یہ پتہ چلے کہ اس گھر سے درخواست گئی ہے تو یہتو پھر الگ محلے میں دشمنی بنانے والی بات ہو جاتی ہے۔اور تحریری درخواست کا مطلب تو ابھی یہ ہے کہ بس جانے دو، بڑا معاملہ ہو گا تو دیکھیں گے، اس پر ان (پولیس) صاحب نے فرمایا کہ جی ٹھیک ہے میڈم، اب آواز آئی تو پھر آپ کرنا کال، ہم پہنچ جائیں گے۔ اب تو شور ویسے بھی ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔
آپ کے خیال میں ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہئے؟؟؟
محلے کا ایک فرد اگر جا کر روکے تو پھر ایسا بھی ہوتے دیکھا ہے کہ روکنے والا لڑنے والوں کی زد میں آ جاتا ہے۔
سابق سینیٹر مشتاق صاحب کے بھائی ایسے شہید کر دیے گئے تھے۔
کوئی خاتون جا کر روکنے کی کوشش کرے تو الگ دشمنی یا بدلے کی آگ جاگ جاتی ہے، تیزاب گردی جیسے واقعات بھی بنتے ہیں۔
بہت ضروری ہے کہ محلے کی کمیٹیاں موجود ہوں جن میں سمجھدار افراد شامل ہوں۔ ایسے واقعات پر بھی وہ مل کر ایکشن لیں، اس کے علاوہ بھی بہت سے معاملات آتے ہیں جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہےکہ محلے کے لوگوں کو مل کر اپنے حق کی آواز اٹھانی چاہئے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے عوامی کمیٹیوں پر کام شروع کیا ہے۔ ان کمیٹیوں میں عوام کو شامل بھی ہونا چاہئے ور اپنے حصے کا کام بھی کرنا چاہئے معاشرے کی اصلاح کے لئے، ظلم کے خاتمے کے لئے۔
کیا خیال ہے آپ سب کا اس حوالے سے؟؟
شرمین قیوم
5 جولائی، 2026
چیف منسٹر مریم نواز @MaryamNSharif سے گزارش ہے کہ اپنی پنجاب پولیس کی خبر لیں کہ گھریلو تشدد کے واقعات کو ٹال مٹول والے انداز میں کیوں ڈیل کیا جاتا ہے؟ کیا ضروری ہے کہ جب کوئی لاش گھروں سے نکلے اس وقت ہی ایکشن لیا جائے؟؟
@hinaparvezbutt@SamiaRQazi@MaryamNSharif@AzmaBokhariPMLN@pmln_org@OfficialDPRPP@Sharmeen_Qayyum
@M_EssJay Heartbreaking news. May Allah give her and the family strength to bear such a huge loss. Ameen summa ameen. May we see the killer hanging soon.
@ZarrarKhuhro Absurdity. Many students and women are supporting themselves by teaching kids at home. Will government support these people who are earning a little through these informal settings also adding value to the community ?
Gaza is forgotten amid the recent
Israeli-US attacks in the region, while Israel is still
pombing and starving the besieged people of Gaza for
the third year!
All aid to Gaza has been stopped. Within a week people will be starving again. There has been a sharp rise in the prices of basic goods. The healthcare system has largely collapsed. 90% of the people have been displaced. Help the people stuck in this nightmare.
“Can I bring my baby to the interview?”
The message came in at 11 PM:
“Hi, I have an interview with you tomorrow at 2 PM. My childcare fell through. Can I bring my 8-month-old? I understand if you need to reschedule.”
Old me would have rescheduled.
Unprofessional. Distraction. Red flag.
New me replied:
“Absolutely. See you tomorrow.”
She showed up with her baby on her hip.
She apologized three times before even sitting down.
Ten minutes in, the baby started crying.
She tried to soothe him while answering questions.
She apologized again.
I stopped the interview and said:
“Hey. You’re managing a fussy baby, answering complex questions, and staying calm under pressure. That’s literally the job. Handling chaos while staying professional. You’re already proving you can do it.”
Her eyes filled with tears.
We hired her.
She’s been with us for a year now.
The most reliable team member we have.
Why?
Because when you’re used to handling a screaming infant at 3 AM and still showing up to work the next day, workplace stress feels like nothing.
Working parents, especially mothers, are some of the most organized, efficient, and resilient people you’ll ever hire.
Yet we lose them because our hiring processes are built for people with zero caregiving responsibilities.
If your interview process can’t accommodate a parent facing a childcare issue, you’re not filtering for professionalism.
You’re filtering for privilege.
This is your reminder that freezing people by preventing adequate levels of aid, medical supplies and clothing from reaching them is a method of genocide. The people Gaza are LITERALLY freezing.
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
WE WANT A TENT😭
https://t.co/PoTNVpFQz3
Several Palestinians were killed and wounded after Israeli occupation forces struck a center sheltering displaced families in the Zeitoun neighborhood southeast of Gaza City.