Unos GENIOS agarraron la bandera de las Malvinas y la mostraron en La Rural, TODOS APLAUDIERON, Milei y Monteoliva quisieron prohibirlas y generaron el efecto totalmente contrario
JAJAJAJAJJAAJ 🇦🇷
@MailSport You mean Messi's popularity has plummeted among the people are experts in colonizing other people?
Hahahaha we have to build a statue for Messi for making the Brits shit their pants 🤣🤣🤣🤣🤣
مہاجروں کے خلاف مظالم اورآمریت کے تسلط میں ذوالفقارعلی بھٹوکاکردار :
الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان ایک آزاد ملک یا گیریژن اسٹیٹ؟
پاکستان ہمیشہ سے امریکہ، برطانیہ اور مغربی طاقتوں کے مفادات کیلئے ہرطرح کی مدد کرتارہا ہے اوراس کے ہرظالمانہ اور جابرانہ عمل پرامریکہ کاساتھ دیتا چلا آیا ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے،جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصورکیا جائے گا۔اب پاکستان کایہ مؤقف سامنے آیا ہےکہ سعودی عرب پر حملہ سرخ لکیرہے، اگر سعودی عرب پر ایران یا یمنی حوثیوں نے حملہ کیا توکیا پاکستان بھی اس جنگ میں شامل ہوجائے گا؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملے کےجواب میں ایران یا یمن کے حوثیوں پر حملہ کرے گا؟کیا اس صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں نہیں آجائےگا؟ کیا اس جنگ میں کودنا پاکستان کے مفاد میں ہوگا؟ آج ہرفرد یہ سوال کررہاہے کہ آپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سعودی عرب کاڈیفنس امریکہ کے پاس ہےاگر سعودی عرب،اردن، شام، ترکی، مصر اورمڈل ایسٹ میں قائم امریکی اڈوں سے ایران پر حملے ہوتے رہیں تو کیا ایران کو جواب نہیں دینا چاہیے؟پاکستان پہلے بھی غیرملکی طاقتوں کےمفادات کیلئے پہلے بھی گیریژن اسٹیٹ تھا اورآج بھی ہے جس کے باعث پاکستان کا کلچر تباہ ہوگیا، سرد جنگ میں پاکستان میں جہادری مدرسے اور تحریک طالبان کیاMQM نے بنائی؟ یا فوج، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے بنائی، پیپلزپارٹی کابیان ریکارڈ پر ہےکہ”طالبان ہمارے بچے ہیں “ مسلم لیگ کے سربراہ نوازشریف کہتے تھےکہ ”میں جنرل ضیاء الحق کااسلامی نظام لاؤں گا“۔ یہ عجب مذاق ہے کہ جو لوگ فوج کی نرسری میں پیدا ہوئے وہ آج جمہوریت کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کاجائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 23، مارچ 1956ء کو اسکندر مرزا کوگورنرجنرل سے پاکستان کا صدربنایا جاتا ہے۔7، اکتوبر1958ء کو انہوں نے ملک میں مارشل لاء لگادیا، اس وقت آرمی چیف جنرل ایوب خان تھا، اسکندرمرز نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔مارشل کے نفاذ کے محض 20 دن بعد یعنی 27،اکتوبر1958ء کو جنرل ایوب خان نے صدراسکندرمرزا سے بندوق کی نوک پر استعفیٰ لیا اور انہیں جلاوطن کردیا، ا س طرح ملک پر جنرل ایوب خان کی فوجی آمریت کاسلسلہ شروع ہوا۔وہ ملک کے صدر اور فیلڈ مارشل بھی بن جاتے ہیں۔ جنرل ایوب خان نے جب اپنی کابینہ تشکیل دی تو ذوالفقارعلی بھٹو اس فوجی کابینہ میں شامل ہوتے ہیں، انہیں پہلے وفاقی وزیربرائے تجارت اورپھر وفاقی وزیربرائے پانی وبجلی بنایا جاتا ہے۔اب پاکستان کے عوام کیلئے دعوت فکرہے کہ غریب عوام دوست اور روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والا بھٹو کہاں کی پیداوارہیں؟ اسی طرح ن لیگ کے سربراہ نوازشریف کو جنرل ضیاء الحق کی پیداوار کہا جاتا ہے۔
1960ء سے 1962ء تک بھٹو فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ میں وزیررہے پھر 1962ء میں بھٹو کووزیرخارجہ بنادیاجاتا ہے۔ اس وقت ذوالفقارعلی بھٹو جنرل ایوب خان یعنی ایک آمر کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔
1957ء میں ذوالفقارعلی بھٹو اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے بھی رہے۔جب 1964ء میں صدارتی الیکشن کاسلسلہ شروع ہوا تو اس وقت ذوالفقار علی بھٹو وزیرخارجہ کے منصب پرفائز تھے، جنوری1965ء میں صدارتی انتخاب ہوئےتو بنگالیوں اورمہاجروں نےقائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دیا لیکن جنرل ایوب خان نے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کرکے محترمہ فاطمہ جناح کو ہرادیا، جنرل ایوب خان کو شدید غصہ تھا کہ مہاجروں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور انہوں نےیہ کہا کہ ”مہاجروں کیلئے سمندر ہے“ذوالفقارعلی بھٹو مہاجروں سے شدید نفرت رکھتا تھا، اس نے جب دیکھا کہ مہاجروں نے ان کے ڈیڈی کو ووٹ نہیں دیئے توبھٹو نے جنرل ایوب خان سے کہاکہ ” ڈیڈی مہاجروں کو سبق سکھائیں اورجشن فتح مناکر ثابت کریں کہ کراچی اورحیدرآباد سے بھی آپ کامیاب ہوئے ہیں لہٰذا ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب کی سربراہی میں قبائلی علاقوں سے سادہ لوح پٹھانوں کویہ کہہ کر کراچی لایا گیا کہ وہاں کافروں سے لڑنا ہے، جشن فتح کی آڑ میں پٹھانوں کے ذریعے مہاجربستیوں پر حملےکرائے گئے۔ جشن فتح کے نام پر کراچی میں جلوس نکالے گئے، مہاجربستیوں پر حملے کرکے نہتے مہاجروں کا قتل کیا گیا۔ جبکہ بعض پوڈکاسٹرز منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ الطاف حسین نے مہاجروں کودوسری قومیتوں کے خلاف بھڑکایا۔ میں سوال کرتا ہوں کہ 1964ء میں کیاالطاف حسین سیاست میں تھا؟ کیاایم کیوایم کاوجود تھا؟
ایوب خان کے دور میں مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں جلوس نکالےگئےجن میں ”ایوب کتا ہائے ہائے“ کے نعرے لگاکرتے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر ذوالفقارعلی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے علیحدہ ہوگئے۔
1/2
سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ایک سازشی منصوبے کے تحت سندھ کے مستقل باشندوں سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی کوششیں کررہی ہے، اس کے لئےکچھ مخصوص صحافیوں اور یوٹیوبرز میں ایک خطیررقم تقسیم کی گئی ہے اوران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے وی لاگز اور پوڈکاسٹ میں الطاف حسین، مہاجروں اور ایم کیوایم کے خلاف جتنازہراگل سکتے ہو، جتنے الزامات لگا سکتے ہو لگاؤ، نفرت پھیلاؤ تاکہ سندھیوں اورمہاجروں کے درمیان دوبارہ سے نفرتیں پھیلائی جاسکیں، ان کے درمیان نفرتیں اوراشتعال پھیلایا جائےتاکہ انہیں آپس میں لڑایاجائے، سندھ میں پھر سے کشت وخون کرایا جائے۔ یہ وہی عمل ہے جو پیپلزپارٹی نے اپنی سابقہ حکومتوں کے دور میں کیا، جو19جون 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دورمیں MQM کوختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا، جس کا سلسلہ پیپلزپارٹی کی بینظیربھٹوحکومت نے جاری رکھا اورایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتارکرکے جیلوں میں قید کیا گیا، سینکڑوں کولاپتہ کیا گیا، آبادیوں کے محاصرے کرکے ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے، پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت بھی وہی ظلم کررہی ہے، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی گرفتاریاں کررہی ہے، ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنارہی ہے، شہری عوام کوان کے حقوق دینے کے بجائے ان کے خلاف نفرت وتعصب کے اقدامات کررہی ہے۔ جب ہم اس ظلم کے خلاف آوازاٹھاتے ہیں تو پیپلزپارٹی کی حکومت اسے نفرت اورتقسیم کی سیاست قراردیتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی اپنی تاریخ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ نفرت، تعصب اورحق تلفیوں اور ظلم وبربریت سے بھری پڑی ہے۔ پیپلزپارٹی کی زیادتیوں سے اندرون سندھ کے عوام بھی بے زار آچکے ہیں لیکن پیپلزپارٹی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک بارپھر سندھ کارڈ کھیل رہی ہے لیکن اب سندھ کے باشعور عوام اس کے پروپیگنڈوں میں نہیں آئیں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب
¡GRACIAS INFINITAS, MUCHACHOS! No alcanzan las palabras para agradecerles cómo defendieron la camiseta. Nos hicieron llorar, gritar y, sobre todo, volver a creer. ¡Son eternos! 🩵🤍🏆
تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو میدان سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی پیداوار تھے، ان کےوالد سرشاہنواز بھٹو ایک بڑے جاگیردارتھے،وہ تقسیم ہند سے پہلے ریاست جونا گڑھ کے منشی تھے اور سلطنت برطانیہ کےفرمانبردار اور اطاعت گزار تھےجس کےصلے میں انگریزوں سے انہیں ”سر“ کا خطاب اورہزاروں ایکڑ زمینیں انعام کےطور پر ملی تھیں۔جوشاؤنسٹ اور متعصب عناصر سرسید احمدخان کو سرکاخطاب ملنے پر انہیں انگریزوں کاایجنٹ قراردیتے ہیں وہ بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو کوانگریزوں کی اطاعت وفرمانبرداری پرسرکاخطاب ملنے پر کیاکہیں گے؟ بھٹوکے والد سر شاہنواز بھٹوکی زمینوں پر سلطنت برطانیہ انگریز اورامریکی شکار کھیلنے آتے تھے، ذوالفقارعلی بھٹو بھی اپنے والدکے ساتھ انگریزوں اور امریکیوں کی خدمت گزاری میں شریک ہوتے۔ایک مرتبہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ہوریک ہلڈریتھ (Horace Hildreth) شاہنواز بھٹو کی زمینوں پرشکاررکھیلنے آئے تووہ بھٹوکی خدمت گزاری سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اسکندرمرزا اور جنرل ایوب خان سےکہاوہ بھٹو کواپنی حکومت میں جگہ دیں جس پر انہیں فوجی حکومت میں شامل کیاگیا۔ بھٹو جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت میں وزیر خارجہ اور مختلف وزارتوں پرفائزرہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جنرل ایوب خان سے اتنی قربت تھی کہ وہ جنرل ایوب خان کو”ڈیدی “ یعنی اپناباپ کہتے تھے۔جب 1966ء میں جنرل ایوب خان کے خلاف محض چینی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے توذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوگئےاور 1967ء میں اپنی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے قائم کر نے کااعلان کردیا۔ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کےبانی ارکان میں جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشرحسن، معراج محمدخان، حفیظ پیرزادہ، کمال اظفر، حیات شیرپاؤ اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔اس وقت ملک میں عوام مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کررہے تھے اور ان دنوں سوشلزم کی ہواچل رہی تھی لہٰذا بھٹو نے اپنی جماعت کامنشور”اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معیشت اورطاقت کا سرچشمہ عوام“ رکھا اورعوام کو”روٹی کپڑا اورمکان“ کانعرہ دیا لیکن انہیں پس پردہ فوج کے جرنیلوں کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔
جنرل ایوب خان کے اقتدار سے استعفیٰ دینے کے بعد 25مارچ 1969ء کو جنرل یحییٰ خان نے ملک میں دوسرامارشل لاء نافذ کردیا۔ بھٹو جنرل یحییٰ خان کی حکومت کے ساتھ رہے اوران کے وزیرخارجہ کے فرائض بھی انجام دیے۔ جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں ملک میں عام انتخابات کرائے توان انتخابات میں مشرقی پاکستان سے جنم لینے والی شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ نے 160نشستیں حاصل کیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی محض 81 نشستیں حاصل کرسکی۔ شیخ مجیب مسلسل مطالبہ کرتے رہےکہ حکومت سازی کےلئےفی الفورقومی اسمبلی کااجلاس بلایا جائے لیکن جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے قومی اسمبلی کااجلاس نہیں بلایاکیونکہ فوجی حکومت عوامی لیگ کو اقتدارحوالے کرنا نہیں چاہتی تھی اوربھٹو بھی یہی چاہتا تھاکہ عوامی لیگ برسراقتدار نہ آئے۔ مجبورہوکرشیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کااجلاس بلالیا۔ جس پر فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں پرورش پانے والے ذوالفقارعلی بھٹو نے لاہور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ دھمکی آمیز اعلان کیا کہ مغربی پاکستان سے جو بھی منتخب رکن اگرقومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کےلئےڈھاکہ جائے گا توواپسی پر اس کی ٹانگیں توڑدی جائیں گی،مغربی پاکستان سے واحد رکن اسمبلی احمدرضاقصوری اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ گئے تھے، جب وہ واپس آئے توبھٹوحکومت میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیاجس میں احمدرضا قصوری بچ گئے لیکن ان کے والد نواب محمداحمدخان قصوری جاں بحق ہوگئے۔جب جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹااورملک میں مارشل لاء نافذ کیاتو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمداحمدخان قصوری کے قتل کے الزام میں ہی بھٹوکو پھانسی دی گئی تھی۔
دنیا کے مسلمہ قانون کے تحت 1970ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے پر شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کواقتدارحوالے کرناچاہیے تھا لیکن فوج نے کہاکہ ملک پر ایک بنگالی وزیراعظم کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکتا، دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ شیخ مجیب الرحمن ایک غریب کابیٹاتھا جبکہ ذوالفقارعلی بھٹو ایک بہت بڑے جاگیردار سرشاہنوازبھٹو کابیٹا تھا۔
شیخ مجیب الرحمن نے باقاعدہ آپریشن سے پہلے علیحدگی کااعلان نہیں کیاتھا بلکہ وہ صرف یہ کہہ رہاتھاکہ بنگالیوں کوان کے حقوق دو اوران کے میڈیٹ کو تسلیم کرو لیکن فوج نے بنگالیوں کو تسلیم نہیں کیا، بھٹو بھی کسی قیمت پر بنگالیوں کواقتداردینے کاحامی نہیں تھا لہٰذا بھٹونے لاہورمیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ”اِدھرہم، اُدھر تم“ کانعرہ لگایا۔
1/2
تقسیم ہند اور تاریخ برصغیر کے ناقابل تردید پہلو :
( اس فکری نشست کو ضرور پڑھئیے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان کی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے جبکہ پاکستان کی تاریخ محض 79 برس کی ہے اسلئے پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ کا موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔ ہندوستان کی تقسیم سلطنت برطانیہ کے طےشدہ منصوبےاور سازش کی تحت کی گئی اوراس تقسیم کیلئے ہندوستان میں مذہب کو ہتھیار بناکرفسادات اور خون خرابہ کرایا گیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعدبرطانوی سلطنت کیلئے ہندوستان پر اپنا قبضہ جاری رکھنا ناممکن ہوگیا تھا،انگریزوں نے جاتے جاتے ایسے اقدامات کیے کہ ہندوستان تقسیم درتقسیم ہوگیا۔ہندوستان کوتقسیم کرنے کیلئے دوقومی نظریئےدیا گیا،اس نظریئے کوجواز بناکرآج بھی ببانگ دہل کہا جاتا ہے کہ ہندو اورمسلمان الگ الگ قومیں ہیں، ان کی تہذیب، ثقافت، تمدن، کھانے، رہن سہن اورسب سے بڑھ کرمذہب الگ الگ ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندو عددی اعتبارسےاکثریت میں ہیں لہٰذا انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوؤں کا غلام بن کررہنا پڑےگا، اس سوچ کو پھیلانے کیلئے انگریزوں نے مذہب کا استعمال کیا تاکہ ہندوستان سے برطانیہ کے جانے کے بعد بھی پورے ساؤتھ ایشیاریجن کو کنٹرول کیاجاسکے۔
کیادوقومی نظریہ حقیقت تھا؟
ہندوستان کی تقسیم کیلئے انگریزوں نے دو قومی نظریہ دیا، دوقومی نظریہ ایک فراڈ تھا، ہندوستان میں ہندو اور مسلمان کا مسئلہ اس لئے اٹھایا گیا کہ اگر انگریز ہندوستان سے چلے گئے تو مسلمان، ہندو اکثریت کے غلام بن جائیں گے اگر ایسا کوئی سلسلہ ہوتا کہ ہندو اورمسلمان الگ الگ ہیں تو انگریزوں نے یہ مسئلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کیوں اٹھایا؟ مسلمان 700 برسوں سے ہندوؤں اورہندوستان کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مل کررہ رہے تھے لیکن دوقومی نظریہ کے نام پر کہاگیا کہ ہندوستان میں مسلمان، ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہونا چاہیے، اگر یہ مطالبہ صحیح ہوتا تو ہندوستان کی تقسیم اس طرح کی جانی چاہیے تھی برصغیر کے 10 کروڑ مسلمان اس زمین پر آباد ہوتے جہاں پاکستان بنایا گیا اور ایک بھی مسلمان ہندوستان میں نہیں رہتا اور دوقومی نظریئے کی بنیادپر حاصل ہونے والا ملک ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں کا وطن ہوتا۔
ہندوستان میں بزرگان دین:
اس حوالے سے اگر ہم غورکریں اوربزرگان دین کودیکھیں، یہ تاریخی حقائق ہیں کہ حضرت امیرخسروؒ1253ء میں پیدا ہوئے جبکہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء 1238ء میں پیدا ہوئے،حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ 1142ء میں پیداہوئے جبکہ حضرت علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخش1009ء میں پیدا ہوئے۔ہندوستان میں ان بزرگان دین میں کوئی 1000ء میں پیدا ہوئےاور کوئی 1200ء میں پیدا ہوئے،یہ تمام بزرگان دین مسلمان تھے، انسانیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے اورلوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیاکرتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت نے ان بزرگان دین کو اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ؐ اور دین اسلام کی تبلیغ کی اجازت کیسے دے دی تھی؟ اگر مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تھے تو پھر آج تک دہلی اور اجمیر شریف میں ان بزرگان دین کےمزارات کیوں ہوتے؟ ان اولیائےکرام نےکبھی ہندو، سکھ، عیسائی یاکسی دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مذہبی تفریق کی بنیادپر اپنی محفل سے نہیں نکالا تھا، کبھی مذہب کی بنیاد پر کسی سے نفرت یاتعصب کا درس نہیں دیاتھا۔
ہندوستان پر سب سے پہلے جس مسلمان علاؤالدین خلجی نے1296ء میں باہرسے آکر ہندوستان کو فتح کیااور حکومت کی اوروہ 1316ء تک سلطنت دہلی پر قابض رہا۔ مسلمانوں نے ہندو راجہ، مہاراجہ اور بادشاہوں کو شکست دیکر ہندوستان پر اپنی حکومتیں ضرور قائم کرلیں مگر کیا انہوں نے غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کومسمار کیا تھا؟
یہ ایک تلخ بات ہے لیکن حقیقت ہے کہ دوقومی نظریئے کی بنیادپر صرف ہندوستان کی زمین کوہی تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں کی بھی تقسیم کی گئی، ہندوستان کے مسلمانوں کو پہلے دو اور پھر تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا، پورے ہندوستان میں بنگال سےدہلی، دہلی سے بہار، بہار سے حیدرآباد دکن، حیدرآباد دکن سے جوناگڑھ، جوناگڑھ سے راجپوتانہ اور راجپوتانہ سے گجرات تک سب جگہ مسلمان اور ہندو صدیوں سے مل جل کررہتے چلے آرہے تھے پھر اچانک 80 سال پہلےہندوستان کو تقسیم کیوں کردیاگیا؟ اگر دوقومی نظریہ سچا ہوتا آج ہندوستان میں ایک بھی مسلمان نہیں رہتا بلکہ ہندوستان کےتمام مسلمان دوقومی نظریئے کے تحت بننے والے ملک میں ہوتے مگرکیا دوقومی نظریئے کے مطابق ایسا ہوا؟
1/3