بانی پاکستان تحریک انصاف کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت
اڈیالہ جیل میں آج میرا ایک سال پورا ہو گیا ہے ۔ان کا خیال تھا کہ یہ ٹوٹ جائے گا اور چکی میں نہیں رہ سکے گا ۔ میں 21 سے 22 گھنٹے چکی میں رہتا ہوں ۔گرمیوں کے دنوں میں اتنا پسینہ آتا تھا کہ جو کپڑے پہنتا تھا وہ بھی مسلسل گیلے رہتے تھے ۔جیل عملے نے کہا کہ خان صاحب کپڑے بدل لیں یہ پھٹ جائیں گے ۔ان کو پتہ ہی نہیں کہ ایک سپورٹس مین کی ٹریننگ کیا ہوتی ہے ۔سپورٹس مین کی ٹریننگ ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہرطرح کے دباؤ میں رہنے کا عادی ہوتا ہے ۔ ایک سپورٹس مین اپنے جسم کو ہر طرح کا سٹریس دے کر تیار کرتا ہے اور میں نے جس طرح کی سخت دماغی اور جسمانی ٹرینگ سے خود کو گزارا ہوا ہے اس نے مجھے ہر طرح کی سخت جسمانی اور دماغی تکلیف کے لیے تیار کیا ہوا ہے اور میں کسی دباؤ اور تکلیف سے گھبرانے والا نہیں ہوں۔
کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ادارے اور اخلاقیات جب تک تباہ نہیں ہوتے ملک تباہ نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو جاپان آج ترقی کر کے یہاں نہ پہنچا ہوتا۔ جاپان پر دو ایٹم بم گرے 10 سال میں وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا کیونکہ جاپان کے ادارے تباہ نہیں ہوئے تھے ۔
ایکسٹینشن مافیا ناجائز توسیع لینا چاہتا ہے ۔گینگ آف تھری مافیا اپنی توسیع کے لیے ملک کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے ۔حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا خلاصہ ہے کہ ایک آدمی یعنی یحی خان نے اپنی ذاتی طاقت کو بڑھانے کے لیے ملک کی جمہوریت کو تباہ کر دیا تھا ۔ہ ��لک کو اس وقت اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور ہم دنیا بھر میں ذلیل ہوئے ۔ ہمارے 90 ہزار فوجی قیدی بنے اور 50 ہزار پاکستانیوں کو قتل کیا گیا ۔حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کئی دہائیوں تک چھپائی گئی۔کمیشن رپورٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے سبق سیکھو ۔
یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ ان کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔قاضی فائز عیسیٰ ان کا ایک کھلاڑی اور سکندر سلطان راجہ دوسرا کھلاڑی ہے۔تھرڈ امپائر ان کا کپتان ہے جو سارا کچھ کنٹرول کر رہا ہے ۔قاضی فائز عیسٰی ہم پر ہونے والے ظلم کو تحفظ دیتا رہا ہے ۔ بطور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فرض تھا کہ وہ بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ۔ملک میں مسلسل انسا��ی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور قاضی فائز عیسیٰ اس سب پر خاموش ہے ۔ ہمارے 8 فروری کے کیس کو آج تک قاضی فائز عیسیٰ نے نہیں سنا۔ ہم نے متعدد بار قاضی فائز عیسیٰ سے استدعا کی کہ 9 مئی پر کمیشن بنائیں لیکن آج تک 9 مئی کی تحقیقات کے لیے کمیشن نہیں بنا۔ جس بھی کیس میں پاکستان تحریک انصاف نے م��البہ کیا ہے کہ اس پر صاف اور شفاف تحقیق کے لیے کمیشن بنایا جائے ، قاضی فائز عیسیٰ نے اس کی مخالفت کی اور جو طاقتیں تحریک انصاف کو نقصان پہنچا رہی تھیں اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں میں ملوث تھیں قاضی فائز عیسیٰ نے ان کو تحفظ فراہم کیا۔
ٹرائل کے بغیر ہمارے لوگ 16 ماہ سے جیلوں میں قید ہیں ۔محمود الرشید اور اعجاز چوہدری بیماری کے باوجود جیلوں میں قید ہیں ۔قاضی فائز عیسیٰ نے ایک بھی جوڈیشل انکوائری نہیں کروائی۔مغربی طاقتیں فلسطین میں سیز فائر اس لیے نہیں کروا رہیں تاکہ فلسطینیوں کو پہلے کرش کیا جا سکے ۔یہ لوگ بھی انتظار کرتے رہے کہ الیکشن سے پہلے ہم کرش ہو جا��یں گے لیکن پھر 8 فروری کا الیکشن آ گیا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک ایسی جماعت الیکشن میں واضح برتری حاصل کرے گی جس کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ عوام نے جس طرح 8 فروری کو خاموش انقلاب برپا کیا ہے ، اس نے ان کے حوصلے بری طرح پست کیے ہیں ۔ آئینی اور قانونی طور پر جیتی ہوئی پارٹی کو اقتدار ملنا چاہیے تھا ۔ لیکن یہاں الٹا ہمارے دفاتر پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں تحفظ فراہم کیا ہوا ہے ۔آئینی ترامیم قاضی کی توسیع کے لیے ہیں ۔ قاضی فائز عیسیٰ کو بیکری میں جس نے ذلیل کیا اس کے بارے میں سامنے آ رہا ہے کہ اسے اٹھا لیا گیا ۔ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں اور شرم آنی چاہیئے۔انسانوں کے معاشرے کو ڈنڈے سے نہیں اخلاقیات سے چلایا جاتا ہے ۔
190 ملین پاؤنڈ کا جو ہم پر کیس بنا دیا گیا اس پر ابھی تک 20 ارب کا منافع ہو چکا ہے۔ یہ آج تک ثابت نہیں کر سکے کہ وہ غیر قانونی یا ناجائز پیسہ تھا۔ القادر ٹرسٹ سے مجھے ایک ٹکے کا فائدہ نہیں ہوا نہ ہونا ہے۔ 350 سو کنال اراضی القادر ٹرسٹ اور 1000 کنال اراضی نمل یونیورسٹی کی ہے ۔القادر یونیورسٹی کے لیے زمین ملک ریاض نے ٹرسٹ کو عطیہ کی۔ اگر ٹرسٹ نہیں چلتا تو زمین واپس ڈونر کو چلی جاتی ہے-
1/2
بھائی کو وزیراعظم بنوایا
بیٹی کو وزیر اعلی بنوایا
خود اپوزیشن لیڈر
پھر پوچھتا ہے مجھے کیوں نکالا
جب کہ حلقے کے عوام اور ڈاکٹر یاسمین راشد نے حلقے سے کیا خوب نکالا
پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کے لیئے ہے اقلیت خواہ سیاسی ہو سبز رنگ تحریک انصاف کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سفیدرنگ تمام سیاسی جماعتوں کو ظاہر کرتا جو اس وقت ملک میں صرف 4 فیصد ہیں
جس دن یہ حکومت آئی سٹاک مارکیٹ اوپر گئی ڈالر ، پیٹرولیم مصنوعات، ضروریات زندگی کی تمام چیزوں کے ساتھ بہت سے لوگ بھی اوپر چلے گئے بس جناب اب م��ربانی کر کے نیچے کی طرف دھیان دیں زندگی انتہائی سخت اور مشکل ہو گئی ہے
ان دو ججز کا اختلافی نوٹ حلقہ این اے 130 سے توجہ ہٹانے کے ��یے جاری کیا گیا کیونکہ پٹواری ڈیفنڈ نہیں کر پا رہے تھے تو یہ شوشہ چھوڑا گیا آفرین ہے ان دونوں پر
نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔
یہ جملہ قوم کے لیے کہ صحیح اور غلط کے بیچ میں آپکو نیوٹرل نہیں رہنا۔
آپ نیو��رل ہو جائیں۔
یہ جملہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے کہ وہ سیاست میں مداخلت مت کریں۔
لفظ ایک ہے مگر اس کے دونوں جگہوں پر الگ الگ معنوں کو سمجھنے کے لیے شعور کی ضرورت ہے۔
اس وقت پٹواری کوئی بیانیہ بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں جب عمران خان نے کہا تھا ایک تو پڑھے لکھے نہیں اوپر سے کوشش بھی نہیں کرتے یہ پی ٹی آئی کا یہ نوٹیفکیشن تو تیار کر لیا مگر عمر ایوب سیکرٹری جنرل کی بجائے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل لکھ کر پھڑے گئے ۔۔۔ فیک فیک فیک در فٹے منہ
سیاسی و مذہبی جماعتیں عمران خان اور تحریک انصاف پر تنقید کے نشتر چلا کر عوام میں جگہ بنانے کی یوں تلاش کر رہی ہیں جیسے انڈہ دینے والی مرغی جگہ تلاش کرتی ہے