”لے کے پِنشن جاؤندا کیوں نئیں
چاچا وردی لاؤندا کیوں نئیں؟
غیرت نوں اپناؤندا کیوں نئیں
چاچا وردی لاؤندا کیوں نئیں؟“
سینئیر صحافیوں کے مطابق 2007 میں محسن نقوی نے اپنے اس وقت کے مائی باپ زرادری کے کہنے پر مشرف کی ڈکٹیٹرشپ پر یہ گانا بنوایا تھا، جو آج محسن نقوی کے نئے مالک عاصم منیر کی بدترین آمریت اور طاقت کی ہوس پر بالکل فِٹ بیٹھتا ہے۔
#ذہنی_مریض_نامنظور
🚨Today at @DropSiteNews we're publishing some truly unbelievable audio we've put to animation.
A man in Pakistan was abducted by half a dozen men in black and taken to a jail cell. The man's brother, who lives overseas, then got a phone call from his brother's phone. It was his captors. The call is recorded.
What did they want? For the overseas brother to *delete tweets* and stop posting about Imran Khan for 30 days. He initially refused, and they beat his brother, making sure he could hear.
Please give a listen and share widely.
اہلِ وطن کو عید کی خوشیاں مبارک!
عیدالاضحیٰ ایثار و قربانی کے اس جذبے، جس کی مثال جنابِ ابراہیم علیہ السّلام کی جانب سے قائم کی گئی،کوصحیح معنوں میں اپنانے کا درس دیتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں چند افراد کی اپنی اناؤں کی پوجا اور نفسِ عمّارہ کی پرستش نے ہمارے سماج کی اخلاقی تباہی کا سامان کیا ہے اور ہر ادارے کو تنزّلی و انحطاط کی بھینٹ چڑھایا ہے۔
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی کسمپرسی پوری طرح یہ ظاہر کر رہی ہے کہ کیسے ایک شخص کی انا اور اس کے نتیجے میں اقربا پروری نے پہلے ہی پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ محسن نقوی کو زرداری، جو مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہی اپنا بیٹا قرار نہیں دیتا بلکہ اس کے چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر سے بھی خاندانی مراسم/تعلقات ہیں۔ محسن نقوی انکے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتا ہے چنانچہ پہلے اسے وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے نوازا گیا حالانکہ (اس کی وزارتِ اعلیٰ کا) یہ دور پاکستان کی تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ اس کے خلاف تو دستور کی منشا اور آئین کے تقاضوں کے مطابق پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کی اجازت نہ دینے پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئیے۔
پھر اس نے قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور جبر و فسطائیت کی ایسی سیاہ تاریخ رقم کی جسکی نظیر تک ملنا ناممکن ہے۔ اسکی نگرانی میں چادر و چاردیواری کےتقدّس کو پامال کیا گیا، سیاسی کارکنان (ناحق) قتل کئے گئے، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنائے گئے۔ وحشت و سفّاکیّت کا ریکارڈ قائم کرنے پر اسےداخلہ امور جیسی حسّاس ترین وزارت سےہی نہیں بلکہ سینیٹرشپ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی سربراہی کے ذریعے بھی نوازا گیا۔
ٹیم کی کارکردگی میں اضافے پر توجّہ دینے کی بجائے محسن نقوی نے نے اپنی تمام تر توانائیاں (سرکار کے) سیاسی مخالفین کو دبانے میں کھپا دیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی ثابت کرتی ہےکہ کھلاڑیوں کا مورال بُری طرح مجروح/نچلی ترین سطح پر ہے کیونکہ کرکٹ بورڈ کی کمان ایک نااہل ٹاؤٹ کے ہاتھ میں ہے۔
ترجیحات میں یہ حد درجہ بگاڑ ملک میں امن و امان کی صورتحال سے بھی عیاں ہے۔ پوری ریاستی مشینری شہریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے اور سفّاکیّت کے ریکارڈز قائم کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ امنِ عامہ درہم برہم ہے، دہشتگردی بڑھ رہی ہے اور معیشت تباہی کے پاتال میں اتر چکی ہے۔
حتمی طور پر اب ”جنگل کے بادشاہ“، جو بنیادی طور پر اس ملک میں ڈوریاں ہلاتا ہے، کو اداروں کی تباہی کا سلسلہ فی الفور ترک کر دینا چاہئیے۔ وقت آگیا ہے کہ اپنا قبلہ درست کیا جائے قبل اس کے کہ ملک کا حشر بھی وہی ہو جو 2024 کے عالمی کپ کے دوران پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا ہوا۔
اینکر عمران ریاض خان کی لاہور سے گرفتاری!
فسطائیت ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی، ان کی سوچ ہے جو سچ بولے جو ان کے خلاف بولے اٹھا لو جو ان کے حق میں جھوٹ پھیلائے اس کو عہدوں سے نوازدو