اس جگہ اور ٹرین کی آرام دہ نشستوں کے درمیان صرف ایک چیز حائل ہے: غربت، اور ٹرین کا ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہ ہونا۔ جب کبھی زندگی کی چند چھوٹی چیزیں کھو جانے سے آپ کا دن خراب ہو جائے، تو اس منظر پر ضرور غور کیجیے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ ہم پانی سے بجلی بنارہے ہیں، ہمیں سستی بجلی دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ نہیں پورے ملک کو یکساں قیمت پر ملے گی کیونکہ اس پر ہر پاکستانی کا حق ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا یہی اصول آٹے اور گندم کے لئے بھی ہے؟
صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں شیواڈہ بازار میں تنظیم انجمن نوجوانان شگئی (شیوہ آڈہ ) کےتاؤن سےاور ضلعی انتظامیہ کےزیر نگرانی رمضان دسترخوان کا اہتمام کیا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنرصاحبہ نےروزہ داروں کے ہمراہ افطاری کی،جس کا مقصد عوام کے ساتھ یکجہتی اورخدمت کےجذبےکو فروغ دینا تھا۔
باچاخان بابا پر 149 کتابیں 9 پی ایچ ڈی 6 ایم فل اور چار دستاویزی فلمیں بن چکی ہیں اس ملک میں ایسا دوسرا کوئی ہو تو سامنے آۓ۔
#BachaKhanWeek2026#BachaKhanBaba
ایک بھائی نے رابطہ کرکے بتایا کہ:
سال 2014 میں ہمارے گاؤں میں تصویر میں نظر آنے والا یہ شخص آیا تھا۔ لوگوں میں افواہ پھیل گئی کہ یہ چور ہے اور کچھ لوگ جمع ہوکر ما*رنے لگے۔
ہمارے ایک بزرگ نے انکی جان چھڑائی، ایک طرف لیجاکر بات کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ قوت سماعت و گویائی سے محروم تھے۔
نا بول سکتے ہیں اور نا سن سکتے ہیں۔
انکو اپنے ڈیرے میں لائے کھانا کھایا اور آرام کروایا۔
ہم نے انکے ورثاء تلاش کرنے کی بہت کوشش کی سوشل میڈیا پر بھی اشتہار چلوائے لیکن کوئی سامنے نہیں آیا۔
اس وقت یہ پنجاب کے شہر ہارون آباد میں اسی بزرگ کے خاندان کے پاس موجود ہے۔ اپنوں کی یاد جب آتی ہے تو بہت دکھی ہوجاتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں آپکے پلیٹ فارم سے اس جوان کو اپنے ورثاء مل جائیں۔
ایک بےزبان انسان کی مدد کے لئے آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ ملک کے جس کونے سے بھی انکا تعلق ہو وہاں تک یہ خبر پہنچ جائے۔
اگر یہ معصوم بےزبان ہے تو آپ سن اسکی زبان بنیں۔ان شاءاللہ اسکی دعا آپ کے حق میں اللہ کے حضور ضرور قبول ہوگی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
8 Jan 2026
#waliullahmaroof #Missingperson #MissingChild #Pakistan
عمیری والی ویڈیو پر ایک خاتون وکیل کا کھلا ڈلا تبصرہ : افسوس کہ پیشاب والی جگہ کو پاکستانیوں نے اتنا اہم بنا لیا ہے کہ ہم اس سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے ۔عمیری کا اصل مشن عورت کے خاندان کو گندا کرنا تھا عورت سے گا۔لیاں پڑوا کر اس نے کر ڈالا۔۔ ویڈیو وائرل ہونے کی اصل وجہ یہی ہے : ایڈووکیٹ گلشن سلطانہ نے اصل حقائق سامنے رکھ دیے۔۔۔ گلشن سلطانہ ایڈووکیٹ کے مطابق عمیری نے ایک سازش کے تحت اپنی نفسانی خواہشات کے ہاتھوں مجبور عورت کو شر۔اب پلا کر اس سے بکواس کروائی ، اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال غلط ہے ۔۔۔۔نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ ویڈیو میں عورت بولتی رہی لیکن عمیری بہت کم بولا ، دوسری چیز یہ نوٹ کریں کہ خاتون عمیری کو نکاح کا کہہ رہی ہے اور اس نے یہ بات دو دفعہ کہی ، اس نے عمیری کو نکاح کرنے کے لیے اپنی زمین اسکے نام کرنے کا بھی لالچ دیا، اگر عورت گناہ کی عادی ہوتی تو وہ کبھی نکاح کی بات نہ کرتی ۔۔۔ نشا میں ہونے کی وجہ سے عورت کو کوئی ہوش نہ تھا جیسے شر۔اب پینے کے بعد ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے مگر لڑکا کہیں بھی ہوش وحواس سے باہر نظر نہ آیا ۔ اس ویڈیو پر گند پھیلانے کا الزام نہیں لگنا چاہیےکیونکہ معاشرہ اتنا گندہ ہے کہ یہ ویڈیو تو اسکا ذرا بھی نہیں ، گند کو کریدنے والا معاشرہ کیسے اچھا یا اسلامی کہلا سکتا ہے ، میں اگر آج یاابھی اسلامی قوانین اور حیا کے موضوع پر ویڈیو ڈالوں تو ہفتے میں شاید اسکے 100 ویوز بھی نہ آئیں کیونکہ لوگ ایسی چیزیں دیکھنا پسند نہیں کرتے ، جو ہمارے لوگ پسند کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ، تو پھر کیوں عمیری کو یا عورت کو گندا کہا جارہا ہے ، اپنے گریبانوں میں جھانکو بھائی ، کون کتنا حاجی یا حاجن ہے سب کو پتہ ہے۔۔۔ معاشرے کو صاف کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ایسے جرائم پر اسلامی سزائیں دی جائیں ، نکاح کو عام کیا جائے ، ایک سے زائد شادیوں کو ناپسندیدہ فعل نہ بنایا جائے ، عورتیں اپنے اصل فرض یعنی بچوں کی تربیت پر توجہ دیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا عمیری یا اس کی معشوق جیسے نوجوان مرد عورتیں سامنے آئیں ، عمیری اور اس کی معشوقہ کے مسئلے کا بہترین حل یہ بھی کہ اس عورت کا پہلا نکاح ختم کرکے اسے عمیری کے نکاح میں دے دیا جائے ۔۔۔ زنا بالرضا کو معاشرے سے ختم کرنے کا یہ زبردست طریقہ ہے ۔۔اور پھر جن خواتین کی خواہش پوری نہیں ہوتی وہ اپنا اور گھر والوں کا منہ کالا کرنے کی بجائے طلاق لے کر من چاہا مرد شوہر بنا لیں ۔۔۔۔۔ہمارے گھٹن زدہ معاشرے میں یہ کیس نیا نہیں اور اگر ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی تو ایسے کیس بار بار ہونگے ۔۔۔۔ایڈووکیٹ گلشن سلطانہ کے اس تبصرے اور تجاویز پر آپ کا کیا رد عمل ہے کمنٹس میں ضرور بتائیں
@ZubairAlikhanUN اور میں پی ٹی سی ٹیچر ہوں، پوسٹ کم ہونے کی وجہ سے بھرتی نہیں ہوا۔ NTS میں 3 بار ٹاپ 10 لسٹ میں آچکا ہوں ۔ 6، 8 اور 9 نمبر پر تھا۔ معذور کوٹہ 2٪ ہے ، زیادہ سے زیادہ 4 پوسٹ آتے تھے ۔ اب عمر 44 سال ہے ، پولیو معذور ہوں۔
@TurkiyeUrdu_ مفتی صاحب نے ٹھیک کہا ،کہ دین اور مذہب اسلام میں اللہ اور پیغمبر کی پیروی کرو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی نہیں۔
اور سود تو یہاں بجٹ میں شامل ہے ۔
غربت کی حیران کن 15 وجوہات۔۔
۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ:
پاکستانی جوان کی جوانی کےبہترین ۱۰سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔۔۔۔وہ 25 ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتےہیں اور۳۰سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔۔۔۔۔۔جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سےنکل چکےہوتےہیں۔۔
۲۔ دکھاوے کی شادیاں:
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور۵ لاکھ کاجہیزدینا "ناک"کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے۵سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔۔
۳۔ ڈگری زدہ جاہل:
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے،مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔۔۔۔ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، Skill کو پیسے دیتی ہے۔۔
۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں:
مشترکہ خاندانی نظام(Joint Family)کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔۔۔۔یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے۔۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا، کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔۔
۵۔ کمیٹی کلچر:
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈرلگتا ہےمگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی(Dead Money) ہے۔ 2سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اسکی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔۔
۶۔ انا کا بت:
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مرجائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔۔
۷۔ صحت کی تباہی:
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اورپھر۵۰سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔۔
۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش:
ہمیں امیر بننا ہے،لیکن محنت کے بغیر۔کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔۔۔۔پاکستانی قوم پروسیس(Process)پریقین نہیں رکھتی،اسےمعجزہ چاہیے۔۔۔۔۔۔اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔۔
۹۔ الزام تراشی:
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"،وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔۔
۱۰۔ ادھار پر عیاشی:
ہم وہ لوگ ہیں جو"آئی فون"قسطوں پر لیتے ہیں، تاکہ ان لوگوں کو متاثر کرسکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کیلیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔۔
۱۱۔ سیکھنا بند:
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔۔۔۔پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔۔۔۔۔۔۔۔جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔۔
۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی:
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہےکہ"یہ بڑے ہوکر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔۔
۱۳۔ رسک فوبیا:
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لےکر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہےاور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔۔
۱۴۔ حاسدانہ رویہ:
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟" ہم کہتے ہیں"ضرور حرام کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کےآپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر۔۔۔۔آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔۔
۱۵۔ وقت کا قتلِ عام:
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔۔
اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بندکریں، کیونکہ حقیقت یہ ہےکہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔۔۔۔جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔۔