جمیل فاروقی کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے دو ماہ قبل سرگودھا کی ایک لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی اور دونوں اسلام آباد کے سیکٹر سی بارہ میں واقع فارم ہاؤس میں رہائش پذیر تھے۔ شادی کے بعد خاتون کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون کو موبائل فون سے محروم رکھا گیا اور ان پر روزانہ تشدد کیا جاتا رہا۔ اسی خدشے کے تحت لڑکی کے گھر والوں نے پولیس سے رجوع کیا۔
پولیس نے درخواست موصول ہونے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بازیاب کروا لیا۔ ابتدائی بیان میں خاتون نے بھی پولیس کو بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر قید میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ اس بیان کے بعد معاملے نے قانونی شکل اختیار کر لی۔ بعد ازاں جمیل فاروقی سرگودھا پہنچے جہاں لڑکی کے اہل خانہ کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، تاہم فائرنگ یا زخمی ہونے کی اطلاعات درست قرار نہیں دی گئیں۔ جمیل فاروقی نے صرف پریشر ڈالنے کے لیے جھوٹی ٹویٹ کروائ۔
اس وقت دونوں فریقین ڈی پی او آفس میں موجود ہیں جہاں معاملے کو قانونی دائرے میں دیکھنے کا عمل جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔