عمران خان رہا ہورہے ہیں دسمبر 2023
عمران خان رہا ہونے والے ہیں نومبر 2024
عمران خان کی رہائی وٹ پر ہے ستمبر 2025
عمران خان کو ناحق قید میں تین سال گزر گئے ہیں
اور صدیق جان ان وی لاگز سے ڈالروں کی بوریاں بھر چکا ہے اور یوتھیوں کو مزید چوتیا بنا چکا ہے
اور ناظرین اس بار نوازلیگ ایک نئی تاریخ رقم کررہی ہے اور یہ مناظر حیران کُن ہیں کیونکہ کشمیری عوام نے ایکشن کمیٹی کے بیانیہ کو واڑ کر رکھ دیا ہے
رانا ثناءاللہ امیر مقام آپکی راتی کوئی نہیں جمیا
یہ ویڈیو اپنے قرب و جوار میں موجود کن کترے سے لازمی شئیر کریں اور اسکو تتے توے پر بٹھائیں!
کیونکہ الجزیرہ، بی بی سی وغیرہ یہ مناظر نہیں دکھائیں گے۔
یہ ہیں اصلی اور نسلی کشمیری بھائی جن سے پاکستان محبت کرتا ہے۔ راجہ ثاقب مجید نے الیکشن جیت کر کن کترے ذلیل کئے ہیں۔
جس کا پورا خاندان ایک پیڈسٹل فین لگاکر سوتا تھا اس منشیات فروش کرپٹ ترین شخص نے الیکٹریشن کو نوکری سے اسلئے فارغ کردیا کہ ایئرکنڈیشن چلنے کے باوجود اس کو پسینہ کیوں آیا۔یوتھیوبرز ،صحافتی دلالوں اور ریٹنگ کی غلاظت والے اینکرز ،یہ خبر نظر سے نہیں گزری یا نیپال دفعہ ھو گئے ھو؟
ششٹم ششٹم 🏃🏃🏃🏃
نقوی صاحب اللّٰه دا حکم فیر ایسے نہیں ھوگا۔ جب ڈیفالٹ ھونے والا ملک مسلم لیگ ن کے حوالے کرو تو وہ محنت کریں اور اپنی سیاست قربان کریں اور پھر جب ملک کھڑا ہونے والا تھا 90 پرسنٹ پھر ڈرامے بازیاں شروع
اینج نہیں ھونا اب 👌👌
عمار اور زینب 2011 میں پنجاب یونیورسٹی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کے طالب علم تھے۔ تعلیم کے دوران دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے، اور وقت کے ساتھ یہ رشتہ محبت میں بدل گیا۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شادی طے ہو گئی اور 10 اگست 2018 کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
لیکن نکاح سے صرف دس دن پہلے زینب کی طبیعت خراب ہوئی۔ معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بلڈ کینسر جیسے موزی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے موقع پر بہت سے لوگ رشتے توڑ دیتے ہیں، مگر عمار نے ایک لمحے کے لیے بھی زینب کا ساتھ چھوڑنے کا نہیں سوچا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ شادی بھی زینب سے ہی کرے گا اور ہر حال میں اس کا علاج بھی کروائے گا۔
10 اگست کو دونوں کا نکاح ہوا، پھر علاج کا سفر شروع ہوا۔ پہلے شوکت خانم ہسپتال میں علاج ہوا، مگر بیماری خطرناک مرحلے میں پہنچ چکی تھی، اس لیے مزید علاج کے لیے چین جانا پڑا۔ علاج پر تقریباً 7 کروڑ روپے خرچ ہونے تھے۔
یہ صرف عمار کی نہیں، دونوں خاندانوں کی آزمائش تھی۔ عمار کے بھائیوں نے بیرون ملک اپنا کاروبار فروخت کر دیا، والدہ نے اپنے تمام زیورات بیچ دیے، زینب کے والدین نے بھی اپنی جمع پونجی لگا دی، اور لوگوں نے بھی بھرپور مالی مدد کی، جس میں سب سے نمایاں ملک ریاض صاحب نے 6 کروڑ روپے دیے، یوں علاج ممکن ہو سکا۔
دو ماہ تک چین میں علاج جاری رہا۔ طویل جدوجہد، دعاؤں اور بے شمار قربانیوں کے بعد زینب نے کینسر کو شکست دے دی اور صحت یاب ہو گئیں۔ یہ کہانی صرف محبت کی نہیں، بلکہ وفا، عہد، قربانی اور اُس ساتھ کی ہے جو ہر مشکل میں نبھایا جاتا ہے۔ رشتہ صرف خوشیوں میں ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ اصل محبت وہ ہے جو آزمائش کے دنوں میں بھی ہاتھ نہ چھوڑے۔
بھارت سے چینی اور کپاس کی درآمد کا غلط فیصلہ کس کھوتے کے پتر نے کیا :عمران خان غصے میں
وزیراعظم صاحب غصہ نہ کریں آپ نے ھی مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا :حماد اظہر وزیر خزانہ عمران خان😂🙏
پاکستان کے خلاف انڈین اکاؤنٹس کیسے پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور دھشت گردوں کی ویڈیوز کو کشمیریوں کا بنا کر عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ نوجوان نے تصدیق کے بعد ویڈیوز شئیر کروادی
فضل الرحمن کے بیان کے پر پاک فوج نے دل کو چھو لینے والا نغمہ جاری کر دیا۔
نغمہ سننے کے بعد غلاظت کے مٹکے @MoulanaOfficial پر لعنت بھیج کر پاک فوج کے شہداء کے ساتھ عقیدت اور محب وطن ہونے کا ثبوت دیجیے۔
شیئر کرتے جائیے۔۔
پاک فوج کے شہداء کو میرا سلام
فضل الرحمن پر لاکھوں بار لعنت
🚨خیبر پختونخواہ میں لاتعداد مراعات کا بل پیش کرنے کی ویڈیو
یہ چیک کریں پی ٹی آئی بل پیش کر رہی جبکہ شفیع جان مکر گیا ہے اس بل کی ایک شق یہ کہ کے پی اسمبلی کے ممبر کسی بھی عدالت سپریم کورٹ تک میں پیش نہی ہوں گے سب کو استشنی ہو گا
آٹھ کلاشنکوف لائسنس ملیں گے ۔بجلی گیس کے بل نہی دیں گے ٹیکس نہی دیں گے مگر پاکستان میں موجود ہر مفت سہولت کے ریسٹ ہاوس استعمال کر سکیں گے
یہ تبدیلی کے دعوے والوں کا حال ہے
یہ کراچی کی وہ خاتون ہیں جن کے شوہر کو ان کی آنکھوں کے سامنے بی ایل اے کے سورمچاروں نے شہید کردیا ۔ دو معصوم بچیوں کے سامنے ان کے والد کو گولیاں ماری گئیں ۔ ان خاتون کو بھی گالیاں ماری گئیں یہ شدید زخمی ہیں ۔ بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں ۔
اختر مینگل خاموش ہے ۔ بی وائی سی خاموش ہے ۔ بی بی سی اس کو شدت پسند مسلحہ تنظیم کی کاروائی قرار دے رہا ہے ۔ حالانکہ بی ایل اے عالمی سطح پر ڈکلیئرڈ دہشتگرد تنظیم ہے ۔
یہ دوہرا معیار بتارہا ہے کہ بی بی سی کا معیار صحافت کیا ہے ۔ اختر مینگل کی سیاست کی اصل کیا ہے ۔ بی وائی سی کتنی انسانی حقوق کی تنظیم ہے اور اس کا کتنا تعلق ہے انسانی حقوق سے ۔
جعفر ایکسپریس ہائی جیک ہو تو بی بی سی اسے شدت پسند یا آزادی پسند تنظیم کی کاروائی کہتا ہے ۔ اختر مینگل جو پورے بلوچستان کے لیڈر ہونے کا دعویدار ہے وہ ایسے خاموش رہتے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور بی وائی سی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے بلوچستان کے حقوق کا مقدمہ لڑ رہی ہے ۔ وہ ایسے غائب ہوتی ہے جیسے کچھ نہیں ہوا ۔
بی ایل اے ، اختر مینگل اور بی وائی سی میں کیا فرق ہے
ایک دہشتگردی کرتا ہے ۔ دوسرے خاموش رہ کر اس کی سہولتکاری کرتے ہیں ۔
اور جب ان دہشتگردوں کے خلاف کاروائی ہو ۔ اختر مینگل بھی بولتا ہے ۔ اور ماہرنگ بلوچ کوئٹہ کے سول اسپتال پر حملہ کرکے دہشتگردوں کی لاشیں تک چھین لیتی ہے
اور پھر بھی بدنام ہمیں کیا جاتا ہے !
کیا اس کھلی دہشتگردی پر ہم آنکھیں بند کرلیں
ایسا تو نہیں ہوسکتا
ہم ان معصوم بچیوں کے والد کے قاتلوں کو زمین کے نیچے سے بھی نکال کر لائیں گے اور انصاف ہوگا ۔