وفاقی وزرا کے یہ الزامات بالکل غلط ہیں کہ سہیل آفریدی دہشت گردوں کے حملوں میں شہید ہونے والے فوج اور پولیس کے جوانوں کے جنازوں میں نہیں جاتے تحریک انصاف کے پاس ایسی کئی ویڈیوز ہیں جن میں سہیل آفریدی شہدا کے لواحقین سے تعزیت کر رہے ہیں اور جنازوں میں بھی شریک ہیں شہدا کے نام پر جھوٹ بولنا بند کیا جائے
بیہ جا آرام نال
اتنے تم لوگ سچے ہوتے تو کیا بات تھی؟
دکھا دو نا گھر جو تم لوگوں نے بنائے؟
ان کے پلان میں خود گھر بنا کے دینے تھے،جو کبھی نہیں بنے
اپنی چھت اپنا گھرکا یہ ماڈل ہی نہیں،لوگ قرض لیکر خود گھر بنا رہے ہیں
۲ لاکھ گھر ڈیڑھ سال میں یاد رکھنا اب
مزے کی بات ہے سرکاری کاغذوں میں بھی انکے پروگرام کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے
ویسے اتنا اچھا پراجیکٹ ۱۳ سال کی خیبر پختونخواہ حکومت میں کہیوں نہیں بنا؟
#ApniChatApnaGhar
#
نشان رہ نہ ملے گرد رہ گزر بھی نہ ہو
جگہ ہو ایسی جہاں کوئی نامہ بر بھی نہ ہو
ہمیں تو حکم ہے سر کو جھکائے رکھنے کا
دعا قبول نہ ہو آہ میں اثر بھی نہ ہو
ابھی تو لطف بھی آیا نہ تھا تباہی کا
کسی کا عہد زبوں اتنا مختصر بھی نہ ہو
صوفیہ بیدار
نئ کتاب،، دربار
نشان رہ نہ ملے گرد رہ گزر بھی نہ ہو
جگہ ہو ایسی جہاں کوئی نامہ بر بھی نہ ہو
ہمیں تو حکم ہے سر کو جھکائے رکھنے کا
دعا قبول نہ ہو آہ میں اثر بھی نہ ہو
ابھی تو لطف بھی آیا نہ تھا تباہی کا
کسی کا عہد زبوں اتنا مختصر بھی نہ ہو
صوفیہ بیدار
نئ کتاب،، دربار
قابلیت اور پرفارمنس کی باتیں وہ کررہا ہے جس کی کل حیثیت بریف کیس لینا،سازشیں کرنا،بڑی بڑھکیں مارنا اور دعوے کرناتھا
یہ موصوف کس قابلیت پہ اس ملک پہ مسلط ہوا تھا؟اور کیا پہاڑ توڑے تھے ،بھگوڑے سے وزیر اعلی کو کسی سرٹیفکیٹ کی قطعا ضرورت نہیں
وزیراعلی مریم نواز شریف کا زندہ دلان لاہور کے لئے بڑی خوش خبری کا اعلان
لاہور میں 10 دن بسنت منائی جائے گی، وزیراعلی مریم نواز شریف نے منظوری دے دی
25 سال کے تعطل کے بعد رواں سال فروری میں 6 سے 8 فروری تک لاہور میں بسنت منائی گئی تھی
وزیراعلی مریم نواز شریف نے نئے سال 2027 کی آمد پر لاہوریوں کو 10 روزی بسنت کا تحفہ دینے کی ہدایت کی
وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت کے مطابق 29 جنوری سے 7 فروری تک بسنت منائی جائے گی
5 فروری کو 'کشمیر ڈے' منانے کے لیے ایک روز بسنت کے جشن کا ناغہ ہوگا
بسنت کے دس دن پنجاب کے تہذیبی رنگ اور لاہور کی قدیم تاریخی روایت کے پوری دنیا میں فروغ کا باعث بنیں گے، وزیراعلی مریم نواز شریف
گزشتہ بسنت سے بھی بڑھ کر شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے اقدامات کئے جائیں، وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت
انسانی جان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے فرض شناسی، ذمہ داری اور احساس کے ساتھ گزشتہ بسنت کی طرح ایک نئی مثال بنیں، وزیراعلی مریم نواز شریف کی عوام سے اپیل
سر بہت شکریہ۔
لیکن کیا ہر دفعہ کوئی شہری یا صحافی ہی گند اور گندگی کی تصویریں لے کر سب کو ٹیگ کرے گا تو وہاں ٹیم جائے گی اور کام کرے گی اور یہ ایف سکس مرکز ہے۔ یہاں سے کروڑں کا ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔ ان مارکیٹس کی حالت دیکھ لیں۔
سی ڈی اے کے پاس 12000 افسران/ملازم اہلکار ہیں اور 152 ارب روپے کا بجٹ ہے۔ ہر سال اربوں کے پلاٹ بیچ کر کھا جاتے ہیں اور شہر بدترین حالت میں ہے۔
چیرمین صاحب کے پاس اگر صرف ایک اچھا ایماندار اور کام سے محبت کرنے والا ممبر وہاں دستیاب ہو اسے صرف یہی ڈیوٹی دیں کہ اس نے شہر کی مارکیٹس میں صفائی کے نظام کو مانٹیر کرنا ہے، دن میں دو تین دفعہ چکر لگانا ہے، رات دس بجے کے بعد چیک کرانا ہے گاربیج اٹھا لیا گیا ہے تو کیا ہرج ہے؟
بارہ ہزار ملازمین میں سے ایک ایک شفٹ میں بارہ بارہ کا اسٹاف بھی یہ ڈیوٹی نہیں دے سکتا؟
صاف ستھرے سر سبز شہر انسانوں کو اچھے لگتے ہیں۔ لوگ اگر صبح سویرے اٹھیں، شہر آپ کو صاف ستھرا ملے، سبزہ ملے، ٹریفک منظم ملے تو آپ کا پورا معاشرہ ہی بدل جائے۔
آپ نے مارکیٹس میں تاجروں کو پابند کرنا ہوتا ہے کہ وہ دکان بند کرنے سے پہلے اپنے آگے کوئی گند چھوڑ کر نہ جائیں، بڑے ڈرم میں رکھ کر جائیں جو آپ کا عملہ دن میں تین دفعہ وزٹ کر کے پک کرے۔ جو تاجر اپنی دکان کے آگے صفائی نہ کرے اس پر اس کی صفائی کا بل وہ ادا کرے۔
بلیو ایریا یا دیگر کھانوں کے ریسٹورنٹ کے آگے خالی ڈبے پھینکے ہوتے ہیں۔ آپ اس دکان مالک کو ذمہ دار ٹھہرایں۔ وہ لاکھوں کما رہا ہے تیس چالیس ہزار روپے پر ملازم نہیں رکھ سکتا جو صفائی کو دیکھتا رہے؟ ہماری قوم کو تمیز تو نہیں آنی کہ کھا پی کر ٹیک اوے ڈبے وہاں نہیں پھیکنے۔یہ کام اس ریسٹورنٹ پر سختی سے ہی ہوگا۔۔
یہاں ٹوراسٹ آتے ہیں۔ اندازہ کریں آپ رات کو ایف سکس مرکز جائیں اور آگے گندگی کے ڈھیر ملیں تو کیا محسوس ہوگا۔ ہمارے بیوروکریٹس پوری دنیا پھرتے ہیں شہر دیکھتے ہیں کیا وہاں صحافیوں کو گند اور گندگی کی پکس ٹوئٹ کرنی پڑتی ہیں؟۔
چیرمین سی ڈی اے کو بارہ ہزار ملازمین میں سے ایک بندہ چاہئے جو کام کو زحمت نہیں اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہو۔ صرف ایک بندہ جسے وہ ٹیم اور 152 ارب بجٹ سے بجٹ دے اور اسے ذمہ داری دے کہ وہ شہر کی صفائی پر آنکھ رکھے۔ کچھ سختی کرے، کچھ جرمانے کرے، کچھ کو سمجھائے، اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کام کو چھوٹا نہ سمجھے تو آپ چند دنوں میں اثرات دیکھیں گے۔
چیرمین صاحب شہر میں کبھی کبھار خود بھی نکلا کریں۔ عہدہ لیا ہے تو اس کے ساتھ جڑی ذمہ داری بھی لیں۔ محض اربوں روپے کے پراجیکٹس کے ساتھ تصویریں کھنچوانا ان کا مقصد نہیں ہونا چاہئیے۔ سہیل اشرف صاحب کسی دن صفائی مانٹرینگ کی پکس بھی ٹوئٹ کریں۔
کیا سہیل اشرف صاحب کے پاس ایک بھی افسر نہیں جو اس ٹاسک کو پورا کرے کہ شہر کو صاف رکھنا ہے، روزانہ مارکیٹس سے garbage وقت پر اٹھوانا ہے، violators کے خلاف زیرو ٹالرنس دکھانا ہے۔۔
صحافیوں اور شہریوں کو گند اور گندگی والے ٹوئٹس کرنے پڑتے ہیں۔ کیا یہ بارہ ہزار ملازم شہر میں کبھی نہیں جاتے۔ انہیں شہر کی بدترین حالت نظر نہیں آتی ؟
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@CDAthecapital@SohailAshrafGor@ICT_Police@RajakhurramNA48@PalwashaKhan18@sherryrehman@betterpakistan@DrMusadikMalik@AyazSadiq122@A_Qadir_Patel@BilalAKayani