اسلام آباد میں جج کا بیٹا ایک نان کسٹم گاڑی کے نیچے 2 بچیوں کو کچل دیتا ہے لاہور میں CCD کا DSP عثمان حیدر اپنی بیٹی اور بیوی کو مار کر دفنا دیتا ہے اور جا کر جھوٹی Fir بھی درج کرواتا ہے وہاں گولی نہیں چلتی اگر اسی طرح عدلیہ بالکل نااہل کردی گئی تو آج تو شاید ہمیں تسکین مل رہی ہے چلیں انصاف ہوا ہے لیکن کل کو پیسے دے کر کسی نے ٹھاں ٹھاں کروانا شروع کردی تو بہت مشکل ہو جائے گی
سہراب برکت
“یہ ہمارا نقصان نہیں ہے تو اور کیا ہے تم ہماری زمینوں پر قبضہ کرتے ہو ۔فوج ایک قبضہ گروپ ہے ۔ جاؤ جسکو مرضی بلاؤ ہم یہاں سے نہیں اٹھیں گے ۔”
جسطرح قبائیلی فوج کے سامنے کھڑے ہو رہے ہیں یہ انتہائی خطرناک ہے ، یہ بمب کو لات مارنے کے مترادف ہے ۔ فوج کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں یہ بلوچستان نہیں ہے یہاں سے اٹھنے والی مزاحمت پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے گی اور سارا نقصان پاکستان کا ہو گا ۔
نیشنل جیوگرافک کی ویڈیوز میں دیکھا ہے کہ گیدڑ ، زیبرے ، لگڑ بھگڑ اور بھیڑیے بھی اپنے ساتھیوں کو بچانے کے شیروں اور مگرمچھوں پر حملہ کردیتے ہیں۔
کیسے بے حس ہیں وہ اراکین اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما جو جنید اکبر ، مولانا نسیم ، اقبال آفریدی جیسے اپنے کولیگز اور ساتھیوں کے اغواء پر بالکل خاموش ہیں اور اغواءکاروں کے نظام کو سہارا دے کر بیٹھے ہیں۔
مینڈیٹ چھیننے والی فوج مردہ باد
گندے جھوٹے کیسز بنانے والی فوج مردہ باد
آئین توڑنے والی فوج مردہ باد
بچے اغواء کرنے والی فوج مردہ باد
آنکھیں نوچنے والی فوج مردہ باد
مواصلات کے سابق وفاقی وزیر دوبارہ پڑھیں مواصلات کے سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا بھائی گریڈ 9 میں نوکری کرتا ہے اور دفتر کی جانب سے ملے کوارٹر میں مفلوج ماں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
پی ڈی ایم سرکار بنی تو مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیٹے کے لیے جو وزارت مانگی وہ بھلا کونسی وزارت تھی؟ جی ہاں یہی مواصلات کی وزارت۔ کیوں؟ وجہ سب جانتے ہیں۔
عاصم منیر آرمی چیف بنا تو سکول ٹیچر بھائی کو ڈائریکٹر لگادیا۔ بیٹیوں کو ناجائز سفارتی پاسپورٹ تھما دیے۔ داماد بھتیجے کو سول سروس میں لے آیا۔ اسسٹنٹ مینجر کزن کو ادارے کا سربراہ لگا دیا۔
ان لٹیروں کی مراد سعید سے نفرت کرنا ہی بنتی ہے !
جسطرح ڈاکٹر اسرار جرنیلوں کی کرہشن کو بے نقاب کیا تھا اسکے بعد آج تک کوئی عالم دین نہیں کر سکا ۔ اسی لیے انھیں ٹی وی پر بین کر دیا گیا تھا مگر آج انکے بیانات بالکل درست ثابت ہوئے ۔
کیا CCD عاصم منیر کے بھائی قاسم منیر کو بھی حتمی انجام تک پہنچاۓ گی جس نے شراب کے نشے میں قتل کر دیا تھا ؟
کیا CCD اسحاق ڈار کے نواسے کو بھی وہی سزا دے گی جو ٹھیکدار توقیر کو دی ہے ؟
شاہین کا جہاں اور ہے؛ کرگس کا جہاں اور۔۔۔
یہ ہیں پاکستان کے وہ شاہین جو تاریخ میں مردِ آہن کے طور پر یاد رکھے جائیں گے
کیونکہ یہی ہیں وہ "پتر" جو "ہٹاں تے نہیں وکدے"
نور جہاں دے پتر تو فارم 47 پر بِک جاتے ہیں۔۔۔!!!
لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد عمران خان کی رہائی اور علاج کا موضوع ترجیحات سے ہٹ سا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اختلافی موضوعات پر پروگرام کر کے توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر کسی حد تک تھکن اور سست روی پیدا ہوئی ہے۔
یوں عوامی و سیاسی دباؤ کم ہونے سے نہ صرف عمران خان کی رہائی کے لیے اخلاقی اور سیاسی دباؤ کم ہوا ہے، بلکہ جیل میں ان کی صحت کے متعلق شفاف معلومات اور آزادانہ علاج کے مطالبے کی شدت بھی کمزور ہوئی ہے، جس کا اثر عام عوام پر ان کہی مایوسی کی شکل میں نظر آتا ہے۔
عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مقامی میڈیا کی رپورٹس سے اشارے لیتی ہیں۔ مقامی سطح پر خاموشی سے بین الاقوامی آوازیں بھی مدہم پڑ جاتی ہیں۔
اس لیے اسے دوبارہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی ترجیح بنانے کے لیے سیاسی، قانونی اور ابلاغی سطح پر نئی حکمتِ عملی کے تحت ضروری ہے کہ:
عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات کے معاملے کو صرف سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی طبی تنظیموں کے سامنے قانونی و اخلاقی بنیادوں پر اٹھایا جائے۔
جذباتی بیانیے کے بجائے حقائق کا سہارا لیا جائے۔ "رہائی" کے عمومی مطالبات کے بجائے ان کی صحت کے مصدقہ میڈیکل چارٹس، ڈاکٹروں کی سفارشات اور جیل کے اندر میسر سہولیات کے حوالے سے حقائق پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھی جائے۔
پریس کانفرنسوں پر انحصار کم کر کے پوڈکاسٹس، ڈیجیٹل اسپیسز، ریسرچ آرٹیکلز اور معلوماتی اینیمیشنز یا انفوگرافکس کے ذریعے نئے انداز میں بات میڈیا کے سامنے لائی جائے۔
اعلیٰ عدالتوں میں خان کے ذاتی معالجین اور آزادانہ میڈیکل بورڈز کی تشکیل کے لیے متواتر درخواستیں دائر کی جائیں تاکہ ہر سماعت میڈیا کے لیے ایک تازہ خبر بنے، جسے میڈیا کے ٹاک شوز میں اور سوشل میڈیا فورمز پر ساتھ ساتھ ہائی لائٹ کیا جائے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں عمران خان کی صحت اور علاج کو ایجنڈے کا مستقل حصہ بنایا جائے اور ہر موقع پر اسے بنیادی شرط کے طور پر سامنے رکھا جائے۔
عمران خان کے مسئلے کو صرف ایک جماعت کا مسئلہ بنانے کے بجائے "آئین، بنیادی انسانی حقوق اور قیدیوں کے حقوق" کے وسیع تر فریم ورک میں پیش کیا جائے تاکہ سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین بھی اس کا حصہ بن سکیں۔
دراصل پی ٹی آئی لیگل ٹیم اور ڈیجیٹل میڈیا سیل کو مربوط، منظم اور جدید حکمتِ عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
قانونی محاذ کا بنیادی مقصد صرف سماعتوں تک محدود رہنا نہیں، بلکہ ایسے قانونی اقدامات اٹھانا ہے جو میڈیا اور عالمی اداروں کے لیے مسلسل خبرساز واقعات پیش کر سکیں۔
لیگل ٹیم میڈیا سیل کو ہر پٹیشن کی قانونی باریکیاں اور میڈیکل رپورٹس فراہم کرے تاکہ وہ اسے عام فہم اردو اور انگریزی انفوگرافکس اور پریس ریلیز میں تبدیل کریں۔ ہر اہم سماعت سے ایک دن قبل میڈیا کو بریف کیا جائے، اور سوشل میڈیا پر حقائق پر مبنی ٹرینڈز اور شارٹ ویڈیوز کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کی جائے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکلا سے رابطہ کیا جائے اور بین الاقوامی صحافیوں اور اوورسیز کمیونٹی کے ساتھ ڈوزیئر شیئر کیا جائے۔
عدالتی احکامات پر عمل نہ ہو رہا ہو تو توہینِ عدالت اور تعمیلِ حکم کی متواتر اور نئی درخواستیں دائر کر کے اس پر میڈیا سیل سے مہم چلائی جائے۔ خان صاحب کی غیر قانونی حراست اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندوں کو تمام نئی دستاویزات اور میڈیکل رپورٹس کا باقاعدہ ڈوزیئر بھیجا جائے۔
انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن اور کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو کو پاکستان میں قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانونی خطوط ارسال کیے جائیں۔ خان صاحب کو جیل سہولیات، صحت کی حقیقی صورتِ حال اور قانونی کیسز کی کمزوریوں پر اردو اور انگریزی میں مختصر اور مستند فیکٹ شیٹس تیار کی جائیں۔
اوورسیز میڈیا سیلز کے ذریعے عالمی نشریاتی اداروں اور صحافیوں کو بریفنگز دی جائیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ میں مقیم پاکستانی اپنے مقامی ارکانِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو انسانی بنیادوں پر خطوط بھیجنے کی مہم شروع کریں۔
صرف مقامی ٹرینڈز پر انحصار کرنے کے بجائے ایکس (X) پر بین الاقوامی اہمیت کے ہیش ٹیگز کے تحت ہفتہ وار عالمی اسپیسز اور ویبینار منعقد کیے جائیں جن میں عالمی صحافیوں کو دعوت دی جائے۔ ساٹھ سیکنڈ کی شارٹ ویڈیوز اور ریز سے یہ مواد انگریزی، اردو اور عربی میں مسلسل بنایا جائے اور اسے آفیشل پلیٹ فارمز سے بھی لانچ کیا جائے۔
مطلب یہ کہ جب سب جانتے ہیں کہ یہ جنگ طول کھینچ سکتی ہے تو محاذ کو ٹھنڈا ہونے کا موقع دے کر مخالفین کو آرام کرنے کا موقع کیوں دیا جائے؟
مشال یوسفزئی کو سمجھنا چاہیے کہ وہ مریم نواز نہیں ہیں۔ مطلب انکے ابا کی پارٹی نہیں ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں معید پیرزادہ وقار خان اور دوسرے سوشل میڈیا والنٹیرز کو دھمکا رہیں ہیں۔ اور دوسری سانس میں اپنے گروپ کے عزائم پیش کر رہی ہیں۔
پچھلے دنوں میری پوچھے گئے سوالات پر سوشل میڈیا کے کچھ دوستوں نے تنقید کی تو کیا اب میں واپس ان سے بد تمیزی شروع کر دوں ؟ سیاست اور پبلک لائف میں لوگوں کا حق ہے آپ پر تنقید کرنا۔ اگر آپ برداشت نہیں کر سکتے تو سیاست اور پبلک لائف میں آنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ وہی سوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ جو ہوجاتی تعریف کریں تو واہ واہ۔ تنقید کر دیں تو دھمکیاں۔
یہاں مصیبت ہی یہ ہے۔ سب کے گروپ بنے ہوئے ہیں۔ آپ کسی پر سوال اٹھا دیں وہ آپکو مارنے پڑتا ہے۔ گروپ کا انٹرسٹ مافیا کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔
مثال صاحبہ جس دن خان باہر آ گیا انشاللہ وہ آپکی ایسی ایک بدتمیزی برداشت نہیں کریں گے۔ یہ یاد رکھئیے گا۔
یہ ویڈیو پھیلائیں 🚨
اس وقت عالمی میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ایجینسیاں پی ٹی ائی کے لوگوں پر تشدد کرتی ہیں،ان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جاتی ہے انکو اغواء کیا جاتا یے،مینڈیٹ چھینا جاتا ہے
پاکستان میں صحافت اور الیکٹرانک میڈیا کی معراج یہ ہے کہ حامد میر کو فیصل واوڈا ساتھ بٹھا کر اور محمد مالک کو مشال یوسفزئی ساتھ بٹھا کر سولو شو کرنا پڑتا ہے۔
چچ چچ چچ چچ
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا MQM حقیقی کے بعد دوسرا تجربہ PTI حقیقی کی بنیاد رکھنے کی جانب گامزن،
مراد سعید اور سہیل آفریدی پر بیجا تنقید کرنے والے اس کا حصہ ہونگے،
مراد سعید اور شہباز گل پر تنقید کرنے والے سمجھ لیں وہ عمران خان کے نظریے سے انحراف کر رہے ہیں۔
عاصم منیر نے غریب ماؤں کے بیٹوں کو دہشت گردی کی خود ساختہ آگ میں جلنے کے لیے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ کوئی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ رہا ہے تو کوئی مدد کے لیے چیختا چلاتا جان دے رہا ہے۔ یہ مناظر دیکھنے کے بعد کون اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فوج میں بھرتی ہونا چاہے گا؟