انڈین وزیرتعلیم نے استعفیٰ ضرور دیا ہے لیکن امکان ہے کہ وہ جلد واپس کابینہ میں شامل ہوں گے لیکن اس وقت انڈین پولیس چُن چُن کر طلبہ کو گھروں سے اٹھارہی ہے اور ان کو جیل بھیجا جارہا ہے ۔
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟
پچھلے سال میری بیٹی ایلیا نور الامین مینگل کا نادرا سے سمارٹ کارڈ بنوانا تھا ۔ نادرا آفس گئے تو وہاں بیٹی کی تصویر بننی تھی ۔ نادرا آفیسر کو پتہ چلا کہ بچی آٹسٹک ہے تو کہتا ،، سمارٹ کارڈ پہ لگنے والی تصویر میں بچے کا کیمرے میں دیکھنا ضروری ہے ۔ پتہ نہیں بچی کیمرے کی طرف دیکھے گی یا نہیں ۔
مجھے بھی تھوڑی پریشانی ہوئی ۔ لیکن جیسے ہی ایلیا کو سیٹ پر بٹھایا تو کیمرے کو دیکھتے ہی ایلیا بالکل سیدھی ہوکے بیٹھ گئی اور کہتی ،،، say cheeeeeeezzz
مجھے ہنسی آگئی کہ ہم ایویں ہی پریشان ہورہے تھے ۔ بعد میں معلوم پڑا کہ ایلیا کے اسکول میں بچوں کے فوٹو شوٹ ہوتے رہتے ہیں ، یہ سب وہاں سکھایا جاتا یے ۔
ہمیں بعض دفعہ لگتا ہے کہ آٹسٹک بچے اگر اپنے آپ میں مگن ہیں تو شاید ان کو آس پاس کی خبر نہیں ہوتی ۔ لیکن یہ بچے اپنے اس پاس کے ماحول اور لوگوں سب سیکھتے ہیں ۔
*بریکنگ نیوز*
افغانستان میں انسانی بحران جنم لے ریا ہے۔ یہ عبدالرشید ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ میں اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور افغان باپ ہوں۔ میں اپنی ایک بیٹی بیچ دوں تو چار سال تک باقی بچوں کو کھانا کھلا سکتا ہوں‘
لوگ اپنے بچے فروخت کررہے ہیں۔ لیکن کابل میں موجود حکمران اپنی
آبنائے ہرمز کا کھلنا، لبنان میں جنگ بندی ہونا اور ایرانی منجمد اثاثے بحال ہونا، دراصل آٹھ اپریل کے سیزفائر ہی کی بنیادی شرائط تھیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہوئی۔ سیزفائر اپنی مکمل شکل کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر اب بھی کچھ مرحلے باقی ہیں۔ کیونکہ ان کا روبہ عمل ہونا ضروری ہے جو کہ ابھی نہیں ہوا۔ لیکن یاد رکھیں آبنائے ہرمز ایرانی کنٹرول ہی میں رہے گی۔
Coming live earlier today, you can ask questions here my curios fellows
Another good step….
“US agrees to release frozen Iranian assets in Qatar, foreign banks, to ensure opening of Hormuz — senior Iranian source”
(According to Reuters)
نبی کریمؐ کے زمانے میں دو عورتوں کا جھگڑا ھوا۔ اُن میں ایک حضرت انس بن نضرؓ کی ھمشیرہ تھیں، جنہوں نے دوسری عورت کا دانت توڑ دیا تھا۔
مقدمہ نبی کریمؐﷺ کی عدالت میں آیا
تو نبی کریمؐﷺ نے فرمایا:
’’قرآن کریم کے فیصلے کے مطابق دانت کے بدلے میں دانت ھی توڑا جائے گا۔‘‘
حضرت انسؓ نے جب ھمشیرہ کے بارے میں حضورؐ کا فیصلہ سُنا تو رسول اقدسؐ کی خدمت میں حاضر ھوئے اور عرض کیا:
حضور! کیا آپ چاھتے ھیں کہ میری بہن کا دانت توڑ دیا جائے؟‘‘
نبی کریمؐ نے فرمایا ’’ھاں کیونکہ یہ قرآن
کا فیصلہ ھے۔‘‘
حضرت اَنسؓ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم میری بہن کا دانت نہیں ٹوٹے گا۔‘‘
آخر یہ قسم کیسی تھی؟
کیا حضرت انسؓ نے شرعی حُکم پہ اعتراض کیا تھا یا نبی کریمﷺؐ کا فیصلہ قبول نہ تھا؟
نہیں ایسا نہیں تھا، بلکہ انہوں نے قسم اس لئے کھائی تھی، کیونکہ اُن کو خُدا کی ذات سے اُمید تھی کہ خدا پاک اُن کی قسم کو رائیگاں نہیں جانے دے گا، بلکہ ضرور کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر دے گا۔
چنانچہ جب حضرت اَنسؓ نے قسم کھائی تو نبی کریم نے فرمایا:
’’اس عورت کے گھر والوں کے پاس جاؤ ، اگر وہ تاوان پر راضی ھو گئے تو پھر کوئی حرج نہیں۔‘‘
لوگ اس زخمی خاتون کے گھر والوں کے پاس گئے۔ اُن لوگوں نے تاوان پہ رضامندی ظاھر کر دی۔ اگرچہ وہ پہلے ہرگز نہیں مان رھے تھے، بلکہ وہ بدلہ لینے پہ تُلے تھے۔
رسول اقدسﷺؐ کو جب حالات کا علم ھوا تو آپؐﷺ مُسکرائے اور حضرت انسؓ کے دبلے پتلے جسم اور پھٹے پرانے کپڑوں کی طرف دیکھ کر فرمایا:
"خدا کے کچھ بندے ایسے ھیں، اگر وہ خدا تعالیٰ کی ذات کی قسم کھا بیٹھیں تو حق تعالیٰ اُن کی قسم کو پورا کر دیتا ھے"۔
(البخاری 2703، مسند احمد)
ایک سال میں چینی 50 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی ہے بہتر ہو گا کہ پاکستان کے عوام صرف دو ماہ کے لیے چینی کا استعمال چھوڑ دیں شکر یا گُڑ استعمال کریں یہ قیمت 100 روپے فی کلو سے بھی نیچے چلی جائے گی میں آج سے
چینی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں
#StopUsingSugar https://t.co/k1HLWA00nw