04 اکتوبر ڈڈیال سورکھی :
نوجوان چوہدری عثمان میروگالہ ولد منگی خان میروگالہ شہید- اللہ پاک جنتوں کا مہمان بنائے امین
حکمرانوں کو اس جبر کا حساب دینا ہو گا-
😭😭😭😭
#RightsMovementAJK
علی امین گنڈاپور اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہو چکے ہیں
اور تمام تر اختلاف کو سائڈ پر رکھ کر وہ لانگ مارچ کا حصہ بنے ہیں
اور مالی طور پر بھی بہت فنڈز دے چکے ہیں
اور اپنے قافلے کا سارا خرچہ بھی خود اٹھا رہے ہیں
لیکن اس موقع پر کچھ ایسے اکاؤنٹ جن کی نہ کوئی پہچان ہے نا اصل نام، وہ ابھی علی امین گنڈاپور کے خلاف ٹویٹس کر رہے
ایسے لوگوں کا کوئی پتہ نہیں کہ یہ پی ٹی آئی کے ہیں یا نہیں، بس یہ فساد لگا رہے ہیں
اب جب ہم سب کا فوکس لانگ مارچ پر ہے اور جو لوگ اس میں شامل ہو رہے وہ سب ہمارے لئے قابلِ عزت ہے لیکن کچھ نا معلوم اکاؤنٹ والے جنہوں نے پی ٹی آئی کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے
اور خان صاحب کے نام پر فالوورز اکٹھے کر کے خان صاحب کی رہائی کے لیے لانگ مارچ میں شامل ہونے والوں کو متنازع بنا رہے ہیں ایسے لوگوں سے بچ کے رہیں۔
We carried out operations through the police and removed these people, whether they were good Taliban or bad Taliban.
But later, those same people were brought back.
When they were arrested again, ISI and MI personnel intervened and got them released from police custody, saying, ‘These are our people. We use them.
— Former Chief Minister
جنرل اور ان کے بیٹے :
میں یہ مسئلہ اٹھاتا رہا ہوں کہ فوج میں جنرلز کے وہ بیٹے جو جوان اور جونیئر ہیں، انہیں مشکل اور خطرناک محاذوں پر نہیں بھیجا جاتا۔ جان دینے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے پیچھے کوئی بڑا افسر یا تعلقات اور سہارا نہیں ہوتا۔
میں آج نام اور ایک ایسی ہی مثال دے رہا ہوں -
ایک ہی وقت میں 110 پی ایم اے لانگ کورس سے تین کیڈٹ پاس آؤٹ ہوئے۔ ایک پروفیسر کا بیٹا تھا، دوسرا ایک بریگیڈیئر کا بیٹا، اور تیسرا ریٹائرڈ جنرل باجوہ کے سسر جنرل اعجاز امجد کا بیٹا۔
پہلے دو 2009 اور 2012 میں اپنی جان دے بیٹھے۔ کیپٹن فصیح بابر جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ کیپٹن جنید خان، جو ایک پروفیسر کے بیٹے تھے، طالبان نے اغوا کیا، یرغمال بنایا اور پھر شہید کر دیا۔
تیسرے، کرنل حیدر، میجر جنرل اعجاز امجد کے بیٹے، جو ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل باجوہ کے مشہور فرنٹ مین ہیں، کبھی کسی سخت محاذ پر تعینات نہیں کیے گئے۔ انہیں بہترین غیر ملکی تعیناتیاں ملیں۔ سب جانتے تھے کہ وہ سٹاف کالج کوئٹہ میں ٹاپ کریں گے کیونکہ وہ آرمی چیف سے تعلق رکھتے تھے، اور اب وہ جنرل بننے کے راستے پر ہیں۔
یہ نا انصافی بہت عام ہے اور اس پر تمام قابل اور زیادہ اہل نوجوان افسران خاموشی سے رنجیدہ ہیں، مگر وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ دل میں جلتے رہتے ہیں۔
فوج میں جس "میرٹ" کا بہت شہرہ ہوتا ہے، وہ دراصل یوں کام کرتا ہے۔ مرے کوئی، مزے کرے کوئی
اپنی انکھوں کے سامنے معجزہ دیکھیں۔۔
اس پتلی سی گلی میں اسرائیلی فوج کا دستہ اس نوجوان کو تلاش کر رہا تھا۔۔ نوجوان دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس نے سورہ یاسین کی وہ ایتیں تلاوت کرنا شروع کر دیں جو سیدی رسول اللہ نے ہجرت کے وقت اپنے گھر سے نکلتے ہوئے پڑھی تھیں اور مشرک اپ کو دیکھ نہیں سکے تھے۔۔
یہودی فوجی اس نوجوان کے چاروں طرف گھومتے رہے اور یہ نوجوان ان کی انکھوں سے اوجھل ہو گیا۔۔ پوری یہودی فوج اندھی ہو گئی۔
خود سوچو کیا وجہ ہے کہ یہودیوں کو وہ فلسطینی نوجوان نظر نہیں ارہا جو بالکل ان کے سامنے کھڑا ہے ۔۔ کوئی راز تو ہے۔
کون کہتا ہے کہ معجزے اج نہیں ہوتے۔۔۔
یہ تصویر کسی عام فقیر کی نہیں، بلکہ سندھ کے نامور افسانہ نگار، ناول نویس اور دانشور محترم مشتاق احمد کاملانی صاحب کی ہے۔
وہی مشتاق کاملانی، جنہوں نے “گونگی بارش”، “چپٹا لہو”، “گھٹی ہوئی فضا” اور شہرۂ آفاق ناول “رولو” جیسے شاہکار تخلیق کیے۔
وہی کاملانی صاحب جو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے تھے، جن کی انگریزی، اردو، فارسی اور پنجابی پر ایسی گرفت تھی کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔
مگر آج…
وقت نے اس عظیم قلمکار کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ دن بھر ٹھٹہ کی گلیوں میں اور رات کو سجاول کے بس اسٹاپ پر زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے چھوٹے سے گھر پر قبضہ کر لیا گیا، اور ایک عظیم لکھاری خاموشی سے معاشرے کی بے حسی کا بوجھ اٹھاتا رہا۔
کتنا بڑا المیہ ہے کہ جو شخص لفظوں سے نسلوں کی سوچ بدل سکتا تھا، آج خود زندگی کے ظلم سے ہار چکا محسوس ہوتا ہے۔
ان کے چہرے پر ایک عجیب کیفیت دکھائی دیتی ہے… آنکھوں میں نمی، اور ہونٹوں پر انسانیت پر طنزیہ مسکراہٹ۔
مشتاق کاملانی صاحب نے ایک جگہ لکھا تھا:
"اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور اسے سچ کہنے کے لیے استعمال نہیں کرتے، تو ایک احسان کرو، اسے کٹوا لو۔"
آج شاید وقت ہم سب سے یہی سوال کر رہا ہے۔
اگر ہم اپنے ادیبوں، دانشوروں اور سچ لکھنے والوں کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے، تو پھر ہماری خاموشی بھی جرم ہے۔
خدارا! اس عظیم ادیب کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔
کیونکہ قومیں اپنے لکھاریوں کی عزت سے پہچانی جاتی ہیں، اور جب قلمکار سڑکوں پر آ جائیں تو سمجھ لیجیے معاشرہ اندر سے مر چکا ہے۔
تحریر: نذر چوہان گجر۔
چیٹ فورٹ اور وٹس ایپ کا موازنہ دیکھیں آپ حیران رہ جائین گے کہ وٹس ایپ کے مقابلے میں چیٹ فورٹ کتنی محفوظ ایپ ہے اگر آپ کو اپنی پرائیویسی کی فکر ہے اور نہیں چاہتے کہ آپکا فون آپکی جاسوسی کیلئے استعمال ہو تو چیٹ فورٹ استعمال کریں اور محفوظ رہیں!
زبردست رپورٹنگ ہورہی ہے یوٹیوب نے میرے چینل کی بینڈ بجائی ہوئی ہے آپکی مدد چاہیئے, جو لائیو کی تھی ہٹانی پڑگئی اور دوبارہ اپلوڈ کی ہے خود بھی دیکھیں اور شیئر ضرور کریں شکریہ!!
https://t.co/5OOqxJJSHx
آواز اٹھائیں 🚨
سلمان رضا اور جنید جہانگیر پر دبئی جیل میں بدترین تشدد ہو رہا ہے، ان کا واحد گناہ مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ دینا تھا۔
فرض سمجھ کر ان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائیں کیونکہ کل یہ وقت کسی پر بھی آ سکتا ہے
انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں چیٹ فورٹ ایپ آپکی مدد کرے گی اب یہ مت کہیئے گا کہ لنک بھی شیئر کروں ایپ کی اپڈیٹ اینڈرائیڈ کیلئے آچکی ہے ایپل کیلئے اگلے 48 گھنٹوں میں ہوجائے گی انشاء اللہ
🚨 Julian Assange is back on X — and his account currently follows just ONE person: Pakistan’s former Prime Minister Imran Khan. 🇵🇰
Assange returned to X after more than eight years away, posting “I’m back” on Sept. 17.