جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو یہی کمپنیاں یہ خیال نہیں کرتیں کہ پہلے پرانی خریداری والا تیل اسی ریٹ پر بیچا جائے مگر جب سستا ہو تو ان کو اپنے لیے یاد اجاتا ہے۔ ایسے تمام ادارے گیس واپڈا بھی یہ سب حرام کر رہے ہے اور حرام خوری کے مرتکب ہورہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں 72 ڈالر فی بیرل تک خام تیل آگیا مگر بدقسمت بدنصیب پاکستانی قوم کو اس کے اثرات نہیں ملیں گے ایک ہی دن سستا خریدا گیا تیل 137 روپے مہنگا کرکے حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپس والوں کو کھربوں کا فائدہ پہنچایا اب سستا کرنے کی باری آئی تو ہائبرڈ حکومت عوام کا نہیں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا احساس کررہی ہے۔۔۔۔ شرمناک
@YarMKNiazi اگر پنجاب میں لاہور بن رہا ہے ��ارے پنجاب کا بجٹ کھا رہا ہے تو خیبرپختونخوا میں آئل گیس معدنیات جہاں سے نکل رہے ہیں وہ خوار زار ہیں مگر پشاور پر لگاتے جاو۔ کوہاٹ جو پشاور سے 45 کلو میٹر پر پڑا ہے خوار زار پڑا ہے یہان کے ایم پی ایز اور ایم این اے کے مزے باقی کوہاٹ وڑ گیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد 80 مرتبہ د��ود شریف
(https://t.co/7aJQzyaF9u)
حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے 80 مرتبہ یہ درود شریف پڑھے ��و اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے اور 80 سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جائے گا۔
(القول البدیع : ۱۸۸)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آلِه وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً
حضرت سہل بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد یہ درود شریف 80 مرتبہ پڑھے گا اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آله وَسَلِّمْ
(القول البدیع : ۱۸۹)
فائدہ: اس دوسری حدیث میں اسی جگہ بیٹھ کر جس جگہ نماز پڑھی ہے قید نہیں ہے، اس حدیث کے اطلاق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کسی وجہ سے متصلاً اُسی وقت اُ��ی جگہ نہ پڑھ سکے تو مغرب سے قبل جب بھی جہاں بھی موقعہ ملے 80 مرتبہ یہ درود شریف پڑھ لے گا تو اس فضیلت کا حامل اور حاصل کرنے والا ہو جائے گا۔
------------------------------------
جمعہ کے دن عصر کے بعد اسی(۸۰) مرتبہ پڑھا جانے والا درود شریف (ثبوت و تحقیق)
سوال:
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد 80 مرتبہ جو درودشریف پڑھا جاتا ہے کیا یہ پڑھنا صحیح ہے؟ اس درودشریف کو عام دن میں چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہے؟ اور کوئی درودشریف بتادیں جو چلتے پھرتے پڑھ سکوں۔
جواب:
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد یہ درود شریف
’’ أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ‘‘
اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھنا ثابت ہے، اس عمل کی فضیلت اور اس کے ثبوت کے دلائل آگے ذکر کیے جارہے ہیں، اس درود شریف کو عام دن میں بھی چلتے پھرتے بھی پڑھ سکتے ہیں، سب سے افضل درود شریف درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے، اس لیے آپ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ،ہر وقت اس درود شریف کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کسی مختصر درود شریف مثلاً ’’ اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد‘‘اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو بھی اپنا معمول بنا سکتے ہیں۔
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھے جانے والے درود شریف کی فضیلت اور ثبوت:
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صلاۃ وسلام پیش کرنا افضل ترین عبادت اور دربارِ خداوندی میں قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔ صلاۃ وسلام کے مختلف طریقے و صیغے ہیں جن کا احادیثِ مبارکہ میں ذکر ملتا ہے، اس پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔ درج ذیل درود شریف اکابر علماءِ کرام اور مشائِخ عظام کے معمول میں سے ہے، جسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاج�� مدنی رحمہ اللہ نے ’’فضائل درود شریف‘‘ میں نقل کیا ہے اور اکثر اسی کتاب کے حوالے سے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔حدیث مبارک ہے:
’’من صلّٰی صلاةَ العصر من یوم الجمعة فقال قبل أن یقوم من مکانه : أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عامًا، وکتبت له عبادة ثمانین سنةً.‘‘ (القول البدیع، ص:۳۹۹، ط:دارالیسر)
’’جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اَسّی(۸۰)مرتبہ پڑھے:
’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیماً‘‘.
اس کے اَسی(۸۰)سال کے گناہ معاف کردیےجاتے ہیں اور ا��سی (۸۰)سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔‘‘
ذیل میں اس حدیث کی علمی و فنی تحقیق پیش کی جاتی ہے۔ ہماری زیرِ بحث حدیث میں جمعہ کے دن عصر کے بعد خاص درود شریف پڑھنے پر۸۰؍ سا ل کے گناہ کی معافی اور۸۰؍ سال کی عبادت کی بشارت ہے۔ذخیرہ احادیث میں اس قسم کی دو موقوف روایات ملتی ہیں:
پہلی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جوابھی ذکر کی گئی۔ دوسری روایت حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں:
’’وعن سهل بن عبداللّٰه ؓ قال:من قال في یوم الجمعة بعد ا��عصر: ’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي و علی أٰله وسلم‘‘ ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عاماً.‘‘
ان دو روایات میں تین فرق ہیں:
۱:۔۔۔۔۔ پہلی روایت میںـ’’قبل أن یقوم من مکانہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں، جب کہ دوسری اس سے خالی ہے۔
۲:۔۔۔۔۔ اسی طرح پہلی میں ’’وسلم تسلیما‘‘ ہے، جب کہ دوسری روایت میں ’’تسلیما‘‘ کا لفظ نہیں ہے۔
۳:۔۔۔۔۔ پہلی میں ’’کتبت لہٗ عبادۃُ ثمانین سنۃً‘‘کے الفاظ بھی ہیں، جب کہ دوسری میں صرف
’’غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
بہر حال ہر دو حدیث کا مضمون دوسرے کی تائید کرتا ہے۔
فتوی نمبر : 144003200476
دارالافتاء : جامع�� علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
@tumsematlab0@EmOixxH بالکل نہیں اور اس بندے کے ایمان میں شک ہے جو تفریق کرے۔ اہل بیت یا صحابہ کل صحابہ پر شک کرنے والا نعوذبااللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تربیت میں شک رکھتا ہے اور اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ میں کہتا ہوں صحابہ ستارے تو اس کی طرف رستہ حق اہل بیت ہیں۔
اماں عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو جمعہ کی نماز کے بعد سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس 7 مرتبہ پڑھ لے گا، اللہ اس کو دوسرے جمعہ تک اس (عمل) کی وجہ سے آفت وشر سے محفوظ رکھے گا۔
https://t.co/vXtgqwaiVj
ایک روایت میں ہے کہ اگر بعد نماز جمعہ سورت اخلاص، سورہ فلق اور سورت ناس سات سات (7) بار پڑھے تو اللہ تعالی اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جتنے نمازی جمعہ میں ہوتے ہیں ان کو برابر ثوا�� عنایت فرماتا ہے اور اگلے جمعہ تک ہر برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔
--------------------------------------------
سوال:کیا جمعہ کی نماز کے بعد سورة فاتحہ، احد، فلق اور ناس پڑھنے اور سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم استغفراللہ کے فضائل حدیث میں آئے ہیں؟
جواب نمبر: 166729
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 268-26T/L=4/1440
جمعہ کے بعد اس طرح کے اذکار کا ثبوت ہے ،علامہ نووی نے ”اذکار“ میں اور علامہ سیوطی نے ”اللمعة فی خصائص الجمعة“ اور ابن سنی نے ”عمل الیوم واللیلة“ میں ان اذکار کا ذکر کیا ہے ؛لہذا ان کے پڑھنے کی گنجائش ہے۔
عن عائشة ؓ، قالت: قال رسول اللہ ﷺ: "مَنْ قَرأ بَعْدَ صَلاةِ الجُمُعَةِ: }قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ (سورة الإخلاص) و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (سورة الفَلَقِ) و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (سورة النَّاسِ) سَبْعَ مَرَّاتٍ، أعادہ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہا مِنَ السُّوءِ إلی الجُمُعَةِ الأُخْرَی"․
(الأذکار للنووی:1/300 الأذکا ر فی صلاة مخصوصة ا��ناشر: دار ابن حزم للطباعة والنشر)
الخصوصیة الأربعون: قرائة الإخلاص والمعوذتین والفاتحة بعدہا.
91- أخرد أبو عبید وابن الضریس فی فضائل القرآن عن أسماء بنت أبی بکر قالت: من صلی الجمعة ثم قرأ بعدہا قل ہو اللہ أحد والمعوذتین، والحمد سبعا سبعا حفظ من مجلسہ ذلک إلی مثلہ.
92- وأخرج سعید بن منصور عن محول، قال: من قرأ فاتحة الکتاب والمعوذتین، وقل ہو اللہ أحد سبع مرات یوم الجمعة قبل أن یتکلم کفر.عنہ ما بین الجمعتین، وکان معصومًا.
93- وأخرج حمید بن زنجویہ فی فضائل الأعمال، عن ابن شہاب قال: من قرأ قل ہو اللہ أحد، والمعوذتین بعد صلاة الجمعة حین یسلم الإمام قبل أن یتکلم سبعا سبعا کان مضمونا ہو ومالہ، وولدہ من الجمعة إلی الجمعة․
(اللمعة فی خصائص الجمعة:1/55 الناشر: دار الکتب العلمیة)
عَنْ أَبِی جَمْرَةَ الضُّبَعِیِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ بَعْدَ مَا یَقْضِی الْجُمُعَةَ: سُبْحَانَ اللَّہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ مِائَةَ مَرَّةٍ، غَفَرَ اللَّہُ لَہُ أَلْفَ ذَنْبٍ، وَلِوَالِدَیْہِ أَرْبَعَةً وَعِشْرِینَ أَلْفَ ذَنْبٍ "
(عمل الیوم واللیلةلابن السُّنِّی 1/334 الناشر: دار القبلة للثقافة الإسلامیة ومؤسسة علوم القرآن)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چچا زاد بہن حضرت امہ ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ایمان افروز تعارف اور کچھ واقعات۔
پڑھنے سے ایمان تازہ ہوگا اور رشتہ داروں کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔
https://t.co/OfRizCAJM0
امام اسحاق تجیبی ؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ جب بھی آپ ﷺ کا ذکر کرتے تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا، ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ رونے لگتے!
(الشفاء : 26/2)
(https://t.co/nm0yU6o7Xp)
امام ابن الجوزی ؒ فرماتے ہیں کہ جو مسلمان نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود پڑھتا ہے؛ تو الله عزوجل اس کے دل کو منور کر دیتا ہے، اُس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، اس کا سینہ کھول دیتا ہے، اور اس کے معاملات آسان کر دیتا ہے۔
(بستان الواعظين : 297)
امام سخاوی ؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر درود شریف بھیجنا بابرکت ترین، بہت ��ضیلت والے اور دین و دنیا کیلئے بہت نفع بخش کاموں میں سے ہے۔!
(القول البديع : 109)
امام ابن حجرؒ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے۔
[بذل الماعون : ٣٣٣]
حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ اگر انسان اپنی سانسوں کے برابر رسول ﷲ ﷺ پر درود ��ھیجے تو بھی آپ ﷺ کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتا!
نبی پاک ﷺ نے فرمایا: ذکر اور درود (شریف) کی کثرت فقر غربت دور کرتی ہے۔
(جلاء الافہام:۲۳۵)
امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں:
نبی کریم ﷺ پر درود دعا کی قبولیت کا سبب اور گناہوں کی بخشش کا باعث ہے۔ اس کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ بندے کو اس کے مقاصد کے حصول کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور درود ہی کی برکت سے انسان کو روزِ قیامت نبی رحمت ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔
(جلاء الأفهام : ٤٤٥/١)
امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں:
نفس درجۂ کمال کو نہیں پہنچ سکتا تاوقتے کہ نبی کریم ﷺ پر درود نہ بھیجا جائے جو آپ ﷺ کی محبت اور اتباع کا ایک لازمی تقاضا ہے!
(جلاء الأفهام، ص٤٢٠)
امام ابن الجوزی ؒ فرماتے ہیں کہ اے مومن مردو اور عورتو! اللہ سےڈرو اور اپنے محبوب محمد ﷺ پر تمام دنوں اور لمحوں میں کثرت سے درود بھیجا کرو۔ امید ہے کہ اللہ تمہیں (قیامت کی) ہولناکیوں، آفتوں او رعذاب و عقاب سے نجات دے گا اور اس دن بلند جنتوں میں داخل کرے گا ��س دن زمین اور آسمان بدل دیے جائیں گے۔
[بستان الواعظين، ص: 281]
روزانہ صبح و شام کم از کم 100 مرتبہ درود شریف پڑھنے کو معمول بنائیں۔
اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد وبارک وسلم
جزاک الله