ایک ایسے شخص سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے، جسے دنیا سے رخصت ہوئے چودہ سو سال گزر چکے ہیں؟
آج بھی اُس کے نام پر لوگ صرف آنسو بہاتے ہیں۔ نہ ہتھیار، نہ حملہ، نہ تشدد... صرف گریہ۔
پھر بھی یہ خوف کیوں کہ اُن آنسوؤں کو بھی چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے؟
شاید اس لیے کہ ہر آنسو ایک سوال بن کر اُبھرتا ہے:
آخر ایسا کیا ہوا کہ رسولِ خداؐ کی رحلت کے صرف پچاس برس بعد اُن کے نواسے حضرت امام حسینؑ کے خلاف لشکر کھڑا ہو گیا؟
تاریخ کے سوالوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے، انہیں دیانت داری سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، حق، عدل اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا پیغام بھی ہے۔
نوحہ
گلیوں میں رسن بستہ ہے معصوم سکینہؑ
گرتی ہے کبھی اٹھتی ہے مظلوم سکینہؑ
کتنے تجھے مارے گئے رستے میں طمانچے
یہ تیرے سوا کس کو ہے معلوم سکینہؑ
کیا ہے تیرے رخساروں کی حالت میری بی بی
اور کیا ہے ترے نام کا مفہوم سکینہؑ
اک بین پہ روتے ہوئے مر جائے یہ دنیا
ہوجائیں ترے بین جو منظوم سکینہؑ
ناقے کی طرف دیکھ کے سر کہتا تھا شہؑ کا
گر جائے نہ اے زینبؑ و کلثومؑ،سکینہؑ
زنجیریں اٹھانے نہیں دیتیں ترا لاشہ
عابدؑ کی ہے مشکل تجھے معلوم سکینہؑ
اس طرح کفن بھی نہ میسر ہوا اکبر
جس طرح ردا سے رہی محروم سکینہؑ
جناب حسنین اکبر صاحب
@razajaf پہلا پرسہ اس کلام پہ سنگت نے 23 محرم کو پڑھا تھا مجھے یاد ھے اکبر عباس بھائی اور افضل آئے باب حسن ھم بیٹھے تھے خان صاحب کو کہا کہ خاں جی ایک کلام تیار کر رہے ہیں خان صاحب نے ثانی استھائی سنی تو کہا آج ہی پڑھو وہ بولے تیار نہیں تو خان صاحب نے کہا دو گھنٹے ہیں ابھی تیار کرلو
یہ زمیں اور زمن ، چاند ستارے ، سارے
میرے اکبر ع تری نعلین پہ وارے ، سارے
گھر وہ بس ایک ہے اور وہ بھی ابوطالب ع کا
رب نے جس گھر میں محمد ع ہیں اتارے ، سارے
نیزہ و تیغ و تبر، خنجر و بھالا، دہشت
ایک معصوم کی مسکان سے ہارے ، سارے
اکبر و اصغر و عباس دلاور، قاسم(ع)
نوکِ نیزہ پہ ہیں قرآن کے پارے ، سارے
جن کے بارے میں محمد ص نے کہا ، میرے ہیں
چن کے امت نے وہی لوگ ہیں مارے ، سارے
دنیا چاہے بھی تو مٹ سکتی نہیں کرب و بلا
نقش کچھ ایسے لہو نے ہیں ابھارے ، سارے
ہار جائے گی ستم گر تری تلوار کی دھار
ہم بدل دیں گے یہ تاریخ کے دھارے، سارے
تاثیرجعفری،،،،،،،،،،،،،،،،،،، کبیروالا
مَیں کیا بتاؤں کہ کتنا حسینؑ یاد آۓ
کِیا جو خلق نے تنہا حسینؑ یاد آۓ
مَیں اپنے غم کو نہ روؤں گا کوئ صورت ہو
یہ عہد کر کےجب اُٹّھا حسینؑ یاد آۓ
کہاں کہاں سے نہ گُزرا اگرچہ میرا وجود
مگر جو خود سے مَیں گزرا حسینؑ یاد آۓ
خبر نہیں کہ کہاں سے گزر رہا تھا مَیں
ہر ایک پُوچھ رہا تھا حسینؑ یاد آۓ؟
نکل کے ماضی و فردا و حال سے باہر
کسی نے وقت جو پوچھا حسینؑ یاد آۓ
نشیبِ حلقۂ شب میں اُتر کے میں نے نؔوید
نظر جو کی سوۓ سدرا حسینؑ یاد آۓ
میر احمد نؔوید