ضلع صوابی کے رہنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان جب اپنے گاؤں جا رہے تھے، تو انہوں نے راستے میں ایک نہر کے پاس دل دہلا دینے والا منظر دیکھا۔ ایک تین سال کا معصوم بچہ نہر میں ڈوب گیا تھا اور اس کے گھر والے اسے مرا ہوا سمجھ کر رو رہے تھے۔
ایسے میں کامران نے فوراً اپنی ڈیوٹی کا فرض نبھایا اور بچے کو مصنوعی سانس (سی پی آر) دینا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر کی کوشش کے بعد بچے کی سانسیں واپس آ گئیں اور اس کی جان بچ گئی
فواد صاحب، آپ کو اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہیے کیونکہ تمام دستاویزات ایشیائی ترقیاتی بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، تمام ڈیٹا شیٹس وہاں موجود ہیں، اس حکومت نے کوئی تاخیر نہیں کی آپ دستاویزات پڑھیں تو معلوم ہو جائے گا۔
آپ جس حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں، اسی جماعت نے دو ہزار سترہ میں اس منصوبے کی منظوری لی تھی (دوسری تصویر دیکھیں)، حتی کہ ٹینڈر بھی انہی کے دور میں ہوئے (تیسری تصویر دیکھیں)، کانٹریکٹ ایوارڈ بھی موجودہ حکومت کے دور میں ہوئے (پانچویں تصویر دیکھیں) کانٹریکٹ ایوارڈ بھی موجودہ حکومت کے دور میں ہوئے (چوتھی تصویر دیکھیں)۔ اس وجہ سے حکومت پر مدعا نہ ڈالیں کیونکہ اس نہر کے لئے پیسا ایشیائی ترقیاتی بینک نے جاری کرنے تھے اور وہ پیسا انہوں نے آڈٹ کے بعد کرنا تھا۔
جس منصوبے کا کریڈٹ آپ لے رہے ہیں، اس کی ابتدا اور تکمیل میں آپ کے مخالفین کا بھی ہاتھ ہے، ہماری قوم کی بدقسمتی یہی ہے کہ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کے اچھے کاموں کا کریڈٹ نہیں دیتے اور پھر روتے پھرتے ہیں کہ ہمیں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔
واہ! یہ تو واقعی چلتا پھرتا تندور ہے، ڈور ٹو ڈور سروس بھی۔ محنت کرکے حلال رزق کمانے والے لوگ قابلِ تعریف ہوتے ہیں۔ اگر انسان میں محنت کا جذبہ ہو تو وہ روزی کمانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتا ہے۔ ایسے محنتی لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
مظفر گڑھ ضلعی انتظامیہ کا ایک شاندار اور منفرد اقدام سامنے آیا ہے، جہاں سرکاری خالی اراضی پر سانجھی سبزی پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔
تقریباً ڈھائی کنال کے اس رقبے پر اگائی جانے والی سبزیاں شہریوں کے لیے بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ کوئی بھی شہری اپنی روزمرہ کی ضرورت کے مطابق جب چاہے یہاں سے بلا معاوضہ سبزی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد غریب اور مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں وہ تازہ اور صحت بخش سبزیوں تک آسان رسائی حاصل کر سکیں۔
انتظامیہ کا یہ منصوبہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔
روس میں میٹرو ریل اسٹیشن پر تیس بیٹھکیں نکالیں۔اور ٹرین کی فری ٹکٹ لیکر سفر کریں یہ طریقہ روسی حکومت نے عوام کو ورزش کی ترغیب دینے کیلئے اور ھیلتھ بجٹ کنٹرول کرنے کے لئے اختیار کیا ھے۔
بھارت اسرائیل اور ان کی پراکسی اگر سمجھتی ہے کہ پاکستان کو چند غنڈے بدمعاش تباہ کر دیں گے تو جس ملک میں شہداء کے وارث باپ ایسے والہانہ اپنے شہید بیٹے کا استقبال کرتے ہیں۔
کوئی مائی کا لال اس ملک بال بھی بانکا نہیں کر سکتا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
جنوبی پنجاب کو سیلاب کے مستقل خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے جلال پور پیروالا، نوراجہ بھٹہ اور چندربھان فلڈ بند کلیدی حفاظتی منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات اور سیلاب کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی اقدامات کے بجائے اب پیشگی اور پائیدار حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں دریاؤں کے حفاظتی پشتوں کو مزید مضبوط کرنے، حساس ترین دیہی و شہری علاقوں کی قبل از وقت ناکہ بندی کرنے اور اہم ترین انفراسٹرکچر کو مستحکم بنانے پر پوری توجہ مرکوز ہے۔
بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں، مقامی آبادیوں کے گھروں، وسیع زرعی اراضی اور عوام کے روزگار کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ماضی کی خامیوں کو دور کر کے جدید خطوط پر کی جانے والی یہ تیاریاں پنجاب کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، محفوظ اور بااختیار بنائیں گی۔انشاءاللہ
غلیل کی ماہر 💥
چین کے ہینان کی "ہوا داجیے" نے صرف 3 سال کی محنت سے غلیل چلانے میں ایسا کمال دکھایا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں! نہایت درستگی اور حیرت انگیز مہارت 🔥
ڈنمارک یونیورسٹی کی تحقیق:
"دو ہفتے تک ٹانگوں کو حرکت نہ دینے سے ٹانگوں کی طاقت 10 سال تک کم ہو سکتی ہے!
بزرگوں کے لیے اعتماد دماغ میں نہیں بلکہ ٹانگوں میں ہوتا ہے۔"
عمر بڑھنے کے ساتھ آپ کو ہمیشہ اپنے پاؤں اور ٹانگوں کو مضبوط رکھنا چاہیے۔
بڑھاپے میں سفید بالوں، لٹکتی ہوئی جلد یا جھریوں کی فکر کرنے کے بجائے اپنی ٹانگوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
مضبوط ٹانگوں کے پٹھے امریکی جرنل آف پریوینٹو میڈیسن کے مطابق سب سے اہم عضلات اور لمبی عمر کی علامت ہیں۔
دو ہفتے تک ٹانگوں کی بے حرکتی ٹانگوں کی طاقت کو 10 سال تک کم کر سکتی ہے۔
مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ہر عمر کے وہ افراد جو دو ہفتے تک غیر فعال رہتے ہیں، اپنی ٹانگوں کی پٹھوں کی طاقت کا ایک چوتھائی حصہ کھو سکتے ہیں، جو 20 سے 30 سال عمر بڑھنے کے برابر ہے۔
اگر ٹانگوں کے پٹھے کمزور ہوں تو بحالی کی مشقوں سے بھی طاقت واپس لانے میں کافی وقت لگتا ہے۔
باقاعدہ ورزش، جیسے چہل قدمی، بہت ضروری ہے۔
پورے جسم کا وزن ٹانگوں پر ہوتا ہے۔
جسم اپنے وزن کو برداشت کرنے کے لیے پاؤں استعمال کرتا ہے۔ انسان کے وزن کا 50 فیصد ہڈیوں میں ہوتا ہے، اور ہڈیوں کا 50 فیصد حصہ ٹانگوں میں ہوتا ہے۔
جسم کے سب سے بڑے اور مضبوط جوڑ اور ہڈیاں ٹانگوں میں ہیں۔
مضبوط ہڈیاں، پٹھے اور لچکدار جوڑ مل کر ایک "آہنی مثلث" بناتے ہیں جو جسم کے سب سے اہم بوجھ کو سہارا دیتا ہے۔
آپ کی سرگرمی کی توانائی کا 70 فیصد پاؤں میں جلتا ہے۔
جوانی میں آپ کی رانیں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ گاڑی بھی اٹھا سکیں!
ٹانگیں اور پاؤں جسم کا "مرکزِ حرکت" ہیں۔
ٹانگیں جسم کے 50 فیصد اعصاب، 50 فیصد خون کی نالیاں اور 50 فیصد خون کے بہاؤ کو سنبھالتی ہیں۔
ایک وسیع دورانِ خون کا نظام ٹانگوں کو جسم سے جوڑتا ہے۔
جن لوگوں کی ٹانگیں اور پاؤں صحت مند ہوتے ہیں ان کی خون کی گردش ہموار رہتی ہے؛ اور جن کے ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ان کا دل بھی مضبوط ہوتا ہے۔
انسانی بڑھاپا پاؤں سے شروع ہوتا ہے اور اوپر کی طرف بڑھتا ہے۔
عمر کے ساتھ دماغ کے ٹانگوں کو دیے گئے احکامات جوانی کے مقابلے میں کم درست اور سست ہو جاتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں سے کیلشیم بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے، اس لیے بزرگ افراد میں فریکچر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
بزرگوں میں فریکچر آسانی سے پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر دماغی تھرومبوسس جیسی جان لیوا بیماریوں کا۔
اعداد و شمار کے مطابق ران کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد 15 فیصد بزرگ افراد ایک سال کے اندر وفات پا جاتے ہیں!
60 سال کے مرد کے لیے ٹانگوں کی ورزش کرنا ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔
ٹانگیں اور پاؤں وقت کے ساتھ بوڑھے ضرور ہوتے ہیں، لیکن ان کی ورزش ایک عمر بھر کا مشن ہے۔
براہ کرم اسے اپنے تمام پرانے ہم جماعتوں، پرانے ساتھیوں، پرانے رفقا، پرانے دوستوں اور رشتہ داروں تک ضرور پہنچائیں۔
پاکستان نے 90 منٹ میں ہمارے جہاز گرا کر ملین ڈالرز کا نقصان کر دیا اور ہم خالی سڑکوں پر بم مارتے رہے پاکستان سینہ چوڑ کر کے کہہ رہا ہم نے انڈیا کو دبا کر رکھا جواب بلکل پاکستان نے انڈیا کو دبا کر رکھا ھوا بھارت چائنہ کی طرف منہ نہیں کرتا ہم چائنہ پاکستان کا مقابلہ کر ھی نہیں سکتے
جنوبی پنجاب کے زراعتی اور تجارتی منظرنامے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ملتان وہاڑی شاہراہ کے ساڑھے 93 کلومیٹر طویل حصے کو دو رویہ کرنے کا یہ معرکہ 14 ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ طویل سفری صعوبتوں اور حادثات کا مستقل ازالہ کرتی یہ وسیع گزرگاہ اب علاقائی معیشت کو نئی جلا بخشنے، زرعی اجناس کی مارکیٹوں تک ترسیل کو تیز کرنے اور عوامی زندگی میں پائیدار آسانیاں لانے کے لیے تیار ہے۔
وہ کھوتی کا بچہ امریکہ کے ڈر سے ڈاکٹر عبد القدیر اور ایدھی کا جنازہ پڑھنے نہیں آیا تھا
جو اپنی ماں کا جنازہ پڑھنے نہیں آیا تھا
جو اپنے قریبی دوست نعیم الحق کا جنازہ پڑھنے نہیں آیا تھا
کوئٹہ میں لوگ لاشیں رکھ کے بیٹھے تھے وزیراعظم آئے گا تو دفنائیں گے
چوتیا کہتا میں لاشوں سے بلیک میل نہیں ہونگا
چُکن توں پہلے اپنے پیّو دے کرتوت ویخ لیا کرو رامدیو🖐🏻