بدمعاش اور طوائف کے قصے انڈیا/پاکستان میں صدیوں سے مشہور ہیں
بتایا جاتا ہے، دونوں اپنا پیشہ کسی حادثے کی وجہ سے مجبور ہو کر اختیار کرتے ہیں
اس قصے کی اک نئی شکل سامنے آئی ہے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ-
اگرچہ دونوں سُننے میں صنفِ نازک لگتی ہیں
لیکن ان میں ایک بدمعاش اور دوسری طوائف ہے😀
@MumtazBhattiDin بابا حضور !
ہمارے کسی بڑے نے “ بھینس کے آگے ��ین بجانے “ کو کہا تھا۔
اب اگر کسی دانشور کو ہر طرف ڈونکی گنگ ہی نظر آئے تو کیا کیجئے!
بہرکیف مجھے اتنا یقین ہے پاک فضایہ میں اتنی اہلیت ہے کہ کسی بھی طاقتور فضائیہ کے دانت کھٹے کر سکتی ہے۔
اب کسی کو شک ہو تو اسکا علاج نہیں۔🇵🇰
وہ بُلاتے تو محبت دوڑی چلی جاتی اور
ہم بُلاتے تو محبت دوڑی چلی آتی ۔
پھر یوں ہوا کہ صدائیں ویرانوں سے ٹکرا کے لوٹ آتیں، چلی جاتیں ۔ یہاں تک کہ خاموشی چھا گئی۔