@janansh48 افغانان له کال ۱۹۸۰ راپدېخوا د هجرت او تېختې پحال کې دی!د ملی خاین کرزی او غنی/عبدالله پرمهال توره بحیر د افغان مهاجرو د جسدونو ستر قبرستان جوړ شوی وو!
که حکومت انسان وړونکی قاچاقبران مهار او پوزېغوږونه یې ورپرېکړی، یو کس به هم ونتختی!
@Mohamma61363694 شریفی صاحب، دافغانستان د پارلمان وکلې خانم بلقیس به ویل: هموطنان عزیز،اینها همان شکارچیان جنګل هستند که حین شکار کنارهم میایند،آما دروخت تقسیم شکال شکمهای یکدیګر را پاره مېکنند
@akramim123 خو جې دافغان میوو او نورو زراعتی توکو سیزن به راورسید، اول به تعرفې درېچنده او څوچنده لوړې کړې، بیا به یی دروازې وتړلې او افغان بزګران او سوداګران لسګونه میلونه ډالر تاوانی شول!
آج رات کراچی شفیق موڑ پر واقع پشتون چائے کے ہوٹل اور ریڑھیاں والوں کے ساتھ پولیس کا تشدد اور ناروا سلوک!
گزشتہ چند مہینوں میں سندھ پولیس نے کئی پشتونوں کو اغوا کرکے پیسوں کی ڈیمانڈ کے بعد رہا کیا ہے۔ اس طرح ان بدمعاش و عونڈہگرد پولیس کو بھتہ نہ دینے پر پشتونوں کے ہوٹلز، دکانیں، ریڑھیاں وغیرہ ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر بے انتہا تشدد بھی کیا جاتا ہے۔
ایک طرف استعمار نے پشتونوں کی اپنی ہی اربوں ڈالرز سے مالامال وطن سے کراچی یا پنجاب جانے پر مجبور کر رکھا ہے جہاں وہ دن رات محنت کرکے دو وقت کی روٹی کمانے والوں پشتونوں کے ساتھ اسرائیلی پولیس سے بھی زیادہ بدتر سلوک اور تعصب کیا جاتا ہے۔
یہاں پورے پشتون بیلٹ پر ڈالری آپریشن مسلط کیے گئے ہیں۔ روزانہ نوجوان، بچے اور بچیاں چھین لیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہزاروں میل دور روٹی کمانے والے پشتونوں کا معاشی اور روایتی قتلِ عام ہو رہا ہے۔
پھر چند پشتون ہمیں مضبوط پاکستان بنانے کا درس و تدریس دیتے ہیں۔
پنجابی استعمار نے اس قوم کو ذلت و غلامی کی علامت بنا رکھا ہے جس قوم نے فرنگ، اورنگ ، برطانیہ، امریکہ اور دیگر سامراج کو عبرتناک شکست دی۔
آج یہاں پشتون عزہ سے بدتر صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ظلم اور طاقت کی یہی نشہ ایک دن ختم ہوگی تو پھر تمہارا احتساب دنیا کے دیگر شکست خوردہ سامراج سے بھی زیادہ بدترین ہوگا۔
#StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide
🔴 روسیه خواستار بررسی مسیر ریلی به اقیانوس هند از راه افغانستان شد
مارات خوسنولین، معاون نخستوزیر روسیه، گفته است که مسکو باید ایجاد یک مسیر ریلی به اقیانوس هند را بررسی کند؛ مسیری که میتواند از ترکمنستان، ایران، افغانستان و پاکستان عبور کند و بدیلی برای تنگههای هرمز و بسفر باشد.
خوسنولین در گفتوگو با خبرگزاری تاس افزوده است که با توجه به خطرهای موجود در مسیرهای دریایی، هر مسیری که دسترسی روسیه به هند را تضمین کند، برای این کشور قابل بررسی است.
#روسیه
#افغانستان
#حجاز_فارسی