گلگت بلتستان میں کوئی ہوٹل والے یا کوئی دوکاندار اپ سیاح حضرات سے زیادہ قیمت لے تو اپکو چاہیے کہ انتظامیہ کو بتا دے اور یہآں انتظامیہ ایکشن بھی لیتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سیاح حضرات خود ان خوبصورت سیاحتی مقامات پہ خود کھانا پکائے اور جگہ بھی الودہ کرے اور سرسبز و شاداب جہگوں کو بھی نقصان پہنچائے۔
ویسے اج تک ایسی کوئی شکایات نہیں سنی ہے کہ گلگت بلتستان والے زیادہ چارچ کرتی ہے مگر یہ خاتوں محترمہ کر رہئ ہے مگر جو عمل یہ خود کر رہئ ہے اور لوگوں کو ترغیب بھی دے رہی ہے بلکل غلط ہے۔
نہ تو مطالعہ پاکستان غلط تھا ، نہ ہی ہمارے محافظ کبھی کمزور رہے ہیں اور نہ ہی ہماری قوم پیچھے ہٹیں ہیں
جو زہر اس نسل کو دہائیوں پلایا جاتا رہا آج جب وقت نے حقیقت دکھائی تو ادراک ہوا اجداد کے سنائے قصے اور مطالعہ پاکستان سچا تھا۔
تاریخ سچی تھی ماضی سچا تھا حال سچا ہے اور یہی سچ ہے جسے لے کر ہمیں آگے چلنا ہے
ان شاءاللہ تعالیٰ
Pakistanis are in a different league altogether...
Army supply corps did not have to worry about sending food to the troops......entire Village took care of that.
War with India is festival time.....!