عمران خان کی انفرادیت یہ نہیں کہ وہ واحد سیاستدان ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی بجائے اسکی انا کا بت سرعام چکنا چور کر دیا بلکہ یہ ہے کہ اس نے ایک ایسی نسل تیار کی جس نے وسائل کے بغیر خالی ہاتھوں بھوکے بھیڑیوں کے مقابل ہار ماننے کی بجائے اس شدت سے مقابلہ کیا کہ وحشت بھی منہ موڑ گئی
بیٹا ماں کو پیسے کیسے بھجوائے گا
ادارے نے سن 2004 میں ڈنکی لگائی تھی۔ گجرات کا ایجنٹ تھا۔ سوا تین لاکھ میں ڈیل ہوئی تھی۔ پچاس ہزار پہلے باقی پہنچ کر۔ اس وقت ایجنٹ نے کہا تھا کہ صرف تفتان بارڈر ، ماکو پہاڑی اور یونان والی نہر پیدل کراس کرنی ہے۔ باقی سارا سفر گاڑی یا بس میں ہوگا۔ دو بھینسیں اور ایک کٹا قصائی کو بیچا تھا اور لاکھ سوا گھر والوں کی جمع پونجی تھی۔ لاہور سے کوئٹہ والی ٹرین پر بیٹھے۔ تب ابھی مشرف نے اکبر بگٹی والا کارنامہ سرانجام نہیں دیا تھا۔ حالات خاصے بہتر تھے۔ کوئٹہ سے بسوں پر بارڈر تک گئے تھے۔ وہاں سہولت سے بارڈر کراس کرلیا۔
بس یہاں تک ایجنٹ کا وعدہ وفا ہوا۔ اسکے بعد بس یا گاڑی کیا ملتی دو وقت کی روٹی نہ ملتی تھی۔ پانی نہ ملتا تھا۔ جو وہاں کے مقامی ایجنٹ تھے وہ آہستہ چلنے پر چھڑیوں سے پیٹ ڈالتے تھے۔ لمبا سفر ہے اور بہت دکھ بھری داستان ہے۔ رات کو سفر کرتے تھے دن کو کہیں چھپے رہتے تھے۔ مکمل تفصیلات پھر کبھی سناوں گا۔ ایران سے ترکی داخل ہوئے۔ وہاں سے استنبول تک ایک کار میں دس لوگوں نے سفر کیا۔ وہاں سے ایجنٹ نے کہا سوا لاکھ روپیہ مزید دو تو یونان کے بجائے استنبول سے براہ راست شپ پر بٹھا کر اٹلی پہنچا دوں گا۔ یونان میں اس وقت کرائسز تھا۔ گھر میں ابھی دو بھینسیں موجود تھیں۔ استنبول کے ایک پی سی او سے ڈیڑھ منٹ گھر فون کیا اور انہیں وہ دو بھینسیں بیچنے پر قائل کرلیا۔ یہ گھر کا آخری Liquid asset تھا۔
خیر ایجنٹ سے ڈیل ڈن ہوئی اس نے ایک رات ایک شپ کے تہہ خانوں میں ہم اٹھارہ انیس لوگوں کو گھسا دیا۔ یہ کوئی کروز شپ تھا جس میں سیاح شغل مستی کرتے تھے۔ ہمیں بس تہہ خانوں کے اندھیرے میں جب میوزک اور اچھل کود کی آواز سنائی دیتی تو اندازہ ہوجاتا کہ باہر شام اتری ہوئی ہے اور سیاح عیاشیاں کررہے ہیں۔ خیر اٹلی پہنچ گئے۔ وہاں ایک مقامی ایجنٹ نے ہمیں نکالا۔ ایک قریبی قصبے میں لے گیا۔ وہاں ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ وہاں نہائے دھوئے۔ ایجنٹ نے کہا اپنے اپنے گھروں میں فون کرو۔ وہاں کے ایجنٹ کو پیسے دو اور پھر تم آزاد ہو۔ اور ہاں اپنے اپنے پاسپورٹ اب پھاڑ کر پھینک دو۔
جب اس نے پاسپورٹ پھاڑنے کا کہا تو ہم میں سے تین چار لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ پڑے۔ کیونکہ ہم پاسپورٹ لیکر ہی نہیں آئے تھے۔ بلکہ میں نے تو پاسپورٹ ابھی تک بنوا ہی نہ رکھا تھا۔ اگلی پچھلی داستان پھر کبھی سہی ہم بغیر پاسپورٹ کے بغیر کسی ائیر ٹکٹ کے ، بغیر کسی جہاز کے ، خالی پیٹ ننگے پاوں گھر سے نکلے اور اٹلی پہنچ گئے۔ اور کھوپڑی والے چچا پوچھتے ہیں بیٹا ماں کو پیسے کیسے بھجوائے گا۔
چچا تم نہیں سمجھو گے۔ تم کبھی بھی نہیں سمجھو گے۔ ترسیلات کے بائیکاٹ کا اعلان ہو لینے دو پھر ہم تمہیں بتائیں گے کہ پیسے کیسے بھجواتے ہیں۔
اخے بیٹا ماں کو پیسے کیسے بھجوائے گا۔
@husainhaqqani شاباش چچا بس آپ نے یہی ذکر کرتے رہنا ہے۔ پیغام پہنچنا چاہیے۔ کہ کوئی مہم چل رہی ہے۔ بیٹا ماں کو پیسے کیسے بھجوائے گا یہ بیٹے پر چھوڑ دیں
I condemn in the strongest terms the brutal crackdown by Pakistani establishment of peaceful demonstrators seeking freedom and the release of Imran Khan and other political prisoners. #Pakistan
#IslamabadMassacre
ہمارے سینکڑوں کارکن گرفتار اور بہت سارے مسنگ ہیں۔ جتنے لوگوں کو گولیاں ماری گئیں تھیں ان میں کافی مسنگ ہیں۔ واپس جانے والی گاڑیوں سے اٹھا کر جیل میں ڈالے گئے نوجوانوں میں سے بھی کچھ مسنگ ہیں۔ ہم ان کو لوکیٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ابھی بھی جو نوجوان فرنٹ سے لیڈ کررہے تھے یہ کام وہ کررہے ہیں۔ پارٹی کے ہر ذمہ دار فرد سے اس وقت صرف ایک گزارش ہے کہ جس علاقے کا بندہ غائب ہے، جو شہدا ہیں، زخمی ہیں ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم نے اپنے علاقوں کی لسٹیں بنائی تھیں۔ اپنے ایک ایک فرد کو ٹریس کررہے ہیں۔ جو ہمارے علاوہ آئے تھے، جس ٹیم کے ساتھ آئے تھے، ٹیمیں اپنے کارکنان کو ٹریس کریں۔ رہی بات خود احتسابی کی تو میں موجود نہیں (کیوں نہیں کی لامعنی بحث کا یہ وقت نہیں ہے میرے لیڈر کو اس وقت میرا سر میرے کاندھوں پہ رہنا زیادہ ضروری لگتا ہے اس لیے نہیں ہوں۔ جب اُسے اِس کے کٹنے کی ضرورت ہوگی کسی کے کہنے کا انتظار نہیں کرونگا۔ جیسے میرے کارکن نے نہیں کیا)۔ نا میں کسی کمیٹی کا ممبر ہوں نہ میں نے کوئی عہدہ لیا ہے لیکن اپنا فرض پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہوں۔ باقی ہم خود احتسابی کریں گے اور بہت جلد کریں گے۔ پارٹی کے عہدے تمغوں کیطرح سجا کر ذمہ داری سے کنی کترانے والوں کے تمغے اتریں گے اور ان کے سینوں پر لگیں گے جنہوں نے عمران خان کے نظریے کی کمان سنبھالی۔ اور یہ سلسلہ نیچے سے نہیں سب سے پہلے مرکز سے شروع ہوگا۔ فی الحال ہمارے شہدا، زخمی اور پابند سلاسل کارکنان اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان ظالموں کا نقاب اتارنا ہماری اولین ترجیح ہے جنہوں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے جو کیا سوکیا آپ اپنے فون میں موجود ہر کانٹیکٹ کو ان مظالم کی تصاویر اور ثبوت بھیجیں۔ دنیا کو جھنجھوڑیں۔ پارٹی رہنماؤں سے بھی درخواست ہے اگر آپ اس ظلم پر کھل کر بات نہیں کرسکتے تو مہربانی کرکے ٹی وی چینلز پر ہماری ترجمانی کرنے نہ بیٹھیں کوئی اور لاحقہ لگا لیں اپنے نام کے ساتھ۔ پارٹی کو شہدا کے جنازوں، زخمیوں، پابند سلاسل ورکران اور ان کے اہل خانہ کا ساتھ دینے سے لے کر قانونی کاروائی، جمعہ کو یوم سیاہ منانے اور ان کی قربانیاں رائیگاں نا جانے دینے کے حوالے سے مفصل پلان شئیر کیا جاچکا ہے۔
جنہوں نے ڈی چوک پر پہنچ کر پاکستان کا قومی ترانہ باادب ہو کر سنا انہیں بھون دیا گیا۔۔۔
اور ہماری نسل ہمیشہ سوچتی تھی ے کہ لوگوں کہ دلوں میں بغاوت کی سوچ کیسے آتی ہے!!
پورے پاکستان نے جو یزیدیت اور فِرونیت ۳ دنوں میں دیکھی ہم پچھلے ۲۰ سال سے اپنے قبائلی اضلاع اور پختون بیلٹ میں یہ فسطائیت دیکھ رہے ہیں۔ اِس لیے اِن کے کردار بھی مجھے زیادہ حیرانگی نہیں ھوئی۔ میڈیا کا جو کردار آپ لوگوں نے اِن چند دنوں میں دیکھا یہی ہمارے ساتھ ۱۹۴۷ سے ہوتا آرہا ہے۔ اِس لیے اُس پر بھی مجھے زیادہ حیرانی نہیں ھوئی۔ تیراہ وادی خیبر اور کُرم میں اب بھی یہی ہورہا ہے لیکن میڈیا پر نہیں دکھایا جا رہا۔
پاکستان تحریک انصاف کے شہید کارکنان یقیناً عظیم لوگ تھے جنہوں نے اِس ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔ اللّٰہ تعالیٰ اُن کے گھر والوں کو صبر جمیل عطاء فرمائیں۔ زخمیوں کو اللّٰہ تعالیٰ جلد صحتیاب کرے۔
میں اُن تمام کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ظلم جبر بربریت فسطائیت فرونیت اور یزیدیت کا نڈر بے خوف ہو کر مقابلہ کیا۔ پوری قوم آپ کی مقروض رہے گی۔ میں تمام سوشل میڈیا کے ورکرز اور ایکٹیوسٹ کا بھی دل سے مشکور ہوں جنہوں نے ریاست پر قابض دہشتگردوں اور ذہنی مفلوج لوگوں کا مکروہ چہرہ پوری دُنیا کو دکھایا۔ ہم آپ کے بھی احسان مند ہیں۔
باقی میرے ہاتھ میں نیت اور کوشش تھی۔ کامیابی اللّٰہ تعالیٰ نے دینی ہے۔ میں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے لیڈر اپنے قائد کے لیے ورکرز کے درمیان رہ کر اِن بغیرتوں کے گرینیڈز اور بندوقوں کا مقابلہ کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے بچانا تھا سو بچ گیا ورنہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی ہمیں قتل کرنے کی۔
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس دور میں جینا مشکل ہو اُس دور میں جینا مردی ہے۔
جہد مسلسل۔۔۔
تو ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے۔
مجھے یہ سمجھانے والے ایسا نہ کرو ویسا نا کرو یہ سب وہ سوچتا ہے جس کو کوئی لالچ ہو ہمیں کسی سے کوئی لالچ نہیں
گذشتہ دس گھنٹوں سے اپنی ٹیمز اور گراؤنڈ پر موجود ساتھیوں کی خبر لینے کی کوشش کررہا ہوں۔ کئیوں سے ابھی تک رابطہ نہیں ہو پارہا نہ دیگر کو ان کی کوئی خیر خبر ہے، کون زندہ ہے، کون زخمی، کون گرفتار کوئی اتاپتا نہیں۔ جن سے رابطہ ہوا ان میں سے بیشتر شاک میں ہیں، موصول ہونے والی معلومات کے لیے کوئی ایک لفظ نہیں کہ جس میں خلاصہ ہوسکے۔
عوام کی بڑی تعداد کے ڈی چوک پہنچنے پر فوجی جوانوں کی جانب سے انہیں تسلی دی گئی کہ احتجاج آپ کا قانونی حق ہے آپ پر امن طور پر بیٹھیں یہاں وغیرہ۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کی نیتوں کا فتور ظاہر ہوتا گیا۔ قریب کی بلڈنگز سے سنائپر پکڑے گئے تو فرنٹ پر موجود ٹیموں کو لیڈ کرنے والے افراد (جن میں آئی ایس ایف یوتھ کے نوجوانوان کے علاوہ ایم پی ایز، ایم این ایز بھی شامل تھے) سے درخواست کی گئی کہ اپنے اپنے کارکنان کو لے کر پیچھے آجائیں۔ پوری دنیا کی سامنے ہے کہ یہ سب پر امن لوگ تھے نہتے جان ہتھیلی پر رکھے آگ کا دریا پار کرکے وہاں تک آئے تھے۔
اندھیرا ہوتے ہی علاقے کی تمام لائٹس بند کردی گئیں۔ کچھ وقت بعد ڈی چوک کے قریب عمارتوں سے فائر کھول دیا گیا۔ ہمیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ وزیر اعلی اور بشری بی بی کو گرفتار کرنے کی کوشش ہوگی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بھی اندیشہ تھا کہ انہیں وہیں نقصان پہنچایا جائیگا۔ آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوان بی بی کی گاڑی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لئے پلٹے۔ گراؤنڈ پر موجود کارکن اندھیرے میں گولیوں کو ربڑ بلٹس سمجھ کر اپنی جگہ کھڑے رہے اور کئی منٹ تک گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے ڈٹے رہے یہاں تک کہ ایک ایک کرکے اپنے ساتھیوں کو گرتے دیکھا تو ادراک ہوا کہ جسے وہ اپنی فوج اپنی ریاست سمجھ رہے تھے وہ آدم خور درندے تھے۔ جتنے لوگ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے انہیں آگے جاکر گھیر لیا گیا۔ اس وقت تک ان میں سے بیشتر کے کوائف نامعلوم ہیں۔ ڈی چوک پر فائرنگ کے وقت محتاط اندازے کے مطابق بھی کم از کم دس ہزار افراد موجود تھے۔ یہ لوگ کوئی لاوارث نہیں تھے ہمارے ہاتھوں پر شمولیت کرنے والے ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے ہونے والے نوجوان تھے۔ ہمارے بے لوث کارکن تھے جو ایک اچھے مستقبل کی امید لے کر نکلے تھے۔ یزید کے پیروکارو نے جس بےدردی سے ان بے گناہوں کا خون بہایا ہے۔ اس خون کا رائیگاں جانا ہماری ہستیوں پر لعنت ہوگا۔
آج سے ویسے نکلو جیسے دس اپریل کی رات نکلے تھے خود بخود نکلو بغیر کسی قیادت کے نکلو ہر شہر میں ہر گاوں میں نکلو۔ آج نہیں نکلو گے تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔
کسی صحافی کو کسی اخبار کو کسی ٹاوٹ کو کسی حرامزادے تجزیہ کار کو جواب مت دیں۔ جو آگ جلائی گئی ہے وہ انکے گھروں تک ضرور پہنچے گی لیکن سب سے پہلے بڑا سانپ کچلیں گے۔ گندی نالی کے کیڑے بعد میں قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔
رات کو اللّٰہ نے ہمیں ایک اور زندگی عطا فرمائی ہے
یہ زندگی اللّٰہ کی امانت ہے
اپنی باقی زندگی بھی اسی طرح حق پر ڈٹ جانے پر گزار دیں گے
إِنْ شَاءَ ٱللَّٰهُ