معروف صحافی طلعت حسین نے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی گہری اور خطرناک سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے بڑا انکشاف کیا ہے کہ یہودی لابی نے آج بھی ملک کے خلاف ایک منظم اور ہولناک جال بچھا رکھا ہے۔
طلعت حسین کے مطابق، اس پاکستان مخالف مہم کی فنڈنگ اور سرمایہ کاری میں اندھا دھند اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کی تازہ ترین اور زندہ مثال لارڈز کے میدان میں دیکھنے کو ملی جہاں انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن کو محض 18 منٹ کے ایک یکطرفہ انٹرویو کے لیے کروڑوں ڈالر کی خطیر رقم تھما دی گئی۔
اس انکشاف نے واضح کر دیا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کے ذریعے مظلومیت کا جو عالمی راگ الاپا جا رہا ہے، وہ کوئی اتفاقی انٹرویو نہیں بلکہ بھاری مالیت سے خریدا گیا ایک باقاعدہ بین الاقوامی پروپیگنڈا تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
فرح گوگی نے ملک ریاض سے
6 ارب کھائے
اسکے بیٹے سے500 سے زائد
آئی فون لئے
اسکی بیٹی اور بیوی سے ھیرے کی انگوٹھیاں لیں
جوان دکھنے کیلئے اپنی فل باڈی اپ لفٹ کروانے کیلئے دوبئ کے ایک ہسپتال میں 9 لاکھ درہم لئے
زمینیں لیں
ٹرانسفر پوسٹنگ پر رشوتیں لی
لیکن خان کرپٹ نہیں ہے
ارشاد بھٹی
اب یہ امریکہ کے پاس جائیں گے کہ ہمیں عمران خان سے بچا لو۔ 2022
ہم صدر ٹرمپ سے درخواست کرتے ہیں کہ عمران خان کو بچائیں اب وہ ہی ہماری واحد امید ہے۔ 2026
یوتھیوں کے لیے ایک اور قیامت خیز خبر وہ پاکستان پر بار بار انڈیا کے سندھ طاس معاہدے کے معطل کرنے کا طعنہ دیتے تھے
اب عالمی ثالثی کورٹ نے انڈیا کو یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ روکنے سے منع کیا اور اس پر جاری سب منصوبے روکنے کا حکم دیا ہے
انڈیا نے فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے
پاکستان اعلان کر چکا ہے کہ اگر ہمارے پانی کو روکا تو یہ اعلان جنگ ہو گا ہم ایسا ہر سٹریکچر تباہ کر دیں گے
علامہ اقبال کی بیٹی منیرہ بانو — ایک خاموش مگر قیمتی ورثے کی امین
30 اگست 1930 کو لاہور میں پیدا ہونے والی منیرہ بانو برصغیر کے عظیم شاعر، فلسفی اور مفکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ اگرچہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ عوامی نظروں سے اوجھل رہا، لیکن وہ ہمیشہ اپنے والد کے فکری اور خاندانی ورثے کی ایک اہم محافظ سمجھی جاتی رہی ہیں۔
منیرہ بانو کی ابتدائی زندگی ایسے دور میں گزری جب علامہ اقبال اپنی فکری اور سیاسی جدوجہد کے عروج پر تھے۔ ابھی وہ بہت کم عمر تھیں کہ 1935 میں ان کی والدہ سردار بیگم کا انتقال ہوگیا۔ اس سانحے کے بعد خاندان کے افراد اور بعدازاں جرمن نژاد گورننس ڈورس احمد نے ان کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کیا۔ خود منیرہ بانو نے بعد میں بتایا کہ ان کے والد نہایت شفیق، محبت کرنے والے اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے والے انسان تھے۔ وہ گھر میں سخت گیر شخصیت نہیں بلکہ خوش مزاج والد کی حیثیت سے یاد کیے جاتے تھے۔
تعلیم کے معاملے میں علامہ اقبال جدید اور دینی دونوں علوم کو اہمیت دیتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کا خصوصی خیال رکھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کو سمجھیں، لیکن ساتھ ہی اسلامی تعلیمات سے بھی مضبوط تعلق قائم رکھیں۔
1949 میں منیرہ بانو کی شادی لاہور کے معروف میاں خاندان کے میاں صلاح الدین سے ہوئی۔ شادی کے بعد انہوں نے ہمیشہ سادہ، باوقار اور نجی زندگی اختیار کی۔ ان کے صاحبزادے میاں یوسف صلاح الدین پاکستان کی معروف ثقافتی شخصیت ہیں، جو لاہور کی تاریخی حویلی بارود خانہ کے نگہبان ہیں۔ اس تاریخی مقام پر کئی دہائیوں سے ادب، موسیقی، مصوری اور ثقافتی تقریبات کا انعقاد ہوتا رہا ہے، جہاں ملک اور بیرونِ ملک کی معروف شخصیات بھی شریک ہوتی رہی ہیں۔
منیرہ بانو نے کبھی شہرت یا میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انٹرویوز نہایت کم ملتے ہیں۔ تاہم جب بھی انہوں نے اپنے والد کے بارے میں گفتگو کی، انہوں نے علامہ اقبال کو صرف قومی شاعر نہیں بلکہ ایک بے حد محبت کرنے والے والد کے طور پر یاد کیا۔ ان کے مطابق اقبال بچوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے، ان کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔
2017 میں اپنے ایک تحریری پیغام میں منیرہ بانو نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی ہمیشہ ان کی دعاؤں کا حصہ رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ قوم علامہ اقبال کے افکار سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اتحاد، علم اور کردار کی طاقت سے ملک کو آگے لے جائے گی۔
2022 میں اقبال اکیڈمی پاکستان کے وفد نے ان کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں علامہ اقبال کی یادوں کا ایک زندہ سرمایہ قرار دیا۔ اس موقع پر ان کی علمی اور تاریخی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
30 اگست 2026 کو منیرہ بانو نے اپنی 96ویں سالگرہ منائی۔ وہ علامہ اقبال کے براہِ راست خاندان کی بزرگ ترین شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ اگرچہ وہ اب بھی عوامی زندگی سے دور رہنا پسند کرتی ہیں، لیکن ان کی ذات برصغیر کی فکری، ادبی اور تاریخی روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظیم شخصیات کا اصل ورثہ صرف کتابوں میں نہیں بلکہ ان کے خاندان کی محفوظ یادوں، اقدار اور تربیت میں بھی زندہ رہتا ہے۔
منقول
ایک یونیورسٹی میں ریسرچ ہو رہی تھی کہ "مرد کو دوسری شادی کی خواہش کب تک رہتی ہے"
پروفیسر صاحب نے کہا 60 سال سے نیچے والوں سے پوچھنا وقت کا زیاں ہے۔ ایسا کریں 60 سال سے اوپر والے مردوں سے پوچھیں۔
چناچہ طالبعلم ایک 60 سالا بزرگ نظام دین سے سوال کیا تو بزرگ نے کہا کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے۔ طلبا جان گئے
پھر طلبا نے ایک 70 سالا بزرگ چراغ دین سے پوچھا اس نے کچھ ایسا ہی جواب دیا۔ ایسے ہی ایک 80 سالا بزرگ سے پوچھا تو بھی ایسا ہی جواب ملا۔
اس کے بعد ایک 90 سالا بزرگ امام دین سے سوال کیا تو بزرگ بولے آہستہ بات کرو تمہاری چاچی کے کان بہت باریک ہیں فورا سن لے گی۔ یعنی جواب ہاں میں تھا۔
اب طلبا علاقے کے سب سے بڈھے کھوسٹ نیک محمد عرف نصر عثمانی کے پاس گئے جس کے ہاتھ اور سر رعشہ سے کانپ رہے تھے۔ ان سے سوال کیا کہ مرد کو دوسری شادی کی خواہش کب تک رہتی ہے۔ تو نصر صاحب کے ہاتھوں اور سر کی حرکت ایک دم رک گئی اور فرمایا "میرا خیال ہے قُل تک تو رہتی ہے۔"
امین خان
The Mismatch - Classic 1970s comedy sketch from Rowan and Martin's Laugh In, featuring Sammy Davis Jr. facing off in a boxing ring against basketball legend Wilt Chamberlain. 😆
اور ناظرین مورخ نے سالم رکشہ کروا کر فیصل مسیت کے پیش امام سے استفسار کیا کہ یہودن کے بچوں کے انٹرویو اور پھر فارن فنڈنگ ممالک کے “ گرگٹر” انٹرویو کو آپ کہاں رکھتے ہیں جس پر انہوں نے بینسن سغٹ کا سوٹا لگایا اور دھواں نکالتے ہوئے بائیں ہاتھ سے سامان شلوار والی جیب میں کچھ ٹٹولتے ہوئے کہنے لگے “ وہیں پر جو اس وقت میرے بائیں ہاتھ میں ہے “
مؤرخ کو اس بات کی کچھ خاص سمجھ تو نہیں آئی لیکن ساتھ موجود رکشہ کا ڈرائیور ہنستے ہنستے پشاں ڈگ پڑا
بہترین
ان گوروں کو کچھ بھی غلط کرنے کا لائسنس نہیں دیا ھوا،کوئی ان کو دو لاکھ پاؤنڈز دے گا تو کچھ بھی چلوادے گا،اچھا کیا حکومت پاکستان نے ان سے یہ سب ان کے ھی چینل پر چلوایا۔
پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر سچائی کی فتح..!
بالآخر @SkySportsNews کو بھی عمران خان کے بیٹوں کے یکطرفہ انٹرویو کے بعد حکومتِ پاکستان کا موقف نشر کرنا ہی پڑا۔
حکومتی موقف نے تمام جھوٹے بیانیے کا پردہ چاک کر دیا ہے.
عمران خان ایک سزا یافتہ قیدی ہیں جو طبی لحاظ سے بالکل فٹ ہیں، انہیں سات کمروں کی الگ جیل کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے اور دورانِ قید اب تک خاندان، وکلا اور دیگر افراد سے 900 سے زائد ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔
میڈیا ہاؤسز پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ نے ثابت کر دیا کہ صحافت کا اصل معیار کہانی کے دونوں رخ دکھانا ہے، نہ کہ یکطرفہ پراپیگنڈا پھیلانا! 🇵🇰💥
راولپنڈی میں خصوصی چھوٹی جیل مکمل
راولپنڈی میں خصوصی انتظامات کے لئے فوج تعینات
ملزمان کو میڈیکل فٹنس سرٹیفیکیٹ کا اجرا
فیملی کی طرف سے ملزم کی فٹنس کی تصدیق
اب بھی آپ کہیں گے کہ ملزم کا ملٹری ٹرائل کورٹ شروع نہیں ہونے والا۔
ہمارا کام بتانا ہے
آپ کا کام گالیاں دینا ہے
دیتے رہئے
🙏