آپ دل تھام کر سنیں کہ بیکن ہاؤس سکول / یونیورسٹی کو ایک این جی او کے تحت رجسٹر کر کے ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے اس کی فیسیں آپ جانتے اور وہاں صرف الیٹ کلاس جاتی ہے
شفا انٹرنیشل پاکستان کا مہنگا ترین ہسپتال ہے اسے بھی ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے
باقی سو یونٹ والے لائف لائن صارف تک پر چھ سو روپے فکسڈ چارج لگتا ہے
اسطرح ��ریب کا احساس کیا جاتا ہے
ظلم کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے
کل کراچی سہراب گوٹھ اڈے پر ایک منظر دیکھا جو دل کو اندر تک ہلا گیا۔ دو مسافر آئے تھے باپ اور بیٹا۔ چہرے پر غربت کے آثار، آنکھوں میں گھر جانے کی خوشی مگر جیب میں ٹوٹے خواب۔
وہ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ منانے کے لیے ٹکٹ لینے آئے تھے، مگر جب کرایہ سنا تو جیسے امید ہی دم توڑ گئی۔
کراچی سے ڈیرہ اسماعیل خان
نان اے سی بس کا کرایہ 5000 روپے اور اے سی کا 8000
اروپے
اور بس مالکان نے کہا کہ کل تک نان اےسی کا کرایہ 8000 روپے اور اےسی کا کرایہ 10000 ہوگا۔
یہ سن کر وہ دونوں خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر کھڑے رہے، پھر نظریں جھکا کر بغیر ٹکٹ لیے واپس چل دیے۔ نہ شکایت، نہ آواز… بس ایک بے بسی جو دل چیر گئی۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ کون سا نظام ہے جہاں خوشیاں ��ھی پیسوں کی محتاج ہو جائیں؟
کیا غریب کا عید منانا بھی اب ایک خواب بن چکا ہے؟
کیا حکومت اور متعلقہ ادارے اس مہنگائی اور بے رحم کرایوں سے واقعی بے خبر ہیں یا سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں؟
یہ صرف دو افراد کی کہانی نہیں یہ ہر اس غریب کی کہانی ہے جو اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنی ماں کی مسکراہٹ کے لیے ترستا ہے۔
آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو جنگل میں آگ طرح پھلا دیں تاکہ ہمارے افسران بالا جو کہ گونگے بہرے اور اندھے ہو چکے ہیں انکو کچھ تھوڑی سی شرم آجائے۔
اللہ اس ملک کے حالات بہتر فرمائے، اور ہر مظلوم کو اس کا حق نصیب کرے۔ آمین
ایک بات جو پنجاب حکومت کو سمجھ نہی آ رہی اس وقت عوام اپنی روزی روٹی سے تنگ ہے گھروں کے خرچے پورے نہی ہو رہے روزگار ختم ہو رہے غربت بڑھ رہی عام آدمی بجلی کے بل پورے کرنے سے قاصر ہے اس وقت سب سے زیادہ ضروری عوام کے لیے یہ رلیف کہ بجلی گیس پیٹرول سستا ہو
گلگت بلتستان کے الیکشن کمپئین میں قائدِخیبر سینیٹر مولانا عطاءالرحمٰن کی زبردست انٹری،
کارکنان اور عوام کا والہانہ استقبال، ہر طرف جمعیت کا جوش و جذبہ عروج پر۔
متحدہ عرب امارات میں 23 لاکھ پاکستانی ہیں سب کے سب امام مسجد تو نہیں ہیں اُن میں وارداتیے بھی ہیں بھکاری بھی ہیں اور بھی ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں جو بتائے نہیں جا سکتے قوانین کی خلاف ورزی پر ڈی پورٹ کرنا اُنکا حق ھے 23 لاکھ میں سے دو چار ہزار یا دس ہزار بندہ ڈی پورٹ ھو بھی جائے تو رولا ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے. وزیر دفاع خواجہ آصف
تازہ ترین
الحمد للہ
مغوی بچی حورم جےیوآئی سربراہ سردار ابراہیم جتوئی، مولانا عبداللہ مہر ودیگر قبائلی رہنماؤں کی وساطت سے باضابطہ طور پر SSP شکارپور کے آفس میں سرکاری افسران کی موجودگی میں حوالہ ہوگئی ۔
شکریہ
برادرم مولاناراشدمحمود سومرو صاحب صوبائی جنرل سیکرٹری جےیوآئی سندھ
اپوزیشن کی کل سیاست کا محور آجکل صرف مولانا فضل الرحمن ہیں وہ چاہیں گے تو اپوزیشن میدان گرم کر سکے کی انکی ہاں میں سب کی ہاں اور انکی نا میں سبکی نا ہوگی پھر کہتے ہیں مولوی کا سیاست سے کیا لینا دینا
میں آج جس ماحول میں گفتگو کر رہا ہوں، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں اور آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔
مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں ہے۔ ہمارے شیخ مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے۔ وہ ہمارے صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے تھے۔ ان کے سسر، قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے، مولانا حسن جان شہید۔ مولانا معراج الدین اس پارلیمنٹ کے رکن رہے، شہید ہو چکے ہیں۔ مولانا نور محمد صاحب وانا کے، وہ اس پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں اور وہ بھی شہید ہو چکے ہیں۔
باقی جو ہمارے اکابر علماء ہیں، جو میرے لیے میرے استاد کا مقام رکھتے ہیں، وہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور جمعیۃ علماء اسلام ہو، تمام مکاتب�� فکر کی سیاسی جماعتیں ہوں۔
تمام مکاتبِ فکر کے مدارس ہوں، مدرسین ہوں، علماء ہوں، طلباء ہوں، طول و عرض میں یہ سب لوگ پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کس چیز کی سزا ان کو دی جا رہی ہے کہ آئے روز ہم جنازے اٹھا رہے ہیں؟
باجوڑ میں ہم نے ایک جلسے کے اندر اسی جنازے اٹھائے۔ وانا وزیرستان میں، شمالی وزیرستان میں ہمارے ضلعی صدور، ضلعی امیر، وہ تمام شہید کر دیے گئے ہیں، اور بعض اب بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک فعال زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
پندرہ، بیس آپریشن ہو گئے۔ آپریشن ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں، کبھی کس نام سے، کبھی کس نام سے، اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
ایک زمانہ تھا خان عبدالولی خان سے کسی نے پوچھا کہ ملک کدھر جا رہا ہے اس نے کہا ڈرائیور کو پتہ نہیں ہے ہم تو سواری ہے میرا خیال ہے ہمارے ڈرائیور کو بھی پتہ نہیں ہے
قائد جمعیت
#ری��ست_یا_سوتیلی_ماں
ایوان میں سنسرشپ کی بدترین مثال
قائدجمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب اپنی پارٹی رہنماؤں کی شہادت اور قربانیوں کا ذکر کررہے تھےکہ اچانک انکی آواز غائب ہوگئی،
مولانا صاحب کی تقریر کے دوران یوٹیوب پر کارروائی بھی لائیو دکھانا بند کردی گئی اور پارلیمان میں لگی سکرین پر جو تقریر چل رہی تھی اس کی آواز وقتا فوقتا بند کردی جاتی۔
#ریاست_یا_سوتیلی_ماں
مدارس کے طلبا آپ کے تعلیمی بورڈز کو ٹاپ کرتے ہیں ۔علماکو جمہوریت کی بات کرنے پر قتل کیا جارہا ہے ،سنا تھا ٹرمپ یا وفود آرہے ہیں ہمیں کہا گیا ہم نے مہنگائی کے خلاف مظاہرے منسوخ کئے جمہوریت اب مردہ لاش ہوچکی ہے حکومتی رویوں کی وجہ سے جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے ، مولانا فضل الرحمان
مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔
کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے تھانوں کی پولیس اپنے اپنے تھانوں کو چھوڑ کر پولیس لائن میں آ کر جمع ہو گئی ہے۔
جو مقامات ہمارے تحفظ کے لیے تھے، آج ان کو خود تحفظ حاصل نہیں۔ کس کے پاس جائیں؟
ہم روایتی لوگ ہیں۔ اگر میں غم کے اندھیروں میں کھڑا ہوں، اگر میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں، اور ہر طرف میرا خون بہہ رہا ہو، تو ایسے ماحول میں کم از کم میں جشن نہیں منا سکتا۔ بڑا دل ہے، ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے، زندگیاں غیر محفوظ ہیں، اور ساتھ ساتھ جشن بھی منایا جا رہا ہے۔
اس ساری صورتحال میں ہم نے یہاں بڑے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ میں روز مرہ کی بات کر رہا ہوں۔ پورے سال کے تعلیمی دور میں وہ ہر روز اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک مدرسے میں تیرہ سو اور دوسرے مدرسے میں پندرہ سو طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شہادت کے لباس میں دفن کیا گیا۔ تو مجھے فیض کا یہ شعر یاد آیا:
کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو
تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔
وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں۔ میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں تو وہ اپنا خون اپنی مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔ تو ہماری پالیسیاں کہاں ہیں؟ امن و امان نہ ہو تو کاروبار کہاں ہوگا؟
آج میرے علاقوں میں، جناب اسپیکر، توجہ سے سن لیجیے، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں۔ دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں م��ں مسلح لوگ۔ عام آدمی اپنے بچے کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، لیکن قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے۔
میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے۔ میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔
ہمارا کوئی سپاہی محفوظ نہیں، کوئی شہری محفوظ نہیں۔ ایک ہی گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا نوجوان صبح لے جایا گیا، صحرا میں اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی گاؤں سے ظہر کے بعد دوسرے شخص کو لے جایا گیا اور مغرب سے پہلے اس کی لاش آ گئی۔ اس طرح ہماری جانیں آسان ہو گئی ہیں، اس طرح ہمارا خون سستا ہو گیا ہے۔
آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے۔ کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ امن و امان کے لیے، نہ شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔
حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں: لوگوں کی معیشت کو بہتر کرنا اور لوگوں کی جان و مال اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا۔ نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں۔
اس بات کا بھی نوٹس لیا جائے کہ جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے ٹینڈر آتے ہیں تو ٹھیکیدار کو سائٹ پر جانے سے پہلے پورے ٹینڈر کے پیسے کا دس فیصد دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی ان علاقوں میں جاتے ہیں، ان گاؤں میں جاتے ہیں اور وہاں کس ماحول میں ہوتے ہیں؟
اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے نوٹیبل لوگ بھی اب غمی خوشی اسلام آباد تک محدود ہو گئے ہیں۔ اور اگر کوئی عام آدمی گاڑی میں جا رہا ہو یا درس حدیث دے رہا ہو تو اسے شہید کر دیا جاتا ہے، جیسے مرغی کو بھی اتنی آسانی سے ذبح نہیں کیا جاتا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ��ومی اسمبلی میں خطاب
بحرین نے 3 لوگوں کو آج لٹکا دیا ان میں ایک خاتون بدور الحامد جو پاسدران والوں کے لئے جاسوسی کر رہی تھی جسے 10 مارچ کو گرفتار کیا تھا
جو ایرانی حملوں پر جشن منا رہے تھے انہیں دس سال قید کی سزا دی گئی
سکردو میں جوان جلانے والوں کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی
جب سرکاری میڈیا نے مولانا صاحب کی آواز بند کر کے نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تو ایک خاتون نے اپنے موبائل سے ویڈیو بنانا شروع کر دی، یہاں تک کہ مولانا صاحب کی آواز ہر طرف پہنچ گئی۔
ایسی بہادر خاتون کو سلام !
#خون_سستا_پیٹرول_مہنگا
آ��نائے ہرمز کی بندش کا شور پوری دنیا میں ہے، مگر مہنگائی کا طوفان صرف پاکستان میں کیوں؟ نہ ایران میں یہ حال، نہ افغانستان میں، نہ بھارت میں۔ لیکن یہاں عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا۔ آخر کب تک غریب آدمی ہی قربانی دیتا رہے گا؟
#خون_سستا_پیٹرول_مہنگا
آبنائے ہرمز بند ہے، لیکن کسی ملک کے پیٹرولیم نرخوں پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا، پھر صرف پاکستان ہی وہ ملک کیوں ہے جہاں مہنگائی عروج پر پہنچ گئی؟
صرف پاکستان میں مہنگائی کا طوفان آیا۔ کہاں ہیں ہمارے معاشی ماہرین؟ کہاں ہیں ملکی معیشت کو منیج کرنے والے لوگ؟ نہ انڈیا متاثر ہوا، حالانکہ جہاز تو ان کے بھی رکے ہوئے ہیں، نہ خود ایران متاثر ہوا، حتیٰ کہ افغانستان تک متاثر نہیں ہوا، لیکن ہم نے یہاں عوام پر قیامت برپا کر دی، گویا ان پر پہاڑ گرا دیے ہوں۔
اب ہم کس سے روئیں؟ میں نے تو یہاں کھڑے ہو کر، ��الباً آپ ہی کی موجودگی میں، یہ تجویز دی تھی کہ پارلیمنٹ کا ایک اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، اور اس سے پہلے بھی ایسے اجلاس بلائے جا چکے ہیں۔ جناب یوسف رضا گیلانی کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں بھی اجلاس بلائے گئے تھے، اس سے پہلے اور بعد میں بھی بلائے جاتے رہے ہیں۔
اگر یہ پارلیمنٹ واقعی عوام کی نمائندہ ہے تو حکومت اس تجویز سے فرار کیوں اختیار کر رہی ہے؟ کیوں ہم سر جوڑ کر آپس میں نہیں بیٹھ رہے؟ کیوں ہمیں حالات سے آگاہ نہیں کیا جا رہا؟ کیا ہم اس آزاد ملک میں آزادی سے بات بھی نہیں کر سکتے؟
قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا قومی اسمبلی میں خطاب
جس وقت لکی مروت میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والوں کو ایمبولینس نا ہونے کے سبب رکشوں میں لے جایا جا رہا تھا عین اس وقت سہیل آفریدی تین ریسکیو کی گاڑیوں کے ساتھ دس پروٹوکول کی گاڑیاں لیے اڈیالہ کے لیے روانہ ہو رہا تھا،
یہ ہے ان باشعور لوگوں کا حال جن کو حکومت لاٹری میں ملی ہے!
#خون_سستا_پیٹرول_مہنگا