دنیا کا مشکل ترین کام نیند میں ڈوبی قوم کو بیدار کرنا ہے سوئی ہوئی قوم ظالم اشرافیہ کے لیے چوکیداری کا کام کررہی ہوتی ہے یہ صرف ظالمانہ نظام کی محافظ ہی نہیں بلکہ لٹیروں کے لیے اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے اس قوم کو آپ جبر کا غلام بھی کہ سکتے ہیں اتنی خوشی سے غلامی کرتے ہیں اگر کوئی ان کو احساس دلانے کی کوشش کرے تم کب تک غلامی کرو گے کب تک سسک کر زندگی گزارو گے اپنی عزت لوٹنے پر کب تک فخر کرو گے تو ان غلاموں کو بہت برا لگتا ہے کیونکہ وہ غلامی کے اس حد تک عادی ہوچکے ہوتے ہیں وہ اس غلامی کو اپنے لیے لگژری لائف سمجھتے ہیں ان کی روح ، ذہن اور جسم غلامی کے بدبودار کنویں میں اپنے زندہ رہنے اور متحرک رہنے کے راستے تلاش کرتا ہے اس لیے ان کو کوئی بیدار کرنے کی کوشش کرے ، جبر کی غلامی سے آزاد کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس کا مزاق اڑاتے ہیں اس کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں یہی کچھ اس وقت حافظ نعیم کے ساتھ ہورہا ہے اس وقت پورے پاکستان میں واحد سیاستدان ہے جو جذباتی نعروں اور اسکرپٹ پڑھنے کے بجائے غیر مقبول مگر حقیقی مسائل پر سڑک پر بیٹھا ہے عام آدمی سے لے کر غلامی کے کنویں کے ہی دانشور اس کا مزاق اڑا رہے ہیں ، جملے کس رہے ہیں میم بناکر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنس رہے ہیں یہی اس ملک کی لٹیری اشرافیہ چاہتی ہے جب کوئی اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے جب کوئی اس کی لوٹ مار روکنے کی کوشش کرے تو جبرکے غلام اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں
اس ریاست کی بدقسمتی دیکھیں پیٹرولیم کا معاملہ ہو یا عام آدمی کو بااختیار بنانے کا معاملہ ان کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کے سامنے سب سے پہلے آپ کو جبرکے غلاموں کی دیوار کھڑی ہوئی نظر آئے گی اس دیوار کے پیچھے ظالم اشرافیہ چھپی مسکرارہی ہوتی ہے یہ غلام اشرافیہ کی سانسیں ہیں
اب اسباب تمہید سن لیں حافظ نعیم نے دھرنا پیٹرولیم کی قیمتیں کم کرنے کے لیے نہیں دیا تھا یہ تو حافظ نعیم کو بھی معلوم ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے جڑی ہوتی ہیں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھے گی تو پاکستان میں بھی بڑھے گی حافظ نعیم نے دھرنا ایک لیٹر پیٹرول پر 80 سے ایک سو بیس روپے کی لیوی کا بھتہ اور ظالمانہ ٹیکس وصول کئے جارہے ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے دیا ہے اور اس کے ساتھ پوری فہرست دی ہے اگر حکمران اشرافیہ اپنی ان عیاشیوں کو ��تم کردے تو پھر لیوی اور جبری ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی
حکمران نہ تو خود اپنی عیاشیوں کو چھوڑتے ہیں اور نہ ہی اشرافیہ کو چھیڑتے ہیں ان کا بس پیٹرول کی قیمت پر وصول کئے جانے والے بھتے اور تنخواہ دار ملازمیں سے ٹیکس کی وصولی پر چلتا ہے
یقین کریں کہ اس ملک کی مجموعی آبادی کا صرف ایک فیصد اپنے مسائل کے حل کے لیے سڑک پر آجائے تو اشرافیہ چاروں شانے چت ہوجائے مگر لوگ سڑکوں پر نہیں آتے ظلم کے خلاف بات نہیں کرتے ہوئے جو ظلم کے خلاف بات کرتا ہے جو چند افراد سڑک پر آتے ہیں ان کا مزاق اڑاتے ہیں میم بناتے ہیں ان کے حوصلے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہی جبر کے غلاموں کا خاصہ ہوتا ہے
اگر آپ اپنی شدید مصروف زندگی کے باعث آپ کی ہی جیب سے آپ کے ہی پیسے نکالنے والوں کے خلاف کھڑے لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتے تو جو چند افراد آپ کے لیے سڑک پر بیٹھے ہیں کم از کم ان کو مزاق تو مت اڑائیے
جماعت اسلامی اور ان کے امیر انجینئر نعیم اکرحمنُ کا جتنا شکریہ ادا کریں وہ کم ہے کہ کم از کم ایک سیاسی جماعت مہنگائ کے اس طوفان میں حکومت کے اس نقار خانے میں طوطی ہی سہی لیکن آواز تو بلند کر رہی ہے۔۔ باقی سیاسی جماعتیں تو گویا مر ہی گئ ہیں۔۔ اس Clueless فارم 47 حکومت نے ہر صنعت اور زراعت کی کمر توڑ دی ہے۔۔ سیاسی جماعتیں مہنگائی کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں اور بھرپور احتجاج کیلئے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں!؟
جس طرح تحریک انصاف کی سوشل میڈیا کے کئ بے نام لوگ تشدد کا نشانہ بننے والے، سروں پر کالا کپڑا ڈال کر پیش کرنے جیل جانے والے تحریک انصاف کی لیڈرشپ کا مذاق اڑاتے ہیں اسی طرح مہنگائ کے خلاف احتجاج پر @JIPOfficial کے احتجاج کا ٹھٹھہ لگایا جا رہ ہے، سمجھ سے باہر ئے مہنگائ کے خلاف احتجاج حکومت کی مدد کیسے ہے اور تحریک انصاف کے بے نامی اکاؤنٹس کو اس سے تکلیف کیا ہے؟ نون لیگ اور پیپلزپارٹی اولے مہنگائ کا دفاع کریں سمجھ آتی ہے PTI ک�� بے نامی اکاؤنٹس کیا ��ک گئے ہیں ؟
سمجھ سے باہر ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت مہنگائ پر اپنی بساط کے مطابق احتجاج کر رہی ہے تو اس کئ حمائیت نہیں ہو سکتی تو ان کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ آج اگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں عوام کا درد ہوتا تو ہر جماعت سڑک پر ہوتی اور قیامت خیز مہنگائی ہر شہباز اینڈ کو کا احتساب کر رہی ہوتی
حافظ نعیم ۱۰ ستمبر کو فائنل کال ڈینگے
کراچی دھرنا جاری ❤️
End Bhatta Levy
No More Bhatta Levy
Bhatta Levy NaManzoor
Hafiz Naeem
Jamaat e Islami
JI Dharna
#بھتہ_لیوی_ختم_کرنا_پڑے_گا
رانا ثناءاللہ کی یہ بات تو بالکل درست ھیکہ عوام عمومی طور پہ مہنگائی کیخلاف اس دھرنے سے لاتعلق ہیں مگر معاملہ یہ ھیکہ یہی عوام گھر گھر دفاتر اور ہوٹلز پہ بیٹھ مہنگائی کا ہی رونا رو رہے ہیں مگر سڑک پہ نکلنے کو کوئی آمادہ نہیں
Thousands of people have risen in protest in front of the Governor's House in Peshawar against petrol prices and extortion-like levies like Bhatta; they have been sitting in a sit-in for four days. Every pakistani should join this Dharna
#BhattaLevyKhatamKro#NoMoreBhattaLevy
ہر پاکستانی کو سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ پیڑول کے اوپر اضافی لیوی بھتہ صرف جماعت اسلامی کا مسئلہ نہیں ہے
نکلو گے تو مسئلہ حل ہو گا
Ji Dharna
#BhattaLevyKhatamKro