اگر وکلا تحریک چلانی ہے تو جسٹس ریٹائرڈ اطہر من اللہ اور جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ سپریم کورٹ کے باہر دھرنے پہ بیٹھ جائیں پھر پولیس آئے یا فوج وہ خود سے نہ ہلیں جیل میں ڈالتے ہیں ڈالیں ڈنڈے مارتے ہیں ماریں یہ دو ڈٹ کے رہیں تو وکلا تھریک انکے پیچھے کھڑی ہوجائے گی جو گناہ ان دونوں نے کئے ہیں انکا ازالہ صرف ایسے ہی ممکن ہے قاضی کو ریسکیو کرنے سے لے کے قاضی کو اثدھا بنانے میں ان دو ججوں کا بہت کردار ہے آئین توڑنے میں بھی سہولت کاری انہوں نے کی اب اسکو ٹھیک کرنے میں قربانی بھی ان دونوں کو دینی چاہیئے!
گود میں بچے کو اٹھائے ہوئے ماں کا پیر اچانک پھسل گیا اور سر زمین پر لگنے کی وجہ سے اسے شدید دماغی چوٹ (Brain Trauma) آئی۔
اس ماں کا دل بالکل بند ہو چکا تھا، لیکن وہاں اتفاق سے موجود ایک نرس نے بروقت طبی امداد دے کر اسے معجزاتی طور پر دوبارہ نئی زندگی دے دی۔ ❤️
یہ سچ ہے کہ عمران خان نے موروثی سیاست کے خلاف تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور یہ اصول آج بھی قائم ہے۔ عمران خان نے اپنے خاندان میں عہدے نہیں بانٹے نہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح ایک خاندان کو ہی حق حکمرانی کے لائق سمجھا۔
لیکن بدقسمتی دیکھیں عمران خان نے جن عام لوگوں کو عہدے دئیے، انہوں نے وفا نہیں کی۔ وہ سب آج مائنس عمران خان پلان کا حصہ بن چکے ہیں۔ عمران خان کی بہنوں کے علاوہ پارٹی میں سے کوئی بھی عمران خان کے لیے آواز اٹھاتا نظر نہیں آتا۔
بہنوں کا اپنے بھائی کے لیے آواز اٹھانا موروثیت نہیں ہے بلکہ یہ ان نامرد اور غداروں کے منہ پر طمانچہ ہے جنہوں نے عمران خان سے وفا نہیں کی اور اپنا فرض نہیں نبھایا۔
یہ لوگ اگر اپنی زمہ داریاں پوری کرتے تو عمران خان کی بہنوں کو سامنے آنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس لیے موروثیت کا منجن بیچنے والے نمک حراموں کی اصل حقیقت یاد رکھیں اور انہیں اصل چہرہ دکھاتے رہیں۔
آخری اور واحد حل یہی ہے کہ علیمہ خان عمران خان کی رہائ کی تحریک کو لیڈ کریں ، سیاسی ٹھگوں عہدیداروں کو اسمبلیاں اور صوبہ چلانے سے فرست نہیں سسٹم کو کندھا دینے سے فرصت نہیں اس صورتحال میں علیمہ خان کو اختیار اپنے ہاتھ میں لینے چاہئیں اور ملک گیر تحریک چلانی چاہیے ۔۔
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
"عمران خان سر جھکانے والے نہیں، ان کا فوری علاج یقینی بنایا جائے" — علیمہ خان کا اہم بیان
علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران بگڑتی ہوئی طبی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کی گونج لوئر دیر اور تیمرگرہ کے سیاسی حلقوں میں بھی سنی جا رہی ہے۔
بیان کے اہم نکات:
طبی تشویش: عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ (خون کا لوتھڑا) بننا انتہائی تشویشناک ہے، حکومت فوری معائنہ کرائے۔
تحریک کا مقصد: تیمرگرہ سمیت ملک بھر میں جاری تحریک کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ قائد کا مناسب علاج ہو سکے۔
کپتان کا عزم: علیمہ خان کے مطابق، عمران خان نے واضح کیا تھا کہ وہ جیل میں جان دے دیں گے لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ وہ خود کبھی مطالبہ نہیں کریں گے، اس لیے لوئر دیر کے عوام اپنے قائد کے حقوق کے لیے میدان میں کھڑے ہیں
اب ہم سڑکوں پر نکلیں گے، ان کی جرات کیسے ہو رہی ہے کہ یہ عمران خان کے ساتھ ایسا سلوک کریں، جب تک پریشر نہیں ڈالیں گے تب تک عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکتی
مزاحمت کی نشان علیمہ خان 🔥
اسلحے اور طاقت کے زور پر زبردستی نکالے گئے لوگ ہیں۔ سیاسی سوچ تبدیل ہوتی یا کسی لالچ کے لیے جانا ہوتا تو کافی پہلے چھوڑ جاتے۔ سیاسی لوگ تھے کوئی تربیت یافتہ کمانڈوز تو تھے نہیں کہ جرنیلوں سے لڑ جاتے مگر آفرین ہے ڈٹ جانے والوں خصوصاً ان خواتین پر جو یہ لڑائی بھی لڑ گئیں اور آج ملٹری اسٹیبلشمنٹ انہی کی وجہ سے ہلکان ہوئی پڑی ہے۔
علیمہ خان کا خطاب 🚨
ہمارے خاندان کا مسئلہ سمجھ لیں، ہماری تکلیف سمجھ لیں، ہم اگر پریشر نہیں ڈالیں گے، تحریک کا مطلب ہے کہ آپ اس حکومت پہ پریشر ڈالیں۔
عمران خان نے کبھی نہیں کہا تھا ان سے بھیک مانگو۔ عمران خان نے کہا تھا کہ میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن یزید کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا
تحریک انصاف میں بلو پاسپورٹ والوں کی بھی جگہ نہیں ہے۔
تحریک انصاف میں عمران خان کی قید پر خاموش تماشائیوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں انڈر کور ایجنٹوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں منافقوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں دبے پاؤں کی بھی جگہ نہیں ہے
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
ہم عمران خان کے نام پر ایم پی اے، ایم این اے بنے ہیں، عمران خان کے نام پر کھاتے ہیں
میرے سمیت جس بھی ورکر میں تھوڑی سی شرم و حیا و غیرت ہوگی، تو لیڈر شپ سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے لائحہ عمل کا مطالبہ کریں۔
عمران خان نے پچھلے سال کہا تھا کہ پی ٹی آئی میں اپنی تنظیم مضبوط کریں، 20 دسمبر کو عمران خان نے کہا تھا سہیل آفریدی کو کہہ کر کہ اسٹریٹ موومنٹ شروع کریں
علیمہ خان یاد دہانی کرواتے ہوئے 🔥