Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
پیارے مزمل۔
آپکو میجر صاحب نے ایک بار پھر استعمال کر لیا۔
میجر صاحب کی نظر یہ تصویر۔ میرے امریکہ آنے سے چند دن پہلے: عمران خان کے گھر میں ملاقات کے بعد کی تصویر۔
ویسے امریکہ آنے سے ایک رات پہلے انہی کے گھر میں رات 12:30am سے تقریبا رات 2 بجے تک میری اور خان صاحب کی ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں بہت سارے میر صادق اور میر جعفروں کا زکر اور notes exchange ہوئے تھے۔ تب تک خان صاحب کو بہت سوں کی حقیقت کا پتہ چل چکا تھا۔ اس آخری میٹنگ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ چاہیئے ہوئیں تو بتا دیجیے گا۔
رہی بات شہزاد اکبر کی تو انہوں نے کیوں استعفی دیا تھا اس بات کا نہ آپکو علم ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علم صرف دو لوگوں کو تھا ایک پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور دوسرا شہباز گل۔ آپ پارٹی پوزیشن میں بہت جونئیر تھے۔ آپکے سامنے انکو کب ہٹایا گیا۔ آپکا وزیر اعظم آفس سے تو کوئی دور دور تک لینا دینا نہیں تھا۔ عمران خان گرفتار ہونے سے ایک دن پہلے تک شہزاد اکبر سے رابطے میں تھے۔
چلیں آپکا یہ مسلہ تو حل کر دیا۔ ویسے یہ نان ایشو تھا۔
اصل بات خان کی رہائی اور علاج ہے۔ تو جب تک یہ مسلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ نے بجٹ صرف مختصر مدت کے لئے پاس کروانا ہے۔ اور سرپلس بجٹ پاس نہیں کروانا۔ اور دوسرا KP کے لوگوں کا پیسہ جنرلز کی جیب میں نہیں ڈالنا۔
اس میں تو لکھا ہے دونوں پارٹیاں ملیں اور dispute کو settle کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ چیک ڈس آنر والے کیسز ہیں، جب اگلی پارٹی کے پیسے دے دو گے تو مقدمہ ختم ہی ہو گا۔ الحمدللہ والی کون سی بات ہے۔
اگر مقدمے fake تھے تو عدالت جاتے، settlement نہ کرتے
My budget speech today at the @NAofPakistan on 2026-27 budget. Please compare this with the one posted on official Facebook and Twitter accounts of the @NAofPakistan, if and when it is posted.
If speeches are censored in the most sovereign house of the country what hope does there is for dialogue and end to political polarisation.
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
پولیس کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے قافلے، صوبائی وزراء اور اراکینِ اسمبلی پر لاٹھی چارج انتہائی افسوسناک اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔ اس واقعے میں مینا خان آفریدی اور طفیل انجم سمیت دیگر نمائندوں کا زخمی ہونا باعثِ تشویش اور قابل مزمت اور خیبرپختونخوا کے ساڑھے 4 کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی کھلی توہین ہے۔
جمہوریت، آئین کی بالادستی، صوبے کے حقوق اور عمران خان کی رہائی کے لیے ہماری پرامن جدوجہد پوری قوت سے جاری رہے گی!
یہ شخص جس کے ہاتھ پر کٹ لگا ہے اور اس سے مسلسل خون بہہ رہا ہے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سب سے بڑے حلقے کا منتخب ممبر ہے
افسوس کہ ریاست احتجاج کا حق بھی نہیں دے رہی
منتخب ممبران کو اگر پارلیمان کے باہر احتجاج کا حق نہیں تو عوام کا کیا حال ہوگا
1
بجٹ سرپلس پر شدید تنقید کے بعد سہیل آفریدی کی عمران خان سے ممکنہ ملاقات کی خبریں چل رہی ہیں یا چلوائی جارہی ہیں۔
2
یعنی سہیل آفریدی اگر ایوان اور اسمبلی کو اپنے اختیارات کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے تو بہت ساری چیزیں بہت پہلے سے منوا لیتے۔
3
یعنی جب عمران خان کی بینائی کا مسئلہ بنا تو سہیل آفریدی پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری کی بجائے سڑک پر ہوتے تو عمران خان کو علاج کی سہولت بھی مل جاتی۔
4
بہت ساری چیزیں مس کرنے کے بعد سہیل آفریدی اپنی وقعت اور اہمیت کھو چکے ہیں۔ اب ملاقات عمران خان کی بہنوں اور وکلاء کی بھی ہونی چاہیے۔ کسی ممکنہ ملاقات کی صورت میں صرف سہیل آفریدی کی ملاقات اور پیغام کا کوئی اعتبار نہیں۔
5
یہ ایک ملاقات نہیں ہونی چاہییے عمران خان کی ہفتہ وار ملاقاتوں اور علاج کو سرپلس سے مشروط کیا جائے۔ آئی ایم ایف کو بھی خط لکھ دیا جائے کہ جس ہفتے عمران خان کی ملاقات نہیں ہوگی اسی ہفتے سرپلس ختم۔
6
وہ لوگ جو سہیل آفریدی پر سرپلس ، بجٹ ، صوبائی معاملات اور وغیرہ وغیرہ پر تنقید کرنے کو غلط قرار دے رہے تھے ان کا موقف بھی غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ اسی تنقید کے سبب چھ ماہ کے طویل عرصے کے بعد عمران خان سے ملاقات کی کوئی سبیل پیدا ہوئی ہے۔
7
ملاقاتوں کی یہ خبریں وقتی اشتعال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی چل سکتی ہیں لہذا یوتھیے سہیل آفریدی سے نا کوئی ہمدردی رکھیں نا ڈھیل دیں۔
8
اگر بجٹ پاس نا کرنے سے حکومت جاتی ہے تو چلی جائے۔ تحریک انصاف کا اقتدار اور تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کو اور تحریک انصاف کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ فوج گورنر راج لگائے یا اراکین توڑ کر اپنا وزیراعلی لائے۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر مسائل کو طاقت اور گولی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید نقصان ہوتا ہے۔
ہمارے کشمیری بھائی شہید ہوئے، جبکہ ان کا قصور صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تھا۔ ان پر بھی اسی طرح گولیاں چلائی گئیں جس طرح 26 نومبر کو اسلام آباد میں ہمارے پُرامن کارکنوں پر چلائی گئی تھیں۔
گولی اور جبر کے بجائے اگر ریاست مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے تو نہ صرف تنازعات جلد حل ہو سکتے ہیں بلکہ جانی و مالی نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا کہ بندوق اور ڈنڈے کے زور پر لوگوں کی آواز دبانا ہی واحد حل ہے، تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں نہ مذاکرات کارگر رہیں گے اور نہ ہی طاقت کے استعمال سے معاملات قابو میں لائے جا سکیں گے۔
پی ٹی آئی کے ناراض ایم پی ایز سے ایک سوال
کیا عمران خان کی گرفتاری خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کے بعد ہوئی ہے کہ آپ لوگوں کو اب ان کی رہائی کی تحریک یاد آ گئی ہے؟
تحریک انصاف کا وزیر اعلی ، عمران خان کا وزیر اعلی سہیل خان آفریدی ہے۔ کسی عدالتی فیصلے کے انتظار میں یا اسکی آڑ میں گنڈاپور کی راہ ہموار کرنا ناراضی نہیں دغا بازی اور ڈرامے بازی ہے۔ اگر یہ اراکین واقعی عمران خان کی رہائی کے لیے یا کسی تحریک کے لیے اکٹھے ہورہے ہیں تو خوش آمدید۔ البتہ سہیل آفریدی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہے۔ تحریک انصاف کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ اسکی مصلحت کوشی اور فوجی بہکاووں میں آنا عمران خان کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
گلگت بلتستان (GB) انتخابات میں دھاندلی پر پی ٹی آئی قیادت کو اپنی ماضی کی غلطیوں کے نقصان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت اور پارٹی دونوں نے 8 فروری کے بعد دھاندلی زدہ انتخابی نتائج کا پیچھا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کے پی اسمبلی نے نگران حکومت کے 12 ماہ کے غیر قانونی اخراجات کو جائز قرار دینے کا انتخاب کیا۔ وزیر اعلیٰ مسلسل کہتے رہے کہ وہ انتخابات پر انکوائری کے حوالے سے عمران خان کے احکامات پر عمل کریں گے، لیکن انہوں نے کبھی نہیں کیا۔
نتیجہ: ہری پور ضمنی انتخابات۔ جی بی انتخابات۔ اور اسی طرح کا دیگر سلسلہ...