ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ۲۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ اپ دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ سے ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات مہینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ریاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا تھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے مل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
زیادہ معلومات متاثرین کی سلامتی کی وجہ سے ظاہر نہیں کر رہا لیکن صرف اتنا بتانا ہے قوم کو کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی مکمل طور پر غیر سیاسی بچیوں اور خواتین کو بھی آدھی رات چھاپے مار کر گھروں سے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ نواز شریف اور آصف زرداری، شہباز شریف اور بلاول بھٹو صاحب، اگر آپکے رشتوں میں کوئی عورت ہے تو آپ کو اتنی غیرت تو کھانی چاہیے تھی کہ ریاست کا ہاتھ بچیوں اور عورتوں پر نہ اٹھنے دیتے، مریم نواز گرفتار ہوئیں تو بلاول بھٹو نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر عمران خان کو بے غیرت کہا، اب بے غیرت کون ہے؟ یہ قرض صرف آپ ہی نہیں بلکہ آپکی نسلوں سے بھی قوم وصول کرے گی۔ اور وہ بے غیرت ٹاوٹ صحافی اور دانشگڑھ جو اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود ابھی تک کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کروا رہے ہیں، اُن پر تُف ہے، غیرت مند اور باحیا انسان کسی برائی کی ایک حد سے زیادہ وکالت نہیں کرتا
محسن نقوی کی ایف آئی اے امیگریشن شہریوں کے ساتھ کیا کر رہی ہے، یہ واقعہ گزشتہ رات ایک وکیل ثنااللہ گوندل کے ساتھ پیش آیا جو انہوں نے فیس بُک پر پوسٹ کیا ہے۔
اُن کے الفاظ۔۔
”ذلتوں کے مارے لوگ
ہم ایک سرکاری ادارے کے لیگل ایڈوائزر ہیں۔ ملک سے باہر جانے کے لیے ادارے سے ایک این او سی لینا پڑتا ہے۔ ہم دو تین دفعہ پہلے سرکاری اور دو تین دفعہ ذاتی طور پر ملک سے باہر گئے ہیں۔ اور ہر دفعہ اپنے ادارے سے این او سی لے کر جاتے ہیں۔ آج بھی وہی این او سی تھا۔ لیکن امیگریشن افسر نے کہا کہ اس پر صرف جانے کی تاریخ لکھی ہے آنے کی نہیں لکھی۔ یہ نہیں چلے گا۔ عرض کیا ہمیشہ سے ہمیں یہی این او سی دیا جاتا ہے اور ویسے بھی ابھی تو میں جا رہا ہوں۔ آپ جانے کی تاریخ دیکھیں۔ آنے کی اس وقت دیکھیے گا جب واپس آئیں گے۔ یاد رہے ہمیں لائین میں کھڑے ایک پورا گھنٹہ ہوچکا تھا اور شوگر کی وجہ سے ہمارے پیر جل رہے تھے۔ کھڑا ہونا مشکل ہوگیا تھا۔
افسر کے اعتراضات سے زچ ہوکر ہم نے خود کو بطور پاکستانی با آواز بلند لعن طعن شروع کردی۔ جو گستاخی کے ذمرے میں شمار کی گئی۔
ہمیں ایف آئی اے والوں نے بٹھا لیا۔ اس دوران وہ ہمیں مسلسل دھمکیاں دیتے رہے کہ پولیس سٹیشن بات کر رہے ہیں اور یہ ہر سال باہر جاتا ہے تو اس پر منی لانڈرنگ کا کیس بناؤ۔ پھر پوچھا ڈالر کتنے لے کر جا رہے ہو۔ اتفاق سے خاکسار کے پاس ایک بھی ڈالر نہیں تھا۔ ہم کارڈ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔
پھر انھوں نے ہم سے ایک ویڈیو معافی نامہ لیا جو غالباً آپ تھوڑی دیر میں سوشل میڈیا پر دیکھیں گے جس میں پاکستانی عوام کی مظلومیت اور احساس ذلت آپ کو پوری طرح نظر آئے گا۔
اگرچہ ہمیں معلوم ہے کہ وطن عزیز میں سرکار کے ہاتھوں ذلت ایک معمول ہے اور اس میں ناراض ہونے یا غصہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم تھکے ہوئے ہوں اور خاص طور پر نیند خراب ہوئی ہو اور اوپر سے شوگر کی وجہ سے پیاس بھی لگی تھی۔ تو اس صورتحال میں ہم کبھی کبھی بھول جاتے ہیں۔ وہ تو شکر ہے کہ سرکار وقتاً فوقتاً یاد کرواتی رہتی ہے۔
ہمیں شوگر کی وجہ سے پیاس بہت لگتی ہے اور باتھ روم بھی بار بار جانا پڑتا ہے اس لیے ہم قید یا پابندی سے بہت گھبراتے ہیں۔
خیر ہم نے احتیاطاً فیس بک پر شور مچا دیا تاکہ کوئی مدد امداد پہنچ سکے۔ کچھ نیک دل دوستوں نے ادھر ادھر فون کر کے ہماری جان چھڑوائی۔ ہم بری طرح تھک اور اک چکے تھے۔ اور خلق خدا کے حوصلے کی ایک دفعہ پھر داد دی۔“
TTAP had applied for a political gathering at press club Karachi on Aug 5th to highlight 3 years imprisonment of Imran Khan. The application was sent more than 3 weeks ago. But no approval has been given for reasons unknown.
Highly disappointed but will make alternate arrangements.
“There is a pressing need to initiate a national debate on the necessity and benefits of creating new provinces. However, when a government that lacks in legitimacy takes up such a sensitive issue, controversy is inevitable”. https://t.co/f7PNGbKqlR
With absolutely no respect for military apologist @anwaar_kakar, whose public role has long been, in my view, to defend whatever the generals decide. While Balochistan has witnessed decades of enforced disappearances, extrajudicial killings, and systematic repression, he has consistently chosen to justify the establishment instead of standing with the victims or demanding accountability.
@jeremycorbyn, you were absolutely right to raise concerns over the brutal killing of protesters in AJK who were demanding their democratic rights. This regime has turned propaganda into a governing strategy: brand protesters as “armed,” label dissent as a threat to the state, and then use those accusations to justify violence and repression.
We’ve seen the same script before, after 9 May 2023 and again following 26 November 2024. Manufacture a narrative, criminalise dissent, suppress scrutiny, and then expect the world to accept the official version without question. In my view, Kashmir is being subjected to the same playbook.
And don’t be impressed by the titles Anwaar Kakar carries. He never became Prime Minister or Senator through a direct public mandate. His political career is widely seen as a product of the establishment, not the ballot box.
Knowing your lifelong commitment to justice and human rights, I doubt you’ll be swayed by his talking points. But it is still important to publicly call out military propagandists and apologists instead of allowing disinformation and state narratives to go unchallenged.
محسن نقوی اور ڈی جے بابو نے سسٹم reset کرنے اور حکومت فیل ہونے کی بات کی ہے
لیکن زیادہ تر انصافی انکی باتیں سن کر ن لیگ پر چڑھائی نہیں کررہے بلکہ کہہ رہے ہیں
1. اپکو سیاست اور سیاسی معاملات پر بولنے کا حق نہیں
2. سسٹم کے فیل ہونے کے سب سے بڑے ذمہ دار آپ خود ہیں
یہ ہے اصل شعور
بالکل جیسے لیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ن لیگ پنجاب کے نائب صدر کو چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز بنایا گیا۔ ن لیگ یوتھ ونگ لاہور کے صدر کو ڈائریکٹر بنایا گیا۔ میو ہسپتال میں آنکھوں کے سرکاری ڈاکٹر کو بھی ڈائریکٹر بنایا گیا کیونکہ وہ اہم لیگی رہنما کے بیٹے تھے؟
بلوچستان میں ستر سال سے ہمارا کنٹرول ہے لیکن قصور سرداروں اور ایلیٹ کا ہے ۔۔
ملک میں ستر سال ہم نے حکمرانی کی ہے لیکن سسٹم تباہ ہوچکا ہے ۔۔
ہر بار ملک کا آئین ہم نے توڑا لیکن ہمیں ایسی ہارڈ سٹیٹ چاہیے جس میں آئین و قانون پر عمل ہو ۔۔
اندازہ کریں انکی سوچ کے لیول کا
گشکوری صاحب @ZahidGishkori بشری بی بی کی سزا معطلی درخواست میں ضمانت میڈیکل گراؤنڈ پر نہیں بلکہ میرٹ پر مانگی گئی ۔۔۔ پٹیشنز میں حوالے کے طور پر بہت کچھ لکھا ہوتا ہے لیکن کاونٹ وہ ہوتا ہے جو Prayer میں ہو ۔۔۔ Prayer میں میڈیکل گراؤنڈ نہیں ہے
درخواست اگر میڈیکل گراؤنڈ پر تو پھر عدالتیں کیس کی فائلیں نہیں کھولتیں بلکہ میڈیکل رپورٹس یا میڈیکل بورڈ کی رپورٹس پر فیصلہ ہوتا ہے
درخواست میں اگر میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا ہو تو پھر فیصلہ کیس کی فائل کھول کر سن کر میرٹ پر ہوتا ہے جس طرح بشری بی بی کی اس درخواست میں ہے
یہ دونوں میں فرق ہے
’’غیر معینہ مدت والی بات کوئی ’ان پڑھ جاہل‘ ہی کر سکتا ہے قانون میں غیر معینہ مدت کی بات ہی نہیں‘‘ موجودہ مشیر داخلہ پرویز خٹک کا تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد دیا گیا انٹرویو
اس وقت قانونا تاحیات ایکسٹنشن ممکن ہی نہیں تھی۔
https://t.co/tfXjIwX1Tw
محسن نقوی نے کہا ہے کہ یہ سسٹم برباد ( collapse ) ہوچکا ہے
قومُ یہ فقرہ پہلی دفعہ نہیں سن رہی ۔ جنرل ایوب نے اکتوبر 1958, جنرلُ یحییٰ نے مارچ 1968جنرل ضیاء نے جولائی 1977 اور جنرل مشرف نے اکتوبر 1999 میں قوم سے یہی کہا کہ یہ سسٹم برباد collapse ہوچکا اورپھر ہر ایک نے اس ملک کی عمارت کو گرانے میں اپنا حصہ ڈالا اور آج اسکی چھت گر چکی ہے اور یہ قوم ننگے آسمان تلے پڑی ہے
یہ سسٹم اُس دن مزید تباہ ہوا جب آپ نے ایک چلتی ہوئی حکومت کو گھر بھیجا، جب 8 فروری کے عوامی مینڈیٹ کی بے حرمتی کی، جب ہر اختلافِ رائے رکھنے والے نوجوان (کاکروچ ) کو دہشت گردی کا لیبل دیا، جب اپنے حقوق مانگنے والوں کے سروں میں گولیاں برسائیں اور ہر اٹھتی آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی۔
آج کی ہر مایوسی، ہر ظلم، ہر انتشار اور ہر تباہی کی ذمہ داری آپ کی!
جناب وہ اپنی جعلی حکومت کو سسٹم نہیں کہہ رہے وہ تو انکے مطابق بہترین چل رہی ہے وہ اصل میں پارلیمانی نظام کو "سسٹم" کہہ رہے ہیں کہ یہ جو صوبائی سسٹم ہے یہ جو پارلیمانی نظام ہے یہ سب collapse ہوگیا ہے لہزا وردی والے صدارتی نظام کی سخت ضرورت ہے جسکے نیچے 4 صوبوں کی بجائے 12 یونٹ ہوں
اسٹیبلشمنٹ اور محسن نقوی صاحب جو مرضی منصوبہ بندی کر لیں صدارتی نظام لائیں یا ٹیکنوکریٹ سسٹم، اس کی حتمی منظوری اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے لینا ہو گی۔ اگر عمران خان نے نئے نظام کی توثیق نہ کی تو ملک کی 90 فیصد سے زیادہ عوام کی حمایت اس سسٹم کو حاصل نہیں ہوگی۔ بات گھوم پھر کے کاکروچوں پر ہی آ کے رکنے گی۔ عمران خان اس سسٹم کی حمایت کسی صورت نہیں کرے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے چند مہینوں میں اس نظام کا ناکام ہونا ابھی سے دیوار پر لکھا ہے!!
آخر میں انہوں نے سسٹم کو "ٹھیک" کرنے کے لئے صدارتی نظام لا کر خود ہی صدر بن جانا ہے
یہ ساری تقریریں سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کو مظبوط کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ اپنے قبضے کو نیا رنگ دینے کے لئے ہے
مبینہ تحقیقاتی ایڈیٹر صاحب آپ نے کبھی چیک کیا آر ٹی ایس کیوں استعمال ہوا تھا؟ آر ایم ایس کس مقصد کےلئے تھا؟ 2018 میں کس سیاسی جماعت نے الیکشن ٹربیونلز میں زیادہ پٹیشنز دائر کی تھیں؟ 2018 کی اپوزیشن نے مشترکہ طور کتنی پٹشنز دائر کی تھیں؟ 2024 میں ای ایم ایس استعمال ہوا تھا نتیجے کیوں نہ آئے؟ آئے تھے تو چھپائے کیوں گئے؟ 2022 میں ضمنی انتخابات میں ای ایم ایس کامیابی سے چلا تھا تو 2024 میں یہ صرف الیکشن کمیشن کے کنٹرول روم تک کیوں محدود تھا؟ مبینہ تحقیقاتی ایڈیٹر صاحب کبھی آپ نے پوچھا سوچا یا رپورٹ کیا کہ الیکشنز 2024 سے پہلے ٹربیونل کا قانون بدلہ الیکشنز کے بعد پھر کیوں بدلہ؟ اسلام آباد کا ٹربیونل کیوں بدلہ؟ ابھی تک ایک بھی حلقے کی پٹیشن پر فیصلہ کیوں نہ ہوا؟ مبینہ تحقیقاتی ایڈیٹر صاحب آپ نے کبھی سوچا کہ 2018 میں حنیف عباسی کو سزا ہوئی تو اس وقت کے الیکشن کمیشن نے پنڈی کے اس حلقہ میں الیکشن روک دیا تھا کہ ن لیگ کا امیدوار نااہل ہوگیا ہے فئیر الیکشن نہیں ہوگا، 2018 میں مریم نواز کیپٹن صفدر نااہل ہوئے تو الیکشن کمیشن نے ان کے متبادل امیدوار جو آزاد ڈیکلئیر ہوگئے تھے ان کو خصوصی اختیارات استعمال کرکے ن لیگ کا نشان دیا تھا، کیا آپ نے کبھی یہ رپورٹ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو 2024 میں کن بنیادوں پر الیکشنز سے باہر کیا گیا؟ کیسے قومی آئین اور قانون پر پارٹی کے آئین پر ترجیح دی گئی؟ کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا کہ سپریم کورٹ کے فل بنچ کے حکم کے باوجود مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو نہیں دی گئیں؟ کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا دنیائے جمہوریت کے صاف شفاف منصفانہ غیر جانبدرانہ انتخابات کرانے والا الیکشن کمیشن اپنی مقررہ حد سے ڈیڑھ سال زیادہ گذار چکا ہے حالانکہ 26ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جب تک نئے ممبران اور چیف الیکشن کمشنر نہیں آتے تب تک یہ کام کرتے رہیں گے لیکن اسی آئین کے آرٹیکل 215(4) میں واضح لکھا ہے 45 دن میں نئی تعیناتی ہوگی اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ جناب مبینہ تحقیقاتی ایڈیٹر صاحب یقینا آپ کو گند اور گل قند کے درمیان فرق کا پتہ ہوگا۔۔۔
عبدااللہ طاہر اس دنیا سے چلا گیا اب ان چیزوں کو کیوں ہوا دے رہے ہیں۔ عبدااللہ طاہر کا جب ٹکٹ کا اعلان ہوا تھا تب عبداللہ طاہر کہاں تھے صرف اس بات کی تحقیق کر لیں سب کچھ واضع ہو جائے گا۔
عبدااللہ طاہر دل کا اچھا بندہ تھا اس کی مغفرت کی دعا کریں ان باتوں کو نا ہوا دیں 🙏