یہ تحریک انصاف نہیں یہ عوام ہے جو تحریک انصاف اور عمران خان کا مقدمہ لڑ رہی ہے
یقین کریں جب جب کمپنی کی ظلم زیادتی اور بدمعاشی حد سے بڑھ جاتی ہے اور تمام امیدیں دم توڑنا شروع ہو جاتی ہیں تو سڑک پر چلتے کسی عام شخص عام عورت یا عام بزرگ کا کلپ ایک نئی جان ڈال دیتا ہے
ضیا الحق نے اپنی آمریت کو قبولیت دلوانے کے لیے صنعتکاروں اور زمینداروں کو اسمبلی میں رکنیت دی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ نواز شریف نے اٹھایا جسے پنجاب کا وزیر معیشت اور وزیر اعلیٰ تعینات بھی کیا۔
نواز شریف 5 مِلوں سے بڑھ کر 30 بزنسس تک پہنچ گیا جن کی سالانہ آمدنی 400 ملین ڈالر تھی۔
یہ قصہ سن کر اندازہ لگائیں کہ پنجاب پولیس کس بے دردی سے معصوم لوگوں کو اٹھا کر جیل میں ڈال رہی ہے، اور یہ سلسلہ ۹ مئی سے جاری ہے۔
انشااللہ آپ نے الیکشن میں انہیں ایسی عبرتناک شکست دینی ہے تاکہ پاکستانی قوم اس غلامی کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہوجائے۔
اللہ الحق ہے، اور سچ کو ہمیشہ ظاہر کردیتا ہے۔
آج لطیف کے عمران خان اور بشری بی بی پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی نفی خاور مانیکا کے اس انٹرویو سے ہوجاتی ہے۔
۱۔ اگر آپ کی بیوی پر واقعتا یہ بد کرداری کا الزام ہوتا تو کیا آپ اس کے گھر جا کر اسے واپس آنے کا کہہ رہے ہوتے؟ کیا آپ کی
والدہ آپ سے کہتی کہ اسے واپس لاؤ؟
۲۔ آپ نے ایک پرانے انٹرویو میں اپنی بیوی اور عمران خان کا دفاع کیا تھا اور سختی سے موقف لیا تھا کہ یہ دونوں نیک انسان ہیں۔ اگر لطیف کے بیان کی کوئی حیثیت ہوتی تو کیا آپ ایسا کہتے؟
ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خاور مانیکا اور ان کے نوکر لطیف
کل خان صاحب کے چند جملوں نے جس طرح پوری قوم کے حوصلے اٹھا دیے ہیں، اس سے آپ کو سمجھ آچکی ہوگی کہ عمران خان کو عوام کی نظروں سے دور کرنا کیوں ضروری تھا، کیونکہ نہ وہ خود دل چھوڑتا ہے نہ ہی وہ اپنی قوم کو دل چھوڑنے دیتا ہے۔
#دل_نہیں_چھوڑنا
کیسا حسِین معاملہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین اور بچوں کو میدان جنگ سے یا تو واپس بھیجوا دیا جاتا ہے یا انہیں پچھلی صفوں میں رکھا جاتا ہے لیکن تحریک انصاف کی خواتین اور یوتھ نے مزاحمت اور جرات کی ایسی مثال قائم کی ہے کہ دشمن کے اوسان خطا ہوئے بیٹھے ہیں۔
ظاہری طور پر تحریک انصاف کو ختم کیا جارہا ہے اور “جمہور پسند” ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس پر جشن منا رہی ہیں۔
لیکن ان حربوں کے باوجود ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو تحریک انصاف کی یوتھ اور خواتین سے شدید خوف ہے کہ یہ سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے الیکشن والے دن بازی پلٹ دیں گے 🔥
چند دن پہلے عمران خان نے جیل سے بھیجے گئے پیغام میں کہا تھا کہ جو مرضی کر لیں، میں حقیقی آزادی کی تحریک سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹون گا۔
ثاقب بشیر کا آج کی کیس کی ساعت کا حوالہ سنیں اور اس عزیز شخص پر رشک کریں جو اپنے ایک ایک وعدے کو پورا کر کے دیکھا رہا ہے۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک سکہ کے دو منہ ہیں۔ انکا اتحاد قوم کے سامنے عیاں PDM کی شکل میں 2022 میں ہوا لیکن انکی سیاسی ہم آہنگی پرانی ہے۔
2006 کی میثاق جمہوریت ایک معاہدہ تھا جس کے تحت دونوں جماعتوں نے باریاں لینی تھیں۔
ملی بھگت کا اعتراف PPP کے ایک امیدوار نے 2013 میں بھی کیا۔
ایک جیل میں بیٹھے شخص نے ملک کے سب سے بڑے جج کو خط لکھا ہے کہ جاری آءین شکنیوں اور لا قانونیت پر نوٹس لے جس کے جواب میں جج صاحب آپے سے باہر ہوگئے اور کہنے لگے میں پریشر میں نہیں آونگا ۔۔
قاضی صاحب جتنے نظر آتے ہیں اس سے بہت زیادہ گرے ہوئے ہیں
عمران خان کے لکھے گئے خط پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے بیہودہ جواب پر اسد طور کا ردعمل:
آپ اگر اپنی آئینی ذمہ داریاں جانتے ہیں تو لوگوں کے اغوا ہو جانے پر کیوں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے کیوں الیکشن میں پری پول دھاندلی پر خاموشی ہے؟
آپ کا کام گیان بانٹنا نہیں انصاف فراہم کرنا ہے۔
Let’s say we take his word that he is “cognizant of his duties,” does this mean that all illegal acts in the country, incl. the delay in elections, grave human rights abuses, abductions & forceful detainments are occurring because CJP is either indifferent or endorses them?
Supreme Court's response on Imran Khan's letter:
"Let all be assured that Justice Qazi Faez Isa, the Chief Justice of
Pakistan, is fully cognizant of his constitutional duties and will neither be pressurised nor favour anyone, and by the Grace of the Almighty shall
continue to fulfil his duties and abide by the oath of his office"
افراط ظر (یعنی مہنگائی کی شرح) کے حساب لگانے کا فارمولا یہ ہے:
(اس سال کی قیمتیں - پچھلے سال کی قیمتیں)/پچھلے سال کی قیمتیں
اس کا مطلب کہ اگر پچھلے سال کی قیمتیں زیادہ ہوں، تو عین ممکن ہے کہ اس سال قیمتوں میں مزید اضافے کے باوجود افراط ظر، یہ مہنگائی کی شرح کم ہو گی۔
اس کے باوجود
ان گرافکس کو دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، غریب اور مڈل کلاس تو کیا، اپر مڈل کلاس والوں کی کمر بھی ٹوٹ چکی ہے۔
کہ پاکستان میں پچھلا پورا سال مہنگائی پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہی ہے، اب بھی افراط ظر 29.2 فیصد ہے۔
دوسرے لفظوں میں، نومبر 2022 میں مہنگائی میں 2021 کے مقابلے میں 23.8 فیصد اضافہ ہوا، اور نومبر 2023 میں اس 23.8 فیصد کی مہنگائی کے اوپر مزید 29.2 فیصد اضافہ ہوگیا۔