ایک بیرل میں کتنے لیٹر ہوتے ہیں ؟
ایک بیرل میں 42 گلین ہوتے ہیں
1 گلین میں 3.78 لیٹر ہوتے ہیں
یعنی ایک بیرل میں تقریبا 159 لیٹرز ہوتے ہیں۔⛽
آج انٹرنشنلی ایک بیرل آئل 92 ڈالرز کا ہے
اور پاکستان میں ڈالر 280 کا ہے
92×280=25760
25760÷159=162
اس حساب سے پاکستان کو فی لیٹر آئل 162 روپے میں پڑ رہا ہے۔
عوام کو پٹرول 322 روپے لیٹر دیا جارہا ہے!
اب پاکستانی قوم کو بتایا جائے ایک لیٹر پر کیرج اور ریفائنری چارجز کتنے ہیں؟؟؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نئے رہبر مقرر۔۔۔۔
اسلامی ایران کی آزاد قوم، آپ پر اللہ کی سلامتی اور رحمت نازل ہو۔
مجلسِ خبرگانِ رہبری عظیم رہبر، حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (قدس سرہ الشریف) کی شہادت، اور دیگر معزز شہداء خصوصاً مسلح افواج کے اعلیٰ اور مخلص کمانڈروں اور میناب کاؤنٹی کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے، اور مجرم امریکہ اور شریر صہیونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے قوم کو آگاہ کرتی ہے:
رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی کی شہادت اور عروجِ ملکوتی کی خبر جاری ہوتے ہی—اگرچہ ملک شدید جنگی حالات میں تھا، دشمن اس عوامی ادارے کو براہِ راست دھمکیاں دے رہے تھے، اور مجلسِ خبرگان کے سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں کئی عملہ اور سکیورٹی ٹیم کے افراد شہید ہو گئے تھے—مجلس نے نظامِ اسلامی کے نئے رہبر کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کی۔
آئین اور مجلس خبرگان کے داخلی ضوابط میں متعین ذمہ داریوں کے مطابق، غیر معمولی اجلاس کے انعقاد اور نئے رہبر کے اعلان کے لیے ضروری اقدامات اور انتظامات کو فوری طور پر اپنے ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔ چنانچہ پورے ملک سے مجلس کے معزز نمائندوں کو جمع کرنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی گئی تاکہ آئین کے آرٹیکل 111 میں عارضی کونسل کی تشکیل کے لیے موجود تدابیر کے باوجود ملک کو قیادت کے خلا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دورِ غیبت میں ولایتِ فقیہ کے بلند مقام اور اسلامی جمہوریہ کے نظام میں قیادت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، مجلس خبرگان انقلاب کے دونوں ائمہ کی 47 سالہ بصیرت افروز قیادت—جو عزت، استقلال اور اقتدار کے اصولوں پر مبنی رہی—کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان عوامی رہنماؤں کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مجلس اعلان کرتی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 108 سے استفادہ کرتے ہوئے، اور اپنے دینی فریضے اور خداوندِ متعال کی حضوری پر یقین کے ساتھ، آج کے غیر معمولی اجلاس میں مجلس کے معزز اراکین کے فیصلہ کن ووٹ سے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (دامت برکاتہ) کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کا تیسرا رہبر مقرر اور متعارف کرایا گیا ہے۔
آخر میں، آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت قائم عارضی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم ایران کی معزز قوم، خصوصاً حوزہ ہائے علمیہ اور جامعات کے اہلِ علم اور دانشوروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ قیادت کے ساتھ بیعت کریں اور محورِ ولایت کے گرد اتحاد و ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت اس ملک اور اس کی عظیم قوم پر ہمیشہ قائم رہے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
— مجلسِ خبرگانِ رہبری
ڈاکٹر عبدالقدیر نے واضح بتا دیا کہ پاکستان نیوکلیر پاور بننے میں نہ نواز شریف کا رول ہے نہ ذوالفقار بھٹو کا ،جن چار لوگوں نے جان کا رسک لیا وہ آپ ڈاکٹر عبدالقدیر کی زبانی سن لیں .
پاگل پن کی حد تک جُنونی وہ ممالک جو پیغمبروں والی "فریبی اسلامی تعلیمات" پر یقین رکھتے ہیں ان کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔امریکی عُہدیدار کا انتہائی خطرناک بیان !! کیا اِس بیان کے بعد کوئی شک باقی بچا ہے کہ یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ؟
آج انٹرنیشنل ریلیشنز کا طالب علم مجھ سے سوال کر رہا ہے کہ آج جو حالات ہیں ان کا ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کو کئی سال قبل کیسے پتا چل گیا تھا؟
ان کی پیشین گوئیاں سو فی صد کیوں درست ثابت ہو رہی ہیں؟
آپ جواب دینا چاہیں گے کیا؟
ہم نے امریکہ کو برطانیہ کے فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ایران کے میزائلوں اور ان کے لانچرز کو تباہ کرنے کے لیے "دفاعی" حملے کیے جا سکیں، برطانوی وزیرِاعظم
ایرانی میزائلوں نے "تل ابیب" کو تگنی کا ناچ نچوا دیا ہے ، آئرن ڈوم ناکام ، اسرائیلی اور بھارتی میڈیا کی چیخیں ، آج کی رات بہت بھاری ہونے والی ہے - ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایران نے اپنے آئین کے آرٹیکل 111 کو فعال کر دیا ہے، اور 36 سال بعد پہلی مرتبہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت میں ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔ آیت اللہ علی رضا اعرافی، جن کی عمر 67 سال ہے، اب عبوری طور پر اس منصب کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ نام نیا ہے، لیکن ایران کے اندرونی طاقت کے ڈھانچے میں وہ کوئی اجنبی شخصیت نہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ وہ اکیلے فیصلے نہیں کر رہے۔ ایران میں ایک تین رکنی قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے جس میں آیت اللہ اعرافی، صدر مسعود پزشکیان، اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہای شامل ہیں۔ یہ کونسل سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای کے اختیارات کو عارضی طور پر تقسیم کر کے نظام کو چلائے گی، جب تک کہ مجلس خبرگان رہبری مستقل سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کر لیتی۔ تاہم سب کی نظریں بالخصوص اعرافی پر مرکوز ہیں۔
اعرافی کی زندگی اور کیریئر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ کئی دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ طاقت کے مراکز کے قریب رہے ہیں۔ 1959 میں میبد نامی قصبے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ کم عمری میں ہی انہیں قم بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی۔ صرف 33 برس کی عمر میں انہیں آیت اللہ علی خامنہای نے خود نماز جمعہ کا امام مقرر کیا، جو اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین قیادت کے اعتماد پر پورا اترتے تھے۔
انہوں نے بیک وقت ملک کے تین اہم ترین اداروں میں ذمہ داریاں سنبھالیں: ایران کے پورے حوزۂ علمیہ نظام کے سربراہ، گارڈین کونسل کے رکن — جو ہر قانون اور ہر امیدوار کی جانچ کرتی ہے — اور مجلس خبرگان کے رکن، جو خود سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ یوں جو شخصیت آج عبوری طور پر سپریم لیڈر کے اختیارات سنبھالے ہوئے ہے، وہ پہلے ہی اس کمیٹی کا حصہ تھی جو سپریم لیڈر کا چناؤ کرتی ہے۔
اعرافی کی ایک اور پہچان یہ ہے کہ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ 2022 میں انہوں نے ویٹی کن میں پوپ فرانسس سے ملاقات بھی کی۔ وہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کو ایران کا بیانیہ عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے انہیں نظام کا مکمل بااعتماد اور وفادار شخصیت قرار دیتے ہیں، جبکہ پاسداران انقلاب بھی انہیں ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد انتخاب سمجھتے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا مجلس خبرگان انہیں مستقل سپریم لیڈر منتخب کرے گی یا کوئی اور نام سامنے آئے گا؟ آنے والے دنوں میں ایران کی سیاست کا رخ اسی فیصلے سے متعین ہوگا۔ جیسے جیسے صورتحال واضح ہوگی، مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
#Iran #طهران
امام مہدی کے ظہور کی نشانیاں پوری ہونی شروع ہو چکی ہیں۔ہم میں سے جو امریکہ، اسرایئل، پاکستان(ناپاک فوج اور ناجائز حکومت)،عرب ممالک کے خلاف کھڑا ہے اور ایران،افغانستان اور عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے الحمداللہ،اللہ نے ہمیں حق پر کھڑا ہونے والوں میں شامل کیا ہے باقی بدقسمت ہیں
آیت اللہ خامنائی کو کیسے شہید کیا گیا؟ نیویارک ٹائمز کا انکشاف🚨🚨
سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنائی کی جاسوسی کر رہی تھی۔سی آئی اے کو انٹیلیجنس ملی کہ ہفتے کی صبح آیت اللہ خامنائی اعلی ایرانی عہدیداران کیساتھ اہم میٹنگ کرنے جا رہے ہیں ۔سی آئی نے اپنی انٹیلیجنس جس میں آیت اللہ خامنائی کی لوکیشن بارے اعلی درستگی پائی جاتی تھی اسرائیل سے شیئر کی۔ پہلے اسرائیل اور امریکہ کا ارادہ رات کے وقت حملے کا تھا لیکن ہفتے کی صبح میٹنگ کی اطلاع ملنے پر دونوں نے دن کے وقت حملے کا وقت ایڈجسٹ کر لیا۔ایران بھی صبح کے وقت حملے کا نہیں سوچ رہا تھا۔ (ایران کو یہی غلط فہمی تھی کہ حملہ ہو گا تو رات میں ہو گا)سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی صدارت میں صبح 9 بجے محمد پاکپور ( کمانڈر انچیف پاسدارن انقلاب )عزیز ناصر زادہ (وزیر دفاع) ایڈمرل علی شمخانی (سربراہ ملٹری کونسل )سید مجید موسوی ( کمانڈر پاسداران انقلاب اسلامی فضائی فورس) اورمحمد شیرازی (نائب انٹیلی جنس وزیر) کااجلاس طے تھا۔ہفتے کی صبح 6 بجے چند امریکی جنگی جہاز تل ابیب سے نکلے جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے انتہائی جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے لیس تھے ۔ طیاروں کے اُڑان بھرنے کے دو گھنٹے اور پانچ منٹ بعد، یعنی تہران کے وقت کے مطابق صبح تقریباً 9:40 پر آیت اللہ خامنائی کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایاگیا۔ حملے کے وقت ایرانی قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کمپاؤنڈ کی ایک عمارت میں موجود تھے، جبکہ سپریم لیڈر خامنہ ای ساتھ ہی دوسری عمارت میں موجود تھے۔حملے میں آیت اللہ خامنائی موقع پر شہید ہو گئے ۔ وہاں موجود ایرانی دفاعی نظام کے عہدیداران علی شمخانی،محمد پاکپور،عامر ناصر زادہ بھی شہید ہو گئے۔امریکہ نے خامنائی کے ساتھ ساتھ دیگر ایرانی ملٹری کمانڈرزاور عہدیداروں کی لوکیشنز پربھی حملے کیے لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے ۔خوفناک بات یہ ہےکہ سی آئی اے کو اسی سورس نے آیت اللہ کی لوکیشن بتائی جسکی ریکی پراس نے جون میں ایرانی شخصیات کونشانہ بنایاتھا۔وہ جاسوس چھ ماہ بعد بھی ایرانی حکومت کا حصہ ہے لیکن ایرانی انٹیلجنس اسکوپکڑنے میں ناکام رہی ہے۔یہ واقعہ امریکی بدمعاشی کیساتھ ایرانی انٹیلیجنس ناکامی کابھی منہ بولتا ثبوت ہے۔
آیت اللہ خمینی کی آخری پوسٹ بڑی پاورفُل تھی جس میں انھوں نے لکھا تھا
موسی دریاۓ نیل پر اور علی اپنی ذولفقار کے ساتھ اسرائیل آرہے ہیں۔ یہ اس خطے میں بڑے اثر سوخ والے لیڈر تھے
انکی شہادت کی خبر اتنی جلدی ڈفیوز نہیں ہوگی اب آپ ہر جگہ مظاہرے دیکھیں گے
عمران ریاض خان
جب ملک پر حملہ ہوتا ہے شریف ٹبر پورے کو لقوہ ہو جاتا ہے اور جب کریڈٹ لینا ہو پورا ٹبر برساتی مینڈک کی طرح باہر نکل آتا ہے
لعنت ان پر اور تف ان کو مسلط کرنے والوں پر