@Rashuu10380807@haniabatool9 Jitny ka ap Package lga k ye comment kr rhy ho utny ma bhi Kisi ki help ho skti thi. Ajeeb log ho yar kisi ko khush nai dekh skty bandy ki apni personal life h us ny agr khushi sy lga e li hn lights to q jal rhy ho. Apny andar ka ahtisab kro.
@B0oTaOfficial بوٹا سات لاکھ پھوج, ایف سی, رینجر, پولیس جج وغیرہ کوئی امریکہ یا اسرائیل یا کسی دوسرے ملک سے اٹھ کر تو نہیں آئے
یہ سب اسی پاکستان سے ہی ہیں نا
اس کا مطلب پاکستانی اجتماعی حرامی بےحس اور منافق قوم ہے
بلاگ نامہ
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ؛
جی ہاں ناظرین شروع کرتے ہیں پہلی خبر سے جس کے مطابق عمران خان کی آنکھ میں خدانخواستہ کوئی مسئلہ ہوگیا ہے جس کے بعد انہیں پمز لیجایا گیا ہے۔ سب سے پہلا سوال ، یہ خبر کہاں سے نکلی ہے؟ کیا یہ مرزا شہزاد اکبر ، عادل راجہ ، ڈاکٹر شہباز گل ، عمران ریاض یا ڈاکٹر معید یا کسی بیرون ملک صحافی کی جانب سے آئی ہے؟ نہیں۔ یہ پاکستان میں موجود صحافتی ذرائع کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ اب اگلا سوال یہ کہ پاکستان میں موجود وہ کونسا مائی کا لعل ہے جو یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ بغیر کسی خوف اور خطرے کے اس شخص کے متعلق آزادانہ کوئی ایسی خبر جاری کرسکتا ہے جس شخص کا نام تک ٹی وی پر لینا منع ہے۔ جی ہاں ، دوسرا پوائنٹ یہ ہوگیا کہ یہ خبر فوج کی مرضی سے پھیلائی جارہی ہے۔ اب اگلا پوائنٹ ہے اس خبر کی تصدیق یا تردید یہ بات عمران خان سے انکے اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقات ہونے تک کنفرم نہیں ہوسکتی۔ ماضی میں بھی اس سے قبل عمران خان کے “ کان میں شدید مسئلہ” جیسی خبریں پھیلائی گئیں اور عمران خان سے بہت سے جھوٹ بیانات بھی منسوب کیے گئے۔ باٹم لائن یہی ہے کہ یہ خبر فوج کی مرضی سے چل رہی ہے۔ یعنی فوج ایک بار پھر عمران خان کی صحت سے متعلق عوام کے جذبات کو آگ لگا کر کہیں سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ کہاں سے؟ فلسطین سے؟ تیراہ میں ہونے والے آپریشن سے؟ یا پھر کچھ اور مقصود ہے؟ یہ سوچنا آپ کا کام ہے۔ بہرحال تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی ، پارلیمانی کمیٹی اور پختونخواہ حکومت تادم تحریر عمران خان کی قید تنہائی کے خاتمے اور رہائی کے لیے کوئی ٹھوس روڈ میپ نہ بنا سکی ہے۔
منصور علی خان کی دھمکیاں ؛
منصور علی خان سکہ بند عسکری پراجیکٹ ثابت ہوچکے۔ اب وہ عوام کو متنبہ کررہے ہیں کہ واٹس ایپ گروپ میں “ شخصیات “ کے خلاف “ جھوٹی خبریں “ اب قانون کے دائرے میں آئیں گی۔ اس کا سیدھا سا مقصد ہے کہ بورڈ آف پیس کو لیکر ، تیراہ آپریشن کو لیکر ، عمران خان کی قید تنہائی کو لیکر ، معاشی بربادی کو لیکر پاک فوج کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے جو سوالات ہورہے ہیں اسے کسی بھی طرح سے روکا جائے۔ اپنی چیٹ میں Disappearing messages آن کرلیں ، کیس درج ہونے تک ، آپ تک کسی کے پہنچنے تک اور ثبوت حاصل کیے جانے تک میسجز اڑ چکے ہوں گے اور سکرین شاٹس اور ویڈیو سکرین شاٹس آپ اس دور میں منصور علی خان کے جانی سنز کیساتھ بنا کر چلا دیں کیا فرق پڑتا ہے۔ مسئلہ زیادہ خراب ہو تو اگلے کو view once کرکے ویڈیو ، پیغام یا تصویر بھیج دیں۔ end to end encrypted میسجز کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ درمیان میں کوئی فائر وال ، کوئی فلٹر کوئی آئی ایس آئی کوئی آئی بی آپ کا میسج نہیں پڑھ سکتی۔ لہذا کام چھک پٹ کر رکھیں۔
عمران خان کا متبادل سہیل آفریدی ؛
کیا قائد اعظم کا کوئی متبادل ہے؟ جنہیں بھٹو سے محبت کیا اس کا کوئی متبادل ہے؟ کیا گاندھی کا کوئی متبادل ہے؟ منڈیلا کا کوئی متبادل ہے؟ بڑی بڑی شخصیات کے پیروکار ہوتے ہیں ، ان کی آئیڈیالوجی پر چلنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے متبادل نہیں ہوتے اور نہ ہوسکتے ہیں۔ ان سے کئی اعتبار سے بہتر ہوسکتے ہیں ، کئی اعتبار سے مماثلت رکھ سکتے ہیں لیکن شخصیات کی ایکسچینج پالیسی نہیں ہوتی۔ عمران خان نے اس ملک میں لیڈر شپ کی نرسریاں اگائی ہیں۔ یہیں سے تناور درخت نکلیں گے۔ عمران خان کا نا کوئی متبادل ہے نا ہوسکتا ہے۔ آج سے کچھ سال بعد جو کوئی بھی اس ملک کی قیادت کررہا ہوگا اس کا بھی نا کوئی متبادل ہے نا کوئی ہوگا۔
تیراہ آپریشن ؛
سردیوں میں شدید سردی کے باعث مسلح تنظیموں کی کاروائیاں رک جاتی ہیں۔ یہ چیز ہم نے نوے کی دہائی سے لیکر کشمیر میں دیکھی۔ جب سے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی آئی ہے تب سے یہی صورتحال ہے۔ بہار کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں نئے “ جہادی سیزن” کا بھی آغاز ہوتا ہے۔ اس موسم میں تیراہ میں نا تو آپریشن کی کوئی ضرورت تھی نا جواز۔ ابھی چند ہفتے قبل تک تو تیراہ کا ہر رہائشی چرس کا کاشتکار اور سہیل آفریدی کا رشتہ دار بتایا جارہا تھا ، تیراہ سے ٹی ٹی پی کی کاروائیوں کی خبریں بھی بنوں ، وزیرستان ، ڈیرہ اسماعیل خان یا دیگر علاقوں کی نسبت کم تھیں۔ فوج نے تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ موسم کے سختی نے اسے ایک انسانی المیہ بنا ڈالا۔ اب فوج حسب عادت حسب سابق اور حسب روایت جھوٹ بول کر ذمہ داری کا بوجھ اتارنا چاہتی ہے۔
1/2
The way Pakistani women stood up for Haqeeqi Azadi, they will be remembered and become part of our democratic history.
Also what will never be forgotten is the brutality of our security forces and the shameless way they went out of their way to abuse, hurt and humiliate our women.
Hundreds are languishing in jail in terrible conditions. This too won’t be forgotten.
اس کا جواب یہ ہے کہ باقی قیدیوں کے برعکس میرے کمرے کا دروازہ تک نہیں کھولا جاتا۔کسی کو مجھ سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں۔ کئی کئی روز تک بجلی، اخبار اور ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ جب چھبیسویں آئینی ترمیم مسلط کی جا رہی تھی تھی تب تو مجھے مسلسل 3 ہفتے کے لیے ایک چھوٹے سے کمرے میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ 7 ماہ سے ٹی وی بند ہے حالانکہ باقی قیدیوں کو یہ سہولت میسر ہے۔ جب چاہے اخبار بھی بند کر دیتے ہیں۔ بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی جاتی۔ بشرٰی بیگم اور میں دونوں قید تنہائی میں ہیں۔ ذہنی تشدد اور کیا ہوتا ہے کہ کسی کو قید تنہائی میں ڈال کر اسے عام قیدیوں کی سہولت بھی نہ دی جائے۔ میری بہنوں اور وکلاء تک سے ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ آج کل جیل ٹرائل کی وجہ سے ملاقات ہو رہی ہے، اور لگتا ہے کہ عنقریب یہ بھی بند کر دی جائے گی، یہ سب قانون اور جیل مینوئیل کے بھی خلاف ہے”-
ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
2/3
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
اسرائیل ایک ایک کر کے مسلم ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے
اور مسلمان ممالک ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے چکر میں اپنی ٹانگیں کٹواتے چلے جا رہے ہیں
صدام کے جانے پر شام ، ایران ، لیںبا اور لبنان میں جشن منایا گیا تھا
پھر نہ شام رہا ، نہ لیبیا رہا اور نہ ہی لبنان رہا ،
اب جو لوگ ایران کی تباہی کے انتظار میں ہیں
انہیں معلوم رہے کہ اگلا نمبر سعودیہ ، قطر یا ترکی کا ہو سکتا ہے
اس کے بعد پاکستان اور پھر ملائشیا و انڈونیشیا کی باری بھی آ سکتی ہے
آل یہود نے پہلے تمہیں سنی شیعہ میں تقسیم کیا
پھر وہابی ، دیوبندی اور بریلوی میں بانٹ دیا
مزید تقسیم کر کے اپنی ذاتی مذہبی جماعتیں تم میں داخل کر دیں
رجیم چینج کر کے اپنے دلال تم پر مسلط کر دئیے
تم مگر ایسے جاہل ہو کہ پے درپے ہونے والی سازشوں میں سے کسی ایک کا توڑ نہ کر سکے
مغرب تمہارے خلاف ایک ہے
اور تم ایک خدا کے ماننے والے اتنے گروہوں میں بٹ چکے ہو کہ گنتی بھی ممکن نہیں رہی
#پاکستان
بریکنگ نیوز 🚨: میرے شہرِ لاہور زمان پارک کے باہر مناظر۔ ہم لاہوری جب باہر نکلتے ہیں تو پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیتے ہیں 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
https://t.co/ToyyD3fsy8
ہم دوستوں کے ایک گروپ میں گفتگو کر رہے تھے۔ باتوں باتوں میں وہ جملہ آ ہی گیا جو آج کل اکثر زبان پر آ جاتا ہے:
"اتنا ظلم ہے، قیامت کیوں نہیں آ جاتی؟"
اچانک میرے منہ سے نکل گیا:
"قیامت کا مطلب آخر ہے کیا؟"
تب ایک بہت قریبی دوست نے جو بات کہی، اس نے مجھے ایک لمحے کے لیے روک دیا۔ اس نے بڑے سکون اور پورے یقین کے ساتھ کہا:
"قیامت کا مطلب ہے قیام۔ اور قیام اٹل ہے۔ یہ ہو کر رہنا ہے۔"
بس…
یہ جملہ تھا، مگر ایسا لگا جیسے کسی نے دل پر دستک دے دی ہو۔
ہم سب کلمہ پڑھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، ترجمہ سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اللہ سے رشتہ جوڑنے کی جدوجہد بھی جاری رہتی ہے۔ ہم اس دنیا میں رہتے ہیں، اس کے تقاضے بھی پورے کرتے ہیں، مگر دل میں ایک حد، ایک سرحد قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان صرف دنیا کا ہو کر نہ رہ جائے۔
لیکن جب اس دوست نے یہ بات اس یقین، اس اعتماد کے ساتھ کہی، تو میں ایک لمحے کو ٹھٹک گئی۔
دل نے کہا:
یہ وہ انسان ہے جسے سوچنا نہیں پڑا، جسے لفظ تولنے نہیں پڑے۔
اسے معلوم ہے کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔
اسے معلوم ہے کہ اس کے اور اس کے رب کے درمیان رشتہ کتنا مضبوط ہے۔
سچ کہوں تو تھوڑی سی شرمندگی بھی محسوس ہوئی۔
اور اسی لمحے شکر بھی۔
کہ اللہ کا کتنا کرم ہے کہ انسان کے اردگرد ایسے لوگ موجود ہوں، جو دن میں کسی وقت ایک ایسی بات کہہ دیں کہ انسان کچھ سیکھ کر اٹھے۔
میں ہمیشہ یہ کہتی ہوں کہ جس طرح مسکراہٹ صدقہ جاریہ ہے، اسی طرح ایک اچھی بات، ایک سوچ کھول دینے والا جملہ، تہذیب اور تمیز کے دائرے میں کہی گئی بات بھی صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔
آج لکھنے پڑھنے کا رواج کم ہو گیا ہے، مگر جو پڑھتے ہیں، جو سنتے ہیں، جو رکتے ہیں ہمیں انہی کے لیے لکھنا ہے۔
ساری دنیا کے لیے نہیں!
کیونکہ اس پلک جھپکنے والی زندگی میں ہم سب کو نہیں بدل سکتے۔
ہم صرف خود کو بدل سکتے ہیں۔
اور پھر اللہ سے دعا کر سکتے ہیں کہ اس بدلتے ہوئے عمل میں ہمیں ایک ایسی شمع بنا دے، جس سے کچھ لوگ جڑ جائیں۔
وہ چند بھی ہو سکتے ہیں، سینکڑوں بھی، ہزاروں بھی، لاکھوں بھی...یا اللہ کی مرضی سے اس سے کہیں زیادہ بھی۔
برکت کا تعلق تعداد سے نہیں، نیت سے ہوتا ہے۔
جتنا خلوص، جتنی سچائی، اتنی ہی مٹھاس۔
اللہ بھی توفیق اسی کو دیتا ہے جو توفیق لینا چاہتا ہے۔
میں ان سب لوگوں کی شکر گزار ہوں جو سنتے ہیں، پڑھتے ہیں، اور اپنی رائے دیتے ہیں۔
یہ الفاظ میرے نہیں۔
یہ اس سوچ کا عکس ہیں جو اللہ نے دل میں اتاری۔
انسان حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔
اور جس دن انسان خود کو کچھ سمجھنے لگے، وہیں سے اصل گمراہی شروع ہوتی ہے۔
خدا نخواستہ وہ خود کو اس ذات سے بڑا سمجھنے لگتا ہے اور یہی کفر کی ابتدا ہے۔
اللہ اس رشتے میں، لفظ اور قلم کے رشتے میں برکت ڈالے۔
اتنی برکت کہ شاید کسی کا دل نرم ہو جائے۔
شاید کسی کی زندگی میں بہتری کی ایک کرن آ جائے۔
اے میرے سوھنے رب!
ہمیں ہمارے لفظوں کے ذریعے خیر کا ذریعہ بنا دے۔
ہمیں عاجزی، شعور اور سچائی کے ساتھ جینے کی توفیق دے۔
اور ہمارے دلوں کو ہمیشہ اپنے ذکر سے قائم رکھ۔
آمین۔
کل سے بوٹ پرست صحافی آپکو بتا رہے ہونگے کہ مظبوط فوج ہونی چاہیے ورنہ حال وینزویلا جیسا ہوتا ہے
بھئی بوٹ کی عظمت بیان کرنے کی بجائے عوام کو پورا سچ بتاؤ صحافت کرو دلالی نہیں
وینزویلا کی فوج، جسے "بولیویرین نیشنل آرمڈ فورسز" (FANB) کہا جاتا ہے، اس وقت دنیا کی ان افواج میں شمار ہوتی ہے جو اپنے پیشہ ورانہ کردار سے ہٹ کر سیاسی اور معاشی معاملات میں دھنس چکی ہیں۔
ترقی کے لیے پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے صدر نکولس مادورو اور حکمران جماعت سے وفاداری کو ترجیح دی جاتی ہے۔
فوج کے اندر "سوشلزم یا موت" جیسے سیاسی نعرے لازمی قرار دیے گئے ہیں، جو کہ ایک غیر جانبدار فوجی ادارے کے اصولوں کے خلاف ہے۔
فوج کو بغاوت سے روکنے کے لیے حکومت نے اسے ملکی معیشت کے اہم حصوں کا کنٹرول دے دیا ہے۔ یعنی فوج مکمل کاروبار میں مصروف ہے یا کاروباری اداروں پر حکومت کی بجائے اسکا کنٹرول ہے
فوج تیل کی صنعت (PDVSA)، کان کنی (سونا)، اور خوراک کی تقسیم کے نظام کو کنٹرول کرتی ہے۔
یاد رہے PDVSA (Petróleos de Venezuela, S.A.) وینزویلا کی سرکاری ملکیت میں کام کرنے والی تیل اور قدرتی گیس کی کمپنی ہے۔ یہ نہ صرف وینزویلا کی معیشت کا ستون ہے بلکہ ملک کی سیاست اور سماجی ڈھانچے میں بھی اس کا کردار بہت گہرا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، فوج کے اعلیٰ حکام "کارٹیل آف دی سنز" (Cartel of the Suns) نامی نیٹ ورک کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ اور سونے کی غیر قانونی کان کنی میں ملوث ہیں۔
یعنی وہاں بھی سمگلنگ میں فوج ملوث ہے
مزید یہ کہ وینزویلا کی فوج میں جنرلز کی تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ ہے، جو کہ ایک پیشہ ورانہ خرابی ہے۔ایک اندازے کے مطابق وہاں 2000 سے زائد جنرلز ہیں (جو کہ امریکی فوج سے بھی کہیں زیادہ ہیں)۔ یہ بھاری بھرکم ڈھانچہ صرف اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افسران کو مراعات دے کر خوش رکھا جا سکے، جس سے جنگی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے۔
آخری اور سب سے اہم وجہ جو بتائی جانی چاہیے کہ فوج کا استعمال سویلین مظاہرین کو کچلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
فوج اکثر مسلح گروہوں (Colectivos) کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے جو سیاسی مخالفین کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ اس سے فوج کا وقار عوام کی نظروں میں ختم ہو چکا ہے۔
وینزویلا کی فوج اس وقت بیرونی دشمن سے لڑنے کے بجائے داخلی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کا مقصد ملک کا دفاع نہیں بلکہ موجودہ نظام کا تحفظ اور اپنے معاشی مفادات کا دفاع ہے۔
فوج کے نچلے درجے کے سپاہی غربت اور بھوک کا شکار ہیں جبکہ اعلیٰ قیادت ارب پتی بن چکی ہے، جس کی وجہ سے فوج کے اندر بھی ایک شدید طبقاتی تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔
یہ تھے وہ تمام مسائل جو اسوقت وینزویلا کی فوج میں موجود ہیں جسکی وجہ سے وہ اپنے عوام کا کسی بیرونی دشمن سے دفاع کرنے میں ناکام ہے آپ ان سارے نقاط کو خود سے گوگل کرکے بھی چیک کرسکتے ہیں
اہم نوٹ: ان تمام نقاط کا کسی دوسری فوج سے مماثلت محظ اتفاقیہ ہے
بریکنگ نیوز 🚨: ظہران نظامانی کے آرٹیکل کے بعد سید جلال حسین کے آرٹیکل نے بھی بھائی لوگوں کی نیندیں اُڑا کر رکھ دیں۔ اسے بھی ڈیلیٹ کروا دیا گیا۔ یہ رہا آرٹیکل مکمل پڑھیے 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
عنوان: عارضی بادشاہوں کی ایک سلطنت
سید جلال حسین
اسلام آباد کی مرطوب عدالتوں میں، جہاں خواہش قانون کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے؛ اینٹوں سے گھرے محفوظ احاطوں میں، جہاں فیصلے سائے میں لکھے جاتے ہیں اور طاقت کی سیاہی سے، ہر وعدہ ماضی کی بازگشت ہے—نکولو میکیاولی کے دی پرنس کی وہ پرانی نصیحتیں خاموشی سے سانس لیتی ہیں۔
پانچ صدیاں پہلے میکیاولی نے خبردار کیا تھا کہ وعدے ماضی کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں، حال کی نہیں۔ پاکستان کے بے چین سیاسی منظرنامے سے بڑھ کر اس کی سچائی کہیں اور نہیں ملتی، جہاں اتحاد ریت کی طرح سرک جاتے ہیں، اور نجات دہندہ کل کے ہی سانچوں میں آج کے روپ بدل لیتے ہیں۔ یہاں طاقت اب خدمت نہیں، بلکہ بقا کی آخری صورت بن چکی ہے۔
دی پرنس میں میکیاولی نے اقتدار کی باریک نفسیات بے نقاب کیں: خوف، محبت سے زیادہ قابلِ اعتماد ہے؛ ایک حکمران کو دونوں میں توازن رکھنا چاہیے، مگر جھکاؤ خوف کی طرف ہو۔ صدیوں پہلے لکھا گیا یہ کھیل نامہ، پاکستان کے حکمران طبقے نے بخوبی سیکھ لیا ہے—یا کم از کم یہی سمجھا ہے۔ یہاں وعدے شاندار اشاروں کے ساتھ عارضی اسٹیجوں پر کیے جاتے ہیں، اور پسِ پردہ بھاری دروازوں کے پیچھے توڑ دیے جاتے ہیں۔ سیاسی خاندان، جو کبھی جمہوریت کے معمار کہلاتے تھے، اب محض بقا کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں، اپنے مفادات کے تحفظ کی روایات کو موڑتے ہوئے۔ ہر انتخاب امید اور بدگمانی کے درمیان ایک دُوئیل ہوتا ہے، اور بدگمانی اکثر جیت جاتی ہے۔ منشور چمکدار بروشرز میں چھپتے ہیں، بلند آواز وژن چکاچوند روشنیوں میں گونجتے ہیں، مگر جب دھول بیٹھتی ہے تو اصل وعدے وہی رہ جاتے ہیں جو بند کمروں میں کیے گئے تھے۔
جو لوگ صرف قسمت کے سہارے جیتے ہیں، میکیاولی نے خبردار کیا تھا، انہیں اپنی فتوحات بچانے کے لیے دوگنا محنت کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ ایسے رہنماؤں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے گہری جڑوں کے بجائے وقتی ہوا کے رخ پر سفر کیا۔ وہ ادھار اتحادوں، کھوکھلے کرشموں اور قومی مایوسی کے عارضی لمحوں کی پشت پر اٹھائے گئے—اور پھر دیکھا کہ جن ہاتھوں نے انہیں بلند کیا، وہی انہیں ایک لمحے میں گرا بھی سکتے تھے۔
خاموش سلطنت—وہ مستقل اسٹیبلشمنٹ جسے میکیاولی فوراً پہچان لیتا—پاکستان کی اصل حاکم ہے۔ جرنیل وردیاں بدلتے ہیں، جج لباس، سیاست دان وفاداریاں، مگر نظام اپنی شکل بدل کر بھی قائم رہتا ہے، خود کو یوں تازہ کرتا ہے جیسے کوئی وائرس جس کا کوئی علاج نہ ہو۔ انتخابی تماشوں اور کابینہ کی ردوبدل کے پیچھے، کنٹرول کی ساختیں برقرار رہتی ہیں: لچکدار، بے جواب دہ، اور ابدی۔
طاقت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کھلے عام نفرت کیے جانے کے بجائے خوف زدہ ہونا زیادہ محفوظ ہے۔ یہ وردی میں ملبوس صدر کے ذریعے گرجتی ہے۔ ٹوٹے ہوئے مائیکروفونوں اور سیاسی اتحادیوں پر برسنے والی گالیوں میں گونجتی ہے۔ بل بورڈز سے مسکراتی ہے جو قسمت بدلتے ہی راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں۔ یہاں محبت ایک ذمہ داری ہے، ایک ناپائیدار زیور جو اگلی بڑی غداری سے بکھر جاتا ہے مگر خوف تلخ ذائقے کے ساتھ قومی شعور میں باقی رہتا ہے۔
کبھی ایک شہزادہ مینارِ پاکستان کے سائے تلے کھڑا تھا، بازو اٹھائے، کھلے آسمان تلے جمع ہجوم سے خطاب کرتا ہوا۔ اس نے انصاف، نوزائیدگی اور ایک صاف ستھرے مستقبل کی بات کی۔ لوگ نعرے لگاتے رہے، امید کے نشے میں مست۔ کہیں اور، ٹھنڈے اور خاموش کمروں میں، مرد سوٹ اور ستاروں کے ساتھ بیٹھے نوٹس لیتے رہے۔ انہوں نے ایک ابھرتا ہوا رہنما نہیں دیکھا، بلکہ ایک کارآمد آلہ—ایک ایسی ترتیب کے لیے جو اس کی افادیت ختم ہونے تک چلنی تھی۔
میکیاولی کی تنبیہ واضح تھی: جو لوگ قسمت کے زور پر ابھرتے ہیں، انہیں اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کہیں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان میں، بدقسمتی اکثر وردی پہنتی ہے، اور مہربانی ہمیشہ مشروط ہوتی ہے۔ جب لہریں پلٹتی ہیں، تو انتقام سب سے مضبوط سلطنتوں کو بھی بہا لے جاتا ہے۔
یہاں غداری کوئی استثنا نہیں؛ یہ سیاست کے خون میں شامل ہے۔ کل کا بادشاہ ساز آج کا جلا وطن ہے۔ آج کا باغی کل کا اندرونی کھلاڑی۔ نجات دہندہ اور غاصب کے درمیان لکیر اتنی باریک ہے کہ آخرکار مٹ جاتی ہے، اور بقا کی بے رحم حقیقت میں گم ہو جاتی ہے۔
گرینڈ ٹرنک روڈ کے کنارے، پنجاب کے دل میں، سیاسی خاندان وفاداریوں کے کان میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ لاہور کا شیر زخمی مگر نہ ٹوٹا ہوا۔ ایک محتاط واپسی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اس کی وارث تقریریں نکھارتی ہے؛ پرانے کارکن پھٹے ہوئے جھنڈوں کی گرد جھاڑتے ہیں۔ تختوں کے مکین بدلتے رہتے ہیں
کیا ہی خوبصورت ویڈیو ہے ۔۔ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد میں دعوی سے کہ سکتا ہوں عمران خان کی مقبولیت اسوقت ملک میں 99 پرسنٹ ہے ۔۔
نوجوان نے خان سے محبت کا جو اظہار کیا ہے وہ تو کلپ میں دیکھ لیں مگر اس کلپ میں اس نوجوان نے کھلے دل سے اقرار کیا کہ عمران خان کیلے میں اپنی جان تو دے سکتا ہوں مگر اپنے بچوں کو قربان نہی کر سکتا عمران خان سے ہم پنجابی سے زیادہ پٹھان محبت کرتے ہیں ۔۔
کہتا ہے اک چنے بیچنے والے پٹھان سے ہم نے پوچھا تم خان سے کتنا محبت کرتے ہو تو اس نے کہا میں اور میرے آٹھ بچے عمران خان پر قربان ۔۔
بریکینگ نیوز 🚨: یہ ہے وہ آرٹیکل ایکسپریس ٹربیون کا جسے اسٹبلیشمنٹ نے ڈیلیٹ کروا دیا، اِس کا اردو ترجمہ یہ رہا 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
عنوان: تُمارا کھیل ختم ہوگیا ہے۔
مصنف: زورین نظامانی
طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور سیمینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔ نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔ آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ ہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟ تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔ جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔ بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں۔ ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے۔ یہ پرانا ہو چکا ہے۔