سوشل میسیج
ہنر سکھانے میں بخل نہ کرو۔
درزی 3، 3 ماہ بچے سے کاج کرواتا رہاہے.
موٹر سائیکل مکینک 3 , 3 ماہ صرف پہیہ کھولنے پہ لگائے رکھتے ہیں۔
یہ غریب گھر کے بچے ہوتے ہیں ماں روزانہ انہیں روٹی دے کر بھیجتی ہے میرا بچہ کام سیکھ رہا ہے جلد کاریگر بن جائے گا
لیکن انہیں 6 ، 6 سال میں ہنر نہیں دیتے۔
ان کو 6 ماہ میں ہنر سکھا کر روزی کمانے کے قابل کر دو عرش کا رب تم پہ بڑی رحمتیں نازل کرے گا۔
آپ جس بھی شہر سے ہیں، جو بھی ہنر جانتے ہیں اور کام کر رہے ہیں تو لوگوں کو باقاعدہ دعوت دیں یا پوسٹر لگائیں کہ اتنے سال میں فی سبیل اللہ ہنر سیکھیں
ہنر کی تجارت رب کے بندوں سے کریں انعام رب دے گا،
کبھی رب سے تجارت کر کے تو دیکھیں۔
Copied
یہ سُنیں۔
اسرائیل کا ایک Rabbi کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ ان کو غارت کرے۔ مسلمان حُکمران تو کُچھ نہیں کررہے ہیں۔
“ہر بچہ غزہ میں بھوک سے مر جانا چاہیے۔ ہمیں سیکھنا چاہیے کہ تورات ہمیں عمالق کے بارے میں کیا کہتی ہے، ہمیں ان کا کوئی نشان بھی نہیں چھوڑنا چاہیے، صرف ایک بیوقوف ہی ان بچوں کے لیے ہمدردی رکھ سکتا ہے جو کل کے دہشت گرد بنیں گے، مجھے امید ہے کہ وہ بھوک سے مر جائیں۔”
I know nobody cares about us Except a few, I know we're just a post and it's going to end but I'm really tired, I'm saying we're tired.
If you’re scrolling, PLEASE leave a dot . it's just a dot.
غزہ کے بچوں کی زندگی آج بھی کربلا جیسی ہے ایران امریکہ جنگ نے غزہ سے دنیا کی توجہ ہٹا دی ہے آپ سب جب بھی وقت ملے غزہ کا مسلہ اٹھاتے رہا کریں تاکہ ایلگورتھم میں فیڈ میں یہ چلتا رہے 🥲🥲🥲
@missiontakmeel میں نے سنا تھا ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔۔ پر یہاں اب تک ظلم کیوں نہی مٹا ؟ اس سے آگے اور کیا بچتا ہے کونسی حد ابھی باقی ہے ،؟
✨:نیک ہونے میں اور خُود کو نیک سمجھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔۔
جب آپ نیک ہوجاتے ہیں تو آپ کو اپنے گناہ نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔۔
اور جب آپ خود کو نیک سمجھنے لگتے ہیں تو آپ کو بس دوسروں کے گناہ نظر آتے ہیں۔۔*⏤͟͟͞͞★͙*
اس لیے کہتے ہیں کے بس اتنا نیک ہوجانا کہ تمہیں اپنے گناہ نظر آنے شروع ہوجائیں؛ لیکن اتنا نیک مت بن جانا کے بس دوسروں کے ہی گناہ نظر آئیں۔💛✨*⏤͟͟͞͞★͙*
انشاءاللہ ہم اخری سانس تک اپ کے ساتھ ہیں۔۔ اپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔۔
یہ فلسطینی مسلمان یقینی طور پر پاکستان کے کسی کالج یا یونیورسٹی میں پڑھا ہے ۔ ان کو پاکستان سے بہت امید ہے۔ ہم کسی صورت میں فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ خیانت نہیں کر سکتے۔۔
یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کی ریاست نے اہل فلسطین کے ساتھ اتنی بڑی خیانت کی ہے۔ اللہ اس کے رسول اور تاریخ ہمیں معاف نہیں کریں گے۔ اہل فلسطین تو پہلے ہی اس غافل مسلمان امت پر مقدمہ درج کرا چکے ہیں۔
اپ لوگ کوشش کریں کہ کہیں اس مقدمے میں اپ کا نام نہ ا جائے۔۔ اپنے طور پر اہل فلسطین کو اکیلا مت چھوڑنا۔۔ اللہ نے اپ کو راستہ دیا ہوا ہے۔۔ ہم اللہ کے اگے اب کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے کہ ہمیں نہیں معلوم تھا یا ہمارے پاس راستہ نہیں تھا۔۔۔ ہم پر حجت تمام ہے۔
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
20 سال پہلے ایک زلزلے نے ہزاروں گھر اُجاڑ دیے… مگر ایک باپ کی امید آج بھی زندہ ہے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح، مظفرآباد کی 10 سالہ معصوم بچی ارفع طارق بھی ہر روز کی طرح اپنا اسکول بیگ اٹھا کر گھر سے نکلی تھی۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ اس کی اپنے گھر والوں سے آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
چند ہی لمحوں بعد زمین لرز اٹھی۔ عمارتیں گرنے لگیں، ہر طرف چیخ و پکار، گرد و غبار اور قیامت کا منظر تھا۔
ارفع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مظفرآباد کی پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی۔
اس کی چند کلاس فیلوز، جو اس سانحے میں زندہ بچ گئیں، آج بھی یہ گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ارفع کو اسکول کے باہر زخمی حالت میں دیکھا تھا۔ یعنی ارفع ملبے سے زندہ نکل آئی تھی…
لیکن اس کے بعد وہ کہاں گئی؟
یہ سوال آج بھی اس کے والد طارق محمود کی آنکھوں میں آنسو بن کر زندہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں آج بھی اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک باپ کا دل اب بھی اسی امید کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ شاید ایک دن دروازہ کھلے گا، اور برسوں پہلے بچھڑ جانے والی اس کی بیٹی اسے آواز دے گی۔
ارفع کی والدہ منور سلطانہ (بےبی) نے بھی بیٹی کی جدائی کا ہر دن ایک صدی کی طرح گزارا ہے۔ اس کی بہنیں گل افشاں (افشی) اور زنیرہ طارق بھی آج تک اپنی بہن کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اگر ارفع زندہ ہے تو آج اس کی عمر تقریباً 31 سال ہوگی۔ ممکن ہے اسے اپنا بچپن یاد نہ ہو، اپنا نام بھی یاد نہ ہو، مگر شاید کوئی چہرہ، کوئی یاد، کوئی نشان اسے اس کے اپنے خاندان تک واپس لے آئے۔
میں آپ سب سے ایک درخواست کرتا ہوں۔
اس پوسٹ کو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
براہِ کرم اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کون جانتا ہے کہ یہ پوسٹ کس کی ٹائم لائن پر پہنچے، کون اسے پہچان لے، یا شاید ارفع خود ہی اسے دیکھ لے۔
ہم نے اللہ کے فضل سے برسوں بعد سینکڑوں بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں سے ملتے دیکھا ہے۔ اسی لیے میں آج بھی مایوس نہیں ہیں۔
شاید اگلی خوشخبری ارفع طارق کی ہو۔
اگر آپ کے پاس ارفع طارق کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگیں، براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔
+923162529829
9 july 2026
#waliullahmaroof #MissingChild #Earthquake2005 #MissingSince2005 #Muzaffarabad
عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی،
کسی کام کی نہ رہتی،
اُسے پالنے کا خرچہ ، اُس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا،
تو اُسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے ،
جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی،
جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔
یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا،
بلکہ اس کی ملکیت کا دعوی کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔
یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ ،
زمین کے کچھ حصے پر جگہ تو گھیرتی،
آکسیجن بھی استعمال کرتی ،
لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی ،
نہ دودھ دیتی ، نہ بچے ،
نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔
اس اونٹنی کو سُدی کہا جاتا ۔
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى(36)
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ (سورت قیامہ: 36)
قرآن کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کےلیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو،
جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو ،
جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو،
جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو،
جو صرف کھاتا پیتا، جاب اور ملازمت کرتا ہو،
جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرے ملک شفٹ ہونا،
سوشل میڈیا استعمال کرنا،
اس پر فالورز کا ڈھیر لگانا،
کسی خوبصورت لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنا،
ڈگری حاصل کرنا اور کسی بڑے عہدے پر براجمان ہونا ہو۔
اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو، نہ عمل میں۔
یہ شخص سُدی ہے۔
کیونکہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے،
اب یہ دنیا کے کسی بھی شعبے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دے،
سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر لے،
ستاروں کی گزرگاہوں کو جان لے،
سمندروں کے سینے چاک کر ڈالے،
زمین کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کر لے،
روشنی کی رفتار پر کمند ڈال دے،
مصروفیت کے ہزاروں ڈھونگ رچا لے۔
تب بھی یہ سُدی ہی ہے۔
یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے،
اس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے، نہ آسمان۔
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ
پھر نہ ان پر آسمان رویا، نہ زمین۔ (سورت دخان: 29)
جن مقاصد اور اہداف کو وہ اپنی زندگی میں جی رہا ہے،
اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں،
لیکن حقیقت میں یہ مقاصد معاشرے نے اس پر مسلط کیے ہیں،
کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہیں،
اگر وہ قرآن پڑھ لے،
نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھ لے،
تو اسے شدت سے احساس ہو کہ میں تو سُدی ہوں۔
جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا،
یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔
یہ قرآن ہی ہے جو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا :
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا
اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ (سورت قصص: 77)
ابھی سانس آ رہی ہے،
تو موقع ہے،
سوچ لیں کہ سُدی بن کر زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے؟
اگر با مقصد اور نافع بننا چاہتے ہیں،
تو آج ہی سے قرآن کریم کے ساتھ جڑ جائیں۔
یہ آپ کے ہر لمحے اور ہر قدم میں مقصدیت کو کوٹ کوٹ کر بھر دے گا۔
محمد اکبر
#موناسکندر
ہمارے اجداد نے ایسے گھر بنائے جو 50°C کی ہیٹ میں بھی قابل رہائش تھے۔ اس کی وجہ سائنس اور فطرت کا بہترین استعمال تھا
1. اونچی چھتیں
گرم ہوا ہلکی ہوتی ہے اور اوپر اٹھ جاتی ہے
پرانے گھروں کی چھتیں 14/18 فٹ تک اونچی رکھی جاتیں
گرم ہوا چھت کے پاس جمع ہو جاتی اور نیچے نہیں آتی
1👇
مشہد۔ 1939 کی سردی۔
گلی اتنی تنگ تھی کہ دو آدمی ایک ساتھ نہیں گزر سکتے تھے۔
دیواروں پر مٹی تھی۔ چھت پر سوراخ تھے۔
اور ایک گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا ۔
بچہ آیا تو رویا نہیں۔
آنکھیں کھول کر چھت کو دیکھتا رہا۔
جیسے پہلے سے جانتا ہو کہ اس نے یہاں نہیں رکنا۔
نام رکھا گیا علی۔
باپ مدرس تھا۔ جیب میں پیسے نہیں تھے۔
مگر گھر میں کتابیں دیواریں تھیں۔
بچہ سوال کرتا۔ ابا ہم غریب کیوں ہیں؟
باپ ہنس کر کہتا۔ بیٹا ہمارا پیٹ خالی ہے۔ دل نہیں۔ ہمارا دل حسین سے بھرا ہے۔
وہ جملہ اس کے کان میں نہیں گیا۔
وہ سینے میں جا کر چبھ گیا۔
اور وہیں رہ گیا۔ قبر تک۔
جوانی آئی تو مدرسے کی چٹائی پرانی ہو گئی۔
وہ اٹھا اور سڑک پر نکل گیا۔
شاہ کا زمانہ تھا۔ ایک لفظ بولنا گناہ تھا۔
اس نے بولا۔
پہلی بار پولیس آئی۔ ہتھکڑی پہنائی۔
دوسری بار کوڑے برسے۔ پیٹھ لہو لہان ہو گئی۔
تیسری بار بیرجند پھینک دیا گیا۔ ریت تھی۔ دھوپ تھی۔ تنہائی تھی۔
رات کو وہ ریت پر لیٹ جاتا۔
اوپر ستارے ہوتے۔
وہ ستاروں سے کہتا۔ دیکھو۔ میں اکیلا نہیں ہوں۔ حسین بھی میرے ساتھ ہے۔
اور رو دیتا۔ اس لیے نہیں کہ تکلیف تھی۔
اس لیے کہ امت سوئی ہوئی تھی۔
1981 کی گرمی تھی۔
27 جون۔ ہفتہ کا دن۔
تہران کی ابوذر مسجد بھری ہوئی تھی۔
وہ منبر پر تھا۔ جنگ سے واپس آیا تھا۔
جوانوں نے کاغذ پر سوال لکھے تھے۔
ایک نوجوان آگے بڑھا۔ میز پر ٹیپ ریکارڈر رکھا۔ کہا آغا ریکارڈ ہو جائے۔
ایک منٹ۔
صرف ایک منٹ۔
پھر سیٹی کی آواز آئی۔ اور دھماکہ۔
دھواں۔ چیخیں۔ خون۔
جب دھواں ہٹا تو وہ زمین پر تھا۔
دایاں بازو گوشت کے لوتھڑے کی طرح لٹک رہا تھا۔
شیشے دل میں گھس گئے تھے۔
اسے بہارلو ہسپتال لے گئے۔
ڈاکٹر نے جھک کر کہا۔ آغا معاف کرنا۔ یہ بازو اب کام نہیں کرے گا۔
وہ ہنسا۔ خون تھوکتے ہوئے ہنسا۔
بایاں ہاتھ اٹھایا اور کہا۔ ڈاکٹر۔ قلم ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ دل میں ہوتا ہے۔ میرا دل ابھی زندہ ہے۔
اسی سال وہ صدر بن گیا۔
1981 سے 1989 تک۔
ایران آگ میں تھا۔ عراق سامنے تھا۔
وہ صدارتی کرسی پر نہیں بیٹھا۔
وہ خندق میں بیٹھا۔
ایک 17 سالہ بچے کا سر اس کی گود میں تھا۔ سر کا آدھا حصہ نہیں تھا۔
بچہ پوچھ رہا تھا۔ آغا میں مر تو نہیں جاؤں گا؟
اس نے بچے کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ اور کہا۔ نہیں بیٹا۔ تم زمین پر نہیں مرو گے۔ تم آسمان پر لکھے جاؤ گے۔
28 جون 1989۔
امام خمینی کا جنازہ تھا۔
لاکھوں تھے۔ مگر سب یتیم تھے۔
مجلس خبرگان نے اعلان کیا۔
پرچم اس زخمی کے ہاتھ میں۔
وہ پرچم نہیں تھا۔ وہ نیزہ تھا۔
اور وہ 36 سال اس نیزے پر کھڑا رہا۔
نہ سویا۔ نہ جھکا۔ نہ بکا۔
دنیا نے کہا یہ گر جائے گا۔
وہ کہتا رہا۔ حسین والے گرتے نہیں ہیں۔
پابندیاں آئیں۔ جیسے زنجیریں۔
اس نے زنجیروں کو توڑ کر یونیورسٹی بنا دی۔
کہا روٹی کم ہے تو کیا ہوا۔ دماغ تو ہے۔
1989 میں 70 فیصد لوگ پڑھ سکتے تھے۔
وہ چلا گیا۔ 94 فیصد کر گیا۔
لڑکیاں گھروں سے نکلیں۔ لیب میں گئیں۔
نینو ٹیکنالوجی میں ایران دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔
سٹیم سیل میں دسواں۔
2009 میں "امید" نامی سیٹلائٹ خود بنایا۔ خود چھوڑا۔
15واں ملک تھا وہ۔
فیکٹریوں کے سائرن بجے۔
ڈرون بنے۔ میزائل بنے۔
اس نے کہا۔ جو قوم اپنی تلوار خود نہیں بناتی۔ وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتی ہے۔
مگر رات کو جب سب سو جاتے۔
وہ اکیلا جاگتا۔
اور روتا۔ کیوں؟
کیونکہ امت ٹوٹی ہوئی تھی۔
شیعہ سنی کے نام پر گالیاں۔
منبر سے خون۔
اس نے ایک کہا۔ بس۔
مقدسات اہلسنت کا احترام واجب ہے۔
جو تفرقہ ڈالے استعمار کا آلہ کار ہے ۔
پھر ہاتھ اٹھا کر کہا۔
ہمارا قبلہ ایک ہے۔ مکہ۔
ہمارا دشمن ایک ہے۔ تل ابیب۔ واشنگٹن۔
شیعہ سنی بھائی ہیں ۔
قلم اٹھایا۔
"انسان دو سو پچاس سالہ" لکھی۔
کہا علی سے خمینی تک ایک ہی خون ہے۔ بس نام بدلتے ہیں۔
"فلسطین" لکھی۔
کہا قدس پتھر کا ٹکڑا نہیں ہے۔ قدس امت کا دل ہے۔
دل نکالو گے تو لاش اٹھانا پڑے گی۔
پھر وہ صبح آئی۔
28 فروری 2026۔
رمضان تھا۔ وہ روزے سے تھا۔
تہران کے ایک گھر میں۔
مصلہ بچھا تھا۔ قرآن کھلا تھا۔
انگلی سورہ یاسین پر تھی۔
اچانک آسمان پھٹا۔
دیوار موم کی طرح پگھل گئی۔
چھت گر گئی۔
وہ گرے۔
خون قرآن کے صفحوں پر گرا۔
اور وہ مسکرائے۔ آخری سانس میں مسکرائے۔
بیٹی بشرا بھی تھی۔
باپ کے ساتھ کھڑی تھی۔ باپ کے ساتھ گر گئی۔
داماد مصباح الہدیٰ بھی تھا۔
گھر کا سہارا۔ وہ بھی مٹی ہو گیا۔
نواسی زہرا۔ 14 ماہ عمر ۔
وہ ملبے کے نیچے دب گئی۔
ہاتھ میں گڑیا تھی۔
سانس نہیں تھی۔
ایک میزائل۔
ایک خاندان۔
شہادت سے 3 دن پہلے اس نے خطبہ دیا تھا۔
لرزتی آواز میں کہا تھا۔
مجھ جیسا۔ یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔
یا حسین کی طرح جیو۔ یا حسین کی طرح مرو۔
اور وہ حسین ع سے وعدہ وفا کر گیا۔
تابوت پر عمامہ پڑا ہے ۔
کیونکہ یہ لکڑی نہیں ہے۔
یہ آگ ہے۔
تہران بند ہے۔
مشہد بند ہے۔
کروڑوں لوگ ہیں۔ ہر ہاتھ میں تصویر۔ ہر آنکھ میں آنسو نہیں۔ خون ہے۔
اور انتقام کی صدا بلند ہے
ایران دنیا سے کہہ رہا ہے۔
سنو۔ تم نے ایک کو مارا۔
اس کا خون گلی میں بہہ گیا۔
وہ خون پاکستان کی سرحد پار کر گیا۔
عراق کے صحراؤں میں اتر گیا۔
یمن کے پہاڑوں میں گونج گیا۔ لبنان کے گھروں میں اتر گیا۔
ہر گھر میں وہ خون ہے۔
ہر سینے میں وہ آگ ہے۔
ہم کہتے ہیں۔ فکر کی قبر نہیں ہوتی۔
4 جولائی سے 9 جولائی۔ تین دن۔
دنیا دیکھے گی۔
مشہد کے امام رضا کے روضے میں مٹی ملے گی۔
مگر اس سے پہلے تاریخ لکھی جائے گی۔
کہ ایک آدمی تھا۔ مٹی سے آیا۔ جیل میں پلا۔ زخم سے سیکھا۔
قرآن پڑھتے ہوئے شہید ہوا۔
اور امر ہو گیا......
لوگوں کا گمان یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام بس ایک ایسے کردار تھے۔۔
جو سورۃ الکہف میں آئے اور گزر گئے،
لیکن اہلِ بصیرت جانتے ہیں کہ خضر کوئی ایسی کہانی نہیں جسے پڑھ کر بھلا دیا جائے،
بلکہ یہ تو ایک ایسا (طریقہ حیات) ہے جسے
جی کر دکھایا جاتا ہے۔۔۔
پورا قرآن آپ کو سکھاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ
کیسے چلا جاتا ہے،
بالکل اسی طرح جیسے موسیٰ علیہ السلام، خضر علیہ السلام کے ساتھ چلے۔۔
آپ سوال کرتے ہیں، تعجب کرتے ہیں،
صبر کرتے ہیں، پھر آپ پر یہ منکشف ہوتا ہے ۔۔۔کہ تقدیر کے پردوں کے پیچھے رحمت کا ایک ایسا راز چھپا ہوتا ہے جو پہلے آپ کی نظروں سے اوجھل تھا۔۔
سورۃ الفاتحہ میں آپ سیکھتے ہیں کہ
سمجھ بوجھ سے پہلے ہدایت کا طلبگار کیسے بننا ہے،
کیونکہ کتنے ہی ایسے دل ہیں جو راستہ طے کرنے سے پہلے ہی اسے سمجھنا چاہتے ہیں۔۔۔
سورۃ البقرہ میں آپ وہ غیبی پکار سنتے ہیں کہ:
«اور عسیٰ أن تکرھوا شَیئاً وھو خیرٌ لکم» (اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہی تمہارے حق میں بہتر ہو)،
تب آپ کو سمجھ آتا ہے کہ کشتیوں میں سوراخ بعض اوقات انہیں بچانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔۔۔
سورۃ آلِ عمران میں آپ سیکھتے ہیں کہ ٹوٹ جانا ہمیشہ شکست نہیں ہوتی۔۔۔
کیونکہ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ بعض اوقات آپ کے دل کی تربیت ان زخموں سے کرتا ہے جو نعمتیں نہیں کر پاتیں۔
سورۃ یوسف میں آپ دیکھتے ہیں کہ
کیسے کنواں تختِ شاہی میں بدل جاتا ہے۔۔۔ تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ خوبصورت انجام کو آزمائش کی روشنائی سے لکھتا ہے۔۔۔
سورۃ ہود میں نوح علیہ السلام لوگوں کے
مذاق کے باوجود اپنی کشتی تعمیر کرتے ہیں ، تو آپ سیکھتے ہیں کہ بندگی (اطاعت) داد و تحسین کی
محتاج نہیں ہوتی۔۔۔
سورۃ یونس میں مچھلی ایک نبی کو نگل لیتی ہے۔۔پھر
اللہ کا ذکر اسے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے تو آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ ۔۔۔کشادگی کے دروازے بندگی کی چابیوں سے ہی کھلتے ہیں۔۔
اور سورۃ مریم میں ایک کمزور عورت کھجور کے تنے کو ہلاتی ہے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ تنا ہلنے کا محتاج ہے،
بلکہ اس لیے کہ اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ
آپ اپنی طرف سے اسباب اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔۔
ایک مسلمان صرف اس وقت زندہ رہتا ہے جب وہ کفر اور طاغوت کے خلاف مزاحمت کرتا رہتا ہے۔۔
جس دن مسلمان کفر اور طاغوت کے خلاف مزاحمت بند کر دیں وہ اندر سے مردہ ہو جاتے ہیں ۔۔
جب وہ کفر اور ظلم کو نارمل تصور کرنے لگیں اور مایوس ہو کر شکست تسلیم کر لیں اور خاموش ہو جائیں تو پھر اللہ ایسی مسلمان قوم سے بری ہوتا ہے۔ ان کو ختم کر دیتا ہے یا تبدیل کر دیتا ہے۔
جب اپ غزہ کے مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں تو اپ مزاحمت کرتے ہیں۔ اپ کفر اور طاغوت کے خلاف جنگ میں شامل ہوتے ہیں۔ اپ کا بھیجا ہوا پیسہ اپ کو زندگی بخشتا ہے۔ اپ میں ایمان کی حرارت پیدا ہوتی ہے۔۔ اپ میں غیرت اور شجاعت جاگتی ہے۔
اپ صرف فلسطین کے مسلمانوں کی مدد نہیں کر رہے ہوتے، اپ اپنے ایمان کو تازہ کر رہے ہوتے ہو۔ یہ اعلان کر رہے ہوتے ہو کہ ہم کفر شیطان اور ظلم پر راضی نہیں ہیں اور اس کی مخالفت بھی کریں گے اور مزاحمت بھی۔
اللہ پھر اپ کو غافل مسلمانوں میں نہیں لکھتا۔ اللہ اپ کو ظالموں میں شمار نہیں کرتا۔
تم اپنے اوپر احسان کرتے ہو جب اہل فلسطین کی کفالت کرتے ہو۔
یہ تو اہل فلسطین کا احسان ہے ہمارے اوپر کہ ہم کو موقع دیا کہ ہم ان کی خدمت کر کے ظالموں میں شامل نہ ہوں۔ غزہ کے رباط میں شامل ہوں۔ سیدی رسول اللہ کی بشارتوں کے حقدار بنیں۔
اسی لیے کہتے ہیں تم کو اپنے اپ کو محروم مت کر لینا۔ غزہ کا رباط کائنات کا سب سے خوبصورت رباط ہے۔ غزوہ ہند سے بھی زیادہ۔
شہید سید علی خامنہ ای صاحب کے جنازہ کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، کروڑوں افراد جنازہ میں شریک ہوں گے۔ دنیا کے کچھ بڑے جنازوں کے اجتماعات میں سے ایک ہو گا۔
ہم بہت دفعہ سنتے رہے ہیں کہ سید علی خامنہ ای صاحب کی یورپ میں کروڑوں کی جائیداد ہے، خفیہ بنک اکاونٹس ہیں، یہ دنیا بھر سے جمع ہونے والی زکوة و خمس سے اپنے خزانے بھر رہے ہیں۔ اپنے خاندان سمیت شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
جنازہ و تدفین سے قبل ایرانی حکومت نے سید علی خامنہ ای کے کل ترکہ کی تفصیلات جاری کی ہیں ، ان کے ذاتی اثاثوں میں سے قیمتی چیز ایک پک اپ ٹرک ہے، اس کے علاوہ گھر بھی کرایہ کا، کچھ پرانا فرنیچر (جو میزائیل حملہ میں تباہ ہوگیا) ، کوئی ایکٹیو بنک اکاونٹ نہیں ، کوئی پوشیدہ فنڈز نہیں، ان کے نام پہ کوئی کمپنی رجسٹرڈ نہیں، کوئی محل یا حویلی یا زرعی زمین نہیں، یعنی ان کے کل اثاثہ وہی ایک پک اپ ٹرک ہی ہے۔
سوچیں قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ایران اور پھر 47 سال اس ملک پہ حکومت کرنے والے سید علی خامنہ ای جن کے پاس دنیا بھر سے زکوٰة اور خمس کی مد میں لاکھوں ڈالرز جمع ہوتے تھے لیکن ان کا ذاتی ترکہ کچھ بھی نہیں نکلا۔
دنیا کی سپر پاورز کے ساتھ کئی دہائیوں سے نبردآزما رہے، خطے میں بغیر مذہب و مسلک کی تفریق کے ہر مظلوم کی حمایت کرتے رہے، سپرپاورز نے ہر قسم کی آفرز کیں ، لالچ دئیے مگر نہ وہ ڈرے نہ جُھکے اور نہ بِکے، اگر وہ چاہتے تو اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی عیاشی میں گزار سکتے تھے، جائیدایں بنا سکتے تھے مگر نہیں انہوں نے دنیاوی زندگی کی بجائے آخرت کو ترجیح دی۔
میں اکثر مذہبی رہنماوں کی تصاویر پہ یہ جملہ لکھا ہوا دیکھتا ہوں "ایسے ہوتے ہیں علیؑ کے نوکر" مگر اس جملہ کی عملی تصویر اگر ہماری زندگی میں دیکھنے کو ملی ہے تو وہ شہید رہبر سید علی خامنہ ای ہیں، جن کی زندگی اور موت کو دیکھ کر کہنے کو جی چاہتا ہے کہ "ایسے ہوتے ہیں علیؑ کے نوکر"
علی اصغر