مختصر: پنج لکھ میں پنج ہزار سال
ابرار احمد پاکستان کے بہت مشہور ٹریول ویلاگر ہیں۔ اور اپنے عمومی اثبات کے حوالے سے پہچانے اور جانے جاتے ہیں۔ وہ آج کل جنوبی امریکہ کے دورے پر ہیں اور میکسیکو میں اک جگہ اپنی بائیک میں پٹرول بھروانے جاتے ہیں۔ پٹرول بھرنے والا ملازم ان سے پوچھتا ہے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں، تو جواب میں ابرار کہتے ہیں کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں۔ یہ سن کر وہ ملازم طنزاً قہقہہ لگاتا ہے اور کہتا ہے "ٹیررسٹ۔" یہ سن کر ابرار اپنے روایتی نرم لہجے میں میکسیکو کو "نارکو" کہہ دیتے ہیں جسے سن کر اس ملازم کا قہقہہ اک کھسیانی سی ہنسی میں بدل جاتا ہے۔
ابرار کی اس حرکت میں اک بہت پرلطف حکمت پوشیدہ ہے کہ عمومی اثبات کے ساتھ زندہ رہنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے اور منفیت میں پہل ہو جانے پر، موقع کی مناسبت سے اسی قسم کی منفیت سے لازمی جواب دیا جانا چاہیے۔ اسی میں سکون کی کیفیت رہتی ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی میں پشتون سٹوڈنٹس کونسل کی اک تقریب میں لکی مروت کے ا�� عمر خوردہ شاعر نے پنجاب اور پنجابیوں کو ہیرا منڈی کے حوالے سے اپنی معیاری اور عمومی پشتون دانش کا اظہار کیا جس پر پشتون خواتین کی موجودگی میں وہاں باشعور پشتون طلبا نے خوشی کا اظہار کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کے شہر لاہور میں ہیرا منڈی قائم ہے جہاں پشتون سٹوڈنٹس کونسل کے باشعور نوجوان اور لکی مروت کا پشتون دانشور اپنی بہنیں اور بیٹیاں فروخت کرنے لاتے ہیں۔ اور ان کی فروخت کے بعد اپنی غیرت، پانچ ہزار سالا تاریخ اور پشتونیت کا علم بلند کرتے ہیں۔ ایسے پشتونوں (زور "ایسے پشتونوں" پر ہے) کی یہ طویل تاریخ اور روایت ہے اور آپ اگر تلاش کیجیے تو ایسے بہت سارے حوالہ جات آپ کے سامنے آ جائیں گے۔ فرق یہ ہے کہ بحثیت اک پنجابی، ہمیں ہیرا منڈی پر کوئی فخر نہیں، مگر ایسے پشتون اپنی بہنیں اور بیٹیاں فروخت کر کے پھر بہت فخر سے سینہ پُھلا اور گردن تان کر چلتے ہیں کہ ہم بہت غیرتمند ہیں اور پھر اپنے دو موٹے دُپڑی ماروں کے پیچھے اک گھسا پٹا ٹپہ گاتے ہیں: "ہمارے ساتھ ریاست نے اچھا سلوک نہیں کیا۔"
ہم پنجابیوں کو ہماری شرمندگی مبارک۔ ایسے پشتونوں کو ان کی غیرت۔
آخر میں، بحثیت اک پنجابی، میں ایسے پشتونوں کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں کہ ایسی سٹوڈنٹس کونسلز اور لکی مروت کے عمر خوردہ ایسے معیاری پشتون دانشوروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی بدولت، پنجاب کی خوابگاہیں آباد رہتی ہیں۔ یہ سلاسل چلتے رہنے چاہئیں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ شرمندہ ہو سکیں اور ایسے پشتون زیادہ سے زیادہ غیرتمند۔
ڈیرہ مننہ۔
دُم: انسانی رویہ رکھنے والے پشتون برا محسوس نہ کریں۔ نیز، پنجابیوں کو کبھی پہل کرنے کی ضرورت نہیں۔ پہل جو ہو جائے، تو کبھی جانے مت دیا کیجیے۔ آپ لوگوں کی خاموشی نے ہی ایسے غیرتمندوں کا خون سوا سیر کر رکھا ہے۔ تُن کر جواب دیا کریں کہ اگر پنجابی ہیرامنڈی کی پیداوار ہیں تو تم ��ارے گشتیوں کے پیدا کردہ ہو جنہیں تمھاری بھائی اور باپ ہیرا منڈی فروخت کر گئے تھے اور تم میں اس حساب سے تمام نطفے پنجابی ہیں۔ اور اگر معاملہ پنجاب کی زمین پر جواباً گرم ہوتا ہے، تو اسے بھی ہونے دیں۔ خیر ہے۔
Marco Rubio on Pakistan:
Pakistan is concerned about terrorist attacks that are being sponsored from the territory of Afghanistan.
They think that the Taliban has not done enough to constrain those attacks, and they've taken action against it.
We don't want Pakistan to be targeted by terrorism.
@ShaykhSulaiman@s_m_marandi Can u tell us what is happening in side Iran where is 2 different types of government are running.Pakistan and Turkey are doing their best to tell your stupid gov for their attention .
@Cric46966 My Indian friend how many people afford kfc in India. Millions of Indian people don’t have enough money to buy a food for their family and children.
میاں نواز شریف کی بطور وزیراعظم پہلی حکومت کے دوران ایوان صنعت و تجارت نے عالمی تجارت کے کنونشن پر دستخط کئے۔ وہاں ایک باندر بھی موجود تھا اس نے اگلے دن روزنامہ پاکستان کی ہیڈ لائن نکلوادی "پاکستان نے بھارت سے تجارت شروع کردی" کیوں کہ بھارت بھی اپنی جگہ پر اس عالمی معاہدے کو ہم سے پہلے ریٹیفائی کر چکا تھا۔ حالاں کہ دہشت گرد تنظیم بلیک ایگل کے اس جیالے کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ باہمی تجارت ہمیشہ ہر ملک کے اپنے قوانین کے تحت ہوتی ہے۔ تا ہم مقصد صرف نوازشریف حکومت کو نیچا دکھانا تھا۔
اب یہی نابغہ کہہ رہا ہے کہ "صحافیوں کو ایک ٹویٹ کے دس لاکھ ملتے ہیں"۔
قابل رحم وہ لوگ جو اسے سنتے ہیں
جب اسحاق ڈار درود پاک پڑھ کر گفتگو کرنے لگے تو اسی حرامد میر نے کہا “ ابھی جھوٹ بولے گا “ اور اس رات حامد میر نے دھاندلی کا ایسا بیانیہ بنایا کہ آج تک ہر انصافی اس الیکشن کو دھاندلی زدہ کہتا ہے لیکن افسوس کہ لون لیگ ہمیشہ کی طرح منجی تھلے وڑی رہی
پاکستان انٹرنیشنل کے نام پر چلنے والا ' اکاؤنٹ ' افغان نکلا ۔ لوکیشن افغانستان کی ۔ فالورز افغانی ۔ لیکن پاکستان کے نام پر پاکستان کے خلاف خبریں �� پس پردہ بھارتی را کے راگھو شرما کے لنکس نکل آئے ۔
افغانستان کی یونیورسٹی میں پڑھانے والا ایک نام نہاد استاد پروفیسر راگھو شرما دراصل بھارتی را کا ایجنٹ ہے ۔ اطلاعات کے مطابق پروفیسر کا یہ عہدہ محض ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے بیٹھ کر وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے اس نیٹ ورک کی ڈوریاں ہلا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس نیٹ ورک کے مرکزی اکاؤنٹ کی ریجنل لوکیشن کو اس طرح مینیپولیٹ کیا گیا کہ عام صارف کو لگے کہ یہ وسطی ایشیا (Central Asia) کے کسی پرامن ملک سے چل رہا ہے۔ لیکن وسطی ایشیا کے پردے کے پیچھے اصل لوکیشن افغانستان کی نکلی ہے، جو اس وقت پاکستان مخالف ڈیجیٹل وار کا سب سے بڑا لانچنگ پیڈ بنا ہوا ہے۔
اس اکاؤنٹ نے اپنا نام 'پاکستان انٹرنیشنل' رکھا تاکہ عام پاکستانی اسے اپنے ملک کا آفیشل یا محب وطن اکاؤنٹ سمجھ کر فالو کریں۔ جیسے ہی پاکستان میں کوئی اہم موڑ آتا ہے، یہ نیٹ ورک متحرک ہو کر سی پیک، معیشت اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے۔اس نیٹ ورک کی اسٹریٹجی اور فنڈنگ بھارت سے آ رہی ہے جبکہ اس کے لیے زمین اور لاجسٹکس افغانستان کی استعمال کی جا رہی ہیں۔
یہ وہ دلیر پولیس افسر تھا جس نے DHA کے ایک بنگلے پر مراد سعید کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تھا لیکن خواتین ک�� بے عزتی کرنے سے گریز کیا تھا
پھر نہ صرف اسے عہدے سے ہٹایا گیا بلکہ ضلع بدر بھی کیا گیا
یہ دلیر اور غیرت مند افسر (عمران الدین) آج شہید کر دیئے گئے 😭
Sami Ibrahim is trying to incite the people of Khyber Pakhtunkhwa; trying to arouse religious extremism thru spreading false news and a video of demolition of a mosque falsely claiming to have been done in Pakhtunkhwa.
I think the @NCCIAOFFICIAL must take notice of it as it's willful incitement, using religious sentiments spreading false news...
Very unfortunate, the silence of @NCCIAOFFICIAL is also worth noticing as if this heinous act was done by a poor man he/she would have been behind the bars by now.