اس نظام کے خالق بھی آپ ہیں، اس کے حاکم بھی آپ اور اس کی تباہی کے ذمہ دار بھی آپ...!
جب کھیل کے تمام قواعد و ضوابط اور اختیارات آپ ہی کے ہاتھ میں تھے، تو پھر اس ناکام کھیل کا خمیازہ یہ عوام کیوں بھگتے؟
میرا آج بھی یہی یقین ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف، اگر اتحاد، میرٹ، باہمی احترام اور اجتماعی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھے، تو ملک کے لیے بہت کچھ کر سکتی ہے۔
البتہ حقیقی اتحاد کی پہلی شرط نیتوں کے فتور کا خاتمہ ہے۔ جب دل صاف ہوں، فیصلے انصاف اور میرٹ پر ہوں، تبھی پائیدار یکجہتی ممکن ہوتی ہے۔
اگرچہ آج میں آپ کی صفوں سے بہت دور کھڑا ہوں، مگر میری دلی خواہش ہے کہ تحریکِ انصاف اپنی اصل پہچان، اپنی قوت اور اپنا وقار دوبارہ حاصل کرے. میری دعائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اتفاق، اخلاص اور کامیابی عطا فرمائے۔
پاکستان میں تبدیلی کی رکاوٹ ہمارا معاشی نظامِ فکر ہے۔ یہاں غریب بے حسی اور وسائل کی کمی کے باعث ہمت ہار چکا ہے، متوسط طبقہ روزمرہ کی دوڑ اور روزگار کی فکر سے آزاد نہیں ہو پاتا، اور امیر طبقے کو اس نظام میں کوئی خرابی نظر ہی نہیں آتی کہ وہ اسے بدلنے کی ضرورت محسوس کرے۔
کشمیریوں کے قتل عام پر جو خاموش ہیں یہ بھی اس جرم میں شریک ہیں۔
انشاللہ وقت آنے پر ان تمام لوگوں کا احتساب ہو گا۔ اب معاملات مزید ایسے نہیں چل سکتے۔ اس بار سزائیں دینا پڑیں گی۔ اگر ملک بچانا ہے۔ آرٹیکل 6 لگانا پڑے گا۔
ڈراموں اور کرکٹ پر شور مچانے والے بڑے شہروں کے لوگ بلوچستان میں بہتے خون پر خاموش کیوں ہیں؟ وہاں لوگ پانی، بجلی اور بنیادی زندگی کے لیے ترس رہے ہیں اور ان کی موت پر بھی میڈیا خاموش ہے۔
میں اپنے بلوچ بھائیوں کے غم میں برابر شریک ہوں اور ان دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔
نفرت جرم سے کریں، جنس سے نہیں۔
ایک مرد نے تیزاب پھینکا، تو دوسرے مرد نے جان بچانے کی کوشش بھی کی۔ انسان کی پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے، مرد یا عورت ہونے سے نہیں۔
#justiceforDrMahnoor
ہم سب پر یہ فرض ہے کہ عمران خان صاحب کی بہنوں کی عزت، احترام اور توقیر کا ہر موقع پر خیال رکھیں۔ ان کا غصہ اور سخت لہجہ اپنے بھائی کی وجہ سے ہے اور دنیا کی ہر بہن اپنے بھائی کے لیے ایسا ہی درد رکھتی ہے۔
سلمان اکرم راجہ صاحب بھی ایک نفیس انسان ہیں جن کا دل اور نیت صاف ہے۔ اسی طرح علامہ راجہ ناصر عباس صاحب اور محمود اچکزئی صاحب کو عمران خان صاحب نے چنا ہے۔ جن سے ہم عمران خان صاحب کی ہدایت پر مشورہ بھی لینگے اور ان کی رائے کی قدر بھی کرینگے۔ ان کا سیاسی تجربہ زیادہ ہے جس سے ہم نے فائدہ لینا ہے۔ ہم سیاسی فہم کے ساتھ ، عمران خان صاحب کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
یہ ایک حقیقیت ہے کہ پچھلے دو سال میں ہم بطور پارٹی نا مزاحمت میں اور نا مصلحت سے انصاف حاصل کر سکے ہیں- کیونکہ ہمارے سیاسی دشمن اخلاقی اور جمہوری پستی کے انتہائی نیچے درجے پر پہنچ چُکے ہیں اور کسی بھی آئین، قانون، عدالتوں کو یا اخلاقی و سیاسی اصولوں کو نہیں مانتے-
لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ منظم تنظیم کے بغیر کوئی بھی بڑی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہم نے عمران خان کی پارٹی، جو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، اُس پر صرف تنقید کی بجائے، باہمی صلاح مشورے اور اتحاد کے ساتھ اُس کو منظم کر کے آگے بڑھنا ہے۔
کوئی بھی معرکہ صرف جوش کی بجائے ہوش سے جیتا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی دشمن ہمیشہ ہمارے چھوٹی سی غلطی کے انتظار میں ہوتے ہیں اور اُس غلطی کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کر گولی بھی چلواتے ہیں، ہمارے کارکنوں کو شہید بھی کرتے ہیں، ہماری پارٹی کو بین کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، انتخابی نشان کے ساتھ دھاندلی سے اور عدالت سے ہماری سیٹیں بھی چھین لیتے ہیں اور عمران خان صاحب اور ان کے اہلیہ بشریٰ بی بی صاحبہ پر حد درجے کا ظلم بھی برپا کر دیتے ہیں۔ہم مُسلّح جتھے نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں۔ عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہم بندوق اور ڈنڈے کا مقابلہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر پُرامن طریقے سے کرتے رہیں گے۔
مردان کا جلسہ بھی عمران خان صاحب کی ہدایت پر ہو رہا ہے۔ یہ خیبر پختونخوا کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا انشاء اللّٰہ۔ تمام لوگوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہے!!
نجم ولی پاکستان پازیٹو جارہا ہے ،ساتھ ہی بجلی بند ہو گئی
ایک ریکارڈنگ کے دوران جہاں اطہر کاظمی بیٹھے تھے وہاں بجلی چلی گئی ،
اور اطہر کاظمی کےپروگرام کے دوران حذیفہ رحمان صاحب کی بجلی چلی گئی۔
یہ اچھا طریقہ ہے ، اگر پیٹرول 57 روپے فی لیٹر بڑھانا ہو تو پہلے 137 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرو، پھر احسان جتلا کر 80 روپے کم کردو اور وہی 57 روپے اضافہ رہنے دو
یہ کوئی نئی بات نہیں، سیاست میں اکثر اصول نہیں بلکہ مفادات بولتے ہیں۔ جب اقتدار یا فائدہ نہ ملے تو دین اور جمہوریت خطرے میں نظر آتے ہیں، اور جب راستے کھل جائیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ عوام اب یہ تضاد واضح طور پر دیکھ رہی ہے اور بیانیے کی اس تبدیلی کو سمجھ بھی رہی ہے۔
اہلحدیث عالم مفتی عمر صدیق نے ہشام الٰہی ظہیر کو امریکہ کی بی ٹیم قرار دے دیا، ایران کے قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، سعودیہ عرب اور بحرین پر حملوں کا دلیل سے جواب۔