@tayyabarajah باجی تھوڑی اپنی سوچ کو بڑھا کرے اور خان صاحب کی زندگی کو پڑھے کہ انہوں نے کیسے اپنی زندگی گزاری ہے اور کیسے گزار رہے ہے آپ لوگو کی سوچ پر افسوس جب غیر سیاسی اور چھوٹے سوچ والے لوگ سیاست پر بات کرتے ہے تو ان سے اس طرح کی چھوٹی ذہنیت والی باتو کے سِوا کچھ نہیں نکلتا-
میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے.
سابق وزیر اعظم عمران خان
25 اکتوبر 2025، اڈیالہ جیل
#StreetMovementForKhan
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
ایک منتخب عوامی وزیراعلی وقت اور حالات کو دیکھ کر ہی ایسا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ویلڈن صدر صاحب۔
اب باقی سیاسی بے روزگاروں کو چائیے کہ زرداری اور شہباز شریف بھی غیرت کرے اور وفاقی ناجائز ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کرے۔#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
5 اگست کو پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کو ہم بھرپور طریقے سے کامیاب بنائیں گے، ان شاء اللہ-
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
عمران خان صرف ہمارا بھائی نہیں
”وہ اس قوم کا ہیرو ہے “
ایک بہن کی اپنے نا حق قید بھائی کے لیے پُکار
نکلو اپنے خان کے لیے اس ملک کی خاطر -
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
تنقید اور اختلاف ہر میڈیا ادارے کا حق ہے، مگر صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر پہلو کو یکساں اہمیت دی جائے تاکہ عوام کو مکمل تصویر دکھائی جا سکے-
#کالے_چینلز_بے_نقاب
لاہور کی ایک اور سڑک حکومت کے حق میں بیٹھ گئی
فیروزپور روڈ پر سروس روڈ پر بارش کے باعث سڑک بیٹھ گئی، 3 موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں-
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
حکومتِ خیبر پختونخوا اور عمران خان کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف کالے چینلز سے گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کالے چینلز پر جھوٹی معلومات اور بے بنیاد دعوے نشر کیے جاتے ہیں تاکہ عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوں۔
وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ جھوٹ اور پروپیگنڈا زیادہ دیر تک نہیں چلتا، اور عوام حقائق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر ایک کا حق ہے، لیکن صحافت کی بنیاد سچائی، دیانت داری اور ذمہ داری ہونی چاہیے، نہ کہ غلط معلومات کی اشاعت-
#کالے_چینلز_بے_نقاب