اگر پی ٹی آئی کو عوامی حمایت حاصل ہوتی تو آج خیبر پختونخوا کے ہر ضلع میں لاکھوں کا مجمع ہوتا اور سڑکیں جام ہوتیں۔ ہمیں اطلاعات تھیں کہ یہ ایک اور 9 مئی کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر 9 مئی تو دور کی بات، صوبے میں ایک سڑک تک بند نہیں ہوئی۔ عوام نے اِن کی حکومت کو مسترد کر دیا ہے، اور اس اقدام سے انہیں ایک نئی امید ملی ہے۔
آج وزیراعظم شہباز شریف نے انتشار اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کو دوٹوک پیغام دے دیا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے شہیدوں کے لیے دو لفظ تک نہیں کہے، مگر اسلام آباد پر چڑھائی کی منصوبہ بندی ضرور کی۔ معیشت سنبھل رہی ہے اور ملک کو دوبارہ مفلوج نہیں ہونے دیا جائے گا، قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔ صوبے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مشاورتی کونسل کے قیام سے اب صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا، انشاء اللہ 🇵🇰
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
وفاقی کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دھشتگردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی.
کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دھشتگردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا.
کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں.
اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی ہے.
خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل کے نام اور ان کی پیشہ ورانہ تفصیلات۔
1۔ کفایت اللہ خان - مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور
سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات
سابق چیئرمین فاٹا ٹریبونل
سابق ڈپٹی سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور
سابق کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان
2۔ طارق محمود پاشا - مشیر برائے خزانہ، ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن
سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)
سابق معاونِ خصوصی برائے وزیراعظم، ریونیو
سابق سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن
سابق جوائنٹ سیکرٹری وزیراعظم سیکرٹریٹ
3۔ امیر جاوید - مشیر برائے قانون و پارلیمانی امور
سپریم کورٹ کے وکیل
سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا
سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان
4۔ ڈاکٹر سید امیر عبداللہ - مشیر برائے تعلیم
سابق نگران صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت، خیبر پختونخوا
سابق رکن نیکٹا ایکسپرٹ کمیٹی
نیدرلینڈز سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی
5۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان - مشیر برائے صحت
پاک فوج کی سابق سرجن جنرل
پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل
ہسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کی قومی انسٹرکٹر
پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز ڈگری
6۔ ڈاکٹر سرفراز علی شاہ - مشیر برائے معدنیات
سابق مشیر برائے منصوبہ بندی و تر��ی
سابق مشیر برائے مواصلات و تعمیرات
فرانس سے معاشیات میں پی ایچ ڈی
7۔ ڈاکٹر محمد ارشاد - مشیر برائے صنعت و تجارت
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے بورڈ کے رکن
سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)
فنانس میں پی ایچ ڈی
8۔ آصف رفیق آفریدی - مشیر برائے مواصلات و تعمیرات
خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر
تجربہ کار کاروباری شخصیت
تعمیراتی و ترقیاتی شعبے سے وابستہ
9۔ مولانا محمد طیب قریشی - مشیر برائے اوقاف و مذہبی امور
خیبر پختونخوا کے چیف خطیب (خطیبِ اعلیٰ)
جامعہ اشرفیہ پشاور کے منتظم
مسجد مہابت خان کے امام
10۔ عثمان سیف اللہ خان - مشیر برائے توانائی، بجلی، منصوبہ بندی و ترقی
سابق سینیٹر
غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف گورنرز کے رکن
پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے سابق بورڈ آف مینجمنٹ کے رکن
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA)، خیبر پختونخوا کے سابق چیئرمین
11۔ ثمر ہارون بلور - مشیر برائے اطلاعات و نشریات
رکن قومی اسمبلی
خیبر پختونخوا اسمبلی کی سابق رکن
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلق��تِ عامہ کی سابق چیئرپرسن
#خیبر_پختونخوا_کا_نیا_دور
#یوم_نجات
خیبرپختونخوا سے پارٹی رہنماؤں اختیار ولی خان صاحب اور ایم پی اے جلال خان کے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ گزشتہ ��اڑھے تیرہ سال میں خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت، تعلیم اور امن سے محروم رکھا گیا۔ سہیل آفریدی کی توجہ گورننس کے بجائے انتشار اور دہشتگردی کے فروغ پر ہے ، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم @CMShehbaz مسلسل نگرانی سے آئی ٹی پارک جیسے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ عوام کو نعروں نہیں، عملی کارکردگی کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم نے "وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم" میں ڈیجیٹل طریقہ کار سے شفاف انداز میں ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو براہ راست سبسڈی فراہم کرنے پر وزراء و افسران کے اعزاز میں عصرانہ دیا اور گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے وفاق نے صوبوں کی مدد سے مکمل یکجہتی کے ساتھ پٹرول سبسڈی فراہم کی، اس کو سراہتا ہوں، یہ ہمارا ایک بہت ہی اہم اقدام تھا اور ہے، اس میں خطرات بھی بہت تھے، بے شمار باتیں ہوئیں، لیکن ہم سب نے اللہ کا نام لے کر مل کر اس کے لیے جو کوششیں کیں، وہ الحمدللہ آج رنگ لا رہی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو خط لکھ کر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا کہ وزرائے اعلیٰ اور ان کی ٹیموں نے بڑی محنت کی اور بھرپور تعاون کیا، اس کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے آج اگر موازنہ کریں تو جب فروری کے مہینے میں یہ جنگ شروع ہوئی تھی، اس وقت بھی ہم نے اسی طرح کا اقدام کیا تھا، اس میں صوبوں نے انتظامی طور پر بھی اور مالی طور پر بھی اپنا پورا حصہ ڈالا تھا، اس کی جو بلند ترین سطح تھی، اس موقع پر 13 لاکھ ٹوکنز جاری ہوئے تھے۔انہو ں نے کہا کہ وہ بھی ہمارے سامنے ایک تصویر تھی کہ اگر یہاں لاکھوں موٹر سائیکلیں اور 800 سی سی کی گاڑیاں ملا کر ان کی تعداد لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے، اگر اس وقت 13 لاکھ لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا تھا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سکیم ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے آپ کی محنت رنگ لائی، اس میں برکت پڑی اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کوششوں سے آج اس سہولت سے مستفید ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، یعنی اس وقت یہ تعداد 13 لاکھ تھی اور اب ایک کروڑ سے بھی زائد ہو گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں، چنگ چی، رکشوں اور 800 سی سی گاڑی رکھنے والے ایک کروڑ سے زائد افراد نے پٹرول پمپوں پر ماہانہ دو ہزار روپے کا فائدہ حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی فائدہ ہے، براہ راست تو ایک کروڑ افراد ہیں، لیکن ان کے ساتھ ان کے بچے بھی ہیں جو سکول جاتے ہیں اور انہیں موٹر سائیکل پر چھوڑنے جاتے ہیں، پھر اگر ایک اوسط گھرانے میں پانچ افراد شمار کریں تو یہ پانچ کروڑ لوگ ہیں جنہوں نے براہ راست اور بالواسطہ فائدہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ایک کروڑ آٹھ لاکھ اسی ہزار سے زائد شہریوں نے رجسٹریشن کروائی ہے، آج تک ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھانوے ہزار افراد کو وائوچرز جاری کئے جا چکے ہیں، مجموعی طور پر دو کروڑ ستر لاکھ ٹوکن جاری کیے گئے جن میں سے ایک کروڑ چورانوے لاکھ ٹوکنز پر شہریوں نے رعایتی قیمت پر پٹرول حاصل کیا اور اب یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔مذکورہ اعداد و شمار میں بانوے لاکھ ستتر ہزار شہریوں نے دوبارہ بھی ٹوکن وصول اور استعمال کیے۔ تقریباً 96 فیصد موٹر سائیکل سواروں نے اس اسکیم سے فائدہ حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، سٹیٹ بینک، نادرا، پی ٹی اے، ٹیلی کام آپریٹرز سمیت مثالی خدمات ادا کرنے والے ان تمام اداروں کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت دے کہ آپ پاکستان کی اسی طرح بھرپور خدمت کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکیم ان شاء اللہ چلتی رہے گی، ہم نے 75 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے میں آپ سب کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرتا ہوں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں بہترین کام کیا گیا، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور وزراء اعلیٰ کا بھی شکرگزار ہوں، میں نے انہیں خطوط لکھ دیئے ہیں، یقین کریں کہ آپ کی کوششوں اور تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا اور یہی وہ چیز ہے جسے عزم، غیر متزلزل لگن، وابستگی اور انتھک کوششوں پر مبنی بہترین ٹیم ورک کہا جاتا ہے، ۔انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نیک نیتی سے کام کر رہے تھے، محنت سے کام کر رہے تھے، صوبے بھی اور وفاق بھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ان کوششوں کو قبول کیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ کو بہترین خدمات پر 23 مارچ کو تمغہ دینے کا اعلان کیا جبکہ دیگر محکموں کے حکام کو شیلڈز دی جائیں گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہاؤسنگ، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کاوشوں کی پزیرائی.
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں و بہترین کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی کاوشوں کو سراہنے کیلئے بینکوں کے صدور و سی ای اوز کے وفد سے ملاقات کی.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے ��رجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا. حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں، کاروباری افراد اور کسانوں کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنا ہے. ایس ایم ایز، ہاؤسنگ اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی میں بہتری سے روزگار�� سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور زیادہ سے زیادہ شہہریوں کے استفادے کیلئے اسٹیٹ بینک قرضوں کی منظوری اور ادائیگی کے عمل کو مزید آسان بنائے. زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے. چھوٹے کسانوں تک مالی وسائل کی رسائی کو ترجیح دی جائے تاکہ وہ جدید زرعی طریقے اپنانے اور اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے قابل ہو سکیں۔ زرعی فنانسنگ کے ذریعے چھوٹے کسانوں تک رسائی بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ملک کا بڑا ب��نک وہ ہے جو چھوٹے کسان کا بھی بینک ہو.
وفد نے وزیرِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کے معاشی استحکام اور معیشت کی سمت کی بہتری پر وزیرِ اعظم کو خراج تحسین پیش کیا. بینکوں کے وفد کے ارکان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترجیحی شعبہ جات میں قرضے مہیا کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون مزید بہتر بنا رہے ہیں.
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں ملک کے دس بڑے کمرشل بینکوں کے سربراہان سے ملاقات کی اور وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے عوام کو اپنے گھر کا مالک بنانے، چھوٹے کاروباروں کو مالی وسائل فراہم کرنے اور کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بینکاری شعبے کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 426 ارب روپے کی مالیت کے قرضے منظور ہو چکے ۔ ان میں سے 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔
مالی سال 2026-27 کے لیے اس پروگرام کے تحت 125,000 رہائشی یونٹس کی تعمیر و فراہمی کے لیے 700 ارب روپے کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ قرضوں کی منظوری اور رقوم کی فراہمی کے درمیان موجود فرق کو کم کیا جائے، کیونکہ شہریوں کو حقیقی فائدہ اسی وقت پہنچے گا جب منظور شدہ رقم ان تک بروقت پہنچے گی۔ بریفننگ میں بتایا گیا کہ ڈیویلپرز کی قرضوں تک رسائی کیلئے فریم ورک پر مشاورت جاری یے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایم ای شعبے میں تقریباً 350,862 کاروباری افراد کو مجموعی طور پر 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ جون 2027 تک قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کاروباری افراد کی تعداد 565,000 تک پہنچانے کا ہدف مقرر ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ستمبر 2026 کے اختتام تک زرعی قرضوں کا مجموعی حجم 1,352 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 3,455,313 افراد اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے ساتھ ساتھ نیشنل بینک، یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک، میزان بینک، بینک الفلاح، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی اور ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن کے صدور و سی ای اوز کے ساتھ متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی.
His Excellency Dr. Abdullatif bin Rashid Al Zayani, Foreign Minister of the Kingdom of Bahrain, called on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif during his visit to Pakistan to Co-Chair the 3rd Session of the Pakistan-Bahrain Joint Ministerial Commission (JMC), along with the Deputy Prime Minister/Foreign Minister of Pakistan.
The Prime Minister warmly welcomed the Bahraini Foreign Minister and conveyed his best wishes to the leadership and people of Bahrain. He reaffirmed Pakistan’s deep appreciation for the longstanding and brotherly relations between Pakistan and Bahrain, founded on shared values, mutual trust, and close people-to-people ties.
The Prime Minister expressed satisfaction over the positive trajectory of bilateral relations and underscored Pakistan’s commitment to further strengthening cooperation with Bahrain in diverse fields, including trade, investment, energy, and human resource development..
Foreign Minister Al Zayani conveyed the greetings and good wishes of the leadership of Bahrain to the Prime Minister and reaffirmed Bahrain’s commitment to further enhancing bilateral cooperation across mutually beneficial areas.
The two sides exchanged views on regional and international developments and emphasized the importance of continued consultations and coordination on issues of mutual interest. Foreign Minister Al Zayani appreciated Pakistan’s constructive role and mediation efforts aimed at promoting peace and stability in the region.
The Prime Minister expressed confidence that the 3rd Session of the Pakistan-Bahrain Joint Ministerial Commission would provide further impetus to bilateral cooperation and contribute to deepening the multifaceted relationship between the two countries.
The meeting was held in a warm and cordial atmosphere, reflecting the close and longstanding fraternal ties between Pakistan and Bahrain.
ایک طرف قربانی اور حب الوطنی
دوسری طرف مفاد اور انتشار
خیبر پختونخوا کے غیور عوام دہشت گردی سے نجات چاہ��ے ہیں۔ مگر صوبائی حکومت اس سے غافل ہے اور مفاد پرستی میں صوبے کو تباہ کر رہی ہے۔
ایک فوجی جوان کی کہانی جب وہ مادر وطن کی حفاظت کیلئے گھر سے رخصت ھوتا ھے۔ اس ویڈیو میں نوجوان کی والدہ کی جذبات کی حقیقی تصویر کشی کی گئی ھے جب وہ بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر "د اللہ پہ امان" کہتی ھے لیکن شومئی قسمت دیکھیئے کہ اگلی بار یہی ہاتھ اس کے تابوت پر پڑے نظر آتے ہیں۔ اس ماں کو انصاف اور سہارا دینا پختونخوا حکومت کی ذمہ داری ھے۔ دہشت گردی پر سیاست نہی بلکہ کھل کر مذمت کرنی ہوگی کیونکہ ایک طرف ایک ماں کا گھر اجڑتا ھے لیکن ھمارے روئے انکا دل اجاڑتا ھے
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی وزارتوں میں ڈیجیٹل نیشن پاکستان پروگرام کے نفاذ پر پیشرف جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام وفاقی وزارتیں متعلقہ اعداد و شمار کی قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر فراہمی کے لیے بروقت ضروری اقدامات مکمل کریں. وزیرِ اعظم نے کہا کہڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت قومی سطح کا مرکزی ڈیٹا سینٹر حکومتی خدمات اور شہری سہولیات پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وفاقی وزارتوں کی ذمہ داریاں کارکردگی اور متعلقہ ڈیٹا کی مرکزی ڈیٹا سینٹر میں فراہمی حکومتی نظام کو عصر حاضر سے ہم آہنگ کرے گا. ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا مقصد درحقیقت قومی سطح پر شہریوں کے لیے موثر اور باسہولت خدمات کو یقینی بنانا ہے۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ قومی سطح پر تمام شعبوں اور حکومتی اداروں کے کارآمد ڈیٹا کی ایک جگہ فراہمی ملکی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ مستحق طبقے کے لیے فیول سبسڈی سکیم پر کامیاب عمل درامد میں اداروں کے مابین اعداد و شمار کی شراکت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ وزارتوں کی کارکردگی اور متعلقہ اعداد و شمار کی ڈیجیٹائزیشن دراصل کرپشن اور ادارہ جاتی بدنظمی کے سد باب کے لیے اہم کردار ادا کرت�� ہے۔ قومی سطح پر صوبائی حکومتوں کے تعاون سے یونیورسل میڈیکل ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے وزارت صحت کی جانب سے قابل تعریف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیو ار کوڈ کا نفاذ لائق تحسین ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی تمام متعلقہ وزارتوں کے بھرپور تعاون کے ساتھ متعلقہ شعبہ جاتی ڈیجیٹائزیشن پر بھرپور اقدامات کر رہی ہے. عوام کی سہولت کے پیش نظر بنیادی سہولت کے شعبوں بالخصوص صحت، زراعت اور دیگر وزارتوں میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل ��رجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت قانون کے تعاون سے متعلقہ قومی قوانین کی ایک جگہ فراہمی کے لیے خصوصی اور موثر اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں قانون سازی کے لیے بہتر رہنمائی مل سکے۔ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ترجیحاتی سیکٹرز کی ڈیجیٹائزیشن پر کام جاری ہے اور ڈیجیٹل حکومتی خدمات، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل عوامی سہولت جیسے مقاصد کی تکمیل کے لیۓ خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان ڈیجیٹل نیشن پروگرام کے تحت وفاقی وزارتوں کی کارکردگی، متعلقہ اعداد و شمار کی ڈیجیٹائزیشن پر پیشرفت ج��ئزہ اجلاس منعقد ہوا۔ مختلف وفاقی وزارتوں نے اپنی عوامی خدمات، کارکردگی اور متعلقہ اعداد و شمار کی مرکزی ڈیٹا سینٹر میں فراہمی پر بریفنگ دی۔ وفاقی وزارت صحت سے متعلقہ اعداد و شمار کی مرکزی ڈیٹا سینٹر میں فراہمی اور ادویات کی معیاری تصدیق میں ڈیجیٹائزیشن کے استعمال پر خصوصی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے تمام وفاقی وزارتوں کو صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے متعلقہ ڈیٹا کو ڈیجیٹائز کرنے کے عمل کومعینہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر برائے کامرس جام کمال خان،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیرقومی صحت سید مصطفی کمال، , وفاقی وزیر براۓ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، اور متعلقہ ��رکاری اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قومی یومِ استقامت، 8 اکتوبر 2026 پر پیغام.
آج پوری قوم, عزم و استقلال کے ساتھ 21واں قومی یومِ استقامت منا رہی ہے اور 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
قوم آج بھی اس غیر معمولی تباہی کے نتیجے میں جانوں سے نقصان پر اپنے پیاروں کو سوگوار دلوں کے ساتھ یاد کرتی ہے۔
قوم 2005 کی المناک گھڑی میں اجتماعی بہادری، ہم��ردی اور ایثار پر مبنی اجتماعی ردِعمل کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
سیلاب، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، وباؤں اور اسموگ جیسی قدرتی آفات ہمارے لیۓ باعثِ امتحان ہیں اور محدود معاشی وسائل پر بھاری بوجھ ہیں۔
پاکستان بارہا قدرتی آفات سے دوچار ہونے کے باوجود ہر بار قوم ثابت قدم رہا اور پیشگی تیاری کو مزید موثر بنانے کے عزم کا مظاہرہ کیا۔
صوبائی حکومتیں، تمام متعلقہ سرکاری ادارے، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ مربوط تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
قدرتی آفات کے دوران پاکستان کے باہمت اور ثابت قدم عوام کا ہمدردانہ ردعمل ہمارے قابلِ فخر قومی کردار کا حصہ ہیں۔
قومی سطح پر آفات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ تمام اداروں، بشمول مسلح افواج، امدادی و ریسکیو اداروں کی انتھک کاوشیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔
حکومت، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے، ادارہ جاتی ردعمل میں جدید ٹیکنالوجیز کو مربوط کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
جن میں قابلِ اعتماد ڈیٹا پر مبنی تجزیاتی نظام کی مدد سے زیادہ موثر پیشگی انتباہی نظام کی تشکیل بھی شامل ہے۔
موسمیاتی معلومات، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، جغرافیائی اعداد و شمار اور سائنسی بنیادوں پر خطرات کی پیشگی نشاندہی آفات کے اثرات کم کرنے کی صلاحیت مستحکم ہو رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے ملک کے مختلف شہروں سے آئے مزید کارکنوں، نوجوانوں اور سوشل میڈیا سے وابستہ ساتھیوں سے ملنے کا موقع ملا۔ ان کے سوالات سنے اور آراء سے استفادہ کیا۔ ان متحرک، مخلص اور ثابت قدم نوجوانوں کا جذبہ ہمیشہ حوصلہ بڑھاتا ہے۔ ان کے ساتھ رابطہ و مشاورت کا یہ سفر انشاء اللہ جاری رہے گا۔ 🇵🇰
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس سے ملاقات میں سیاحت کے فروغ، باہمی تعاون اور دستیاب مواقع سے استفادے پر گفتگو کی۔ پاکستان کا قدرتی حسن، تاریخی ورثہ اور مہمان نوازی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق مشترکہ کوششوں سے سیاحت نئی بلندیوں تک پہنچے گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور دنیا پاکستان کی خوبصورتی سے مزید روشناس ہوگی، انشاء اللہ 🇵🇰
آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی جلال خان صاحب کی عیادت کی، جو گزشتہ دنوں ایک حادثے میں زخمی ہوگئے تھے۔ جلال خان صاحب پارٹی کے مخلص ساتھی اور خیبرپختونخوا کے عوام کی توانا آواز ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جلد مکمل صحت یابی عطا فرمائیں تاکہ وہ عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھ سکیں، آمین 🇵🇰
لاہور میں سینئر صحافی محترم سجاد میر صاحب کی عیادت کے لیے ان کے گھر حاضری دی اور خیریت دریافت کی۔ سجاد میر صاحب نے کئی دہائیوں تک اپنے قلم، فکر اور صلاحیتوں سے صحافت کی گراں قدر خدمت کی ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جلد اور کامل صحت و ت��درستی عطا فرمائیں، آمین 🇵🇰
وزیراعظم شہباز شریف کے ریفارم ویژن پر اہم جائزہ اجلاس بلایا جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے شرکت کی اور بیانیے کے حوالے سے مفید گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم ریفارم ویژن کا مقصد، کاروبار میں آسانی اور ٹیکس نظام میں شفافیت ہے۔ اسی ویژن کے تحت چھوٹے دکانداروں کے لیے آسان اور باعزت فکسڈ ٹیکس سسٹم لایا گیا ہے، اور اس کا پیغام اب ہر بازار، ہر گلی تک پہنچے گا۔ اصلاحات کا یہ سفر جاری رہے گا۔ ٹیکس نیٹ بڑھے گا، معیشت مضبوط ہو گی، اور پاکستان آگے بڑھے گا۔ ان شاء اللہ 🇵🇰
تحریکِ انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت اگر اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو یہ اس کی مکمل ناکامی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بجائے دہشت گردوں کو اسپیس دی جا رہی ہے، ایپکس کمیٹی کی میٹنگ تک نہیں کی جاتی۔یہ فائدے پاکستان سے لیتے ہیں اور فیور افغانستان کی کرتے ہیں۔ ہزاروں جوان اور افسر شہید ہوئے، مگر دہشت گردی اور افغانستان کی طرف سے فائرنگ کی مذمت تک نہیں کی گئی۔ انکو کون روکتا ہے کے شہیدوں کے جنازوں پر نا جائیں ؟ دورخی، دوغلی پالیسی اور دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔آپکی سیاست بھاڑ میں گئ، عوام کے جان و ما�� کا تحفظ سب سے پہلے ہے۔