"غیر معمولی ریلیف " (اس نظام کے مردہ پن کو ظاہر کرنے کیلئے بس یہ ایک اصطلاح ہی کافی ہے )
آج صبح جب ٹویٹر دیکھا تو ہر طرف سپریم کورٹ کے عمران خان کے بارے میں فیصلے کی دھوم تھی - مجھے لگا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو ضمانت پر رہا کردیا ہے یا شاید ان کے کیسوں کی اپیلیں لگادی ہیں---- تب ہی اتنی کھلبلی ہے - جب فیصلہ دیکھا تو وہ تھا کہ
"خان صاحب کو علاج کیلئے کچھ دن کیلئے شفا ہسپتال ٹرانسفر کرنے کا حکم ہے اور ان کی بہن سے بھی ان کو ملنے دیا جائے "
اس ایک فیصلے پر جسے مہذب دنیا "بنیادی انسانی حق " کہتی ہے ' ہمارے ہاں حکومتی کیمپوں میں کہرام اور انصافی کیمپوں میں دھوم مچی ہوئی ہے - یہ کہرام اور یہ دھوم ہماری سیاست اور ہمارے نظام انصاف کے مردار ہونے پر ایک اور مہر ثبت کررہے ہیں -
میں یہاں اوہائیو میں سٹیٹ ہسپتال میں کام کرتا ہوں جہاں بہت سے قیدی لایے جاتے ہیں - عام سے عام قیدی کو بھی جو میڈیکل پروٹوکول اور علاج کی سہولت ملتی ہے وہ اس ریلیف سے کہی زیادہ ہے جو ایک سابق وزیر اعظم اور قومی ہیرو کو دیا گیا ہے -
یعنی ایک سابق وزیر اعظم اور ایک قومی ہیرو جو ایک انٹرنیشل شہرت کا حامل ہے ' اس کو تین سال تک گوشہ تنہائ میں رکھنے ' اس کی تمام پیشیاں جیلوں میں لگوانے ' اس کو ذاتی معالج سے محروم کرنے ' اس کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کے بعد آج اگر اس کو یہ اجازت ملی ہے کہ وہ اپنے خرچے پر ایک لوکل ہسپتال سے اپنا علاج اور اپنا چیک اپ کرواسکتا ہے ' اپنی بہن سے ہفتے میں ایک دفعہ مل سکتا ہے تو اس پر اس کو ریلیف سمجھا جارہا ہے - اس پر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے - سپورٹرز نہال ہیں اور مخالفین کو قبض لگ گئی ہے - لفافہ صحافی اس کو "غیر معمولی ریلیف " قرار دے کر قلم سے طنز کے نشتر چلا رہے ہیں - حکومت اس "تاریخی فیصلے " کے خلاف نظر ثانی کی درخواست جمع کروانے جارہی ہے - کوئی اس کو اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل قرار دے رہا ہے ' کوئی اس کو ڈھیل کہ رہا ہے - کوئی کہ رہا ہے کہ صوبوں کے معاملے پر مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو ڈراوا دیا گیا ہے -
الغرض یہ سب مفروضے ' یہ سب اندازے اور گمان اس ملک میں نظام کے مردہ ہونے کا کھلا اعلان ہیں اور کچھ بھی نہیں - اس کو کوئی رہائی نہی مل گئی - اس پر بنے دو سو مقدمے خارج نہی ہوگیے - اس کی چھینی ہوئی سیٹیں؛ اس کا عوامی مینڈیٹ اور پارٹی نشان واپس نہی کردیا گیا - اس کو وہ ملا ہے جو اس کو اسی وقت مل جانا چاہیے تھا جب پہلی دفعہ اس نے اپنی آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی تھی - اور اس تاخیر اور اس غفلت پر یہ عدالت ' یہ ریاست اور یہ حکومت تعریف کی نہی بلکہ تذلیل اور تضحیک کی حقدار ہے -
اس مردہ نظام کے گلے سڑے پن کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ایک عام پاکستانی کا دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ ججوں نے دلائل سن کر اور حقائق دیکھ کر انسانی ہمدردی پر فیصلہ دیا ہوگا بلکہ آج بھی بحث یہ ہے کہ کیا فوج سے ڈیل ہورہی ہے ؟ کیا مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو صوبوں کے معاملے پر چوں چران کرنے پر ڈرایا جارہا ہے ؟ یعنی یہ بات کہ واقعی عدالت نے انصاف کیا ہوگا کسی ذہن میں نہی آتی کیوں کہ عدالتیں چھبسویں اور ستائیسویں ترمیموں کے بعد کب کا اپنا کالا چوغہ اتار کر پٹکا پہن چکی ہیں - اپنا ہتھوڑا چھوڑ کر گھنگھروں پہن چکی ہیں -
یہ ہے سسٹم کا اصل کولیپس کہ ایک سابق وزیر اعظم اور انٹرنیشنل ہیرو کو آٹھ میل دور ہسپتال میں اپنا علاج کروانے اور اپنا خاندان سے فقط ملنے کیلئے اپنا بلڈپریشر شوٹ کروانا پڑے اور اپنی ایک آنکھ کھونی پڑے - تب جا کر اس نظام کا جج جاگتا ہے اور کچھ ریلیف ملتا ہے جس کو یہ نظام "غیر معمولی ریلیف " کہتا ہے -
او! ججوں ' جرنیلوں ! وزیروں ! جاؤ دھو کر لاؤ اس نظام کو تیزاب سے اور اس کے بعد تھوڑا سا خود بھی پی لو تاکہ تمہارا اندر صاف ہو یا اس کا صفایا ہوجاے کہ تم خدا کی اس دھرتی پر بس ایک بوجھ ہو اور کچھ بھی نہیں -
قلم کی جسارت وقاص نواز
---------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@soulful7867@SabeeKazmi786