Behind closed doors, high-stakes political deals and multi-billion-dollar mineral agreements are being signed at the expense of ordinary citizens.
While foreign powers and domestic elites barter over rare resources across 12 strategic districts, the true human cost is borne by innocent communities whose homes and lives are caught in the crossfire.
History shows a repeating cycle where elite pacts translate to public devastation. The world needs to look closer at what is happening on the ground: resource exploitation masked as development, backed by surveillance and force, paid for in blood.
#ReleaseImranKhan
دونوں فریق مطلب حکومت اور PTI مذاکرات خود کرتے رہے
اگر مریم نواز کی بات مانی بھی جائے تو کیا مریم بی بی اپنے چچا سے پوچھ کر بتاسکتی ہین کہ وہ دہشتگردوں سے مذاکرات کیوں کررہے تھے ؟
دوسری بات دونوں فریق مان رہے ہین مذاکارات کامیاب ہوگئے تھے لیکن الزام ایک دوسرے پر دونوں کا یہ ہیکہ کامیاب مذاکرات کے بعد بھاگ گئے تو مریم بی بی اگر آپ کی نظر مین سھیل آفریدی کی حکومت دہشتگردوں کی حمایت یافتہ تھی تو ان کو جانے دیتے بات ہی نہ کرتے مذاکرات ہی نہ کرتے بھاگنے کا الزام ہی نہ لگاتے اپنا جرم چھپانے کے لئے مولانا کے سوال پر ناراض ہورہے ہو بات اصل وہی ہے گورنرشپ بھانہ ہے معدنیات نشانہ ہے
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
سپہ سالار کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر پاکستانی کا دل دکھا دیا،،(مریم نواز ٹویٹ)
مریم صاحبہ : یاد کیجئیے، کل جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر نام لے کر آپ کے پاپا نوازشریف کی تنقید سے آپ محظوظ ہوتی تھیں،بلکہ لطف اندوز ہوتی تھیں،،
محترمہ مریم نواز صاحبہ، جمعیت علماءاسلام اور ھمارے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب نے واضح اور دو ٹوک انداز میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو سیاست اور جمھوریت کے لیے ز��رقاتل سمجھتے ھوئے مخالفت کی ھے اور اسے مسترد کیا ھے لیکن اگر دھشت گردی کے خلاف جنگ ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا کرائیٹریا تھا تو پھر بلوچستان میں تو بدترین حالات ھیں وھاں کیوں نہیں لگایا گیا؟؟؟
جنرل ضیاءالق مرحوم نے خود کو صدر منتخب کرنے کے لیے ریفرنڈم میں سوال پوچھا تھا کہ اگر آپ اسلام کا نفاذ چاھتے ھیں اور اگر جواب ھاں ھے تو میں صدر ھوں، لگتا ھے رائیونڈ کے محلات ابھی بھی انکی بھٹکتی روح آپ کی ٹویٹ میں آگئی ھے اور آپ نے بھی دھشت گردی کی حمایت ومخالفت کو اسی طرح گورنر راج اور ایمرجنسی سے مشروط کردیا ھے جس طرح جنرل ضیاء نے اسلام کو اپنی صدارت سے مشروط کردیا تھا
جمعیت علماء اسلام کی دی جانے والی شہادتوں اور قربانیوں کا اعتراف تو آپ خود کررھی ھیں اور ھماری لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کے بعد سب سے زیادہ قربانیں تو جمعیت کی قیادت کا کارکنوں نے دی ھیں تو پھر شہادتوں اور شہیدوں کی عظمت کا سبق ھمیں کوئی اور کیسے پڑھا سکتا ھے
محترمہ مریم نواز صاحبہ ھم جمعیت والے تو اس وقت بھی شہادتیں دے رھے تھے اور افواج کے جوان اس وقت بھی سینوں پر گولیاں کھا رھے تھے جب آپ کے جلسوں میں “یہ جو دھشت گردی ھے “ والے مخصوص نعرے لگتے تھے جب آپ کے والد میاں نواز شریف سرعام فوج کے کردار کو نہ ماننے کی تقرریں کیا کرتے تھے جب آج کے وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کا فنڈ بند کرنے کے مطالبے کیا کرتے تھے۔
افواج پاکستان کے سربراہ کے کردار کو ھندوستان کے خلاف جنگ میں اور حرمین الشریفین کے تحفظ کے حوالے سے سب سے پہلے میرے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب نے سراھا تھا اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ھونے کا اعل��ن کیا، لیکن آپ نے ان کے کردار کے کیا کیا کہ یہ تک کہہ دیا کہ مجھے ھندوستان سے اتنا خطرہ نہیں جتنا دوسرے صوبوں کے پاکستانی بھائیوں سے ھے اور پھر بھی آپ خیرخواہ اور ھم بدخواہ؟؟
جہاں تک آپ نے KP میں کزشتہ تیرہ سالہ دور اقتدار اور ناکامیوں کی بات کی ھے تو محترمہ یہ سوال تو آپ کو اپنے والد محترم سے پوچھنا چاھئیے کہ انہوں نے مولانا صاحب کی مخالفت کے باجود اس کی بنیاد رکھنے کا سبب کیوں بنے تھے۔
محترمہ آپ لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے واضح کرنا ھوگا کہ کس بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جمھوریت پر شب خون مارا گیا اب آپ لوگ دھشت گردی کے پیچھے نہیں چھپ سکتے جواب تو دینا ھوگا
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن 1970 کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھے جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھی جائے اور اپنی وزارت کے منصب سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا،جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے تو یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔
آئین چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کرتا ہے،فیڈریشن کے تحت تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں،اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں،آئین صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا ہے
شہباز شریف صاحب کے ساتھ صبح سات بجے ملاقات ہوئی،میں نے تفصیلی بات کی،انہوں نے میرے استدلال کو تسلیم کیا پھر نو بجے دو گھنٹے کے اندر اندر وہ پھر گئے،ایسے مجبور حکمران ہیں، وہ جس گھوڑے پر سوار ہیں اس کی لگام ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں، جو لوگ آپ کو دھاندلیوں کے ذریعے اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی ان کی مرہون منت ہے اور آپ حق نمک ادا کر رہے ہیں اور کچھ نہیں ہے۔
آج ہمیں ان تمام حالات کی طرف دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اس ملک اور وطن عزیز کو ان کے حوالے کر دیں؟ جیسے چاہیں ہماری قسمت کے ساتھ کھیلتے رہیں گے، جس ��رح چاہیں ہمارے نظام کو تل چٹ کرتے رہیں گے، ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا اور میں یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ:
ابھی آنکھوں کے شمعیں چل رہی ہیں، پیار زندہ ہے
ابھی مایوس مت ہونا، ابھی بیمار زندہ ہے
ہزاروں زخم کھا کر بھی میں ظالم کے مقابل ہوں
خدا کا شکر ہے، اب تک دل خوددار زندہ ہے
کوئی بیعت طلب جا کر خبر دے کہ میں زندہ ہوں
جب تک جرات انکار زندہ ہے
کل بنوں میں شہید پولیس اہلکار کے جنازے میں کیا گورنر صاحب نے شرکت کی؟نہیں
جو وفاقی وزراء کل سہیل کو طعنے دے رہے تھے، کیا ان میں سے کسی نے جنازے میں شرکت کی؟نہیں
کل سے اب تک تین چوکیوں پر حملے ہو چکے ہیں، کیا سہیل کو طعنے دینے والے کسی وزیر یا گورنر نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا؟نہیں
پنجاب کی بی بی کہتی ہے کہ مجھے ہندوستان سے اتنا خطرہ نہیں جتنا باقی صوبوں سے ہے تو میں مقتدرہ سے پوچھنا چاہتا ہو کہ یہ بیان اگر کوئی سندھی، پختون یا بلوچ دیتا تو ابتک تم اس پر غداری کے فتوے لگا چکے ہوتے، تمہارے غدارے کے فتوے پاکستان کے وفاداروں کیلئے تو ہے لیکن اپنے کٹ پتلی وزیراعلی کیلئے نہیں ہے۔ انجینئر ضیاء الرحمٰن
#پنجاب_مولانا_کے_سنگ #Juif #Pmln #مفتی_محمود_کانفرنس_ملتان
@Nazranausufzai Not only swat people can make differences in accent, i am from mohmand and i can easily pick this accent(looks like someone has learn pashto for an year or you can call this accent of kharyan,hindku speakers living in Peshawar 😅)
“شہباز شریف صاحب سے پوچھا کہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ مسلئہ کیا ہے؟ اس بات پر وہ اپنے لیڈر سے ملاقات چاہتے ہیں اور انکو علاج کے لیے اسپتال لانا چاہتے ہیں، اس مطالبے پر آپ لاشیں بچھائیں گے؟ میں صبح سات بجے آپکے پاس گیا، آپ دو گھنٹے کے اندر اندر گِر گئے؟ اتنے مجبور حکمران ہو تم؟ آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں۔ جو لوگ دھاندلی کے ذریعے آپکو اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی انہی کی مرہونِ منت ہے اور حقِ نمک ادا کررہے ہیں”۔
مولانا فضل الرحمان کا ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
میرے بھائی، حقیقت بیان کروں گا تو میں پہلے بھی اس کا خمیازہ بھگت چکا ہوں اور آگے بھی بھگتوں گا مجھے پتہ ہے۔
کل پارٹی کی زوم میٹنگ میں جو کہنا تھا وہ اپنی طرف سے اور پشاور کہ پارٹی کے ورکرز اور لوگوں کی رائے میں بتا چکا ہوں،
اور جس انداز میں بتا چکا ہوں اس کا پتہ کر لیں۔
میں سب کچھ کرنے کہ لئے تیار ہوں۔
میرے ذرائع نےانکشاف کیاہے کہ احمدمنصورایک ناجائز حکومت کا پیداور ہےاوروہ روزمریم کےساتھ ساتھ انکے کنیزوں جیسے عظمیٰ وغیرہ کےبوٹ صبح اُٹھ کرچاٹتے ہیں اور شام کوجاکرانکے تلوے چاٹتے ہیں،یہ خبر میں باوثوق ذرائع سے دےرہاہو،شائد غلط بھی ہو،لیکن اسکی تردیدیاتصدیق احمد صاحب ہی کرسکتے ہیں
اسکول کے مالک محمد خان کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پرانے پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں، حادثے کا شکار بوسیدہ عمارت میں صبح نجی اسکول اور شام کو مدرسہ چلاتے تھے، جبکہ لانگ مارچ کی تیاری کے سلسلے میں مقامی پی ٹی آئی اجلاس بھی اسی عمارت میں ہوا۔
کیا اسی وابستگی کی وجہ سے ایک غیر محفوظ جگہ پر سکول کی اجازت ملی رہی؟
اگر یہ مع��ومات درست ہیں تو ان کی تصدیق کے ساتھ عمارت کی حالت، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری کا تعین بھی ضروری ہے۔ سب سے اہم سوال: بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے؟