جنرل مشرف سے لے کر آج کے آرمی چیف تک، تمام ادوار میں اگر ملکی حالات خراب ہوئے ہیں، دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکامیاں ہوئی ہیں، بار بار آپریشنز کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا، تو یہ ان کی ناکامی ہے، ان کی سوچ کی ناکامی ہے، ان کی حکمتِ عملی کی ناکامی ہے اور ان کے فلسفے کی ناکامی ہے۔
آج مجھے کہا جا رہا ہے کہ میرے آپریشنز کی حمایت کرو، ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی تردد نہیں، لیکن 2010ء سے لے کر اب تک کے آپریشنز کا نتیجہ تو بتائیں۔
جب ہم یہاں پر آزادی مارچ کر رہے تھے تو نہ بی ایل اے تھا، نہ ٹی ٹی پی تھی۔ پورے ملک سے، دور دراز کے بلوچستان کے علاقوں سے قافلے آ رہے تھے، بدین سے قافلے آ رہے تھے، گلگت اور کوہستان سے قافلے آ رہے تھے، چترال سے قافلے آ رہے تھے۔ حالات ٹھیک ٹھاک تھے۔
آج آپ ڈیرہ اسماعیل خان میں نہیں پھر سکتے۔ پولیس تھانے کے اندر نہیں رہتی، تھانے رات کو خالی ہو جاتے ہیں اور تھانے کی پولیس کے لوگ محلے کے گھروں میں رات گزارتے ہیں۔
اس میں صرف ہم دہشت گردوں کو زیرِ بحث لائیں گے اور تمہاری ناکامیوں کو زیرِ بحث نہیں لائیں گے؟ تمہاری غلط حکمتِ عملیوں کو زیرِ بحث نہیں لائیں گے؟
ہاگر ہم نے ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر وفاق میں لگاؤ۔ یہ بھی ناجائز حکومت ہے، یہ بھی دھاندلی کی پیداوار ہے، یہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی عمل داری کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ یہ بھی دہشت گردی کے خلاف ناکام ہے۔ ناکامیوں کا تو کوئی حساب نہیں، لیکن بیانیہ میرے مطابق بناؤ، اس پر ملک کو تباہ کرو، صوبے کو تباہ کرو، آئین کو تباہ کرو، سب کچھ دفن کر دو۔ یہ کون سی عقل کی بات ہے؟
میرے ان گزشتہ کئی سالوں میں جو شہداء ہیں، ڈھائی سو تک، میں نے اکابر علماء کرام اور کارکنوں تک کی قربانیاں دی ہیں۔ یہ کس وجہ سے؟ میرے ایک جلسے میں میں نوے لاشیں اٹھا رہا ہوں۔ یہ کس بنیاد پر؟
اگر ہمارے ادارے کہتے ہیں کہ ہم جنگ لڑ رہے ہیں، بالکل ٹھیک ہے، لیکن کیا ہم اس ملک کے لیے اور ملک کے آئین کے لیے قربانیاں نہیں دے رہے؟ لیکن ہم اسلحہ نہیں اٹھا رہے، ہم دلیل کی بات کرتے ہیں، سلیقے سے ہم اپنے سیاسی کردار کی بات کرتے ہیں، اور اس کی بھی ہم سزا پا رہے ہیں۔
کوئی بھی آدمی غیر مسلح آدمی کے ساتھ نہیں لڑتا۔ مسلح آدمی بھی سوچتا ہے کہ یہ غیر مسلح ہے تو میں نے اس کے ساتھ نہیں لڑنا۔ بوڑھا آدمی اسلحہ نہیں اٹھا سکتا، اس کو نہیں مارنا؛ عورت اسلحہ نہیں اٹھا سکتی، اس کو نہیں مارنا؛ بچہ اسلحہ نہیں اٹھا سکتا، اس کو نہیں مارنا۔
ہم نے تو صرف اختلافِ رائے کے نتیجے میں یہ قربانیاں دی ہیں۔
ہم اس فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں، اور عوام کا فورم، پارلیمنٹ کا فورم اور عدالت کا فورم، ہم اس کے خلاف استعمال کرنے کی طرف جائیں گے۔ جماعتی سطح پر اس کے لیے ہم حکمتِ عملی بنائیں گے۔
Ikuti – Unduh – Menangkan 📱
iPhone 17 setiap minggu bersama Hadiah Minhaj
Jawab pertanyaan minggu ini di aplikasi Minhaj, dan ikuti akun-akun berikut:
@mwlorg_id@minhajmwl@mhmdalissa
Unduh aplikasinya dan berpartisipasilah sekarang.
فالو کریں – ڈاؤن لوڈ کریں – جیتیں 📱
ہر ہفتے آئی فون 17، منہاج کے دیگر تحائف کے ساتھ
منہاج ایپ میں ہفتہ وار سوال کا جواب دیں اور ان اکاؤنٹس کو فالو کریں:
@MWLorg_Ur@MinhajMWL@MhmdAlissa
ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور ابھی شریک ہوں۔
Suivez – Téléchargez – Gagnez 📱
Un iPhone 17 chaque semaine avec les cadeaux de l’application Minhaj.
Répondez à la question de la semaine sur l’application Minhaj et suivez les comptes :
@MWLOrg_Fr@MinhajMWL@MhmdAlissa
Téléchargez l’application et participez dès maintenant.
تابع – حمّل – اربح 📱
آيفون 17 كل أسبوع مع هدايا منهاج
أجب عن سؤال الأسبوع في تطبيق منهاج، وتابع الحسابات:
@mwlorg@minhajmwl@mhmdalissa
حمّل التطبيق وشارك الآن.
مع مسابقة "هدايا منهاج" تنتظرك كلّ أسبوعٍ فرصة جديدة لاختبار معرفتك بمحتوى التطبيق، والفوز بهدايا تقنية قيِّمة.
ستكون الأولوية في المسابقة لمن يتواصل مع حسابات الرابطة للاطلاع على "رسالتها" و"أهدافها" و"مهامها" حول العالم، مع تقديم المقترحات حول "العمل الإسلامي"، وذلك من خلال حساباتها التالية:
منصة إكس:
@mwlorg@minhajmwl@mhmdalissa
کل ایک صحافی اپنے بچے کو ساتھ لے کر قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے مبارک باد اور سعادت حاصل کرنے پہنچا۔
شاید وہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ بھی مستقبل میں مولانا صاحب جیسا باکردار، بااصول اور قوم کی رہنمائی کرنے والا بنے۔ ماشاءاللہ !
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر