"زنجیریں جسم کو روک سکتی ہیں، آواز کو نہیں!"
ڈاکٹر یاسمین راشد کی 76ویں اور قید میں چوتھی سالگرہ کے موقع پر، ان کا غیر متزلزل عزم اور حوصلہ استقامت کی ایک تاریخ ساز علامت ہے۔ زنجیریں جسم کو قید کر سکتی ہیں مگر حق کی آواز کو نہیں دبا سکتیں۔
عمران خان، علیمہ خان، نورین نیازی، ڈاکٹر عظمیٰ، بشریٰ بی بی، عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور فلک جاوید سمیت تمام پابندِ سلاسل رہنماؤں کا یہ استعارہ فاشسٹ ہتھکنڈوں اور جبر کے سامنے چٹان بنا ہوا ہے۔ قیدِ زنداں بھی نہ چھین سکی حوصلۂ یاسمین، وہ آج بھی حق کی خاطر سربلند و بے مثال ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو سالگرہ مبارک!
@Dr_YasminRashid@SadiaAyubPTI
جناب سپیکر، صرف ایک ادارے کی بات نہیں تمام ادارے مفلوج ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ عدالتیں انصاف نہیں کر رہیں، پولیس جرائم نہیں روک رہی، فوج امن نہیں لا رہی بلکہ باقی کام کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ جمہوریت کی حفاظت نہیں کر رہی، سارے بکے ہوئے اور بوٹ پالش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ نفرت صرف عمران خان ختم کر سکتے ہیں۔
غلط پالیسیوں سے بلوچ پہاڑوں پر چڑھے رو رہے ہیں، پختون روزانہ شہید ہونے پر، پنجابی چادر چار دیواری کی پامالی پر رو رہے ہیں۔ کل پنجاب میں عمران خان کے خاندان کو تین چار سال کے بچوں سمیت اٹھا لیا گیا۔ پنجاب میں سانس لینے کی آزادی نہیں، سندھی گلگتی کشمیری بھی رو رہے ہیں۔
تاریخ میں پہلی بار کشمیریوں پر گولیاں چلیں، سو سے زائد شہید ہوئے۔ ۲۶ نومبر کو پی ٹی آئی ورکرز، ٹی ایل پی مریدوں اور اہل تشیع کے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلا کر شہید کیا گیا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شہادتیں ہو رہی ہیں تو نفرت کیوں نہ ہو؟ کون اکٹھا کرے گا؟ عمران خان واحد لیڈر ہیں جو قومی یکجہتی کی علامت ہیں اور یہ نفرت ختم کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
"آپ یہاں پولیس کو یرغمال کررہے ہیں ، بیوریو کریسی کو یرغمال بنا رہے، کچھ وردی میں کچھ بغیر وردی میں آتے ہیں کبھی ڈی سی کو کبھی ڈی پی او کو ڈراتے دھمکاتے ہیں تو سیدھا سیدھا مارشل لاء لگا دو کیوں جھوٹی جمہوریت پر قوم کا پیسہ برباد کررہے ہو"۔ وزیراعلی @SohailAfridiISF
جو اس سسٹم کا سب سے بڑا بینیفشری ہے، جس نے کہا سسٹم کولیپس ہو چکا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے۔
کوہاٹ میں دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تو ہم سب وہاں پہنچے، شہداء کے جنازوں میں شرکت کی اور انہیں کندھا دیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود کوہاٹ گئے۔ لیکن اگر ہم کل شہداء کے جنازے میں شرکت کے لیے جاتے تو ہمیں گرفتار کر لیا جاتا۔ ہماری نقل و حرکت تک محدود کر دی گئی ہے۔
ہم اسمبلی بھی خطرہ مول لے کر آئے ہیں، باہر نکلیں تو سادہ لباس میں ملبوس کوئی شخص ہم پر بندوق تان کر ہمیں اغوا کر سکتا ہے۔ نہ ہماری پولیس ہماری بات سن رہی ہے، نہ ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور نہ عدالتیں ہماری فریاد سنتی ہیں۔
🚨🚨🚨 URGENT CALL FOR PROTEST:
Stand in solidarity with Imran Khan’s sisters Aleema Khan, Nooreen Niazi and Dr Uzma and raise your voice for justice.
📅 Tuesday, 22 September
🕓 4:00 PM
📍 Pakistan High Commission, London 34–36 Lowndes Square, London SW1X 9JN
خبر یہ ہے KPK میں اس وقت چیف منسٹر سہیل آفریدی یا PTI کی حکومت نہیں رہی اطلاع کے مطابق KPK میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سیکٹر کمانڈر ISI پشاور کی حکومت ہے IG اور چیف سیکریٹری ڈائریکٹ احکامات لے رہے ہیں سیکٹر کمانڈر سے مارچ کا لبادہ اوڑھ کر انہوں نے یہ نیا فارمولا لگا لیا ہے نہ گوورنر راج کی ضرورت ہے نہ کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے اس وقت KPK کا گورنر CM اور چیف جسٹس یہ تینوں عہدے سیکٹر کمانڈر ISI پشاور کے پاس ہیں
شہزاد اکبر
محسن نقوی کو جواب !!
محسن نقوی کی آج کی پریس کانفرنس انتہائی گھٹیا، تھرڈ کلاس اور انتشار سے بھری ہوئی تھی، Once for all کا مطلب کیا یے ، کیا یہ تمھارے باپ کا ملک ہے ؟ Once for all ان دہشتگردوں کا کرو جن کو تم واپس لا کر آباد کیا،
سہیل آفریدی @SohailAfridiISF
”اگر کوئی وردی میں آتا ہے اور قانونی طریقے سے بات کرتا ہے تو ہم جواب دیں گے ورنہ اگر کوئی سول کپڑوں میں آکر ہم پر بندوق سیدھی کرتا ہے تو پھر اگر کوئی Reaction آیا تو اس کے ذمہ دار یہ رحیم ہو گی“- @ShafiJanPTI
”کچھ لوگ اس سسٹم کی ناجائز پیدوار بھی ہیں، آج کی پریس کانفرنس انتہائی گھٹیا، انتہائی تھرڈ کلاس اور انتہائی انتشار سے بھری تھی!“
وزیراعلی @SohailAfridiISF
میں نے اپنے شہداء کے جنازوں میں شرکت کی ہے، فوجی جوان جو شہید ہوتے ہیں وہ ہمارے وجود کا حصہ ہیں ان کو سیاست میں نہ گھسیٹیں، ان کی شہادت کے بعد ایک پورا خاندان بے آسرا ہوتا ہے۔
ہاں ہم تو جاتے ہیں جنازوں کو کندھا دیتے ہیں لیکن ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جو ہمارے چھبیس نومبر کو کارکن شہید ہوئے ان کے جنازوں میں کس نے شرکت کی؟
ہمارے جن شہداء کو دہشتگرد شہید کرتے ہیں وہ ان کی لاشیں نہیں دیتے قبضے میں لے لیتے ہیں ہمارے جو چھبیس نومبر کو کارکن شہید ہوئے ان کی لاشیں بھی ہمیں نہیں دی جارہی تھیں، ان میں ہم کیا فرق کریں؟ دہشتگرد ہمارے فوجی شہداء نہیں دیتے یہ ہمارے سیاسی کارکن کی لاشیں نہیں دیتے تو ان میں فرق ہونا چاہئے ؟ ابھی اعجاز ستی کی باڈی نہیں دی جارہی تھی لکھوایا گیا کہ کینٹ میں جنازہ نہیں کرو گے تب ورثاء کے حوالے کی۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
”دو دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ نقاب پوش دن دیہاڑے اغوا کاری کر رہے. وفاق اور ایجنسیوں پر دھبہ ہے۔“- اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، بابر سلیم سواتی @BabarSaleemSwat
یہ فوٹیج پاکستان میں جاری فوجی ایجنسیز کی بدمعاشی کی سب سے بڑا ثبوت ہے
صوبائی وزیر فضل شکور کو پشاور موٹروے ٹول پلازہ کے قریب ایجنسیوں کے اہلکاروں نے دن دیہاڑے اغوا کیا اور ان کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی
گذشتہ روز صوبائی وزیر شکیل خان کو بھی ایسے ہی اغوا کرنے کی کوشش کی گئی اور ان پر فائرنگ کی گئی - جوابی فائرنگ پر شکیل خان کے خلاف ہی FIR درج کروا دی گئی اور مسلسل پولیس اور انتظامیہ کو پریشرائز اور بلیک میل کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی ان کا ساتھ دیں
اس وقت وفاق کی جانب سے لگایا گیا آئی جی پولیس KP ذوالفقار حمید بھی ایجنسیوں کے اشاروں پر چل رہا ہے اور ایجنسیوں کی بدمعاشیوں پر پولیس کو ایکشن لینے سے روک رہا ہے.
🚨26 نومبر کو ہمارے شہدا کے جنازوں میں کس نے شرکت کی ؟ اعجاز ستی کی لاش تب دی گئی جب یقین دہانی لے لی کہ جنازہ کینٹ میں نہیں ہو گا 26 نومبر کو ہمارے شہدا کی لاشیں انہوں نے نہیں دیں دوسری طرف دہشتگرد ہمارے فوجی جوانوں کی لاشیں نہیں دیتے دونوں لاشیں نہیں دیتے ان میں پھر فرق کیا ہے ؟
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
رجیم چینج کی معاشی ہڈی کو توڑنے میں مدد کریں ۔
🚨🚨مکمل بائیکاٹ کریں ہر قسم کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں ۔آپ کے پاس دن کم ہے ۔پاکستان کی قوم ہمیشہ کم وقت میں بہت اچھا کام کرتی ہے ۔
عسکری سیمنٹ فوجی سیمنٹ❌
نور پور ملک اور پراڈکٹس ❌
عسکری بنک❌
سونا یوریا اور فوجی فرٹیلائزرز❌
فوجی فوڈز اور اسکے دالیں دلیے۔❌
دھیان دیجئے ان چیزوں میں آپ کی قوم کا خون شامل ہے ،خریدتے ہوئے یاد رکھیں آپ سانپوں کو پال رہے ہیں ۔