رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“۔
(جامع ترمذی، ۲۹۱۰)
میرے بھائی !اصول یہ ہے" کسی گروہ کی دشمنی تمہیں زیادتی پر آمادہ نہ کرے۔ انصاف کرو کہ یہی تقوا،ہے" ۔ اصول یہ ہے کہ " اے وہ لوگوں جو فہم رکھتے ہو جان لو کہ تمہارے لئے قصاص میں زندگی رکھی گئی" قصاص کا مطلب ہے جتنا جرم اتنی سزا۔جس کا جرم اس کو سزا۔اور یہ سب عدالت کے ذریعے" رہی بحث اور طعنہ زنی تو لسی اور لڑائی کی طرح جتنا چاہے کوئی بھڑاا لے۔
اصول یہ ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ اصول یہ ہے کہ قوم کو تعلم اور اخلاق سے آراستہ کرکے اس قدر باشعور کر دیا جائے کہ ظلم۔کا راستہ بند ہو جائے۔ اصول یہ ہے کہ پولیس عدالت ، سول سروس اور ٹیکس وصول کرنے والے قانون کے دائرے میں مکمل آزادی سے بہرہ ور ہوں۔اصول یہ ہے کہ محض بد گمانی کی بنا پر الزام عائد نہ کیا جائے۔ یہ تو ہیں اصول اہل علم جن میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ان کی زیادہ بہتر تشریح کر سکتے ہیں۔ رہی ناراضی اور برہمی کی بات تو اس حال میں کہاں کا اصول اور کیسا اصول۔۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے ( جو قبول کی جاتی ہے ) اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں ۔“
(صحیح بخاری، ۶۳۰۴)
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو کوئی علم حاصل کرنے کے لیے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے ۔ اور جسے اس کے عمل نے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا ۔‘‘
(سنن ابی داؤد، ۳۶۴۳)
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
جس نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی ، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔
(ابن ماجہ : 143)
تم پر (دُشمنوں سے) جنگ کرنا فرض کیا گیاہے،اور وہ تم پر گراں ہے۔اور یہ عین ممکن ہےکہ تم ایک چیز کو براسمجھو حالانکہ وہ تمہارےحق میں بہتر ہو۔اور یہ بھی ممکن ہےکہ تم ایک چیز کو پسندکرو،حالانکہ وہ تمہارےحق میں بُری ہو۔اور (اصل حقیقت تو) اللہ جانتاہے،اورتم نہیں جانتے۔
﴿البقرۃ،۲۱۶﴾
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ تمہارے لیے باعث ِ طہارت ہے، اور اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کیا کرو، یہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، صرف ایک آدمی اس تک پہنچ سکے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں۔
(مسنداحمد،۵۷۰۷)
اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)